| عنوان: | ہندوستانی سیاست اور مسلمان |
|---|---|
| تحریر: |
مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیرِ اعلیٰ سوادِ اعظم، دہلی |
| پیش کش: | مظفر حسین شیرانی |
کھیل کے میدان میں فٹ بال پر سارے کھیل کا دار و مدار ہوتا ہے، مگر کتنی عجیب بات ہے کہ جس کی وجہ سے ہار جیت طے ہوتی ہے، اسی کو سب سے زیادہ ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں۔ جو ٹیم ہارتی ہے وہ بھی فٹ بال کو ٹھوکر لگاتی ہے، اور جیتنے والی ٹیم ہارنے والوں سے زیادہ ٹھوکریں مارتی ہے۔ ہار ہو یا جیت، فٹ بال کے نصیب میں ٹھوکریں ہی لکھی ہیں۔
کھیل کے میدان میں جو حال فٹ بال کا ہے، میدانِ سیاست میں وہی حال مسلمان کا بھی ہے۔ اسی مسلمان کے دم سے ”سیاسی کھیل“ کی بہاریں ہیں، مگر پھر بھی یہ قوم ٹھوکروں میں چلی آ رہی ہے۔ فاتح پارٹی ہو یا مفتوح، مسلمان کو ہر طرف سے ٹھوکریں ہی ملتی ہیں۔ ستر سال گزر جانے کے باوجود قوم مسلسل میدانِ سیاست کی فٹ بال ہی بنی ہوئی ہے، اور لگاتار ٹھوکریں کھا رہی ہے۔
ہندوستان کا سیاسی منظر نامہ
1947ء میں ملک کو آزادی تو ملی مگر تقسیمِ وطن نے مسلمانانِ ہند کی قوت بھی تقسیم کر دی۔ مسلم لیڈر شپ کا ایک بہت بڑا حصہ پاکستان منتقل ہو گیا۔ ایسے وقت میں ضرورت تھی کہ باقی ماندہ مسلمانوں کی مضبوط سیاسی قوت ہو، تاکہ اغیار سے اپنے دین و مذہب کی حفاظت کی جا سکے، مگر افسوس کہ اکابرینِ اہلِ سنت اپنے مدارس و خانقاہ تک محدود ہو گئے۔
دیوبندی جماعت نے کانگریس کے حکم پر لکھنؤ میں 1948ء میں یہ اعلان کیا: ”جو ہونا تھا سو ہو گیا، لیکن اب ہندوستانی مسلمانوں کو سیاسی پارٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو حضرات الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، وہ انفرادی یا کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں“۔ یہ وہ اعلان تھا جس نے مسلمانوں کو سیاسی یتیم بنا دیا۔ اس حادثۂ فاجعہ کے بعد کانگریس سے بیعتِ غلامی مسلمانوں کی مجبوری بن گئی، کیوں کہ کانگریس کے علاوہ اس وقت صرف ایک ہی پارٹی ”ہندو مہاسبھا“ موجود تھی جس کو بی جے پی کی مدر پارٹی کہا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد ملکی منظر نامے پر قریب پچاس سال کانگریس لیڈر شپ کا بلا شرکتِ غیرے راج رہا۔ اس عرصے میں مسلم اکثریتی شہروں میں منصوبہ بند فسادات ہوئے۔ مضبوط مسلم اقتصادی شہروں مثلاً علی گڑھ، مراد آباد، فیروزآباد وغیرہ میں سازش کے ذریعے کاروبار ختم کیے گئے۔ منصوبہ بند سازش کے تحت شہر کے اچھے علاقوں سے نکل کر نالوں اور کوڑا گھروں کے آس پاس بسنے پر مجبور کر دیا گیا۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ تعلیم، روزگار اور عزت ختم ہوتی گئی مگر ”کانگریس پرستی“ کا جو ٹیکہ مسلم کانگریسی لیڈران نے لگا دیا تھا، اس کا اثر کسی نہ کسی صورت باقی رہا اور مسلمان کانگریسی گاڑی کے بیل بنے رہے۔ 1980ء کے بعد علاقائی سطح پر پسماندہ قوموں کو اپنے حقوق کا خیال آیا اور انہوں نے اپنے لیڈر بنائے اور عزت دارانہ مقام حاصل کیا۔ چند اہم صوبوں کا خاکہ درجِ ذیل ہے:
اتر پردیش
ملک کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش میں دو بڑی پارٹیاں ہیں:
سماجوادی پارٹی (SP)
اس پارٹی کے بانی ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو صدر ہیں۔ دونوں باپ بیٹے وزیرِ اعلیٰ ہو چکے ہیں۔ کچھ نامور مسلم چہروں کی شمولیت، مختلف مذہبی رہنماؤں سے اچھے تعلقات، مزارات کی حاضری، افطار پارٹی اور ٹوپی رومال کے استعمال سے اپنی ”مسلم حامی شبیہ“ بنا رکھی ہے، حالانکہ 2012ء کی کامیابی کے بعد بھی ملائم سنگھ کے بعد پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر اعظم خان کو نوآموز اکھلیش کا جونیئر ہی بنایا گیا، جبکہ خدمات اور سینیارٹی کی بنا پر وہ وزیرِ اعلیٰ کے حقدار تھے۔
بی ایس پی (BSP)
کانشی رام کی قائم کردہ پارٹی ہے۔ فی الحال مایاوتی اس کی صدر ہیں۔ یہ پارٹی دلتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ کچھ مخصوص عہدوں پر مسلمانوں کو رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے مسلمان بھی وابستہ ہیں۔ اب تک چار بار وزیرِ اعلیٰ بن چکی ہیں۔ مسلم ووٹ کے بغیر دونوں پارٹیوں کے لیے اقتدار کا راستہ ٹیڑھی کھیر ہے، مگر مسلمان کے مقابلے ہمیشہ اپنی ہی برادری کو ترجیح دی جاتی ہے۔
دونوں ہی پارٹیاں مختلف موقع پر سینئر مسلم لیڈران کو پارٹی سے باہر کر کے یہ جتانے سے بھی نہیں چوکتیں کہ پارٹی بالآخر انہی کی ہے، مسلمان صرف اقتدار تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ اتنے بڑے صوبے میں کانگریس کے بعد مسلمان انہی دو پارٹیوں سے وابستہ رہے، لیکن اپنی قیادت بنانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی، نتیجتاً آج بھی دوسروں کی بیساکھیوں کے محتاج ہیں۔
بہار
بہار میں کانگریس، بی جے پی کے علاوہ دو بڑی پارٹیاں ہیں:
آر جے ڈی (RJD)
اس کے بانی و صدر لالو پرساد یادو ہیں۔ بہاری مسلمانوں کی اکثریت ان کو اپنا سیاسی رہنما مانتی ہے۔ مسلم ووٹوں کے سہارے پہلے خود وزیرِ اعلیٰ بنے، پھر اپنی بیوی رابڑی دیوی کو بنایا۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں نتیش کمار کے ساتھ مخلوط حکومت میں اپنے نوعمر اور نوآموز بیٹے کو نائب وزیرِ اعلیٰ بنایا جبکہ عبد الباری صدیقی جیسے سینئر لیڈر جونیئر پوسٹ پر ہی رکھے گئے۔
جے ڈی یو (JDU)
اس پارٹی کے بانیان میں شرد یادو، جارج فرنانڈیز اور نتیش کمار تھے، لیکن فرنانڈیز آنجہانی ہو چکے، شرد یادو پارٹی سے باہر ہیں۔ فی الحال نتیش کمار پارٹی کے سربراہ ہیں۔ نتیش کمار کُرمی برادری سے ہیں، جس کی تعداد 2.5 فیصد ہے مگر نتیش مختلف پارٹیوں کی حمایت سے پانچ بار وزیرِ اعلیٰ بن چکے ہیں۔ اس پارٹی نے بھی کچھ نمایاں مسلم چہروں کو جگہ دے کر مسلمانوں میں اپنی جگہ بنا رکھی ہے۔ بہار میں یادو 16 فیصد اور مسلمان 18 فیصد ہیں مگر مسلم قیادت سرے سے غائب ہے۔
مہاراشٹر
مہاراشٹر میں کانگریس و بی جے پی کے علاوہ دو اور بڑی پارٹیاں ہیں:
این سی پی (NCP)
اس کے مکھیا شرد پوار ہیں۔ یہ پارٹی کانگریس سے ٹوٹ کر بنی ہے۔ علاقائی اعتبار سے ٹھیک ٹھاک اثر رکھتی ہے۔ کچھ بڑے مسلم چہروں کو پارٹی میں اہم عہدوں پر رکھا ہے، جس کی بنا پر مسلمان بھی وابستہ ہیں، حالانکہ سیاست اپنے مفاد سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔
شیو سینا
یہ پارٹی سخت گیر ہندوتوا کو پرموٹ کرتی ہے، اور مسلم مسائل میں سخت متعصب ہے، لیکن متعصب مراٹھیوں میں اسے مقبولیت حاصل ہے، جس کی بنا پر کچھ علاقوں میں اچھا اثر ہے۔
اس صوبے میں بھی مسلم قیادت کا فقدان ہے، حالانکہ پچھلے الیکشن میں اسد الدین اویسی صاحب کی ایم آئی ایم نے قسمت آزمائی کی۔ اچھی اسٹریٹجی اور مسلم رائے دہندگان کی دانشمندی کی بدولت دو سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ اسٹریٹجی اور دانشمندی آگے بھی سلامت رہے تو شاید کوئی مسلم قیادت ڈیولپ ہو جائے۔
بنگال
اس صوبے میں کانگریس کے علاوہ دو پارٹیاں ہیں:
کمیونسٹ پارٹی (CPM)
اس پارٹی نے 35 سال تک بنگال پر حکومت کی۔ مسلمان ہمیشہ اس پارٹی کا مضبوط ووٹ بینک بنے رہے مگر دو چند مسلم لیڈروں کے علاوہ پورے صوبے میں مسلمان حاشیے پر پہنچ گئے۔ سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں مسلمانوں میں سب سے خراب صورتِ حال بنگالی مسلمانوں کی ہے۔
ٹی ایم سی (TMC)
اس پارٹی کی سپریم لیڈر ممتا بنرجی ہیں، جو پچھلے دس سال سے اقتدار میں ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کو چھوڑ کر مسلمان قریب قریب مکمل طور پر اسی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ یہاں بھی کئی اہم چہروں کی شمولیت اور کئی رفاہی کاموں کی بدولت مسلمانوں میں اس پارٹی کے تئیں بہت زیادہ وابستگی ہے۔ بنگال میں بھی مسلم قیادت کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔
مسلم لیڈر شپ پر ایک نظر
ملکی سطح پر مسلمانوں کی سیاسی قیادت کے نام پر کیرلا کی مسلم لیگ، آسام کی یو ڈی ایف اور تلنگانہ کی ایم آئی ایم کے علاوہ کیا ہے؟ جبکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد والے صوبوں یوپی، بہار، بنگال، دہلی، راجستھان، ایم پی، مہاراشٹر وغیرہ میں قیادت کا خانہ صفر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان صوبوں میں مسلم لیڈر شپ نہیں ہے۔ لیڈر شپ تو ہے، مگر وہ سیاسی اعتبار سے دوسروں کی ذہنی غلام اور انہی کے پیچھے ہے۔
یوپی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد قریب چار کروڑ ہے، لیکن اس صوبے میں مسلم لیڈر شپ کا مکمل فقدان ہے۔ یہاں 8 فیصد والے یادو لیڈر ہیں اور 20 فیصد مسلم قوم ان کے پیچھے ہے۔ سیاسی یتیمی کا عالم یہ ہے کہ 16 ویں پارلیمانی انتخاب میں چار کروڑ مسلمان ایک مسلم ایم پی تک نہیں بنا پائے، لیکن 8 فیصد یادوؤں نے اپنے خاندان سے ہی پانچ لوگوں کو ایم پی بنا لیا۔
3.5 فیصد آبادی والی کُرمی برادری (اپنا دَل) نے اپنے بینر پر 9 ایم ایل اے بنا لیے مگر مسلم پارٹی ایک ایم ایل اے کو بھی جیت نہ دلا سکی۔ بہار میں 18 فیصد مسلمان دوسروں کے پیچھے چلتا ہے، جبکہ 2.5 فیصد والے کُرمی نیتا نتیش کمار 15 سال سے وزیرِ اعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ بنگال میں برہمن محض 3 فیصد ہیں مگر صوبے کی تینوں پارٹیوں (ٹی ایم سی، کمیونسٹ اور کانگریس) کی ٹاپ لیڈر شپ پر انہی کا قبضہ ہے، جبکہ 30 فیصد مسلمان ان کے لیے زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے۔
راجستھان میں 11 فیصد مسلم ہیں مگر 5 فیصد مالی اور راجپوت قوم کے افراد وزیرِ اعلیٰ بنتے ہیں۔ ایم پی میں 9 فیصد مسلم ہیں، مگر مسلم قیادت صفر ہے۔ ہاں، ابھی کانگریس کے دو مسلم ایم ایل اے ہیں۔ ملک کی ہر چھوٹی بڑی قوم نے اپنی قیادت اور مضبوط سیاسی حیثیت بنا کر اپنے حقوق حاصل کیے، مگر مسلمان سیاسی پارٹیوں کے نعرے لگانے اور دری بچھانے جیسے بڑے کاموں میں ہی مصروف رہے، اور ابھی تک اس مصروفیت سے فارغ نہیں ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ انہیں فراغت عطا فرمائے۔ (آمین)
[ماخوذ از: ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، اپریل 2019ء، ص: 22]
