| عنوان: | دینی مدارس: ضرورت اور افادیت جدید زاویۂ فکر سے |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد شمشاد حسین رضوی، بدایوں |
| پیش کش: | بشیر مدنی |
دینی مدارس سے وہ درس گاہیں مراد ہیں جہاں مذہبی تعلیمات دی جاتی ہوں۔ روحانیات، اخلاقیات، دینی رجحانات و خیالات معرفتِ خدا و رسول، سیرتِ مبارکہ اور اچھے و برے، نیک و بد اور خیر و شر کے مابین امتیازات کی شناخت کرائی جاتی ہو۔ انسانیت، احترامِ انسانیت، شرافت، دیانت داری، ایمان داری جذبۂ بے لوثی اور بے غرض زندگی بسر کرنے کے طور طریقے بتائے جاتے ہوں۔ اسلامی رسم و رواج، عبادات، ریاضیات، عادات و اطوار نیز معاشیات جیسے اہم مسائل سے واقفیت کرائی جاتی ہو۔ دینی مدارس سے وہ مکاتب اور ابتدائی اسکول بھی مراد لیے جاتے ہیں جہاں بچوں میں مذہبی شعور بیدار کیا جاتا ہے اور ناظرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ دینی مدارس کیوں قائم کیے جاتے ہیں؟
سماج و معاشرہ میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ انسانی زندگی کو وہ کس قدر متاثر کرتے ہیں؟ ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کرنے سے قبل آئیے اس کے تاریخی پس منظر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کے مطالعہ کرنے کے بعد ہی یہ حقیقت نکھر کر سامنے آئے گی کہ سماجی اور معاشرتی زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے۔ اور کس حد تک وہ ضرورت کی تکمیل کرتا ہے اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ہمارا مذہب، مذہبِ اسلام ہے۔ جو دینِ فطرت ہے اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اور خوب صورت نظامِ اخلاق رکھتا ہے۔ بے یقینی اور شکوک و شبہات کے اندھیروں میں اسلام کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ وہ مینارِ نور ہے اور مشعلِ ہدایت ہے۔ اور انسانی زندگی میں ایقان و ایمان کی چاندنی بکھیرتا ہے۔
ہے سرگرداں زمانہ بے یقینی کے اندھیرے میں
اسے اسلام کے نورِ فراست کی ضرورت ہے
مذہب اور اس کا شعور
حدیثِ شریف کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس خاکدانِ گیتی میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ دینِ فطرت لے کر آتا ہے۔ یہ دینِ فطرت کیا ہے؟ اسلام کے بنیادی ارکان ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید و رسالت جن کے ماننے کا اقرار تمام روحوں نے روزِ ازل میں کیا ہے چوں کہ بچہ بالکل سادہ ذہن اور شعور و احساس سے عاری ہوتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی امتیاز یا اختیاری قوت نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اسے نیک و بد، خیر و شر کی کوئی سوجھ بوجھ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ گھر خاندان اور معاشرتی طبقہ سماجی زندگی سے متاثر ہوتا ہے۔ اور افرادِ سماج کے کرداروں سے زبردست متاثر ہوتا ہے۔ اس تاثر کے ساتھ ساتھ اسے شعور و احساس کی قوت بھی نصیب ہی نہیں بلکہ اس میں پختگی اور مضبوطی آتی ہے اگر انھیں یہودیوں کا سماج ملتا ہے۔ وہ یہودی نواز بن جاتا ہے۔ نصرانی کے ماحول میں رہتا ہے تو نصرانی بن جاتا ہے۔ آتش پرست سے ربط و ضبط ہوتا ہے۔ تو وہ یہی دین اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے۔
جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھیے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ معاشرے کے افراد اور حوادث سے واسطہ پڑنے سے بچوں میں مذہبی شعور کی ابتدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے۔
”بچوں کو جب اپنے معاشرے کے افراد اور حوادث سے واسطہ پڑتا ہے تو انھیں کھرے کھوٹے کی تمیز ہونے لگتی ہے وہ نیکی اور بدی کو پہچاننے لگتے ہیں۔ ان میں اشیا اور افعال کی بنیادوں پر بھی قدرے فکر کی رغبت ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ پھر ان کا فکر مادی سطحیت سے بلند ہوکر اپنی بساط کے مطابق ماورائی حقائق کی طرف متوجہ ہونے لگتا ہے۔“ [ص: ۱]
بچہ جب عمر کی اس منزل میں داخل ہو جائے جہاں اسے مذہبی شعور و ادراک کی آشنائی حاصل ہوتی ہے تو والدین کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ گھر میں یا مکتب میں اس کے لیے مذہب کا عملی نمونہ پیش کریں۔ اور یہ عملی نمونہ بالکل واضح غیر مبہم ہو۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر آج ہند وستان میں سینکڑوں مکاتیب ہیں۔ اور کہیں مساجد میں تعلیم دی جاتی ہے۔ مذہب سے روشناسی کرائی جاتی ہے۔ اور اسلام کے بنیادی عقائد و ارکان سے اسے واقف کرایا جاتا ہے۔ مکتب کی اس ابتدائی تعلیم اور اس کی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ابتدائی تعلیم اسے عمر کی آخری منزل تک کام آتی ہے، اس لیے اس پر زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ علامہ مشتاق احمد نظامی کو بچوں کی اس ابتدائی تعلیم کا کس قدر خیال تھا اور انھیں اس کی کس قدر فکر تھی۔ مندرجہ ذیل تحریر سے اندازہ ہوتا ہے۔
”نسیم رحمت کے کل تین حصے ہیں۔ جس میں اسلامی عقائد و ارکان کو سوال و جواب کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے چند برس کے تعلیمی تجربے نے ثابت کر دیا کہ سوال و جواب کی صورت میں بچوں کے حق میں آسان و سہل العمل ہے۔ نیز ان کے ذہن سے قریب ہے۔“ [۱]
دینی مدارس اور ہندوستان
ہندوستان وسیع ترین ملک ہے۔ جو کشمیر کی وادی سے لے کر کنیا کماری، اور بنگال کی کھاڑی سے پنجاب کی جھاڑی تک پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی بلند ترین جبلِ راسخ ہمالہ اور جنت نظیر علاقہ کشمیر یہاں موجود ہے۔ مسلمانوں کا کارواں ہندوستان کی سرزمین پر اترا۔ جنھوں نے اپنے کردار و عمل، اخلاق و محبت اور حسنِ سلوک سے اسلام کے چاندنی سے اس ملک کو منور کیا۔ اور یہاں کے باشندوں کے دلوں میں حسنِ عمل کی کرنیں بکھیر دیں۔ اور اپنے پیغامِ محبت، دعوت و رشد و ہدایت سے پورے ملک میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ امن و آشتی اور صلح و سکون سے یہاں فضا کو خوشگوار بنا دیا۔ ڈاکٹر اقبال نے ان کے اس کردار کی اس طرح منظر کشی کی ہے۔
اے آبروئے گنگا وہ دن ہیں یاد تجھ کو
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
قدیم ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس ملک میں آریہ لوگ رہا کرتے تھے اور یہ چار فرقوں میں بٹے ہوئے تھے۔
- برہمن: یہ لوگ دیوی دیوتا کی پرستش کرتے تھے وید پڑھتے تھے اور پڑھاتے تھے۔
- چھتری: یہ دیش کی حفاظت کرنے میں مامور تھے۔
- ویش: یہ کھیتی کیاری کا کام کرتے تھے۔
- شودر: یہ اور لوگوں کی حفاظت کرتے تھے۔
آریائی مذہب میں گروہی تعصب، نفرت و حقارت پائی جاتی تھی۔ فرقہ بندی کا جراثیم اس قدر پھیلا ہوا تھا کہ انسانیت اور شرافت سسک رہی تھی۔ ان میں سب سے زیادہ حقیر شودر لوگ مانے جاتے تھے۔ ذات پات کے جھگڑوں میں پورا ملک گھرا ہوا تھا۔ کاروانِ اسلام کے اترنے سے، اور مسلمانوں کے حسنِ عمل نے ان تمام جھگڑوں کو مٹا دیا۔ ان میں نہ کوئی اعلیٰ ہے اور نہ کوئی ادنیٰ ہے۔ انسان بحیثیت انسان سب برابر ہے۔ مشہور مورخ پنڈت چندر سین (م: ۱۹۷۲ء) لکھتا ہے۔
”مسلمان بادشاہوں کی حکومت سے پہلے ہندوؤں میں ذات پات کا بڑا خیال تھا۔ انھوں نے برہمن، چھتری، ویش اور شودر وغیرہ کے خاص فرقے مقرر کر رکھے تھے۔ اگر کوئی شودر قومی خدمت یا ملکی ترقی کی راہ میں اپنے آپ کو پیش کرتا تھا تو اس کی مطلق اجازت نہ تھی۔ مسلمان بادشاہوں نے اس قسم کی ذاتی تفریق کی بنیادیں ہلا دیں۔ اور جو شودر علومِ فنون حاصل کرنے سے محروم کر دیے گئے تھے۔ اب آزادی سے تعلیم حاصل کرنے لگے۔ چناں چہ سلاطینِ اسلام کے عام درباروں میں، انتظامی محکموں میں ایک شودر کو بھی وہی اعزاز حاصل تھا جو اعلیٰ ذات کے ہندو کو حاصل تھا۔“ [۲]
مسلمانوں نے ہندوستان میں ساڑھے نو سو سال تک حکومت کی۔ عدل و انصاف، رواداری، ایثار و ہمدردی اور جذبۂ بے لوث کی ایسی فضا بندی کی کہ ہر انسان اپنی اپنی جگہ مطمئن نظر آتا تھا۔ اور زندگی کے ایام سکون و اطمینان سے گزارتا۔ رات کے اندھیرے بھی دن کے اجالے کے مانند نظر آتے تھے۔ مسلمانوں نے ہر دور میں علوم و فنون کی ترویج و اشاعت میں زبردست حصہ لیا۔ اور دینی مدرسوں کی خدمت کی۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفا نے بھی دینی ادارے قائم کیے۔ اور مذہبی تعلیمات کو فروغ دیا۔ اور دینی مدارس کو ترقی دینے میں ہر ممکن کوشش کی۔ ہندوستان کی تاریخ میں بھی دینی مدارس کی زبردست اہمیت ہے۔ اس ملک میں جو بھی مسلم حکمراں گزرے ہیں انھوں نے ایسے اداروں کی سرپرستی کی ہے۔ مدارس کو ترقی دینے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا ہے۔
”ہندوستان میں سلطان محمود غزنوی بھی اسلامی تعلیمات کے تعارف کے لیے معاون ثابت ہوئے ہیں۔ سلطان محمد غوری سے لے کر مغل خاندان کے آخری چشم و چراغ تک مسلمان بادشاہوں نے ملتِ اسلامیہ کی بقا و استحکام کے لیے حد امکان کوشش کی۔ ان فرما رواؤں میں محمد تغلق اور حضرت شاہ اورنگ زیب کے نام نامی سر فہرست نظر آتے ہیں۔“ [۳]
حضرت شہنشاہ عالمگیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نیک سیرت اور اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ علم و عمل اور زہد و ورع، تقویٰ و پرہیزگاری آپ کی فطرت تھی۔ عدل و انصاف اور رواداری میں آپ اپنی مثال نہیں رکھتے تھے۔ ظالموں کو آپ نے کبھی برداشت نہیں کیا۔ زبان کے پکے اور وعدے کے سچے انسان تھے۔ آج بھی ہندوستان میں آپ کے عدل و انصاف اور محبت و ہمدردی کے اثرات نظر آتے ہیں۔ بنارس میں گنگا کے کنارے دھرارہ کی مسجد اور اس کا بلند ترین مینارہ آج بھی عہدِ عالمگیری کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ۱۶۵۸ء سے ۱۷۰۷ء تک آپ ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔ اس دوران آپ خزانۂ مملکت سے ایک حبہ تک نہ لیتے تھے اور اپنے مقدس ہاتھوں سے ٹوپیاں بنا کر اپنی زندگی کے ضروریات پوری کرتے تھے۔ علما آپ کے دربار سے منسلک تھے۔ جو مسائل شرعیہ کو جمع کرتے تھے۔ فتاویٰ عالمگیری اسی دور کی یادگار ہے۔ اسلامی تعلیمات کے فروغ میں آپ نے حتی المقدور کوشش کی۔ اور آپ نے دینی ادارے کی بھی خدمت کی۔ اور اسلامی تہذیب و تمدن کے استحکام میں اہم رول ادا کیا۔ ان کی علمی، فنی اور تہذیبی خدمات کا جائزہ مندرجہ ذیل تحریرات سے لگا سکتے ہیں۔
حضرت شہنشاہ اورنگ زیب نے تخت نشینی کے بعد دو کمیشن قائم کیے۔
- قانونی کمیشن
- تعلیمی کمیشن
قانونی کمیشن ۱۶۶۶ء میں قائم کیا گیا اس کمیشن کے ارکان میں یہ چار ماہرینِ قانون و علومِ دینیہ شامل تھے۔
- قاضی محمد حسین جونپوری۔ قاضی الہ آباد
- شیخ وجیہہ الدین ہر دوئی
- ملا حامد جونپوری مؤلف حاشیہ بیضاوی
- ملا محمد اکرام لاہوری۔ قاضی القضاۃ صوبہ لاہور
اس کمیشن کے صدر حضرت شیخ نظام الدین برہانپوری تھے۔
تعلیمی کمیشن، علمائے فرنگی محل کے زیر نگرانی قائم کیا گیا۔ فرنگی محل کے متعلق مولانا عبد الحلیم شرر نے ”گزشتہ لکھنؤ“ میں لکھا ہے کہ ”یہ ایک حویلی تھی جسے عہدِ اکبری میں ایک فرانسیسی تاجر نے تعمیر کرایا تھا اور جو چار ایوانوں میں مشتمل تھی۔ تاجر مذکور کے پاس صرف عارضی قیام کا اجازت نامہ تھا۔ جس کی سال بہ سال تجدید ہوتی تھی۔ ایک سال اس کے ویزے کی تجدید نہ ہو سکی۔ اور اسے زیادہ قیام اجازت نہ ملی تو یہ چاروں مکانات بحقِ سرکار ضبط ہوئے۔ اورنگ زیب کا عہد آیا تو اس نے یہ حویلی ۱۶۶۴ء میں ملا قطب الدین شہید سہالوی کے ورثا کو دے دی۔ ملا مذکور کی اولاد میں سے ملا نظام الدین بہت مشہور ہوئے۔ یہی ملا نظام الدین نصاب کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے ”درس نظامی“ کے بانی قرار پاتے۔ اور انھی کے نام سے ”درس نظامی“ کا نصاب برصغیر میں آج تک رائج ہے۔ ملا نظام الدین کی حیثیت محض ایک مدرس کی نہ تھی۔ انھوں نے فرنگی محل کو ایک یونیورسٹی کا درجہ دے دیا تھا۔ جس نے پونے تین سو برس تک مسلمانانِ ہند کے سب سے زیادہ خدمت کی۔ درس نظامی اس زمانے کے مطابق دینی و دنیاوی علوم کا حسین امتزاج تھا۔ اس میں ترمیمات بھی ہوئیں۔ لیکن اس وقت کی ضروریات کے مطابق یہ ایک اچھی ابتدا تھی۔“ [۴]
اس تحریر سے اندازہ ہوتا تھا کہ حضرت عالمگیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کس طرح علمی خدمات انجام دیں۔ اور کس قدر ”دینی مدارس“ کی سرپرستی فرمائی۔ اب تک کے جائزے سے یہ بات بھی طشت از بام ہوتی ہے کہ اب تک ”دینی مدارس“ مذہبی جماعت کے ہاتھوں رہا اور علما کا اس پر اقتدار رہا ہے۔ ان بادشاہوں نے ان مدارس سے کسی قسم کے پروپیگنڈا کا کام نہیں لیا ہے۔ اور نہ ہی مدرسین سے اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتے تھے۔ وہ صرف اس کی سرپرستی کرتے تھے۔ اداروں میں بے جا مداخلت کے قائل نہ تھے۔ جب کہ اور دیگر ملکوں میں تعلیمی ادارے حکومت کے ہاتھوں میں کھیلتے تھے۔ اور حکمراں طبقہ اس کے ذریعہ اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ جیسا کہ نپولین نے اپنے اس خیال کا صاف لفظوں میں اظہار کیا ہے۔
”اس نظامِ تعلیم کے قائم کرنے سے میری سب سے بڑی غرض یہی ہے کہ میرے ہاتھ میں ایک ایسا ذریعہ ہو جس سے سیاسی اور اخلاقی معاملات میں لوگوں کی رائے پر اثر ڈال سکوں۔“ [۵]
نپولین اپنے حصولِ مقصد کے تحت تعلیمی اداروں کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔ لیکن ہندوستان ایک ایسا ملک تھا کہ یہاں کے حکمراں اس کی کفالت کرتے تھے، مدرسین اور علما کو وظیفہ دیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود وہ اس میں دخیل نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی علما ہی ماہرِ قانون اور اعلیٰ میدان کے شہسوار تھے۔ کیوں کہ وہ استاذانہ درجہ رکھتے تھے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مذہبی طبقہ کو سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ اربابِ حکومت تعلیمی درس گاہوں کی آزادی میں سدِ راہ نہ ہوتے تھے۔ دہلی، خیرآباد، رامپور، بریلی، جونپور اور بدایوں ان شہروں کے نام ہیں جہاں دینی مدارس قائم تھے اور دور و دراز سے طلبہ جمع ہو کر اپنی تعلیمی تشنگی کو بجھایا کرتے تھے۔
یہ صرف اور صرف دینی مدارس کے بدولت ہے۔ اگر یہ ادارے نہ ہوتے تو مذہبی تعلیمات میں کسی قسم کی ترقی نہ ہوتی۔ اور نہ ہی اتنے کثیر مقدار میں علما کی فراغت ہوتی۔ اسی ادارہ کی یہ افادیت ہے کہ ہر انسان اسلامی تعلیمات سے کسی نہ کسی حد تک واقفیت رکھتے ہیں۔ اب تک کے تفصیلی جائزے سے ثابت ہوا کہ حکومت اور دینی مدارس کے مابین کسی قسم کا گہرا تعلق نہ تھا اور نہ ہی نظامِ تعلیم میں بادشاہوں سے کوئی مشورہ لیا جاتا۔
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ زمانے میں انقلاب اور تغیرات ہوتے رہتے ہیں۔ صبح و شام، شب و روز، امروز و فردا یہ سب انقلابات ہی تو ہیں۔ یہ ملک و سلطنت، دولت و ثروت، رفعت و عظمت، عروج و زوال، ذہن و دماغ، قلب و مزاج، نظریہ و تصورات، خیالات و رجحانات سب کے کڑیاں زمانے ہی سے ملتی ہیں۔ جب زمانے میں انقلابات جنم لیں گے تو ظاہر ہے کہ ان کڑیوں میں تبدیلیاں آئیں گی۔ دھیرے دھیرے مغلوں کی حکومت کمزور ہوتی گئی۔ لال قلعہ کی دیواریں ہلنے لگیں اور انگریز اپنا اقتدار جمانے لگے۔ بالآخر ایک دن وہ بھی آیا کہ پورے ملک پر انگریز قابض ہو گیا۔ اور پورا ہندوستان ان کے زیرِ نگیں آ گیا۔
جناب غلام السیدین صاحب انگریزوں کے زیرِ اثر آنے اور پھر اس کے ردِ عمل پر لکھتے ہیں۔
”انگریزی عہد حکومت میں تعلیم اور حکومت کے درمیان ایک نیا اور مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ انگریزی عہد کی ابتدا سے حکومت کی یہی کوشش رہی ہے کہ تعلیمی مدارس کے ذریعہ طلباء کو اپنے مقاصد کے لیے تیار کیا جائے۔“ [۶]
اس مذکورہ تحریر سے صاف عیاں ہے کہ انگریز حکمراں نپولین کے نظریات پر چل رہے تھے۔ اور تعلیم کے ادارے کے تئیں وہی پالیسی اختیار کی جو دیگر ملکوں میں اپنائی گئی تھی۔ ظاہر ہے وہ دینی مدارس جن کے مقاصد پاکیزہ اور مقدس تھے وہ بھی کسی حد تک ضرور متاثر ہوئے تھے اور ان کا کردار بھی مجروح ہوا ہوگا کیوں کہ یہ مدارس ہندوستان کی سرحدوں سے باہر تھے۔
”ہندوستان کی تاریخ میں مدرسوں کا بہت اہم کردار رہا ہے اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن مدرسوں کا کردار اس وقت مجروح ہوا جب ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد پڑی۔ اور مذہبی دھارے کو دوسرے رخ پر موڑ دیا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام سے قبل ہندوستان میں تعلیمی جولان گاہ صرف مدارس ہوا کرتے تھے اور انھی سے جملہ علوم کی تکمیل ہوتی تھی چاہے وہ علومِ دنیا ہوں یا علومِ آخرت۔“ [۷]
اس منزل پر آتے ہی تعلیم دوراہے پر کھڑی ہو گئی۔ علومِ دنیا، اور علومِ آخرت اسکول، کالج اور یونیورسٹی جہاں علومِ دنیا کی تعلیم دی جانے لگی۔ مکتب اور دینی مدارس جہاں مذہبِ ملت کی تعلیم دی جانے لگی۔ اول الذکر اداروں کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اور اس کی پوری کفالت حکومت کرتی ہے۔ ان اداروں میں پڑھانے والے ٹیچر، پروفیسر اور لیکچرر کے لیے تمام سہولتیں میسر ہیں۔ جب کہ ثانی الذکر ادارہ صرف مسلمانوں کی امداد اور چندہ کی فراہمی پر اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ ادارہ کسی چراغِ سحری سے کم نہیں ہے۔
یہی سبب ہے کہ اس دینی ادارہ سے جو علما فارغ ہوتے ہیں۔ وہ یا تو صرف مسجد کے امام ہوتے ہیں یا مکتب کے معلم۔ سماج میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ معاشی اعتبار سے بہت کمزور ہوتے ہیں مفلس اور غریب ہوتے ہیں۔ ایک مفلس کی زندگی کیسی کرب ناک ہوتی ہے۔ اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہو گیا۔ پھر کیا ہوا اس کو دو لفظوں میں یوں کہا جاتا ہے۔
- امداد یافتہ مدارس
- غیر امداد یافتہ مدارس
دونوں قسم کے مدرسوں کی ایک ہی صورت ہے۔ اول الذکر مدارس ناظم اور مہتمم کے غیر منصفانہ رویہ سے سسک رہے ہیں۔ اور ثانی الذکر مدارس مینیجر کے ظلم و ستم اور حکومت کے تعصب و تنگ نظری کے دو پاٹوں کے بیچ پسے جا رہے ہیں۔ ذرا غور تو کیجیے کہ یہ مدارس کس کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ اور آج اس کے کیا مقاصد ہیں۔ یقیناً یہ زوال پذیر تہذیب کی علامت ہے۔
دینی مدارس اور آزاد ہندوستان
جس وقت ہندوستان آزاد ہوا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کے لیے چار اہم مسائل تھے۔ جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے تھا۔ مگر نہیں کیا۔ وہ چار مسائل یہ ہیں۔ جو اب تک حل نہیں کیے گئے ہیں۔
- معاشی پسماندگی
- تعلیمی پسماندگی
- مذہبی ثقافتی شناخت کی حفاظت و برقراری
- جمہوری حکومت میں مسلمانوں کی غیر متناسب نمائندگی
یہ چاروں کس قدر اہم ہیں اس کی اہمیت کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ اس جمہوری دورِ حکومت میں آپ چاروں طرف نظر اٹھا کر دیکھیے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہندوستان کے تمام مسلمان مجموعی اعتبار سے معاشی پسماندگی کے شکار ہیں۔ ممکن ہے انفرادی حیثیت سے کوئی مسلمان مالی حیثیت سے خوش حال ہو۔ لیکن انفرادیت کی بات ہی کب ہے۔ یہ معاشی پسماندگی کس طرح دور ہوگی؟ کبھی اس پر سنجیدگی سے غور کیا گیا ہے؟ نہیں! اب رہی بات پسماندگی کی۔ تو یہ بھی دور ہو سکتی ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کا واحد حل یہ ہے۔ دینی مدارس کو ترقی دی جائے۔ اور انھیں انھی خطوط پر چلاتے جائیں۔ جو خطوط اسلام نے متعین کیے ہیں اور شریعت نے جن کی وضاحت کی ہے۔ کیا اصحابِ صفہ کی زندگی سے آپ بھول گئے کہ وہ علوم بھی حاصل کرتے تھے اور حضور کی صحبت میں رہ کر اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کی حفاظت و برقراری کا راز جانتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ جنگلوں میں جا کر لکڑیاں بھی کاٹتے تھے۔ کیا جنگلوں میں جا کر لکڑیاں کاٹنا صنعت و دستکاری نہیں ہے؟ یہ اور بات ہے کہ یہ دستکاری اس دور کی تھی۔ اور اس دور کی دستکاری اور ہے۔ کیا ہمارا ماضی تاریک تھا؟ نہیں، کیوں کہ ہمارے اسلاف عصری علوم کو جانتے تھے۔ سائنس کے میدان کے بہترین کھلاڑی تھے۔ وہ جہاں جاتے تھے اپنی قوم کی نمائندگی کرتے تھے۔ جن کی آواز بلند کرتے تھے۔ سائنس، نفسیات، طبیعات، علمِ کیمیا ریاضی سب میں ہمارے اسلاف دسترس رکھتے تھے۔ ہر میدان کے وہ استاد تھے۔ بتائیے امام احمد رضا میں کیا کمی تھی۔ کون سا علم ہے جو وہ نہیں جانتے تھے۔ کیا انھوں نے کالج میں تعلیم حاصل کی تھی؟ کیا کبھی انھوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا؟ نہیں بلکہ وہ دینی مدارس کے تعلیم یافتہ تھے۔
دینی مدارس اور اس کی ضرورتیں
آج جب کہ ہم زندگی اور اس کے گرد و پیش کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو میرے سامنے بہت سی ضرورتیں نظر آتی ہیں۔ جو اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ایک ایسا ادارہ ہو جو جامع العلوم کی حیثیت رکھتا ہو۔ اور گوناگوں خوبیوں کا مالک۔ ضرورت ہے کہ دینی مدارس میں مذہب کی تعلیم دی جائے۔ فطری صورت میں نہیں بلکہ عملی صورت میں کہ مدارس میں ایسا ماحول تیار کیا جائے جس سے طلبہ اور مدرسین پورے طور پر ارکانِ اسلام پر عمل کریں اور اخلاق و محبت، حسنِ سلوک، نیک نیتی اور اسلامی کردار کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ اس سے یہ ہوگا کہ طلبہ پوری محنت اور لگن سے شریعت کے سانچے میں ڈھل جائیں گے۔ اور وہ کردار و عمل کا غازی بن کر نکلے گا۔ اور دینی مذہبی و ثقافتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔ خواہ وہ کہیں جائیں۔ اپنوں میں یا پھر غیروں میں ہر جگہ ان کی روش ایک ہی رہے گی۔ اور لوگ بھی ان کو پسند کریں گے۔ حکومتِ وقت بھی انھیں ہاتھوں ہاتھ لے گی۔ خواہ شخصی حکومت ہو یا جمہوری۔ ہر جگہ وہ کامیاب ہوگا۔ ضرورت ہے کہ دینی مدارس میں عصری علوم داخل کیے جائیں تاکہ طلبہ اپنے اسلاف کے نقوشِ قدم کو چوم کر عصری علوم کو حاصل کریں۔ اور دانشوروں کی صف میں سب سے آگے نظر آئیں۔ اس طرح تعلیمی پسماندگی دور ہوگی۔ اور موجودہ جمہوری حکومت میں ہماری نمائندگی بھی اچھی خاصی رہے گی۔ میں نے جن خطوط کی نشان دہی کی ہے اگر ان پر دینی مدارس چلائے جائیں تو ان کا افادی پہلو بہت زیادہ کامیاب اور روشن رہے گا۔ اس کے بعد وہ محکوم نہیں فرماں روا ہوگا۔ قوم و ملت کی نمائندگی کرے گا۔ اس سے ان کی پسماندگی بھی دور ہوگی۔ تعلیمی یا معاشی دونوں کی پسماندگی ختم ہوگی۔ اور وہ اس قدر حوصلہ مند ہو جائے گا کہ چاند سے آنکھ مچولی کھیلے گا اور ستاروں پر کمند ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ اور نہایت تبسم انداز میں وہ زمانے کی گردش سے مخاطب ہو کر:
طوفاں سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا
کیا بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا
حوالہ جات
- بچوں کی نفسیات ص: ۷۷
- نسیم رحمت اول ص: ۳
- منتخب التواریخ ص: ۲۵۰
- دامن مصطفیٰ ص: ۴۳
- استقامت ۱۹۹۱ء
- اصول تعلیم
- اصول تعلیم
[حوالہ: سنی دنیا، بریلی شریف، مارچ ۱۹۹۳ء، ص: ۴۳ تا ۵۲]
