Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جمیعۃ علمائے ہند: ماضی کے آئینے میں (قسط: اول)

جمیعۃ علمائے ہند: ماضی کے آئینے میں (قسط: اول)
عنوان: جمیعۃ علمائے ہند: ماضی کے آئینے میں (قسط: اول)
تحریر: مفتی ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اواخر میں مولانا عبدالباری، مولانا محمد علی اور مولانا عبدالمجید بدایونی کے توسط سے یہ جمیعت معرضِ وجود میں آئی۔ یوں تو ظاہری طور پر اس کے اغراض و مقاصد میں سیاسی مسائل کو شریعتِ مطہرہ کے میزان پر رکھ کر پرکھنے اور مسلمانوں کے سیاسی معاملات کو سدھارنے جیسے اہم امور شامل تھے، مگر جمیعت کا پردہِ مقصد ابتدا ہی سے شہرت کا حصول، مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ اور مشرکینِ ہند کی نیاز مندی اور ان کا قرب حاصل کرنا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانانِ ہند اس جمیعت سے بیزار تھے اور یہ جمیعت ان کی نظر میں لائقِ اعتنا و اعتبار نہیں تھی۔

اخبار ”خبرِ عالم“ مراد آباد میں جمیعۃ علمائے اسلام کلکتہ کے حوالے سے علما و مشائخِ بدایوں کا ایک تفصیلی فیصلہ شائع ہے جس میں جمیعۃ علمائے ہند کا بھی قدرے ذکر موجود ہے، ہم اس کے چند اقتباسات پیش کرتے ہیں، جس سے جمیعت کی حقیقت سامنے آ جائے گی، ملاحظہ فرمائیں:
”دہلی کی جمیعۃ علمائے ہند جسے حضرت مولانا عبدالباری، مولانا محمد علی اور حضرت مولانا عبدالمجید صاحب قادری کے ہاتھوں قائم ہونے کا شرف حاصل ہوا، اس کے قیام کی غرض یہ تھی کہ یہ جماعت سیاسی مسائل کو شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جانچے گی۔ افسوس کہ جمیعۃ علما مشرکینِ ہند کی دوستی کی بدولت مسلمانانِ ہند کا اعتبار کھو کر کانگریس کی آغوش میں جا پڑی ہے۔“ [اخبار خبرِ عالم، مراد آباد، یکم ستمبر 1925ء، ص: 3]

مفتی محمد عمر نعیمی مدیر السواد الاعظم مراد آباد، جمیعۃ العلما کا تعارف اور جمیعت کے کارنامے بڑے ہی دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
”احباب دریافت کرتے ہیں کہ جمیعۃ العلما کیا ہے، کتنا بڑا اور کس قسم کے علما کا گروہ ہے، اور وہ کیا کام انجام دے رہا ہے؟ مشہور تو یہ ہے کہ پانچ سو علما کی ایک جماعت ہے، لیکن عند التحقیق پانچ سو کا عدد محض مبالغہ معلوم ہوتا ہے یا علما کی کوئی جدید اصطلاح مقرر کر لی گئی ہے، جیسا کہ آج کل بہت سے لیڈروں اور انگریزی دانوں کو اخباروں اور اشتہاروں میں ’مولانا‘ چھاپا جا رہا ہے۔ جمیعۃ العلما مختلف الخیال لوگوں کی ایک جماعت ہے جن میں دیوبندیوں اور وہابیوں کا عنصر غالب ہے، باقی شاذ و نادر ہی ہندوستان کے معتبر و معتمد اکابر علما میں سے کوئی شریک ہو۔ درحقیقت یہ جمیعۃ الوہابیہ ہے جس کا نام جمیعۃ العلما رکھا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ کیا کام انجام دے رہے ہیں، تو معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے حوادثِ موجودہ کے متعلق کوئی بھی کام کیا ہو اور اماکنِ مقدسہ و بلادِ اسلامیہ کی حمایت و اعانت میں کوئی کارآمد حصہ لیا ہو، بجز اس کے کہ وہ اماکنِ مقدسہ اور بلادِ اسلامیہ کے نام سے مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرتے اور اپنا اقتدار و اثر بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ان کو موقع ملا ہے کہ اہلِ اللہ کو، نائبینِ خیر الانام علیہ الصلوۃ والسلام کو، وارثِ علومِ انبیا کو، دین کے پیشواؤں اور رہنماؤں کو، اسلام کے حامیوں اور ناصروں کو جو ہمیشہ خدمتِ مذہب و ملت میں سرگرم رہتے ہیں اور کسی مفسد، بے دین، گمراہ، ضال اور دشمنِ اسلام فرقے کو سر اٹھانے نہیں دیتے، اور جن کی براہینِ ساطعہ اہلِ ضلال کے پرزور ملمعوں کی قلعی کھول دیتی ہیں، وہابیہ کو موقع ملا ہے کہ ان حامیانِ اسلام سے دنیا کو بدظن کر کے اپنا کام بنائیں اور اپنے دلوں کے بھرے ہوئے بخار نکالیں۔“ [السواد الاعظم، مراد آباد، جمادی الآخرہ 1342ھ، ص: 20، 21]

ہم یہاں یہ بھی باور کرا دیں کہ اس جمیعت میں ابتداءً ہر مسلک کے لوگ شامل رہے، مگر 1920ء کے قریب یہ جمیعت خالص دیوبندیت کی نمائندہ بن کر رہ گئی۔ مولوی شبیر احمد عثمانی، مولوی حسین احمد، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولوی حفظ الرحمن اور مولوی سعید احمد جیسے نامور دیوبندی علما اس جماعت کے رکنِ رکین مقرر ہوئے۔ اور پھر انہوں نے ہندوستانی باطل طاقتوں سے ہاتھ ملا کر اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت میں زور صرف کرنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں سنیوں کی جمیعۃ علمائے اسلام کلکتہ ان کے جھانسے میں آ گئی۔ جس کی تفصیل اخبار ”خبرِ عالم“ مراد آباد، ص: 3 میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اخبار ”خبرِ عالم“ مراد آباد میں جمیعۃ علمائے ہند سے متاثرہ جمیعۃ علمائے کلکتہ کے حوالے سے علمائے بدایوں کی تحریر کردہ فیصلے میں ایک بڑی ہی معرکہ خیز بات لکھی ہے جو یقیناً ماضی کے حوالے سے ہے مگر حال پر بھی بالکل منطبق ہو رہی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
”اس جماعت کے منشور میں تبلیغی عنوان کے ماتحت چاہیے تو یہ تھا کہ سید المبلغین حضرت خواجہ غریب نواز سیدنا معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے طریقہِ تبلیغ کو مشعلِ راہ بنایا جاتا، مگر طریقہِ تبلیغ داخلِ منشور کیا گیا تو مولوی محمد الیاس صاحب دیوبندی کا، جنہوں نے ریاست الور، تجارہ اور میوات کے علاقہ جات میں نماز و کلمہ کی تلقین کے ساتھ دیوبندیت کے مسائل کی تبلیغ میں کسر نہ اٹھا رکھی، ان علاقوں میں ذکرِ رسول اور عظمتِ رسول کرنے والوں کو مشرک و کافر کہا کرتے تھے۔ پس ایسے شخص کے طریقہِ تبلیغ کو داخلِ منشور کرنے کے کیا یہ معنی نہیں ہوں گے کہ جمیعۃ علمائے اسلام کلکتہ دیوبندیت کی مستقل تبلیغ کرنا چاہتی ہے؟ ہم صاف و صریح الفاظ میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ علمائے بدایوں نمائشی الفاظ سے متاثر ہوئے بغیر کسی ایسے نظام میں جو دیوبندیت کا آئینہ دار ہو، 25 سال کے تلخ تجربوں کے بعد شرکت کرنا نہیں چاہتے۔ جہاں تک ہمارا علم ہے بریلی، مراد آباد، میرٹھ، کچھوچھہ شریف اور پنجاب کے علما و مشائخ اس جماعت میں شرکت کے لیے تیار نہیں۔“ [اخبار خبرِ عالم، مراد آباد، مرجع سابق، ص: 6]

مذکورہ بالا اقتباس درج کرنے کا مقصد بس یہ بتانا تھا کہ جمیعت خواہ کسی بھی چولے میں رہی ہو، مگر اس نے اپنے افکار و نظریات سے کبھی دھوکا نہیں کھایا ہے۔

بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اواخر اور تیسری کے اوائل میں جب مشرکانہ چیرہ دستیاں زوروں پر تھیں، سوراج، کھدر، ترکِ موالات اور ترکِ گاؤ کشی جیسی تحریکات کے ذریعے مسلمانوں کو پست و برباد کرنے کی سازشیں رچی جا رہی تھیں، ایسے وقت میں بھی یہ جماعت مسلمانوں کے ساتھ نظر نہیں آئی۔ اس وقت جب کہ گاندھوی سامراج جو بشکلِ کانگریس مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا پیغام دے کر ایک بڑی مہم سر کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا، وہیں یہ جمیعت مسلمانوں کو اس سامراج کی چالوں سے آگاہ کر کے اسے آنے والے فتنوں سے بچانے کے بجائے اس تحریک سے جوڑنے میں برسرِ پیکار نظر آ رہی تھی۔

ملاحظہ فرمائیں یادگارِ رضا بریلی کے کانگریس نمبر کے ایک مضمون کا درج ذیل اقتباس:
”اس میں شبہ نہیں کہ مسلمان کہلائی جانے والی نام نہاد جمیعۃ العلما کانگریس کے ساتھ اتحادِ عمل ضرور کر رہی ہے، مگر جمیعۃ العلما مسلمانانِ ہند کی کوئی نمائندہ اور ذمہ دار جماعت نہیں، بلکہ جمیعۃ العلما نام ہے اس ہوس پرست جماعت کا جو مسلمانوں کے ملی و قومی مفاد کو مشرکینِ ہند کے قدموں پر قربان کر دینے کا ارادہ کر چکی ہے۔ اس جمیعت کے بعض ناعاقبت اندیش مگر ذمہ دار افراد ہندو مفاد کی خاطر مسلمانوں کے سامنے وہ وہ مہلک اور خطرناک طریقِ عمل پیش کر چکے ہیں کہ اگر مسلمان ان پر عمل پیرا ہوتے تو مسلمانوں کی مذہبی و قومی زندگی کا فنا ہو جانا ایک نہایت آسان بات تھی۔ احکامِ شریعت کو پسِ پشت ڈال کر اس جمیعت کا مخالفینِ اسلام سے ساز باز اور ان کے ساتھ اشتراکِ عمل کرنا، انہیں اپنی مجالس میں شریک کرنا، اپنی مجلس کا رکن بنانا، اس جلسے میں کہ جو ابھی تھوڑا عرصہ ہوا نام نہاد جمیعۃ العلما کی جانب سے امروہہ میں ہوا تھا، ہندوؤں کا ہزاروں کی تعداد میں شریک کرنا، بلکہ اسی جلسے میں انہیں نمایاں موقع پر مسجد میں جگہ دینا، کانگریسی تحریکات کو کامیاب بنانے اور مسلمانوں کو من حیث المذہب اور من حیث القوم فنا کے گھاٹ اتارنے کے لیے سراسر غلط فتویٰ دینا، جمیعت کا یہ طریقِ عمل پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ جمیعت ہندو پرست ہے، غدار ہے اور ملتِ اسلامیہ کے مفاد کو ہندو مفاد پر قربان کر دینے والی ہے، اس کی کوئی آواز نہ مسلمانوں کی آواز ہے اور نہ مسلمانوں کے لیے لائقِ عمل۔“ [یادگارِ رضا، بریلی، کانگریس نمبر، بابت ماہِ رجب و شعبان 1339ھ، ص: 5]

جمیعت کی اس گندی اور مسلم کش روش پر تنبیہ کرتے ہوئے سیدی صدر الافاضل علیہ الرحمہ نے مولوی کفایت اللہ دہلوی کو ایک خط لکھا جس میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ:
”آپ اس کا احساس فرمائیں کہ گزشتہ تجربوں نے یقین دلا دیا ہے کہ ہندو مسلمانوں کی تباہی و بربادی کو سوراج سے زیادہ عزیز جانتے ہیں، انہیں کسی طرح یہ گوارا نہیں کہ سرزمینِ ہند میں مسلمانوں کا وجود رہے، اگر یہ تجربے نہ ہوتے تو بھی مسلمانوں کو قرآنِ پاک پر یقین ہے۔ مشرکین کی شدتِ عداوت قرآنِ پاک میں وارد ہے، ان سے نفع کی امید اور وفاداری کی توقع خیالِ باطل ہے، اس وجہ سے ہندوستان کے مسلمان بالعموم گاندھی اور کانگریس کی تحریکوں سے اس وقت تک قطعاً علیحدہ ہیں۔ آپ جمیعت کو ایسے طریقِ عمل سے بچائیے جو گاندھی کی تحریک کا ہم معنی یا اس کی تائید ہو، اگر اس کا لحاظ نہ کیا گیا تو علاوہ ان مصائب کے جو ہندو پرستی کی بدولت اٹھانے پڑیں گے، مسلمانوں کی جماعت کے انتشار اور ان کے اس نئے اختلاف کا وبال بھی آپ کی گردن پر ہوگا جو اس نئی تحریک سے پیدا ہو۔ اگر جمیعت نے قانون شکنی میں گاندھی کی روش اختیار کی تو یقیناً مسلمانوں کے دو ٹکڑے ہو جائیں گے اور آپس میں کٹ مریں گے۔ آپ کو نہایت دانائی اور احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ وما علینا الا البلاغ۔ محمد نعیم الدین عفی عنہ“ [السواد الاعظم، شماره ذی الحجہ 1348ھ، ص: 29]

صدر الافاضل کے اس خط کے جواب میں نہ کوئی خط آیا اور نہ ہی حضرت کے مشورے پر عمل درآمد ہوا، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے وہی کیا جو انہیں کرنا تھا۔

جب ہندوستان میں ساردا ایکٹ کے ذریعے مسلمانوں کے مذہب میں مداخلت اور شرعی حقوق کے اتلاف کی ناپاک جسارت کی گئی تو اسلامی دنیا میں ہر طرف اضطراب پایا جا رہا تھا، ایسے موقع پر سول نافرمانی کی تجویز بھی سامنے آئی جس سے مسلمانوں کی بے چینی اور بڑھ گئی، ایسے نازک وقت میں بھی جمیعت کی پالیسی قابلِ افسوس تھی، ساردا ایکٹ کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے جمیعت نے سول نافرمانی کی تجویز پیش کر دی جس سے مسلمانوں کو کافی حد تک نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ مفتی عمر نعیمی لکھتے ہیں:
”اس خط کا کوئی جواب نہ آیا نہ انہوں نے اپنی تجویز ہی میں اس عظیم خطرے کا کچھ لحاظ کیا، بلکہ وہ ہندوؤں سے مل گئے، مسلمانوں کو چھوڑا اور ان کی بڑی جماعت سے علیحدہ ہو جانا سرمستانِ بادہِ ہندونیت نے گوارا کیا مگر اپنے محسن ہندوؤں کو چھوڑنا گوارا نہ کیا، کانگریس کی تائید میں سول نافرمانی پاس کر دی اور کچھ لحاظ نہ کیا کہ مسلمانوں پر اس کا کیا اثر ہوگا۔ اب اس ہندو جمیعۃ العلما کے مولوی ہندوؤں کی مداتی کرتے پھر رہے ہیں، اس کے وعظوں میں ذکرِ خدا اور رسول کی جگہ گاندھی اور ہندوؤں کی تعریف ہوتی ہے اور وہ کانگریس کی تحریکات پر عمل کرنے کے لیے مسلمانوں کو ابھارتے اور اغوا کرتے ہیں۔“ [السواد الاعظم، ذی الحجہ 1348ھ، ص: 29]

ایسے وقت میں جب جمیعت اور دیگر سیاسی نام نہاد اسلامی تنظیمات ہندو مسلم اتحاد کی مہم میں پورا زور صرف کر رہی تھیں، اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے مسلمانوں کو اس خلافِ شرع تحریک میں شامل کرنے کے لیے ہر جتن کر رہی تھیں، عین اسی وقت بنارس وغیرہ ہندوستان کے کئی مقامات پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی، جن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے بلکہ ان کو بھائی بنانے کے لیے مسلمانوں کو مجبور کیا جا رہا تھا وہ رشتہِ اخوت و مودت قائم ہونے سے پہلے ہی مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا رہے تھے۔ یہ سب حالات جمیعت کے سامنے تھے مگر جمیعت نے چپ سادھ رکھی تھی، جمیعت کی اس سرد مہری اور زبان بندی پر مفتی عمر نعیمی نے السواد الاعظم مراد آباد (شوال 1349ھ ص 2، 3) میں زبردست تبصرہ فرمایا جسے تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے۔

بیسویں صدی کی دوسری دہائی مسلمانوں کے لیے بہت نازک گزری ہے، اس دہائی میں مسلمانوں کی جان و مال تو سلامت کیا رہتے، ایمان تک سلامت نہیں تھا۔ شدھی تحریک اس دہائی کا وہ المناک سانحہ ہے جسے مسلمان کبھی فراموش نہیں کر سکتے، مسلمان اپنی جان و مال کی حفاظت نہیں کر پا رہا تھا کہ اسی درمیان مسلمانوں کی دولتِ ایمانی پر شب خون مارنے والے میدانِ عمل میں اتر آئے اور اس سے قبل کہ مسلمان سنبھل پاتے، غیروں نے ہر چار جانب سے حملہ بول دیا اور اس طرح کئی لاکھ مسلمان ارتداد کے قعرِ عمیق میں گر گئے۔ اللہ بھلا کرے ان اکابر علمائے اہلِ سنت کا جنہوں نے بروقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا حق ادا کرتے ہوئے مورچہ ہاتھ میں لے لیا اور پیہم جدوجہد سے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی، اور ان کی دولتِ ایمانی کی بازیابی کے لیے سرتوڑ کوششیں فرما کر میدان سر کر لیا، اور اس طرح لاکھوں مسلمانوں کے ایمان بچا کر اہلِ اسلام پر احسانِ عظیم فرمایا۔ لیکن وہیں اس جمیعت کی بے حسی اور بے غیرتی بھی قابلِ غور ہے، جہاں ایک طرف مسلمان ان صنم پرستوں سے نبرد آزما تھے تو دوسری طرف ان نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں سے نالاں و پریشان بھی۔ جمیعت بجائے اس کے کہ شدھی تحریک کے سدِ باب کے لیے کوئی لائحہِ عمل تیار کرتی، میدانِ عمل میں اتر کر مسلمانوں کے جان و مال اور ایمان کی حفاظت کرتی، اور اسلامی جمیعت کی حمیت کا کچھ بھرم رکھتی، افسوس صد افسوس! مسلمانوں کی بربادی کے واقعات سن اور دیکھ لینے کے باوجود مہرِ سکوت توڑنے کے لیے تیار نہ تھی۔ بلکہ مخالف باطل طاقتوں کے ساتھ ساز باز کر ان کی تملق و چاپلوسی اور ان کی نیاز مندی کے حصول کے لیے مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئی تھی، جس کی جیتی جاگتی مثال شدھی تحریک میں ایک بڑا کردار نبھانے والے آریہ پنڈت شردھانند کو تہہِ دل سے قبول کرنا تھا۔

(جاری...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!