Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اولاد کی تربیت و اصلاح میں عورت کا کردار (قسط دوم)

اولاد کی تربیت و اصلاح میں عورت کا کردار (قسط دوم)
عنوان: اولاد کی تربیت و اصلاح میں عورت کا کردار (قسط دوم)
تحریر: محسن رضا ضیائی
پیش کش: ناہد فاطمہ قادریہ

عورت کی اولاد سے قرابت:

یوں تو اولاد کو تربیت دینے میں مرد و زن دونوں کی یکساں ذمہ داری ہے، لیکن عورت کو خاص طور پر اس کی زمامِ قیادت سونپی گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ عورت کی بچوں سے بے انتہا قربت بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کے طرزِ گفتار، اندازِ فکر اور حرکات و سکنات بچوں کی نفسیات پر فوری طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح خوش اخلاقی، کم سخنی، زود فہمی، نظافت و پاکیزگی، متانت و سنجیدگی اور شکر گزاری جیسے محاسن و اوصاف اگر عورت میں باہم جمع ہوں تو وہ تمام خوبیاں اولاد کی تربیت پر گہرے اثرات و نقوش چھوڑتی ہیں اور بچے کو ایک بہتر ماحول میں پروان چڑھانے میں کافی اہم رول ادا کرتی ہیں۔ عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت، نگہداشت اور پرورش کرنے میں خواتینِ اسلام کے احوال و آثار کو اپنائے۔ ان کی زندگیوں کا مطالعہ کرے، اپنے بچوں اور بچیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مثالی رول ادا کرے۔ اولاد کی تربیت و نگہداشت کے لیے فرامینِ خدا و ارشاداتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں، جن پر عمل کر کے اولاد کو اسلامی اصول و قوانین، شرعی حدود و قیود اور اس کے قدیم و متوارث اقدار و روایات کے سانچے میں ڈھال کر انہیں اسلاف و اکابر کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے، جو ان کی بہتر دینی، تہذیبی اور معاشرتی زندگی میں ایک انقلاب و تبدیلی لانے کا سبب بن سکتا ہے۔

عورت کی ذمہ داریاں:

عورت کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دنیاوی لہو و لعب، ناچ گانے، فضول لغویات، بری عادات اور منشیات جیسی دیگر برائیوں سے اجتناب کی ترغیب دلائے، انہیں بغیر تعلیم و تربیت کے ”شترِ بے مہار“ کی طرح نہ چھوڑے جو گھر، خاندان اور سماج و معاشرے کے لیے فساد و بگاڑ کا سبب بنے، جیسا کہ آج کل یہ عام طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے کہ بعض شریر اور غیر مہذب لوگ سرِ عام دین و شریعت کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنی خاندانی وجاہت و شرافت کو نیلام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جن کی شرارت و بے ہودگی سے سارے علاقے کے لوگ تنگ آ جاتے ہیں جو معمولاتِ زندگی اور بہتر نظامِ معاشرت کو متاثر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ بعد ازاں یہ مجرمانہ کاموں کے عادی بن جاتے ہیں جس کا خمیازہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا کر بھگتنا پڑتا ہے۔ اپنی زندگیاں تباہ و برباد کر کے بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے فرض کو کماحقہ ادا کر کے ان کی صحیح سمت رہنمائی کرے۔ فرمایا گیا ہے: عورت اگر اپنے اس حق کو ادا کرنے میں پہلو تہی سے کام لے گی تو وہ سخت گنہگار ہوگی۔ لہٰذا عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے اوپر عائد تمام ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کچھ بھی تکاسلی و تکاہلی سے کام نہ لے، جو بچوں اور بچیوں کی زندگیاں تباہ و برباد کر دینے کا سبب بنے۔ اپنے بچوں اور بچیوں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھے، بروقت ان کی نفسیاتی تربیت اور قدم قدم پر ان کی نگہداشت و نگرانی کرتی رہے، تعلیم کی اہمیت، ضرورت اور افادیت کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائے، ان کے ہر طرح کے افعال و اعمال، عادات و اطوار اور حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھے، صوم و صلاۃ، درود و فاتحہ اور تلاوتِ قرآن کا عادی بنائے، انہیں چلنے پھرنے، کھانے پینے اور بولنے چالنے کے آداب و اصول سکھائے، گاہے بگاہے عمدہ نصیحت و موعظت، بزرگوں کے اقوال و ارشادات اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو بیان کرے، بڑوں کی تعظیم و تکریم، علما و ائمۂ کرام کا ادب و احترام اور والدین کی خدمت و اطاعت کے جذبوں سے سرشار کرے، یہی وقت ہے کہ ان کے اندر ان تمام خوبیوں کو راسخ کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ بچپن کا سکھایا ہوا بڑھاپے تک دل پر نقش رہتا ہے۔ جس کے بعد اولاد کی تربیت پر دینی، علمی اور اصلاحی اثرات مرتب ہوں گے جو آئندہ گھر، خاندان اور معاشرے کے لیے باعثِ فخر بات ہو گی اور اسی طرح تعلیم و تربیت کا صالح بنیادوں پر ایک قصرِ عظیم تعمیر ہوگا۔

عورت یہ بات ذہن میں رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذمے نسلوں کو سنوارنے اور ان کی تربیت و نگہداشت کا کام سپرد کیا ہے جن پر قوموں کے مستقبل کا انحصار ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ کسی بھی صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہو بلکہ اپنے ربِ ذوالجلال کا شکر و احسان بجا لائے کہ اس نے عورت کو اس لائق سمجھا کہ اس کو اس امرِ عظیم کا مستحق قرار دیا جو اس کے لیے بہت بڑا اعزاز و انعام ہے۔

(ص: 33 کا بقیہ)... مسلمانانِ مرادآباد کی جانب سے حضرت حجۃ الاسلام اور ان کے برادر حضرت مفتیِ اعظم ہند کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا اور آپ کی دینی خدمات اور حمایتِ ملت کے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کی طولِ حیات و کثرتِ فیوض و برکات کی دعا کی۔ [ماہنامہ السواد الاعظم مرادآباد، مجریہ ربیع الاول و جمادی الاول 1354ھ]

استقبال کے جشن کو اپنی چشمِ تصور میں لائیں اور پھر سوچیں کہ دو طرفہ دیوانوں کی قطاریں، پھولوں کی بارش، مدحیہ نظمیں، استقبالی جھنڈے، نعروں کی گونج، نذریں پیش کرنا اور شہر کے سب سے اہم علاقوں میں اس جلوس کو نکالنے جیسا بڑا اہتمام ہر کس و ناکس کے لیے نہیں کیا جاتا۔ یقیناً حضرت مفتیِ اعظم ہند اور حجۃ الاسلام سے صدر الافاضل کو ایک خصوصی تعلق اور لگاؤ تھا۔ اس لیے آپ نے اس شان و شوکت کے ساتھ جلوس نکال کر اپنی بے پایاں محبتوں کا شاندار نمونہ پیش کیا۔ یہاں حضرت صدر الافاضل کے عقیدت مندوں کی دانشمندی کا بھی پتا چلتا ہے کہ فروری کی سرد رات میں مفتیِ اعظم کی تشریف آوری کا پتا چلتا ہے اور صبح کو اسٹیشن پر کثیر مجمع اکٹھا ہو جاتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ صدر الافاضل کو اعلان کا موقع نہیں ملا مگر! آپ کی بارگاہ کے حاضر باش یقیناً آپ کے مزاج شناس تھے اس لیے انہیں اعلان کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئی اور انہوں نے اپنے آقائے نعمت صدر الافاضل کے مزاج کو پہچان کر از خود ہی لوگوں کو اطلاع کر دی اور نمازِ فجر پڑھتے ہی دیوانوں کا ہجوم مرادآباد کے اسٹیشن پر جمع ہو گیا۔ اور اہلِ مرادآباد کے اس مزاج کا بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے علمائے مشائخ کی بارگاہوں میں شروع ہی سے مؤدب، نذریں پیش کرنے اور محبت کرنے والے واقع ہوئے ہیں۔ اسٹیشن سے جامعہ نعیمیہ کا فاصلہ قریب دو کلومیٹر ہے، مگر یہ اہلِ مرادآباد کا مذہبی جوش ہی تھا کہ کڑاکے کی سردی میں اپنے معزز مہمانوں کو اہلاً و سہلاً مرحبا کی صداؤں میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ لاتے ہیں۔

حضور مفتیِ اعظم ہند اور امام الہند فخر الاماثل حضرت صدر الافاضل علیہما الرحمہ کی حیاتِ مبارکہ کی یہ چند کڑیاں تھیں جو آپ کی نگاہوں سے گزریں جن پر محبت و خلوص اور ایثار و وفا کا رنگِ حسین چڑھا ہے۔ وقت نے مہلت دی تو اس موضوع پر ان شاء اللہ مزید تاریخی شہادتیں پیش کروں گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اکابر کے ان معمولات کو دیکھ کر سبق حاصل کریں اور آپسی تعلقات کی نوعیت ایسے ہی رکھیں جیسے ہمارے بزرگوں کے مابین تھی۔ اگر ہم اس پر عمل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یقین جانیں ایک شاندار مستقبل ہمارا منتظر ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!