| عنوان: | جانشین رسول ﷺ |
|---|---|
| تحریر: | حضرت علامہ شرف قادری |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
جانشین رسول اللہ ﷺ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات چاندنی پھیلی ہوئی تھی، میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا کسی کی نیکیاں آسمانی ستاروں کے برابر بھی ہوں گی؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں عمر کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”تو پھر ابوبکر کی نیکیوں کا کیا حال ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا جَمِيْعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِّنْ حَسَنَاتِ أَبِيْ بَكْرٍ
”عمر کی تمام نیکیاں ابوبکر کی ایک نیکی کے برابر ہیں۔“ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) [رواہ رزین، مشکوٰۃ شریف، ص: ۵۶۰،]
اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو آپ کی راست گوئی، خلوص و ایثار، دینِ اسلام کی اشاعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ کی کامل پیروی حدیث مذکور کی تفسیر و تشریح نظر آئے گی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کو یہ بہت بڑا اعزاز حاصل تھا کہ انھیں نوعمری کے زمانے سے ہی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل تھا اور جب حضور نے اعلانِ نبوت فرمایا، تو مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت صدیق اکبر ؓ ہی تھے۔
تبلیغِ اسلام کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ قریبی قبائل میں جاتے اور انھیں دعوتِ اسلام سے روشناس کراتے، حج کے موقع پر دور دراز سے آئے ہوئے لوگوں کے خیموں میں جا کر اسلام اور ہادئِ اسلام سے متعارف کراتے، چوں کہ مکہ مکرمہ میں آپ مقتدر شخصیت کے مالک تھے اور قریشِ مکہ آپ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اس لیے آپ کی تبلیغ کا یہ اثر ہوا کہ سیکڑوں افراد ایمان لے آئے، قریش کے کئی ممتاز افراد جنھیں عشرۂ مبشرہ میں سے ہونے کا بھی شرف حاصل ہے مثلاً: حضرت عثمان غنی، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کی کوششوں سے ہی حلقہ بہ گوشِ اسلام ہوئے، آپ نے متعدد ایسے مسلمانوں کو خرید کر آزاد کیا جنھیں صرف کلمۂ توحید کی بنا پر ظلم و ستم کی چکی میں پیسا جا رہا تھا۔
کفارِ مکہ اعلانِ توحید سنتے ہی مشتعل ہو گئے اور راہبرِ اسلام (ﷺ) کے درپئے آزار ہو گئے اور تکلیف و ایذا رسانی کے ذریعے تبلیغِ اسلام میں زبردست رکاوٹیں کھڑی کرنے لگے، اس پرآشوب دور میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت ہمت و استقلال سے تکالیف برداشت کیں لیکن کسی مرحلے پر بھی دینِ متین کی تبلیغ و اشاعت اور نبی اکرم ﷺ کی حفاظت و خدمت میں ذرہ برابر بھی توقف نہ کیا۔
اسلام لاتے وقت آپ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے، وہ سب آپ نے خدمتِ اسلام پر صرف کر دیے۔
محبوبِ رب العالمین ﷺ نے آپ کی وفاکیشی اور بے لوث خدمات کو نہ صرف شرفِ قبولیت بخشا بلکہ ان کا اظہار بڑے واضح الفاظ میں فرمایا:
لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِيْ نَفْسِهٖ وَمَالِهٖ مِنْ أَبِيْ بَكْرِ بْنِ أَبِيْ قُحَافَةَ [الصواعق المحرقہ، ص: ۲۲، بحوالہ بخاری شریف]
”مجھ پر ابوبکر بن ابی قحافہ سے بڑھ کر کسی نے جانی اور مالی احسان نہیں کیا۔“
حضرت ابوبکر صدیق کی جاں نثاری اور جرات و ہمت کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ آپ ہر معرکے میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے، جنگِ بدر کے موقع پر جب حضور سیدِ عالم ﷺ کے لیے عریش (چھپر) تیار کیا گیا، تو مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ یہاں پہرہ کون دے گا؟ تاکہ کوئی کافر اس طرف نہ آنے پائے، اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی تھے جو برہنہ تلوار لے کر پہرہ دیتے رہے، جنگِ احد کے دن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان حضرات میں سے تھے جو ثابت قدم رہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو نبی اکرم ﷺ کا مشیرِ خاص اور وزیر ہونے کی سعادت حاصل تھی یعنی آپ صرف عملی طور پر ہی تبلیغ و جہاد میں حصہ نہ لیتے تھے بلکہ فکر و نظر کے لحاظ سے بھی شریک ہوتے تھے اور ہر اعتبار سے نبی اکرم ﷺ کو آپ پر پورا پورا اعتماد تھا، امام طبرانی اور ابو نعیم حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ أَيَّدَنِيْ بِأَرْبَعَةِ وُزَرَاءَ اِثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ جِبْرِيْلُ وَمِيْكَائِيْلَ وَاِثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ [الصواعق المحرقہ، ص: ۷۸،]
”اللہ تعالیٰ نے مجھے چار وزیروں سے تقویت دی ہے، دو آسمان کے ہیں: جبریل اور میکائیل اور دو زمین کے رہنے والے ہیں: ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔“
امام احمد اور طبرانی نے تو یہاں تک بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرمایا:
لَوِ اجْتَمَعْتُمَا فِيْ مَشُوْرَةٍ مَّا خَالَفْتُكُمَا [الصواعق المحرقہ، ص: ۸۰،]
”اگر تم دونوں کسی مشورے پر متفق ہو جاؤ تو میں تمھاری مخالفت نہیں کروں گا۔“
یہ حقیقت واقعہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تمام صحابہ سے زیادہ علم و فضل اور ذہانت کے مالک تھے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ: ایک دن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو دنیا اور ان نعمتوں کے درمیان اختیار دیا جو اس کے پاس ہیں، تو اس بندے نے خدائی نعمتوں کو اختیار کر لیا۔“
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے اختیار رو پڑے اور عرض کیا:
”حضور! (ﷺ) ہم اپنے آبا و امہات کو آپ پر فدا کرتے ہیں۔“
صحابۂ کرام انھیں روتا ہوا دیکھ کر متعجب ہوئے کہ یہ کون سا رونے کا مقام ہے؟ صحابۂ کرام کو بعد میں پتا چلا کہ محبوبِ خدا ﷺ اپنی رحلت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں:
وَكَانَ أَبُوْ بَكْرٍ أَعْلَمَنَا. ”ابوبکر ہم سب سے زیادہ عالم تھے۔“
جہاں دیگر اجلۂ صحابہ کے ذہن غور و فکر کے بعد پہنچے تھے، وہاں صدیق اکبر کا ذہن بات سنتے ہی پہنچ گیا تھا۔
مرضِ وصال میں جب سیدِ عالم ﷺ کی ناسازئِ طبع زور پکڑ گئی تو آپ نے فرمایا:
مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ – ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا:
”حضور وہ رقیق القلب ہیں، آپ کی جگہ کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا سکیں گے۔“
آپ نے پھر وہی حکم دیا، حضرت عائشہ صدیقہ نے دوبارہ وہی معذرت پیش کی، تو حضور نے از راہِ عتاب فرمایا:
”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم تو وہی یوسف والیاں ہو۔“
چناں چہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آٹھ دن نمازیں پڑھائیں۔
ویسے تو احادیث میں بے شمار صاف اور صریح اشارات ہیں، جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافتِ حقہ کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً: امام احمد وغیرہ راوی ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے مرضِ وصال میں فرمایا:
”عبد الرحمن بن ابی بکر کو بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے لیے کتاب لکھ دوں تاکہ ان کے بارے میں کوئی اختلاف نہ کرے۔“
پھر فرمایا:
دَعِيْهِ مَعَاذَ اللّٰهِ أَنْ يَّخْتَلِفَ الْمُؤْمِنُوْنَ فِيْ أَبِيْ بَكْرٍ [الصواعق المحرقہ، ص: ۲۲،]
”اسے رہنے دو خدا کی پناہ کہ مومن ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں اختلاف کریں۔“
لیکن اس جگہ اختصار کے پیشِ نظر صرف اتنا اشارہ کرنا مقصود ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا پورے اصرار کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے مقدم کرنا جب کہ دوسرے جلیل القدر صحابۂ کرام موجود تھے، اس امر کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے زیادہ مستحقِ خلافت ہیں، کیوں کہ خلافت کا اصل مقصد امورِ دینیہ کو حکمِ ربانی کے مطابق قائم کرنا اور بدعات و منکرات کو ختم کرنا ہے، دنیاوی امور اور ظاہری نظم و نسق مقصود بالتبع ہیں، اسی لیے اسد اللہ الغالب حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:
”نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر صدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، اس وقت میں بھی موجود تھا کہیں غائب نہیں تھا اور نہ مریض تھا، اس لیے ہم نے اپنی دنیا (خلافت) کے لیے اس شخص کو پسند کیا ہے جسے نبی اکرم ﷺ نے ہمارے دین (امامتِ نماز) کے لیے پسند فرمایا تھا۔“
قولِ مشہور کے مطابق ۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ کو آخر وہ واقعہ پیش آ گیا، جس کی خلش حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس دن سے بے قرار کیے ہوئے تھی، جس دن نبی اکرم ﷺ کا ایک خطبہ سن کر آپ کی آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہو گیا تھا، یعنی آفتابِ نبوت و رسالت چشمِ ظاہر بیں سے روپوش ہو گیا، اور ملتِ اسلامیہ خوف ناک تاریکی میں ڈوب گئی، مسلمانوں پر رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، بڑے بڑے صحابۂ کرام دم بخود ہو گئے، حتیٰ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے باہمت شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا، کہ:
”جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو گیا میں اس تلوار سے اس کا سر اڑا دوں گا۔“
دیگر صحابۂ کرام کی بے چینی بھی آخری حدوں کو چھو رہی تھی، کیوں کہ والئِ امت ﷺ کے تشریف لے جانے سے مسلمان اپنے آپ کو یتیم بچے کی طرح تصور کر رہے تھے، جو بالکل بے یار و مددگار ہو اور اس کے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو۔
اس ہمہ گیر اضطراب اور پریشانی کے اندھیروں میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نیرِ تاباں بن کر نمودار ہوئے۔ حد درجہ رقیق القلب ہونے کے باوجود آپ نے کمالِ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مسجدِ نبوی میں منبرِ شریف پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا:
”اے لوگو! جو شخص حضرت محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، (اسے معلوم ہونا چاہیے کہ) آپ کا وصال ہو گیا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا (اسے خبر ہونی چاہیے) کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر کبھی موت طاری نہیں ہو سکتی۔“
اس کے بعد آپ نے آیۂ کریمہ: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ [آل عمران: 144] کی تلاوت فرمائی اور بے یقینی کی حالت کو ختم فرما دیا۔ (ترجمۂ آیتِ کریمہ: ”محمد تو صرف رسول ہیں، ان سے پہلے رسول گزر چکے، پس اگر وہ فوت ہو جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جاؤ گے؟“)
اس کے ساتھ ہی ایک اور مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا، انصار سقیفۂ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوئے اور خلافت کے بارے میں صلاح مشورہ کرنے لگے، ان کی رائے یہ تھی کہ خلیفہ انصار میں سے ہونا چاہیے، بعض نے یہ بھی رائے دی کہ ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو اور ایک انصار سے، یہ لمحہ انتہائی نازک تھا، اس وقت اگر ایک قدم بھی غلط اٹھ جاتا تو امتِ مسلمہ کبھی نہ ختم ہونے والے انتشار کا شکار ہو جاتی، اس اجتماع کی خبر جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنچی تو وہ بلا تاخیر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر مجلسِ انصار میں پہنچے۔ ان کے ساتھ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس زیرکی اور فرزانگی کا ثبوت دیا، اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی، آپ نے انصار سے خطاب فرمایا اور ان کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد رکھا کہ: الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ ”ائمہ اور حکمران قریش میں سے ہوں گے“، پھر اعلیٰ تدبر اور فہم و فراست سے کام لیتے ہوئے اپنی تقریر کے آخر میں یہ تجویز پیش کی کہ مہاجرین میں سے امیر ہو اور انصار میں سے وزیر اور کوئی کام انصار کے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے اور ساتھ ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تم ان میں سے جس کی چاہو بیعت کر لو مجھے منظور ہے، لیکن حضرت عمر فاروق ؓ نے آگے بڑھ کر کہا: اے ابوبکر، اپنا ہاتھ بڑھائیے اور فوراً ان کی بیعت کر لی اور اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مہاجرین اور انصار نے بھی بیعت کر لی، اور بتدریج تمام صحابۂ کرام نے آپ کی بیعت کر کے آپ کو خلیفۂ برحق تسلیم کر لیا。
بیعتِ خلافت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جو تاریخ ساز خطبہ دیا اس کا ایک ایک جملہ قیامت تک اربابِ اقتدار کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ نے فرمایا:
”حمد و ثنا کے بعد! مجھے تم پر والی (خلیفہ) بنایا گیا ہے، میں تم سے بہتر نہیں ہوں اگر میں صحیح کام کروں تو میری امداد کرنا اور اگر غلط کام کروں تو میری راہنمائی کرنا۔ صدق امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ تم میں سے ضعیف میرے نزدیک طاقت ور ترین ہے، میں اسے ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا حق دلاؤں گا، اور تم میں سے طاقت ور (میرے نزدیک) کمزور ہے، حتیٰ کہ میں اس سے حق لے لوں، ان شاء اللہ تعالیٰ!
جو لوگ جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کر دیں گے، اللہ تعالیٰ انھیں ذلت میں مبتلا کر دے گا، اور جس قوم میں بدکاری عام ہو جائے گی، اللہ تعالیٰ اس پر عام بلا مسلط کر دے گا۔ جب تک میں اللہ و رسول کی اطاعت کروں میری اطاعت کرنا، اور جب میں اللہ و رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری کوئی اطاعت لازم نہیں ہے، اٹھو نماز کے لیے، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔“ [الصواعق، ص: ۱۱،]
ابنِ سعد کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
”مجھے والئِ خلافت بنا دیا گیا ہے، حالاں کہ میں اسے ناپسند رکھتا ہوں، بخدا میری دلی خواہش ہے کہ اس معاملے کو کوئی دوسرا اپنے ذمے لے لیتا۔“
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے تو عرب کے متعدد قبائل مرتد ہو گئے، یہود الگ فتنہ سامانی میں مصروف تھے، منافقین کو کھل کر اپنا خبثِ باطن ظاہر کرنے کا موقع مل گیا۔ مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ بلاشبہ حالات اس قدر نازک صورت اختیار کر گئے تھے کہ انسان ان کے تصور سے ہی لرز اٹھتا ہے، یہ وہ خطرناک ماحول تھا، جس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قوتِ ایمانی، جرات و ہمت اور ناقابلِ تسخیر شخصیت کام آ گئی، آپ نے کمالِ تدبر اور حیرت انگیز نظم و نسق کے ذریعے ملتِ بیضا کی کشتی کو گردابِ فنا سے بچا لیا، اور فتنہ و فساد کو جڑ سے اکھیڑ پھینکا، بلا مبالغہ آپ کی ذاتِ مقدس مسلمانوں کے لیے ابرِ رحمت اور اہلِ ارتداد کے لیے برقِ خاطف ثابت ہوئی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ خوش قسمت خلیفہ تھے، جنھیں قدم قدم پر تائیدِ ایزدی حاصل تھی، اور نبی اکرم ﷺ کے فیضِ صحبت نے آپ کو وہ عزم و استقلال بخشا تھا کہ آپ کبھی خطرات اور ناسازگارئِ حالات سے متاثر نہ ہوتے، بلکہ حوادث میں جتنی تیزی آتی جاتی اتنی ہی آپ کی ہمت اور بلند ہو جاتی اور آپ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے مردانہ وار طوفانِ مصائب سے نبرد آزما ہو جاتے۔
۱۱ھ میں پہلے پہل آپ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سات سو افراد کی جمعیت کے ساتھ ملکِ شام کی طرف روانہ کیا، بعض صحابۂ کرام نے یہ رائے دی کہ ہر طرف بغاوت و ارتداد کے شعلے بلند ہو رہے ہیں، اس لیے اس لشکر کو روانہ نہ کیا جائے، لیکن آپ نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ کچھ بھی ہو جائے میں اس لشکر کو کبھی نہیں روکوں گا جسے نبی اکرم ﷺ نے بھیجا تھا۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے جاتے ہی یہ خبر مشہور ہو گئی کہ مدینہ طیبہ فوج سے بالکل خالی ہے، اس وقت خلیفۂ وقت میں اتنی قوت بھی نہیں کہ وہ اپنی حفاظت ہی کر سکیں، چناں چہ تقریباً ایک درجن قبائل نے جن میں سے بعض طلیحہ اسدی کے زیرِ اثر تھے، مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا، اور ایک وفد بھیج کر مطالبہ کیا کہ ہم نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتے، اگر ہمارا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو ہم قوت سے کام لیں گے۔
بعض صحابۂ کرام نے حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر مشورہ دیا کہ فی الحال ان لوگوں سے نرمی برتی جائے لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو طبعاً نرم مزاج اور متواضع شخصیت کے مالک تھے، دین کے معاملے میں کسی نرمی اور جھکاؤ کے لیے تیار نہ ہوئے اور صاف فرما دیا کہ:
”اگر یہ لوگ ایک رسی (زکوٰۃ کے اونٹ کا بندھن) یا بکری کا بچہ بھی جو دربارِ رسالت میں پیش کیا کرتے تھے، دینے سے انکار کریں گے، تو میں ان سے بھی جہاد کروں گا۔“
آپ کا یہ الہامی فیصلہ تھا، جسے بعد میں تمام صحابۂ کرام نے تسلیم کیا، اور پھر ان قبائل نے اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنایا، اور مدینہ منورہ پر حملہ کر دیا جسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقرر کردہ مورچہ بند صحابہ نے روکا، اس وقت مدینہ منورہ میں نہ گھوڑے تھے اور نہ تیز رو اونٹ، اس مشکل کو آپ نے یوں حل کیا کہ دودھ دینے والی اونٹنیوں پر مجاہدوں کو سوار کر کے باہر نکلے اور ڈٹ کر مقابلہ کیا حتیٰ کہ محاصرین کے پاؤں اکھڑ گئے اور انھیں منتشر ہونا پڑا۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا لشکر کامیاب و کامران ہو کر واپس لوٹا تو کچھ دنوں کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گیارہ محاذ بنائے، ایک جھنڈا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور طلیحہ اسدی کی سرکوبی پر مامور فرمایا، باقی جھنڈے دیگر صحابۂ کرام کو دیے اور انھیں مرتد ہونے والے قبائل کی طرف روانہ کیا۔
آپ نے تقریباً تمام قبائل کو یہی پیغام بھیجا کہ توبہ کر کے پھر مسلمان ہو جاؤ ورنہ ہلاکت و بربادی کے علاوہ تمھارا کچھ انجام نہ ہو گا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ طلیحہ اسدی کی جانب روانہ ہوئے، تو حضرت عدی بن حاتم کی تحریک و تبلیغ سے بنی طے نہ صرف طلیحہ اسدی کے لشکر سے الگ ہو گئے بلکہ تائب ہو کر لشکرِ اسلام میں شامل ہو گئے، اس کے باوجود طلیحہ اسدی نے ہمت نہ ہاری اور مسلمانوں کے مقابل صف آرا ہوا، گھمسان کا رن پڑا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولولہ انگیز قیادت اور مسلمانوں کی حیرت انگیز شجاعت نے دشمن کو شکستِ فاش سے دوچار کر دیا، دشمن نے راہِ فرار اختیار کی اور بعد ازاں بنو اسد اور غطفان مشرف بہ اسلام ہوئے اور طلیحہ اسدی بھی ایمان لے آئے۔
جنگِ یمامہ میں کثیر التعداد حفاظ صحابۂ کرام شہید ہو گئے تھے، اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشورہ دیا کہ اگر حفاظِ کرام اسی طرح جنگوں میں شہید ہوتے رہے تو قرآن مجید کا بیشتر حصہ ضائع ہو جائے گا، لہٰذا آپ قرآن پاک جمع کرنے کا حکم دیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قدرے رد و کد کے بعد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس عظیم کام پر مقرر فرمایا، چناں چہ قرآن پاک کو کتابی صورت میں یکجا کرنے کا مہتم بالشان کارنامہ بھی دورِ صدیقی میں انجام دیا گیا۔
یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ عہدِ صدیقی خلافتِ راشدہ کی مضبوط ترین بنیاد اور کتابِ خلافت کا روشن ترین باب تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے صرف اٹھائیس مہینوں میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو قیامت تک ملتِ اسلامیہ کی راہنمائی کرتے رہیں گے۔ سب سے پہلے آپ نے سقیفۂ بنی ساعدہ میں اپنی حکمتِ عملی سے ملتِ اسلامیہ کو پارہ پارہ ہونے سے بچا لیا اور انصار و مہاجرین کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کر دیا، پھر نہایت سنگین حالات میں جیشِ اسامہ روانہ کر کے بتا دیا کہ ایک مسلمان کو کسی حال میں یہ زیب نہیں دیتا کہ فرمانِ نبوی ﷺ کے خلاف کرے، عرب کے گوشے گوشے سے اٹھنے والے فتنۂ ارتداد کو موت کی نیند سلا دیا۔ منکرینِ زکوٰۃ کو مرتد قرار دے کر فرائضِ الٰہیہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آئینی اور اجماعی تحفظ دے دیا، خانہ ساز دعویدارانِ نبوت کو پوری قوت سے کچل کر آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیا کہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص کسی زمانے میں بھی نبی بننے کا دعویٰ کرے تو اسے تسلیم کرنے کی بجائے حاکمِ اسلام پر لازم ہے کہ اس سے جہاد کرے اور اسے اس کے پیشرو مسیلمہ کذاب کے پاس پہنچا دے۔ اس کے علاوہ اسلامی افواج کی پیش قدمی یہاں تک آگے بڑھتی ہے کہ:
ایک طرف اسلامی فوجیں ایران کے دار الحکومت مدائن کے قریب پہنچ جاتی ہیں، تو دوسری طرف عراق میں دور دراز تک گھس جاتی ہیں، تیسری جانب شام میں رومی فوجوں کو شکست پر شکست دی جا رہی ہے، اور فتوحاتِ اسلامیہ کے اثرات شام کے پایۂ تخت دمشق تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
قرآن پاک کی تدوین ہو چکی تھی اور منبعِ عدل و انصاف نظامِ اسلام کے ہمہ گیر انقلاب کے لیے راستہ صاف ہو چکا تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مصروفیات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ شخصِ واحد اس قدر بے شمار کام کس طرح انجام دیتا تھا:
فرائضِ ربانیہ کی بجا آوری، یتیموں، بیوہ عورتوں اور مجاہدین کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کے علاوہ، پیش آنے والے مسائل کا کتاب و سنت اور آرائے صحابہ کی روشنی میں فیصلہ کرنا اور دور دراز مختلف محاذوں پر جہاد کرنے والی افواج کو قدم قدم پر بروقت ہدایات جاری کرنا، اہلِ اسلام میں جہاد کی روح پھونکنا اور بوقتِ ضرورت بلا تاخیر کمک پر کمک بھیجنا。
ایسے امور ہیں جو عقلِ انسانی کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ جب کہ اس وقت ذرائعِ نقل و حمل نہایت محدود تھے، آپ ہر کام میں اس بات کو پیشِ نظر رکھتے تھے کہ جو کام کیا جائے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہو اور یہ تصور کسی وقت ذہن سے محو نہ ہونا چاہیے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے دربار میں جواب دہ ہونا ہے۔ سپہ سالاروں اور ان کے مشیروں کو اسی قسم کی ہدایات جاری کرتے تھے، چناں چہ حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرتے وقت دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی فرمایا:
”مجھے امید ہے کہ تم نے سچے دل سے خدا کی خوشنودی اور اس کے انعام کی خاطر جان دینے کا ارادہ کر لیا ہے۔ تمھاری سیرت ایسی ہونی چاہیے کہ عالمِ دین دین پر ثابت قدم رہیں اور جاہل دین سے دلچسپی لے کر اچھے پیرو بن جائیں۔ مفسدہ پرداز نادانوں کو ڈانٹ ڈپٹ میں رکھنا، عام مسلمانوں کے خیر خواہ رہنا، سپہ سالار کو ایسے مشورے دینا جن سے حق کا بول بالا ہو، مسلمانوں کا بھلا ہو، تمھارا ہر کام خوشنودئِ مولا کے لیے ہو اور اس احساس سے گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، خود کو مردوں میں شمار کر لو، ہم سب عنقریب مر جائیں گے، پھر دوبارہ جلائے جائیں گے، اور ہمارے اعمال کا محاسبہ ہو گا۔“ [خورشید احمد فاروق، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سرکاری خطوط، ص: ۱۲۳،]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوری زندگی توکل علی اللہ کی تفسیر تھی، یہی روح آپ نے مجاہدینِ اسلام میں بھی پھونک دی تھی، یہی وجہ تھی کہ مجاہدینِ اسلام دشمن کی کثرت و قوت کی پروا کیے بغیر بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرا جاتے تھے اور فتح و نصرت ان کے قدم چومتی تھی، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملکِ شام سے کمک بھیجنے کی درخواست کی اور ساتھ ہی قیصر شاہِ روم کے پیغام کی اطلاع دی جس کے آخری الفاظ یہ تھے:
”میں اتنی فوجیں بھیجوں گا کہ زمین پر ان کا سمانا مشکل ہو جائے گا۔“
مرکز سے فوراً جواب پہنچا جس نے مجاہدین کے حوصلے بلند کر دیے۔ حضرت صدیق اکبر نے لکھا:
”ان کے پاس جتنی رسد آئے گی، میں اتنی یا اس سے دگنی رسد بھیجوں گا، خدا کا شکر ہے نہ تمھاری تعداد کم ہے اور نہ تم کمزور ہو، میری سمجھ میں نہیں آتا پھر تم ان سے لڑتے ہوئے کیوں گھبراتے ہو؟ اللہ ضرور تم کو فتح عطا کرے گا اور دشمن پر غالب کرے گا۔“ [خورشید احمد فاروق، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سرکاری خطوط، ص: ۱۳۳،]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا امتِ مسلمہ پر یہ احسان بھی کچھ کم نہیں کہ آپ نے وصال سے کچھ پہلے امیر المومنین غیظ المنافقین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا جن کی ناقابلِ انکار اور شاندار خدماتِ اسلام کا اعتراف غیر مسلم بھی کرتے ہیں۔
حوالہ: [مقالات شرف قادری]
