| عنوان: | بچپن کی تربیت پچپن تک جاتی ہے |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد مظفر علی المدنی |
| پیش کش: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
انسان کی پرورش، نشو و نما اور تربیت کا سب سے پہلا مرحلہ اس کا بچپن ہے۔ یہ بات ایک عالمی سچائی ہے، نیز اس پر بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا اتفاق بھی ہے کہ بچے کی تربیتی زمانے میں اس کے ذہن کی دیواریں ایک صاف کینوس کی طرح ہوتی ہیں۔ ان دیواروں پر آپ جیسے کردار، رویے اور اخلاقی اقدار منقش کر دیں گے بچے کا ذہن ویسا ہی اسی طور پر ڈھل جائے گا اور یہی آپ کے نقش کردہ رویے اور اخلاقی اقدار ساری عمر اس کے لیے ایک حوالہ بن جائیں گی۔
یاد رکھیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بچہ کسی بھی کردار میں ڈھل جائے، مگر اس کا اخلاقی معیار وہی رہتا ہے جو بچپن میں اس کے ذہن میں راسخ ہو چکا تھا۔ ایک مشہور مقولہ ہے کہ ”ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہوتی ہے“۔
مقولہ تو پرانا سہی، مگر اب تو سائنس بھی یہ کہتی ہے کہ بچہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی DNA کے ذریعے والدین کے اثرات قبول کرنے لگ جاتا ہے۔ اس نظریے کی تصدیق ہمارے اسلاف سے بخوبی ہو جاتی ہے جنھیں پیدائشی طور پر کئی کئی پارے حفظ ہوتے تھے، مگر بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں جہاں بہت ساری دیگر برائیاں جنم لے چکی ہیں، ان ہی میں سے ایک بہت بڑی برائی، خرابی اور جرم، جی ہاں ایک سنگین جرم ”والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا ہے“۔ یقین کیجیے والدین کا اپنی اولاد کو وقت نہ دینا اور چند بنیادی ذمہ داریوں کے علاوہ باقی ذمہ داریوں کو پیسے کے ذریعے معاشرے سے خریدنے کی بے وقوفانہ کوشش کرنا، بچے میں مذہبی، معاشرتی، دینی اور اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے کا سب سے بنیادی اور مؤثر ترین سبب بن جاتا ہے۔
اپنی خرابیوں کو پسِ پشت ڈال کر
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے
نوجوان نسل آوارہ، بدچلن، نشے میں دھت، مغرب کی اندھی غلامی، قتل، زناکاری اور ہم جنس پرستی (Homosexuality) جیسے جرائم میں دھنسی ہوئی نظر آتی ہے، مگر اہلِ خانہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ان کی اس بے راہ روی کا یکتا سبب معاشرے کی خرابی قرار دیتے ہیں، مگر یاد رکھیے اہلِ فہم کے نزدیک معاشرہ بذاتِ خود کچھ بھی نہیں، بلکہ یہ معاشرہ ہم انسانوں کی ایک ایک اکائی کے اجتماع کا دوسرا نام ہے، ہاں یوں کہہ لیجیے کہ معاشرہ اپنے وجود کے لیے ایک ایک انسان کے وجود کا مرہونِ منت ہے۔
یعنی معاشرہ ہم خود بناتے ہیں، اور سب ہی اس میں کسی نہ کسی طرح بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں، مگر اس بگاڑ کا تخم والدین اپنی اولاد کو وقت نہ دے کر اور ان کی تربیت نہ کر کے ہی بو رہے ہوتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ آج کا نوجوان بے راہ رو ہے، جرائم میں ملوث ہے۔ ایک پرائمری اسکول کا بچہ ”ویلنٹائن ڈے“ کو گلاب ہاتھ میں لیے پھر رہا ہے۔ ساتویں کلاس کا بچہ اپنی محبوبہ کو تحائف دینے کی خاطر اپنے ہی گھر میں چوری کر رہا ہے۔ اسکولوں کی خستہ ذہن بچیاں گھر جھوٹ بولنے سے لے کر آشنا کے ساتھ بھاگنے تک کے منصوبے بنانے میں مصروف ہیں۔ دسویں کلاس کا بچہ اپنی ہی استانی سے عشق کے پیچ ڈالتا نظر آ رہا ہے۔ یہ سب صورتِ حال بہت تشویش ناک ہے۔ آخر یہ نوجوان نسل اتنی نڈر اور بے باک کیوں ہو گئی ہے؟ ان کی اس بے راہ روی کی بنیاد کہاں سے پڑی تھی؟ اس طرح کے دیگر کئی چبھتے سوالات کے جوابات کی کڑیاں والدین کی عدم توجہی اور درست زاویوں پر فکری تربیت نہ کرنے سے جا ملتی ہیں۔
آپ اگر والدین اور بچے کے مابین وابستگی اور تعلقات کا سرسری جائزہ لیں تو صبح جگانا، ناشتہ دینا، اسکول، مدرسہ اور ٹیوشن بھیجنا اور جب مستقبل میں پڑھ لکھ جائے تو نوکری ملنے کے بعد شادی کر دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
فی زمانہ بہیترے گھرانوں کا حال اسی نوعیت کا ہے۔ ماں باپ دونوں کے پاس صحیح غلط سمجھانے اور صحیح راہ پر گامزن کرنے کا وقت ہی نہیں، لہٰذا والدین اور اولاد ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ نتیجۃً اس خود ساختہ دوریوں کی وجہ سے بچے باتیں چھپانے لگتے اور از خود ان کے حل تلاش کرتے کرتے غلط راہ پر چل نکلتے ہیں۔ ماں بچوں کی روٹی، کپڑا اور تعلیم دلوانے میں مصروف ہے اور باپ ان ضروریات کے لیے پیسہ کمانے میں، مگر حاصل یہ کہ اولاد ان سب چیزوں کے باوجود زمانے کی گردش میں زندگی اور کبھی کبھی عزت کی بازی ہار جاتی ہے۔
کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی
جلتی رہی حیات بڑی خامشی کے ساتھ
ایک بہت مزیدار مقولہ ہے ”بچپن کی تربیت پچپن تک جاتی ہے“ لہٰذا خدارا اپنی اولاد کو ایک قیمتی سرمایہ سمجھتے ہوئے انھیں مناسب وقت فراہم کیجیے، اپنی کاروباری اور مذہبی (یعنی مبلغ کا بیانات اور پیر کا آستانوں پر وقت دینا، وعلیٰ ہذا القیاس) مصروفیات کی خاطر ان پھولوں کے مستقبل، افکار اور کردار کا خون مت کیجیے۔ اپنے کاروبار سے زیادہ اپنے بچوں پر سرمایہ کاری (investment) کیجیے ہمارے مشائخ کی زندگی کا سرسری جائزہ لیجیے تو ان کی بچپن سے فکری، تعلیمی، اخلاقی، مذہبی، سماجی اور معاشرتی تربیت ان کے والدین ہی کرتے تھے۔ اور افسوس کے ساتھ ہمارے زمانے کا حال یہ ہے کہ واٹس ایپی امیاں ہیں اور فیس بکی ابو تو بالیقین اولادیں بھی انسٹا گرامی ہی نمودار ہوں گی۔
اپنوں کی چاہتوں نے بھی کیا کیا دیے فریب
روتے رہے لپٹ کر ہم ہر اجنبی کے ساتھ
لہٰذا آپ کی اس نوجوان نسل (young generation) کو آپ کے وقت کی حاجت ہے، انھیں وقت دیں، پیار کریں، اپنائیت دیں، دوست بنائیں، اجنبیت ختم کریں، قربت بڑھائیں، ان پر سرمایہ کاری کریں، ان سے بات کریں اور سچ کہوں تو انھیں اپنا وقت دے کر ایک ”انسان“ بنائیں۔
اللہ کریں دل میں اتر جائے میری بات
[حوالہ: ماہنامہ پیغامِ شریعت، بریلی شریف، فروری ۲۰۲۱ء]
