Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

تاج الشریعہ ایک ہمہ گیر شخصیت

تاج الشریعہ ایک ہمہ گیر شخصیت (قسط: دوم)
عنوان: تاج الشریعہ ایک ہمہ گیر شخصیت (قسط: دوم)
تحریر: مفتی محمد شاعر رضا
جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پیش کش: محمد رفیع مرکزی

یہ بالکل صحیح بات ہے کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ تحقیقاتِ علمی اور فقہ و افتا کے میدان میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے سچے جانشین ہیں، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ حوادثِ زمانہ کے بطن سے پیدا ہونے والے نت نئے مسائل کو قرآن و حدیث، اجماع، اقوالِ ائمہ و فقہا اور فقہ و اصول کی روشنی میں حل کرنے میں منفرد، یکتائے زمانہ، اپنی مثال آپ ہیں۔ آپ کے فتاویٰ اس پر شاہد ہیں۔ فنِ افتا سے تعلق رکھنے والے افراد جب فتاویٰ تاج الشریعہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ فتویٰ نویسی، طرزِ استدلال، الجھے ہوئے مسئلوں کو سلجھانے میں اور جواب کو دلائلِ کثیرہ سے مرصع کرنے میں اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت فاضل بریلوی اور حضور مفتی اعظم رضی المولیٰ تعالیٰ عنہما کے عکسِ جمیل ہیں، اور یہ کیوں نہ ہو اس لیے کہ فتویٰ دینے کے لیے فقہائے شریعت کے نزدیک کچھ اصول ہیں جن کا جاننا ضروری ہے، کچھ اوصاف ہیں جن کا ہونا ناگزیر ہے۔ فتاویٰ تاج الشریعہ میں اگر وہ اصول تلاش کیے جائیں جن کو فقہائے کرام فتویٰ دینے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں تو وہ اصول آپ کے فتووں میں بطریقِ اکمل و اتم نظر آئیں گے اور وہ خصوصیات یہ ہیں:

  1. حوالے میں کثرت: فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ مفتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس بات کو بطورِ ثبوت پیش کر رہا ہے اس کا حوالہ دے کہ وہ بات کہاں سے منقول ہے، فتوے میں حوالہ ضروری ہے۔ علامہ خیر الدین رملی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

    فَالْمَفْرُوضُ عَلَى الْمُفْتِي وَالْقَاضِي التَّثَبُّتُ فِي الْجَوَابِ وَعَدَمُ الْمُجَازَفَةِ فِيهِمَا.

    علامہ ابنِ حجر ہیتمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

    لَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يُفْتِيَ مِنْ كِتَابٍ وَلَا مِنْ كِتَابَيْنِ.

    [فتاویٰ ابنِ حجر ہیتمی، باب القضاء]

    فقہا کے اس قاعدے کے تحت حضور تاج الشریعہ کے فتاویٰ دیکھیے تو آپ کے فتاویٰ میں حوالہ ہی نہیں بلکہ حوالوں کا نہ تھمتا ہوا ایک سیلاب نظر آتا ہے۔ آپ کے فتاویٰ قرآن و حدیث، اجماع، قیاس، فقہا کے متون و شروح اور ان کی جزئیات سے بھرے ہوئے ہیں، ہر فتویٰ آپ کے تبحرِ علمی کی گواہی دیتا ہے۔

  2. مرجع العلماء: حضور تاج الشریعہ کی خصوصیات میں سے ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ فی زماننا مرجع العلماء ہیں۔ وقت کے بحر العلوم، دور کے فقیہ النفس، زمانے کے محدث و محققِ عصر تشنہ کام حاضر ہوتے ہیں اور فائز المرام واپس ہوتے ہیں۔ اصولیین حضرات فرماتے ہیں: مفتی اگر مجتہد نہ ہو اور اس کو صورتِ مسئولہ میں کوئی روایت، نص، قول یا جزئیات نہ ملیں تو وہ اپنے سے بڑے مفتی کی طرف رجوع کرے۔ اس قاعدے کی روشنی میں اگر تاج الشریعہ کی ذات کو دیکھتے ہیں تو آپ کا تبحرِ علمی اور فقہی مہارت روزِ روشن کی طرح چمکتی دمکتی دکھائی دے رہی ہے، آپ اس وقت افقہ الفقہاء ہیں۔ ہمارے مشاہدات شاہد ہیں کہ بڑے بڑے علماء اور فقہاء مسائلِ شرعیہ کے حل کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

  3. بے نیازی اور خوفِ خدا: فقہائے کرام کا قاعدہ ہے کہ مفتی عادل، ثقہ اور بے نیاز ہو۔ اگر وہ بے نیاز نہیں، محض حرص اور لالچ میں فتویٰ دیتا ہے تو وہ فعلِ حرام کا مرتکب ہے۔ رسم المفتی میں ہے:

    أَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَىٰ فِي الْحُكْمِ وَالْفُتْيَا فَحَرَامٌ إِجْمَاعًا.

    نیز اسی میں ہے:

    فَإِنَّهُ أَمْرٌ عَظِيمٌ لَا يَتَجَاسَرُ عَلَيْهِ إِلَّا كُلُّ جَاهِلٍ شَقِيٍّ.

    [شرح عقود رسم المفتی، ص: 142، 195]

    حدیث شریف میں ہے، نبی علیہ الصلاۃ والتسلیم فرماتے ہیں:

    نِعْمَ الرَّجُلُ الْفَقِيهُ فِي الدِّينِ، إِنِ احْتِيجَ إِلَيْهِ نَفَعَهُ وَإِنِ اسْتُغْنِيَ عَنْهُ أَغْنَىٰ نَفْسَهُ.

    [مشکوٰۃ شریف، کتاب العلم، ثالث، ص: 31، مجلس برکات مبارکپور]

    دین کا فقیہ وہ شخص ہے کہ اگر اس کی ضرورت پڑے تو نفع پہنچائے اور اگر اس سے بے اعتنائی برتی جائے تو اپنے آپ کو بے نیاز سمجھے۔ اللہ کے فضل و کرم سے حضور تاج الشریعہ کی بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ کبھی خلافِ شرع، دنیاوی اسباب کے لیے نہ قدم اٹھایا اور نہ قلم۔ تصلب فی الدین اس قدر کہ کسی کی مجال نہیں کہ سامنے کوئی خلافِ شرع گفتگو یا سوال کر دے۔ بے نیازی، صبر، تحمل اور بردباری جیسے اوصاف کے حامل ہیں۔

  4. عرفِ عام اور لوگوں کے احوال سے واقفیت: علمائے شرعِ متین فرماتے ہیں کہ ایک مفتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے احوال و عرف اور اصطلاحات سے اچھی طرح واقف ہو۔ فقہا کا مشہور قول ہے:

    مَنْ جَهِلَ بِأَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ.

    [رد المحتار، ج: 8، ص: 31، کتاب القضاء]

    اور

    وَالْمُفْتِي فِي الْوَقَائِعِ لَابُدَّ لَهُ مِنْ مَعْرِفَةٍ بِأَحْوَالِ النَّاسِ.

    [رد المحتار، ج: 3، ص: 370، کتاب الصوم]

    اور

    مَنْ لَمْ يَدْرِ بِعُرْفِ أَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ.

    [رد المحتار، ج: 5، ص: 501، کتاب الایمان]

    اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:

    ”مفتی و حاکم دونوں پر لازم کہ جہاں کی نسبت حکم یا فتویٰ دیں، خاص وہاں کے رسم و رواج پر لحاظ کریں، دوسرا رواج اگرچہ کیسا ہی عام ہو، وہاں کے اپنے رواج کا معارض نہیں ہو سکتا۔“ [فتاویٰ رضویہ شریف مترجم، ج: 18، ص: 351، مطبع برکاتِ رضا، پوربندر، گجرات]

اس تناظر میں اگر آپ تاج الشریعہ کی ذات کو دیکھیں تو یہ شان یعنی عرف اور لوگوں کے احوال سے واقف ہونا بدرجۂ اتم پائیں گے جیسا کہ اربابِ فقہ و افتا سے مخفی نہیں۔ حضور تاج الشریعہ کی ذاتِ بابرکت اور آپ کے فتاویٰ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا، کہا، بس وہ اس بحرِ ناپیدا کنار سے ایک حقیر سا قطرہ ہے۔ میں اپنی نااہلی خوب اچھی طرح جانتا ہوں، حضرت کے فتاویٰ کے تعلق سے کچھ کہنا، لکھنا یہ اہم کام ہے، مجھ جیسے کم علم و فہم و بے شعور کے قلم میں یہ تاب کہاں کہ آپ کے فتاویٰ کی بابت کچھ تحریر کر سکے، میں کہاں اور حضور تاج الشریعہ کا علمی مقام کہاں، یہ یقیناً سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ حقیر فقیر سراپا تقصیر کے پاس وہ الفاظ کہاں جس سے آپ کے فتاویٰ اور آپ کی عظمت و رفعت کما حقہ بیان کر سکے کیونکہ راقم السطور کی جھولی سراہنے والے الفاظِ متناسبہ سے خالی سی ہے۔

[فتاویٰ تاج الشریعہ، ج: 1، ص: 20، 21، 22، 23]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!