| عنوان: | فرقہ رافضی/ شیعہ (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | ابو احمد محمد انس رضا قادری |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
اہل بیت کا اسلام میں بہت درجہ ہے لیکن ہرگز کوئی سید زادہ نبی تو کیا صحابی کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، اس کے باوجود ان کا مقام و مرتبہ انبیاء علیہم السلام، حضرت ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم سے کم تھا اور خلافت میں بھی ان کا حق تینوں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بعد تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا افضل ہونا احادیث و صحابہ کرام بلکہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”أبو بكر وعمر خير أهل السماء وخير أهل الأرض وخير الأولين والآخرين، إلا النبيين والمرسلين“ ترجمہ: ابوبکر و عمر سب اگلوں پچھلوں سے افضل ہیں اور سب آسمان والوں اور سب زمین والوں سے افضل ہیں سوا انبیاء و مرسلین کے علیہم الصلوۃ والتسلیم کے۔ [کنز العمال، کتاب الفضائل، فضائل أبی بکر وعمر، ج: 11، ص: 805، مؤسسۃ، بیروت]
فضائل صحابہ میں امام احمد بن حنبل اور صواعق محرقہ میں حضرت ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لا يفضلني أحد على أبي بكر إلا جلدته حد المفتري“ ترجمہ: مجھے ابوبکر و عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر فضیلت نہ دو، میں جسے پاؤں گا کہ مجھے ابوبکر و عمر سے افضل کہتا ہے، اسے الزام تراشی کی سزا کے طور پر اسی 80 کوڑے ماروں گا۔ [الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ، ج: 1، ص: 177، مؤسسۃ، بیروت]
امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ تاریخ الخلفاء میں روایت کرتے ہیں: ”أخرج الحاكم في المستدرك عن النزال بن سبرة قال: قلنا لعلي يا أمير المؤمنين أخبرنا عن أبي بكر، قال: ذاك امرؤ سماه الله الصديق على لسان جبريل وعلى لسان محمد، كان خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم على الصلاة رضيه لديننا فرضيناه لدنيانا، إسناده جيد“ ترجمہ: امام حاکم نے مستدرک میں حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ہم نے حضرت علی کی بارگاہ میں عرض کیا یا امیرالمؤمنین! ہمیں حضرت ابوبکر صدیق کے متعلق بتائیں۔ آپ نے فرمایا: وہ ایسی ذات تھی کہ جس کا نام اللہ عز و جل نے حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے صدیق رکھا۔ وہ نماز میں رسول اللہ کے خلیفہ تھے اور ہم نے انہیں اپنی دنیا یعنی خلافت کے لئے پسند فرمایا۔ اس حدیث کی سند جید ہے۔ [تاریخ الخلفاء، الخلفاء الراشدون، ص: 28، مکتبۃ نزار مصطفی الباز]
خطیب بغدادی و ابن عساکر اور دیلمی مسند الفردوس اور عشاری فضائل الصدیق میں امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سألت الله ثلاثا أن يقدمك فأبى علي إلا تقديم أبي بكر“ ترجمہ: اے علی! میں نے اللہ عزوجل سے تین بار سوال کیا کہ تجھے تقدیم دے اللہ تعالیٰ نے نہ مانا مگر ابوبکر کو مقدم رکھنا۔ [تاریخ بغداد، حدیث 5921، ج: 11، ص: 213، دار الکتاب العربی، بیروت]
حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بغض رکھنے والوں کے متعلق خود حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ مومن نہیں، چنانچہ الصواعق المحرقہ میں ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”يا أبا جحيفة لا يجتمع حبي وبغض أبي بكر وعمر في قلب مؤمن“ ترجمہ: اے ابو حجیفہ مومن کے دل میں حضرت ابوبکر و عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے متعلق محبت و بغض اکٹھا نہیں ہو سکتا۔ [الصواعق المحرقۃ، ج: 1، ص: 178، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت]
حضرت علی کے علاوہ اہل بیت بھی صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت کرتے تھے، خلفاء راشدین کی خلافت کے منکر نہیں تھے اور حضرت علی کو ہرگز ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے افضل نہیں ٹھہراتے تھے۔ امام دارقطنی جندب اسدی سے راوی: ”أن محمد بن عبد الله بن الحسن أتاه قوم من أهل الكوفة والجزيرة فسألوه عن أبي بكر وعمر فالتفت إلي فقال انظر إلى أهل بلادك يسألوني عن أبي بكر وعمر لهما أفضل عندي من علي“ یعنی حضرت محمد بن عبد اللہ ابن امام حسن مثنی ابن امام حسن مجتبی ابن مولیٰ علی مرتضی کے پاس اہل کوفہ و جزیرہ سے کچھ لوگوں نے حاضر ہو کر ابوبکر صدیق و عمر فاروق کے بارے میں سوال کیا۔ امام نے میری طرف التفات کر کے فرمایا: اپنے وطن والوں کو دیکھو مجھ سے ابوبکر و عمر کے باب میں سوال کرتے ہیں، بیشک وہ دونوں میرے نزدیک علی سے افضل ہیں رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔ [الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی عن جندب الاسدی، ص: 55، مکتبہ مجیدیہ، ملتان]
بلکہ اہل بیت کا صحابہ کرام اور ان کی اولاد سے یہاں تک اچھا تعلق تھا کہ دونوں باہم رشتے داریاں کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق کی شادی حضرت علی کی بیٹی سے ہوئی تھی، امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی حضرت سیدتنا ام فروہ رضی اللہ تعالی عنہا تھی جو کہ خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کی پوتی تھیں۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ سورۃ الاحقاف، آیت 15 کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”ابو بکر صدیق کی پڑپوتی فروہ بنت قاسم ابن محمد ابن ابی بکر الصدیق امام جعفر صادق کے نکاح میں آئیں، جن سے تمام سادات کرام کی نسل چلی، لہذا تمام سید حضرات علی مرتضی کے پوتے صدیق اکبر کے نواسے ہیں۔“ [تفسیر نور العرفان، ص: 605، نعیمی کتب خانہ، گجرات]
حضرت ابوبکر صدیق کا بیٹا محمد حضرت علی کے گروہ میں سے تھا۔ بلکہ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ جنگ جمل میں بھی حضرت علی کے گروہ میں سے تھا۔ حضرت علی ان سے بہت محبت کرتے تھے اور تحفہ اثنا عشریہ میں ہے کہ اپنی بیٹی کی شادی ان سے کرنا چاہتے تھے۔ طبری میں ہے کہ ان کی شہادت پر آپ کو بہت دکھ ہوا اور آپ ان کے قاتلوں کے لئے ہر نماز کے بعد بددعا مانگتے تھے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے کا نام ابوبکر تھا جو کربلا میں شہید ہوا۔ حضرت حسن کی بیوی کا نام عائشہ تھا۔
شیعوں کے فرقوں کے چند مزید عقائد مختصراً تحفہ اثنا عشریہ، غنیۃ الطالبین سے پیش خدمت ہیں:
عقیدہ: شیعوں کا فرقہ میمونہ کہتا ہے کہ عمل ظاہر کتاب و سنت پر حرام ہے۔
عقیدہ: فرقہ خلفیہ کہتا ہے کہ جو کچھ قرآن اور حدیثوں میں وارد ہوا ہے جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوۃ وغیرہ لغوی معنی ہیں نہ کہ دوسرے (یعنی مسلمان جو صلوٰۃ کا مطلب رکوع و سجود لیتے ہیں ان کا یہ عمل غلط ہے)۔ قیامت اور بہشت و دوزخ کچھ نہیں ہے۔
عقیدہ: فرقہ خمسیہ پنجتن پاک کو ”الہ“ کہتے ہیں۔
عقیدہ: فرقہ نصیریہ کہتے ہیں کہ خدا نے علی اور ان کی اولاد میں حلول کیا ہے۔
عقیدہ: فرقہ اسحاقیہ کہتے ہیں کہ دنیا کبھی پیغمبر سے خالی نہیں رہتی اور حلول باری تعالیٰ کے حضرت علی اور اماموں میں قائل ہیں۔
عقیدہ: فرقہ ذمیہ کہتے ہیں کہ علی ”الہ“ ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واسطے بھیجا تھا کہ لوگوں کو میری دعوت کریں سو محمد نے برخلاف اس کے اپنی طرف دعوت کی۔
عقیدہ: فرقہ اثنینیہ کہتے ہیں کہ محمد اور علی دونوں ”الہ“ (اللہ) ہیں۔
عقیدہ: فرقہ خطابیہ کہتا ہے کہ امام نبی اور امین ہے۔ ہر زمانے میں دو پیغمبر ضرور ہوتے ہیں، ایک ناطق (بولنے والا) اور ایک خاموش۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیغمبر ناطق تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش پیغمبر تھے۔
عقیدہ: فرقہ بذیعیہ کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر رحمۃ اللہ علیہ ”اللہ“ ہیں۔ اللہ اسی شکل وصورت میں دکھائی دیتا ہے۔
عقیدہ: زیدیہ فرقہ حضرت ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم کو خلیفہ برحق مانتے ہیں البتہ ان کا موقف یہ تھا کہ امام کے لئے قریشی ہونا نہیں بلکہ فاطمی ہونا شرط ہے۔ یہ فرقہ اہل سنت کے بہت قریب تھا لیکن بعد میں فرقہ زیدیہ تحریف میں چلا گیا اور اس کے عقائد بھی دیگر شیعوں جیسے ہو گئے۔
عقیدہ: فرقہ شریعیہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ ہستیوں میں حلول کیا تھا، نبی علیہ السلام، حضرت علی، حضرت عباس، حضرت جعفر اور حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
عقیدہ: فرقہ مفوضیہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کا انتظام اماموں کے سپرد فرما دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا بلکہ ہر چیز کی تخلیق اور اس کے انتظام کی قدرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تفویض فرمادی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بھی ان کا یہی خیال ہے۔ ان میں سے بعض لوگ جب ابر کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں ہیں اور ان پر سلام بھیجتے ہیں۔
عقیدہ: شیعوں کا ایک فرقہ اسماعیلی ہے جسے آغا خانی کہا جاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے مذہب میں پانچ وقت نماز نہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ روزہ اصل میں کان، آنکھ اور زبان کا ہوتا ہے، کھانے پینے سے روزہ نہیں جاتا بلکہ روزہ باقی رہتا ہے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حج ادا کرنے کی بجائے ہمارے امام کا دیدار کافی ہے۔ حج ہمارے لئے فرض نہیں اس لئے کہ زمین پر خدا کا روپ صرف حاضر امام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زکوۃ کی بجائے ہم اپنی آمدنی میں دو آنہ فی روپیہ کے حساب سے فرض سمجھ کر جماعت خانوں میں دیتے ہیں جس سے زکوۃ ہو جاتی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ گناہوں کی معافی امام کی طاقت میں ہے۔ آغا خانیوں کا سلام یاعلی مدد ہے اور اس کا جواب مولاعلی مدد ہے۔ [ساٹھ زہریلے سانپ، ص: 71، 72، تنظیم اہل سنت کراچی] [حوالہ: 73 فرقے اور ان کے عقائد، ص: 126 تا 131]
