| عنوان: | سلطانِ کونین کا ورودِ مسعود |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
دنیا میں نبوت و رسالت کے روشن ستارے بارہا اپنی تابشوں سے عالم کو منور کر چکے تھے۔ بحر و بر، دشت و جبل اپنی روشنیوں سے پیہم عالمِ نور بنتے رہے تھے۔ مسجدِ اقصیٰ کا مبارک خطہ نبوت کے انوار سے مدتوں چمکتا رہا تھا۔ اس کے در و دیوار ربانی تجلیوں سے مشرقستانِ انوار ہوتے رہے تھے۔ شب و روز ملائکۂ مقربین کا نزول، رحمت کی بارشیں، خداوندی احکام کا پہنچنا، معجزاتِ انبیاء کا صدور، مرسلین کی محافلِ متبرکہ اور ان میں حق و ہدایت کی تعلیم، کتبِ الٰہیہ کی تبلیغ اس بقعۂ پاک کو عجب طرح کی زیب و زینت سے سرفراز فرما چکے تھے۔ مصر و کنعان کے کوچہ و بازار، صحرا و کہستاں یوسفی جمال اور آسمانی انوار سے خوب جگمگا چکے تھے۔ وادیٔ ایمن حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عاشقانہ صداؤں سے گونج رہا تھا، ”رب ارنی انظر الیک“ کے پرارمان غلغلے نے پہاڑ اور جنگل تک کو مست بنا دیا تھا۔ خبر نہیں اس وقت عالمِ بالا والوں کے وجد کا کیا حال ہو گا۔ کوہِ طور کا مقدر اوج پر تھا۔ چرخِ بریں کو بھی کبھی یہ دن میسر نہ ہوا۔ فلک باایں رفعت و بلندی اس سے پستی ہی میں رہا۔ طور پر حضرت کلیم اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معراج ہوئی۔ جلوۂ محبوب کی ایک جھلک دکھائی گئی۔ حضرت موسیٰ تو محوِ دیدار ہو گئے، عاشقِ شیدا حسنِ دلربا کو دیکھ کر ایسا بیخود اور وارفتہ ہوا کہ اپنی خبر نہ رہی، اور پہاڑ تابشِ جمال کی تاب نہ لا سکا، ریزہ ریزہ ہو گیا۔ پہاڑ کے سخت پتھروں نے عاشقانِ صادق کی طرح یار کا جلوہ دیکھ کر جیب و گریبان تار تار کر ڈالنے کی بجائے اپنے دل و جگر کو پاش پاش کر ڈالا:
جسم خاک از عشق بر افلاک شد
کوہ در رقص آمد و چالاک شد
عشق جاں طور آمد عاشقا
طور مست و خرِ موسیٰ صاعقا
طورِ سینا کے ریزے ریزے کو وصالِ محبوب کی لذتیں آج تک یاد ہوں گی۔ دریائے نیل بھی ابھی موسوی سطوت و جبروت کو نہ بھولا ہو گا جو پیکرِ تکبر خدائی کے جھوٹے مدعی فرعون کو غرق کر کے ظاہر فرمائی گئی تھی، اور اس کا سپاہ و لشکر، خدم و حشم کام نہ آ سکا تھا۔ وہی منہ جو ”أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ“ کی ڈینگیں مارا کرتا تھا، ذلت و عجز کی حالت میں ”آمنتُ بِرَبِّ مُوسیٰ وَ هَارُونَ“ کے نعروں سے فریاد کر رہا تھا۔ اعجازِ موسوی نے چشمِ زدن میں فرعونی شوکت کو خاک میں ملا دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے احکام دریائے نیل پر نافذ تھے، بہتے دریا میں ان کے نیازمندوں کے لیے خشک سڑکیں بن جاتی تھیں اور ان کا دشمن ڈوب جاتا تھا۔ دولت کے مغرور قارون کو اس کی دولت کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا جاتا تھا۔ بنی اسرائیل کی درخواست پر آسمان سے غذائیں نازل کر کے ان کو تلاشِ معاش سے بے فکر کر دیا جاتا تھا۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بت پرستوں کے ہجوم میں صدائے حق بلند کی، نمرودی آتش کدہ آپ کی استقامت کی امتحان گاہ بنا، آپ کے صبر و ثبات نے دنیا کو متحیر کر دیا، کوسوں میں جلنے والی آگ فضلِ الٰہی سے گلزار ہو گئی۔ عشقِ الٰہی میں فرزند کی قربانی کے لیے آپ اور وہ فرزندِ ارجمند بہ تمنا آمادہ ہو گئے۔ مکہ مکرمہ کا مقام ایک بیابان تھا جہاں نہ سبزہ تھا نہ پانی، اسبابِ زندگانی یکسر مفقود تھے، آپ نے یہاں اپنی ذریت کو آباد کیا اور خلقِ خدا کے قبلۂ عبادت (کعبہ معظمہ) کی ازسرِ نو اپنے دستِ مبارک سے تعمیر فرمائی۔ مکہ مکرمہ کے پہاڑوں کو حضرت ہاجرہ کا دوڑنا اور وہاں کی زمین کو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا شدتِ تشنگی میں زمین پر پاؤں مارنا فراموش نہ ہوا ہو گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات نے اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو تندرست، مردوں کو زندہ کر کے فلاسفہ کی عقلیں حیران کر دیں۔
غرض دنیا میں لگاتار انبیاء علیہم السلام کا ورود ہوتا رہا اور ان کے فیضانِ صحبت و برکاتِ تعلیم و اعلانِ حق کا فیضِ عام جاری رہا۔ ان مقدس ہادیوں کی صدا سے دشت و جبل گونج اٹھے اور کائنات میں خدا پرستی کے علم بلند ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ یہ مبارک زمانے ختم ہوئے، ارشادِ ہدایت کی تمام مشعلیں دنیا کے مجلس خانے سے یکے بعد دیگرے اٹھتی چلی گئیں، آسمانِ نبوت کے عالم افروز انجم روپوش ہوئے، ظلمت نے غلبہ کیا، بھیانک تاریکی عالم پر مسلط ہوئی۔ ایک کالی ڈراؤنی رات میں خلقِ خدا ٹھوکریں مارتی پھرتی تھی۔ اس جہانگیر اندھیرے میں معبود کے طلب گار شیطان کے دامِ تزویر میں پھنس کر بتوں کے پرستار ہو گئے۔ کعبہ معظمہ جیسے مقدس عبادت خانے میں صدہا بت رکھے گئے اور دھڑلے سے بت پرستی ہونے لگی۔ حرام و حلال کا فرق و امتیاز اٹھ گیا، جور و ستم کی گرم بازاری ہوئی، قتل و غارت، بے شرمی و بے حیائی کا دور دورہ ہوا، انسان درندہ صفت بلکہ درندوں سے بھی بدتر ہو گئے۔ دلوں پر وہ اندھیرا چھایا کہ سفیدی کا ایک نقطہ بھی باقی نہ رہا۔ زمین کفر و شرک کی نجاست سے گندی ہو گئی۔ اہلِ عرب نے بتوں کو معبود بنایا، اپنی لختِ جگر بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا دین ٹھہرایا۔ زمین میں فساد انگیزی ان کی عادت اور خونریزی طبیعت بن گئی۔ تجارت کے بجائے لوٹ مار رائج ہوئی۔ اہلِ فارس آتش پرستی میں گرفتار ہوئے، ماؤں تک کے ساتھ انہوں نے بدکاری روا رکھی۔ ترک شہر ویران کرتے، خلقِ خدا کو سخت ترین ایذائیں پہنچاتے اور بت پرستی کرتے تھے۔ اہلِ ہند مخلوق پرستی کے شیدا تھے، بیوہ کو شوہر کے ساتھ جلا دیتے تھے۔ یہود کتبِ الٰہیہ کی تحریف اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تکذیب میں مشغول تھے۔ نصاریٰ حلول و تثلیث کے باطل عقیدوں کے پابند۔ غرض دنیا کا ہر طبقہ اور روئے زمین کا ہر خطہ تاریک ہو رہا تھا، ہر طرف کفر و ضلالت کی گھنگھور گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔
کعبہ معظمہ اور بیت المقدس کے در و دیوار اس غم میں خون در دل تھے، حرم شریف فریاد کر رہا تھا، بیت اللہ ہمہ تن آنکھ بن کر اس مقدس آنے والے کی راہ تک رہا تھا جس کے قدومِ پاک کے ساتھ اس کی عزت و عظمت، حق کا ظہور، خلق کی صلاح و درستی وابستہ تھی۔ صفا و مروہ گردنیں اٹھائے ہوئے اس ہادیٔ اعظم، رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا راستہ دیکھ رہے تھے جس کی تشریف آوری کا مژدہ حضرت مسیح و خلیل ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیم دیتے چلے آئے تھے۔ سرزمینِ حجاز کا ذرہ ذرہ محبوبِ حق کے قدموں سے پامال ہونے کی تمناؤں سے دلِ پرارمان بنا ہوا تھا۔ زمزم کا دل ایک بحرِ جود و کرم کی یاد میں پانی پانی ہو رہا تھا۔ بیت المقدس کی آنکھیں اس مقتدائے عالم کا انتظار کر رہی تھیں جس کے ورود سے اس کی دوبارہ آبادی متوقع تھی اور جو اس میں گروہِ پاک انبیاء کی امامت فرمانے والا تھا۔ بطحا کا ہر سنگریزہ اس عالم نواز ربانی نور کی قدم بوسی کا تمنائی تھا جس کی جلوہ افروزی کا غلغلہ ابتدائے عالم سے تمام دنیا میں مچا ہوا تھا اور جس کے انتظار نے لاکھوں امیدوارانِ جمال کو مضطر و بیتاب بنا دیا تھا۔ ہاں! موجودہ زمانہ کی شبِ تاریک کی سیاہ کملی جس آفتابِ صدق و صفا کی نور افشانی سے پارہ پارہ ہونے والی تھی، آسمان و زمین اس کے منتظر تھے۔
وہ نورِ الٰہی جس کے صدقہ میں کونین کو ہستی عطا ہوئی اور جس کا نامِ پاک عرش و جنت میں ہر جگہ مکتوب ہے، ہر غرفہ ہر قصر پر، حوروں کے سینوں پر، طوبیٰ و سدرہ کے پتے پتے پر، ملائکہ کی آنکھوں پر۔ وہ محبوبِ حق جس کے صدقہ میں تمام عالم کرمِ الٰہی سے بہرہ اندوز ہوا اور اس کی شفاعت اہلِ سموات و ارض کی کامیابی کا ذریعہ ہو۔ وہ خلیفۂ مطلق جس پر ایمان لانا انبیاء سابقین اور ان کی امتوں پر لازم کیا گیا ہو۔
وہ راحت القلوب جس کا نامِ نامی عرشِ الٰہی کے اضطراب کے لیے تسکین کا تعویذ ہو۔ وہ عزت و جاہ کا سلطان جس کے اظہارِ شان کے لیے دنیا بنائی گئی ہو۔ وہ حق کا نورِ تاباں جو آدم علیہ السلام کی پیشانی میں آفتاب کی طرح چمکا ہو اور اسی کی وجہ سے ملائکہ سے حضرت آدم کو سجدہ کرایا گیا ہو۔ وہ نورِ پاک جو حضرت شیث کی پیشانی میں نمایاں ہوا۔ وہ سید الطاہرین جس کے لیے حضرت آدم علیہ السلام نے وصیت فرمائی کہ یہ نور نسلاً بعد نسل مطهراتی کو تفویض کیا جائے [رواہ ابن عباس]۔ وہ آفتابِ جہاں تاب جس نے طوفان کے وقت حضرت نوح علیہ السلام کی پیشانی میں جگمگا کر کشتی والوں کی تسکین فرمائی اور جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے ان کی جبین سے ظہور فرما کر آتشِ نمرود کو ٹھنڈا کیا۔ وہ خدا پرستی کے آئین جاری فرمانے والا جس کے لبیک پکارنے کی آواز اس کے جد الیاس کی پشت سے سنی جاتی تھی۔
وہ آسمانِ نبوت کا نیّرِ اعظم جس کے نور کی روشنی اس کے آباء و اجداد خزیمہ، مدرکہ، نزار، معد، عدنان، عبد مناف، ہاشم، عبدالمطلب وغیرہم کے ناصیوں اور جبینوں میں جگمگاتی تھی اور اممِ سابقہ کے علماء و احبار اس کو دیکھ کر آدابِ تعظیم بجا لاتے، دست بوسی کرتے اور اس تاجدار کی تشریف آوری کے مژدے سناتے۔ حوائج و ضروریات میں اس نورِ پاک کی وساطت سے دعائیں کرتے اور کامیاب ہوتے تھے۔ شجر و حجر اس کو پہچانتے اور اس پر سلام عرض کرتے تھے۔
عالم میں اس کی تشریف آوری، جلوہ افروزی کی دھوم مچ رہی تھی۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بشارتوں نے دنیا کو محوِ انتظار بنا دیا تھا۔ آثار و خوارق کے ظہور نے شوق کے ولولے تیز کر دیے تھے۔ احبار و رہبان پیہم خبریں دے رہے تھے۔ جہان میں ایک غلغلہ بلند تھا۔ ہر زبان پر یہی ذکر، یہی تذکرہ تھا۔ اور جس طرح آفتاب کے طلوع سے پہلے صبحِ صادق نمودار ہو کر خورشید کی عالم آرائی کی خبر دیتی ہے، اسی طرح غیبی انوار نمودار ہو ہو کر آفتابِ جمال کے طلوع کا مژدہ دے رہے تھے۔ در و دیوار چمک اٹھے تھے، ہوائیں بدل گئی تھیں، زمین میں نئی زندگی کے آثار پیدا ہو چلے تھے، خشک سالی کی جگہ مرفہ الحالی نے لے لی تھی، خشک صحرا سرسبز و شاداب ہو گئے تھے، بھوکے سیر اور دبلے فربہ نظر آ رہے تھے۔ دنیا کی کایا پلٹ رہی تھی، جہاں کا نقشہ بدل رہا تھا۔
جب وہ ماہِ چرخِ نبوت اپنے منازل طے فرما کر منزلِ آخر میں پہنچا اور آبا و اجداد کی پیشانیوں کو مطلع الانوار بنا کر والدۂ ماجدہ کو تفویض ہوا، یہ شب تھی کہ آسمانی انوار نے زمین کو عالمِ نور بنا دیا تھا۔ اُمنگوں کے سمندروں میں سرور کی موجیں اٹھ رہی تھیں، ملائکۂ رحمت کا نزول تھا، روحانیات ایک دوسرے کو مژدہ دے رہے تھے، وحوش و طیور شادمانی کر رہے تھے، بے زبان جانوروں کی زبانیں فصاحت کے ساتھ کھل گئی تھیں اور وہ سلطانِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد میں عجیب سرور انگیز ترانہ سنجی کر رہے تھے۔ اس شب میں کشور کشائے نبوت و رسالت کی شاہنشاہانہ سطوت کا یہ ظہور ہوا کہ تمام روئے زمین کے سلاطین کے تخت اوندھے ہو گئے۔ تمام جہان میں کوئی ایسا بت کدہ نہ تھا جس کے بت آج کی شب منہ کے بل الٹے نہ گر گئے ہوں۔ حضرت آمنہ خاتون نے اس نورِ پاک کی روشنی میں بصرہ و شام تک عمارتیں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ مبارک آنے والا اس عظمت و شان کا ہے کہ اس کی تشریف آوری سے باطل کا تختہ الٹ جائے گا اور علوم کے سمندر دنیا میں موجزن ہو جائیں گے۔
نجومیوں اور کاہنوں نے کہا کہ یہ آخری پیغمبر کے ظہور کی نشانیاں ہیں جس کی تشریف آوری کا وقت بہت نزدیک آ گیا ہے۔ اس کا دین بت خانوں کو ویران اور بت پرستی کو باطل کرے گا۔ حکومتیں اور سلطنتیں اس کے سامنے پست ہو جائیں گی، کوئی قوت اس کے دین کو روک نہ سکے گی۔ علماءِ اہلِ کتاب نے کہا کہ یہ اسی نورِ الٰہی کے ظہور کے آثار ہیں جس کا کتبِ سابقہ میں ذکر ہے۔ وہ عدل و داد کے قوانین جاری کرے گا، ظلم و ستم اور ہر قسم کی بدکاری کو دور کرے گا، زمین کو طاعتِ الٰہی سے بھر دے گا، ہر بستی پر اس کا نام پکارا جائے گا، روئے زمین کے چپہ چپہ پر اس کا دین پہنچ کر رہے گا۔
تری و خشکی میں، میدان و کہسار میں، شہر و قریہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کی خبر مشہور ہوئی۔ ہر مجلس میں یہی تذکرہ تھا، ہر محفل میں یہی چرچا تھا۔ انتظار کی ساعتیں کاٹنا دشوار ہو گیا۔ حمل کے ایام خیر و خوبی سے گزرے۔ آپ کی والدۂ ماجدہ کو کسی قسم کی تکلیف، کسی طرح کا بار محسوس نہ ہوا۔ ابھی آپ اپنی والدۂ ماجدہ کے پاس ودیعت و امانت تھے کہ والدِ ماجد نے وفات پائی۔ ملائکہ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: یا رب! تیرا نبی یتیم ہو گیا، اس کے پدرِ مہربان کا سایہ اٹھ گیا۔ ارشادِ الٰہی ہوا: ہم خود اس کے حافظ و ناصر، ولی و نگہبان، حامی و کافی، معین و رزاق ہیں۔ تم اس پر درود پڑھو اور اس کے نامِ مبارک سے برکت حاصل کرو۔ اس ارشادِ الٰہی میں ملائکہ کو بتایا گیا کہ تمہارا خیال ہے کہ یتیم بیکس ہوتا ہے، مگر یہ حبیب یتیم ہو کر بیکس نہیں، بیکسوں کا فریاد رس ہے، عالم کی حاجت روائی کا سہرا اس کے سر ہے۔ ملائکۂ مقربین تک کو اس کے نامِ پاک سے برکت حاصل کرنا چاہیے۔
ولادتِ مبارکہ
اب ولادتِ باسعادت کا زمانہ قریب آیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعزہ و اقارب کو، جو اس بادشاہِ عرش پائگاہ کی خدمت کا شرف پانے والے تھے، اور دوسرے اعیان و اشراف، علماء و احبار، امراء و سلاطین کو خواب ہونا شروع ہوئے جن میں اس مہرِ انور کے طلوع کی خبریں دی گئیں۔ رہبان و احبار نے شبِ ولادت کی اطلاعیں دیں اور بتایا کہ آج ہی کی شب، شبِ ولادت ہو گی۔ علماءِ یہود نے وہ ستارہ پہچانا جو اممِ سابقہ کو اس سلطانِ ذی شان کے ظہور کی علامت بتایا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں اہلِ کتاب کی جماعتیں کی جماعتیں رات بھر اس جستجو میں ہر گلی کوچہ کا چکر لگاتی رہیں تاکہ معلوم کریں کہ محبوبِ حق کس سعادتمند کے گھر کو اپنے عالم افروز جلوہ سے منور اور کس خطۂ خاک و حصۂ زمین کو اپنے قدمِ ناز سے بہرہ ور فرماتا ہے۔ آسمانی اور غیبی انوار نے آفاق کو بھر دیا، فرشِ زمین عرشِ بریں کی روشنیوں سے جگمگانے لگا۔ آسمانی دلربا شیدائے زمین ہوئے، فلک کے نور پیکر انجم و اختر اس قدر قریب ہوئے کہ دیکھنے والوں کو خیال ہوا کہ گر ہی پڑیں گے۔ کارکنانِ عالمِ غیب نے تین علم نصب کیے: ایک کعبہ معظمہ پر، ایک مشرق میں، ایک مغرب میں، تاکہ معلوم ہو کہ ختمِ رسالت کے تاجدار کی حکومت کعبہ شریف سے ظاہر ہو کر تمام عالم میں پہنچے گی اور مشرق و مغرب میں انہی کا سکہ رائج، انہی کا علم بلند رہے گا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدۂ ماجدہ حضرت آمنہ کی خدمت کے لیے جنتی بیبیاں آئیں جن کے چہرے چاند سے زیادہ چمکتے تھے۔ وہ مصروفِ خدمت ہوئیں اور انہوں نے بہشتی شربت پیش کیا اور عرض کرنے لگیں: بسم اللہ! تشریف لائیے، اے سرورِ انبیاء صلی اللہ علیک وسلم۔ حضرت عبدالمطلب کو آثار و قرائن سے بھی معلوم تھا، کاہنوں نے بھی خبریں دی تھیں، خوابوں سے بھی پتہ چلا تھا کہ آج کی رات بخت کی بیداری اور طالع کی ارجمندی کی رات ہے۔ وہ امیدوں کا ہجوم لے کر بیت اللہ شریف میں حاضر ہوئے اور کعبہ معظمہ کے طواف میں مشغول ہو گئے۔ نور بھری رات کی خیر و برکت والی ساعتیں محبوب کی آمد پر قربان ہوتی چلی گئیں۔
صبحِ صادق کا سہانا اور دل لبھانے والا وقت آیا۔ خوش الحان طیور نے غایتِ سرور سے نغمہ سنجی شروع کی، عطر بیز خوشبوؤں نے دماغ معطر کیے، کعبہ معظمہ کے در و دیوار جنبش میں آئے، بت اوندھے منہ گرے، شیاطین کے تخت الٹ گئے، ضلالت کی شبِ دیجور کا پردہ چاک ہوا، صدق و صفا کی صبحِ صادق نے جلوہ کیا، حق و ہدایت کے آفتابِ عالم تاب نے بے نظیر جاہ و جلال، بے مثل حسن و جمال کے ساتھ اپنی طلعتِ مبارکہ سے حجاب اٹھایا۔ طیب، طاہر، زکی و نظیف، عالم کے سلطان، خدا کے محبوب، ہمارے آقا سرورِ انبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحنِ عالم میں قدم رکھا۔
ولد الحبيب ومثله لا يولد
ولد الحبيب وخدُه يتورّد
ولد الحبيب مطيَّباً ومكحَّلاً
فالنور من وجناته يتوقد
نخل قدس کہ از چمن جاں برآمدہ!
شارخ گلے بصورتِ انسان برآمدہ
صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہٖ و اصحابہٖ و ازواجہٖ و ذریاتہٖ و بارک وسلم۔
مکہ مکرمہ کا ذرہ ذرہ معدنِ انوار بن گیا۔ کعبہ شریف کے در و بام ایوانِ تجلی نظر آنے لگے۔ حضرت عبدالمطلب کو خبر دی گئی، سنتے ہی سجدہ میں گر گئے، پھر آ کر روئے منور کی زیارت کی تمناؤں کے ساتھ گود میں لیا اور کعبہ مقدسہ میں لے جا کر دعا کی۔ سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دنیا میں آتے ہی سجدہ کیا اور انگشتِ شہادت آسمان کی طرف بلند کی، نظرِ انور جانبِ سما اٹھائی، زبانِ معجز بیان سے ”اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيراً وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيراً وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً“ فرمایا۔ دولت سرائے اقدس کا گوشہ گوشہ نور سے بھر گیا۔ اس وقت بھی ایسا نور ساطع ہوا کہ والدۂ ماجدہ نے مشرق و مغرب کا معائنہ فرمایا اور بصرہ و شام کے محل و بازار ان کے سامنے ظاہر ہوئے۔
آپ کے چچا حضرت عباس اپنے قصیدے میں فرماتے ہیں:
وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ
وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ
فَنَحْنُ فِي ذٰلِكَ الضِّيَاءِ
وَفِي النُّورِ وَسُبُلِ الرَّشَادِ نَسْتَبِقُ
حضرت عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ میں نے کعبہ مقدسہ میں دیکھا کہ حضور کی ولادت کے وقت بت سجدہ میں گر گئے اور کعبہ کی دیواروں سے یہ آوازیں آنے لگیں:
وُلِدَ الْمُصْطَفَى الْمُخْتَارُ
الَّذِي تُهْلِكُ بِيَدِهِ الْكُفَّارُ
وَيُطَهِّرُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ
وَيَأْمُرُ بِعِبَادَةِ الْمَلِكِ الْعَلَّامِ
کعبہ معظمہ آپ کی ولادتِ شریف سے تین روز تک جنبش میں رہا۔ نوشیروان کے مکان میں زلزلہ آیا اور ایک آوازِ وحشتناک پیدا ہوئی اور چودہ کنگرے گر گئے۔ آتش خانۂ فارس کی ہزار سالہ آگ ایک دم بجھ گئی، دریائے ساوی کا پانی خشک ہو گیا اور بہت عجائب و غرائب ظہور میں آئے:
لمولدِه إيوانُ كسرى تشققت
مبانيه والخطت عليه شؤونه
لمولدِه خرّت على شرفاته
فلا شرف للفرس يبقى حصينة
لمولدِه نيرانُ فارسَ أُخمدت
فنورُه إخمادُه كان حصينة
لمولدِه غاضت بحيرةُ ساوة
وأعقب ذاك المدجور يشينه
کأن لم يكن بالأمس ريُ الناهل
وورد العين المستهام المعينة
محفلِ میلاد مبارک
سپاس گزاری انسان کی بہترین صفت ہے اور شکرِ الٰہی بجا لانا عین سعادت، اور اس پر حضرتِ کریم کارساز کی طرف سے مزید نعمت کا وعدہ: ”لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ“۔ اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری یقیناً عظیم ترین نعمتِ الٰہیہ ہے۔
قال اللہ تعالیٰ:
”وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ“
[المائدة: ۲۰]
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں پیغمبر کیے۔
اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بعثتِ مبارکہ ان سب سے بالاتر نعمت ہے کہ پروردگارِ عالم نے اپنے بندوں پر اس کی منت رکھی:
”لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ“
[آل عمران: ۱۶۴]
ترجمہ: بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔
اور نعمت کی تحدیث اور اس کا ذکر مامور بہ ہے:
”وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ“
[الضحى: ۱۱]
ترجمہ: اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو۔
تو محفلِ مبارک میلادِ شریف تحدیثِ نعمتِ الٰہیہ اور موجبِ برکت و رحمت ثابت ہوئی اور اس کے استحباب پر قرآنِ پاک کی آیاتِ مذکورہ دال ہیں۔ وقتِ ذکرِ ولادت قیام کرنا بیشک مستحب ہے کیونکہ یہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم ہے، اور آپ کی تعظیم شروع میں مطلوب: ”وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوقِّرُوهُ“۔ ائمۂ دین اس مجلس کو منعقد کرتے چلے آئے ہیں۔
سیرۃ حلبیہ میں ہے کہ حضرت امام سبکی کے یہاں مجمعِ کثیر علماءِ عصر کا تھا، ایک نعت خواں نے یہ اشعار پڑھے:
قليل لمدح المصطفى الخط بالذهب
على ورق من خط أحسن من كتب
