| عنوان: | گمراہ کون؟ (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا شیخ نور محمد، مولانا محمد عبدالعظیم |
| پیش کش: | جامعہ رضائے مصطفی، رائچور |
```
تبلیغی جماعت (دیوبندی) کا مختصر تعارف
یہ فرقہ مدرسۂ دیوبند کی جانب منسوب ہونے کے سبب ”دیوبندی“ کہلاتا ہے۔ لیکن درحقیقت عقائد میں یہ مولوی اسماعیل دہلوی (۱۱۹۳ھ تا ۱۲۴۶ھ) کی پیروی کرتا ہے اور اس کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ کی تعلیمات کو قبول کرتا ہے۔ [فتاویٰ رشیدیہ، ص: ۸۴، ۸۵] نیز کبھی اپنے ”وہابی“ ہونے کا اظہار بھی کرتا ہے، تو اس اعتبار سے اس فرقہ کی اصل ”وہابیت“ ہے؛ اور ہندوستان میں جس کا بانی مولوی اسماعیل دہلوی ہے اور اس کی ابتدا ۱۲۴۳ھ میں ہوئی۔ [اظہار الحق الجلی، ص: ۷]
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ فرقہ انگریزوں کی سازش کا اگایا ہوا ایک زہریلا درخت ہے، جس کو انھوں نے مسلمانوں کے دلوں سے اللہ عزوجل اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نکالنے اور ان کے درمیان انتشار پیدا کر کے ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے بویا تھا اور اس کی آبیاری کی ذمہ داری مولوی اسماعیل دہلوی اور اس کے متبعین کو سونپ دی تھی۔ ذیل میں چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے یہ دعویٰ واضح ہو جائے گا۔
مولوی منظور نعمانی نے مولوی اسماعیل دہلوی کی انگریز نوازی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:
”مشہور یہ ہے کہ آپ نے انگریزوں سے مخالفت کا اعلان نہیں کیا، بلکہ کلکتہ یا پٹنہ میں ان کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا اور یہ بھی مشہور ہے کہ انگریزوں نے بعض موقعوں پر آپ کی امداد بھی کی ہے“۔ [ماہنامہ الفرقان لکھنؤ، شہید نمبر، ۱۹۵۵ء، ص: ۷۶]
اسی طرح مولوی طاہر احمد قاسمی نے لکھا ہے:
”دیکھیے، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ہمارے اور آپ کے مسلم بزرگ و پیشوا تھے، ان کے متعلق بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ان کو چھ سو روپے ماہوار حکومت (انگریز) کی طرف سے دیے جاتے تھے۔۔۔ اب اس کی طرح اگر حکومت مجھے یا کسی شخص کو استعمال کرے، مگر اس کو یہ علم نہ ہو کہ اسے استعمال کیا جا رہا ہے، تو ظاہر ہے کہ وہ شرعاً اس میں ماخوذ نہیں ہو سکتا“۔ [مکالمۃ الصدرین، ص: ۱۶]
دیوبندی جماعت کی چند خصوصیات
یہ فرقہ خود کو ”حنفی“ اور مقلد بتاتا ہے، تصوف کو مانتا ہے، نیز تمام سلاسل کی طرف اپنی نسبت کا اظہار کرتا ہے۔ انبیائے کرام اور اولیائے عظام کی جانب علمِ غیب، امداد، اور کائنات میں تصرف کرنے کی نسبت کرنے کو ”شرک“ کہتا ہے، جب کہ اپنے اکابرِ دیوبند کی طرف ان چیزوں کی نسبت کو جائز مانتا ہے۔ اسی طرح اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ جب یہ ممالکِ عربیہ وغیرہ میں اہلِ سنت کے کسی صاحبِ ثروت سے ملتا ہے، تو خود کو ”سنی“ ظاہر کرتا ہے؛ اور جب کسی ”وہابی“ سے ملتا ہے، تو اپنے کو وہابی ثابت کرتا ہے۔ اسی فریب کے باعث ناواقف شخص اس کے جال میں پھنس جاتا ہے، لہٰذا اس کا فتنہ بہت سخت ہے۔
دیوبندی جماعت کا طریقہ کار
اس فرقہ نے سادہ لوح مسلمانوں کو پھانسنے کے لیے ”تبلیغِ دین“ کے نام پر ایک جماعت تشکیل دی، جس کا نام ”تبلیغی جماعت“ (بانی: مولوی الیاس کاندھلوی) ہے۔ اس کے عقائد و نظریات وہی ہیں جو وہابیہ کے ہیں؛ اور اس بات کا اظہار مولوی الیاس کاندھلوی نے اس طرح کیا ہے:
”حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ بس میرا دل یہ چاہتا ہے کہ تعلیم تو ان کی ہو اور طریقۂ تبلیغ میرا ہو، اس طرح ان کی تعلیم عام ہو جائے گی“۔ [ملفوظات مولانا الیاس کاندھلوی، ص: ۵۸]
- جگہ جگہ مساجد و مکاتب قائم کر کے لوگوں کو اپنا ہم عقیدہ بنانا۔
- کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ افراد کو گمراہ کر کے انھیں اپنے مذہب کی اشاعت کی ترغیب دینا۔
- سیاست اور سرکاری محکموں میں اپنے افراد داخل کر کے بوقتِ ضرورت ان سے خدمت لینا۔
- مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کے بہانے ان کا اعتماد حاصل کر کے انھیں اپنے ہم مذہب بنانا۔
دیوبندی جماعت کے مشہور پیشوا
(۱) رشید احمد گنگوہی (۲) خلیل احمد انبیٹھوی سہارنپوری (۳) قاسم نانوتوی (۴) اشرف علی تھانوی (۵) مولوی محمد الیاس کاندھلوی (۶) حسین احمد ٹانڈوی (۷) حبیب الرحمن اعظمی (۸) محمد زکریا کاندھلوی (۹) قاری طیب دیوبندی (۱۰) محمود مدنی (۱۱) ارشد مدنی وغیرہ۔
دیوبندی جماعت کے عقائدِ باطلہ اور اہلِ سنت کے عقائدِ حقہ
کفریہ عقیدہ (۱)
خدا جھوٹ بول سکتا ہے (معاذ اللہ)۔ مولوی رشید احمد گنگوہی نے لکھا:
”پس ثابت ہوا کہ کذب داخلِ تحتِ قدرتِ باری تعالیٰ جل وعلا ہے، کیوں نہ ہو وهو على كل شيء قدير“۔ [فتاویٰ رشیدیہ، ص: ۹۷]
دلیل (۱): اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا﴾ [النساء: ۸۷] (اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی؟)۔ ایک اور مقام پر فرماتا ہے: ﴿وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ﴾ [الانعام: ۱۴۶] (اور بے شک ہم ضرور سچے ہیں)۔
دلیل (۲): تفسیرِ بیضاوی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات میں جھوٹ کو کوئی دخل نہیں، اس لیے کہ وہ عیب ہے اور عیب اللہ تعالیٰ کے حق میں محال ہے۔ [تفسیر بیضاوی، ج: ۲، ص: ۸۸]
دلیل (۳): تمام اہلِ سنت و جماعت کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ محال ہے۔ [شرح مواقف، ج: ۸، ص: ۱۱۴]
اہلِ سنت کا عقیدہ: اللہ تعالیٰ ہر کمال و خوبی کا جامع ہے اور ہر عیب و نقصان (جھوٹ، دغا، خیانت، ظلم وغیرہ) سے پاک ہے؛ یعنی عیب کا اس میں ہونا محال ہے۔ [بہارِ شریعت، ج: ۱، ص: ۷]
کفریہ عقیدہ (۲)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں۔ مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے لکھا:
”البتہ نفسِ بشریت میں مماثلت آپ کے جملہ بنی آدم کے برابر ہے۔۔۔ پس اگر کسی نے بوجہِ آدم ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھائی کہا تو کیا خلافِ نص کے کہہ دیا“ (معاذ اللہ)۔ [براہینِ قاطعہ، ص: ۷]
مولوی اسماعیل دہلوی نے لکھا: ”ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا، وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے“ (معاذ اللہ)۔ [تقویۃ الایمان، ص: ۱۸]
دلیل (۱): اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ﴾ [الاحزاب: ۴۰]۔
دلیل (۲): بخاری و مسلم کی متواتر احادیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”إني لست كهيئتكم“ (بے شک میں تمہاری طرح کی ہیئت پر نہیں ہوں)۔ [بخاری، ج: ۱، ص: ۲۶۳]
اہلِ سنت کا عقیدہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔ کسی کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل ہونا محال ہے۔ [بہارِ شریعت، ج: ۱، ص: ۶۳]
کفریہ عقیدہ (۳)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علمِ غیب پاگلوں اور جانوروں کے علم کی طرح ہے۔ مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھا:
”اس (علمِ غیب) میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے، ایسا علمِ غیب تو زید و عمرو، بلکہ ہر صبی و مجنون، بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے“۔ [حفظ الایمان، ص: ۱۶]
دلیل (۱): اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ﴾ [النساء: ۱۱۳] (اور تمھیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے)۔ جس سے مراد احکام اور غیب کے علوم ہیں۔ [تفسیر جلالین]
دلیل (۲): اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا ہُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ﴾ [التکویر: ۲۴] (اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں)۔
اہلِ سنت کا عقیدہ: تمام علومِ غیبِ لوحِ محفوظ، یعنی جو کچھ ہو چکا یا آئندہ ہوگا، سب اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما دیے ہیں۔ [انوارِ آفتابِ صداقت، ص: ۱۶۶]
کفریہ عقیدہ (۴)
خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نیا نبی آ سکتا ہے۔ مولوی قاسم نانوتوی نے لکھا:
”بلکہ اگر بالفرض بعدِ زمانۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی پیدا ہو، تو پھر بھی خاتمیتِ محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا“۔ [تحذیر الناس، ص: ۴]
دلیل (۱): اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ﴾ [الاحزاب: ۴۰]۔ جس کے معنی ہیں کہ آپ نے بابِ نبوت بند کر کے اس پر مہر لگا دی، اب وہ قیامت تک کسی کے لیے نہیں کھلے گا۔ [تفسیر طبری]
دلیل (۲): حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لا نبي بعدي“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں)۔ [مسلم، ج: ۲، ص: ۱۲۶]
اہلِ سنت کا عقیدہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے زمانے میں یا بعد میں قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔ ایسا ماننا کفر ہے۔
دیوبندیوں کی چند گستاخانہ عبارتیں
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ شیطان کو علم ہے۔ (معاذ اللہ) [براہینِ قاطعہ، ص: ۵۵]
- خدا سے ہم کو کام ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں۔ (معاذ اللہ) [حفظ الایمان]
- شیطانِ مردود حاضر و ناظر ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر نہیں۔ (معاذ اللہ) [براءة الأبرار، ص: ۵۷]
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فاتحہ، میلاد اور گیارہویں شریف کا کھانا حرام ہے مثلِ ہنود کے۔ (معاذ اللہ) [فتاویٰ رشیدیہ، ص: ۱۶]
دیوبندی جماعت کے متعلق حکمِ شرع
کتاب حسام الحرمین میں علمائے حرمین نے دیوبندیوں کی نسبت یوں ارشاد فرمایا:
”هؤلاء الطوائف كلهم كفار مرتدون خارجون عن الإسلام“
(ترجمہ: یہ طائفہ سب کے سب کافر و مرتد ہیں، باجماعِ امت اسلام سے خارج ہیں)۔ اور جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ خود کافر ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۹، ص: ۲۳۱]
