| عنوان: | قرآن مجید میں مذکور پرندے (پرندوں کا اجتماعی ذکر) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | مظفر حسین شیرانی |
پرندوں کا اجتماعی ذکر:
قرآن مجید میں کچھ آیتیں ایسی بھی ہیں جن میں خالق لم یزل نے مطلقاً پرندوں کی جنس اور ان کی عظیم تخلیق کی بات کی ہے جیسے سورہ نحل میں ہے:
اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِؕ-مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۔ [النحل: 79]
کیا انھوں نے آسمان کی فضا میں حکم الٰہی کے انتہائی پابند پرندے نہ دیکھے، انھیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں روکے ہوئے ہے۔ بے شک اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
یہی مفہوم سورہ ملک میں یوں ہے:
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُؕ-اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ۔ [الملك: 19]
تو کیا انھوں نے اپنے اوپر پر پھیلاتے اور سمیٹتے پرندے نہ دیکھے؟ انھیں رحمن کے علاوہ کوئی نہیں روکے ہوئے ہے۔ بے شک وہ سب کچھ دیکھتا ہے۔
ان دونوں آیتوں میں تمام پرندوں کا عمومی ذکر کیا گیا ہے اور بطور خاص ان کی یہ خوبی بیان کی گئی ہے کہ فضا ان کے لیے اور وہ فضا کے لیے مسخر ہیں، جیسے چاہیں پر پھیلا کر اڑتے پھریں اور جب چاہیں اپنے پروں کو سمیٹ لیں۔ ثقیل جسم اور بوجھل وجود کے باوجود فضاؤں میں پرندوں کی یہ اٹکھیلیاں بے شک عمومی قانون فطرت کی خلاف اور قدرت خداوندی کی بہت بڑی دلیل ہیں کیوں کہ بظاہر ان کے اس طرح ٹکے رہنے کی کوئی وجہ نہیں الا یہ کہ قادر مطلق محض اپنی قدرت سے انھیں روکے اور ٹکائے رکھے۔
ان آیتوں میں اللہ رب العزت نے پرندوں کی پرواز سے اپنی قدرت کاملہ پر اِستدلال فرمایا ہے بایں طور کہ عام انسانی دنیا اور دنیائے انسانیت کے عمومی تجربات کے مطابق ہر بھاری جسم کشش ثقل کی وجہ سے اپنی طبیعت کے اعتبار سے اوپر سے نیچے گرنا چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پرندوں میں یہ انوکھا نظام بنایا کہ وہ نہ صرف اپنے بوجھل جسم کے ساتھ ہواؤں میں گھنٹوں بنا لڑکھڑائے مسلسل پرواز کر سکتے ہیں بلکہ عقاب جیسے کچھ پرندے تو اپنے ساتھ اپنے وجود سے 3/ گنا زیادہ وزن اٹھا کر بھی اڑ سکتے ہیں۔
یہ دلیل قدرت اس وقت اور زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے جب یہ نظام بطور تمثیل ایک آدھ پرندوں میں نہیں بلکہ پرندوں کی پوری جنس میں ہر وقت پایا جاتا ہے۔
اس کھلی نشانی سے اور کوئی عبرت پذیر ہو، نہ ہو، اہل ایمان کے دل جذبات شکر و امتنان سے ضرور لبریز ہو جاتے ہیں۔
جس طرح انسان اپنی ایجادات میں قدرت کے پیدا کردہ نمونوں کا سہارا لیتا ہے، ایسے ہی اس نے طیاروں کی ایجاد میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق پرندوں کو اپنا رول ماڈل بنایا اور ٹنوں لوہے کو پروازوں کی شکل میں پوری سبک روی کے ساتھ ہوا میں اڑانے میں کام یاب ہو گیا لیکن یہ انسان کی کس قدر محرومی ہے کہ کھلی آنکھوں اتنا کچھ دیکھنے اور بار بار تجربہ کرنے کے باوجود ازلی نعمت ایمان سے محروم رہے جبکہ اگر وہ ذرا تدبر سے کام لے تو ذہن میں یہ گرہیں کھلتی چلی جائیں گی کہ ہوا کو پرواز کے قابل کسی انسان نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور وہی ان چھوٹی چھوٹی مخلوقات سے کہیں بڑے بلکہ ان سے اربوں کھربوں وزنی بوڑھے آسمان کو ہمیشہ سے قائم رکھے ہوئے ہے اور وہی ہے کہ جس دن چاہے گا، آسمان پھل جھڑیوں کی طرح زمین پر آ رہے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا نظام ہست و بود تہ و بالا بلکہ مکمل طور پر برباد ہو کر رہ جائے گا۔ انسان کی بڑی سمجھ داری ہوگی کہ وہ روز قیامت آنے سے پہلے سرینڈر کر دے اور اسی قادر حقیقی کو اپنا معبود بنا لے۔
چوں کہ آیات کریمہ میں مطلقاً پرندوں کی بات کی گئی ہے اور یہ دنیا ایک مستقل اور نہایت وسیع دنیا ہے، جس کا احاطہ ممکن نہیں، اس لیے سر دست قرآنی نقطۂ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے محض برائے ذکر پرندوں کی دنیا کی کچھ خاص اور دل چسپ باتیں پیش ہیں، جن سے قرآن مجید میں بیان کردہ ان کی فضائی تسخیر کے علاوہ بھی جانے قدرت کی کتنی ہی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں:
پرواز کی صلاحیت:
پرندوں کے اندر پرواز کی صلاحیت کیوں کر پائی جاتی ہے؟
اس کا اصل سبب تو قدرت خداوندی ہی ہے لیکن سائنسی طور پر اس کا تعلق ان کی خاص جسمانی ساخت سے ہے۔ پرندوں کی ہلکی ہڈیاں، مضبوط پر، عضلاتی حرکت اور جسمانی ساخت کی ایروڈینا مکس (Aerodynamics) اس کا سبب ہے۔ در اصل پرندوں کی جسمانی ساخت ہوا کے دباؤ کو اپنی پرواز کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو ایروڈینامکس کا ایک پیچیدہ اصول ہے۔
پرندوں کی فطری رہ نمائی:
پرندے ہزاروں میل کا سفر کر سکتے ہیں، بلکہ آرکٹک ٹرن (Arctic Tern) جو دنیا کے سب سے زیادہ ہجرت کرنے والے پرندوں میں سے ہے، ہر سال تقریباً 70,000 کلومیٹر کا سفر کرتا ہے اور دوہرا کمال یہ کہ یہ اپنا راستہ بھی نہیں بھولتے بلکہ بارن سویلو (Barn Swallow) اور کوکو (Cuckoo) جیسے پرندے ہجرت کے دوران ہر سال ایک ہی مقررہ وقت میں، ایک ہی جگہ واپس آ جاتے ہیں، جو ان کی حیرت انگیز یاد داشت اور فطری رہ نمائی کی عکاسی کرتا ہے۔
سائنسی نقطۂ نظر سے پرندے بنا بھٹکے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے زمین کی مقناطیسیت، سورج اور ستاروں کی پوزیشن سے مدد لیتے ہیں اور یہ سب اللہ کی دی ہوئی رہ نمائی کا حصہ ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ راستوں بابت ستاروں سے مدد لینے کا ذکر بھی قرآن کریم میں کیا گیا ہے اور اسی طرح پرندے تو جسامت میں بڑے ہوتے ہیں، شہد کی مکھی جو کسی چھوٹے سے چھوٹے پرندے سے بھی سیکڑوں گنا چھوٹی ہوتی ہے، اس کے لیے قرآن مجید میں آیا کہ راستے آسان کر دیے گئے ہیں۔ دونوں قسم کی آیتیں اور ان کا ترجمہ دیکھیے اور بطور شکرانہ اپنے رب کی تسبیح بیان کیجیے:
وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ وَ عَلٰمٰتٍؕ-وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ۔ [النحل: 15-16]
اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے تاکہ تمھیں لے کر کانپنے نہ لگے اور ندیاں اور رستے بنائے کہ تم راہ پاؤ۔ اور نشانیوں اور ستاروں سے وہ راہ پاتے ہیں۔
وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًاؕ۔ [النحل: 68-69]
اور تمھارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں۔ پھر ہر قسم کے پھلوں سے کھا اور اپنے رب کی راہیں چل کہ تیرے لیے نرم و آسان ہیں۔
پرندوں کے پر:
خدا کی قدرت کہ یکساں نظر آنے کے باوجود ہر پرندے کے پر مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی پرواز کی صلاحیتیں جداگانہ ہوتی ہیں جیسے شکاری پرندے اپنے مضبوط پروں کی وجہ سے زیادہ بلندی تک جا سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے پرندے پھرتی کے ساتھ قریبی جگہوں پر اڑ سکتے ہیں۔ پروں کی سائز اور ان کی رنگینیاں بھی ایک الگ دنیا ہیں۔
پرندوں میں انسانی اوصاف:
کتنے ہی ایسے انسانی اوصاف ہیں جو الگ الگ پرندوں میں الگ الگ شکلوں میں پائے جاتے ہیں جیسے کوے کی یاد داشت بہت تیز ہوتی ہے۔ طوطے انسانی آوازوں کی نقل کرنے اور انسانی لغات کے الفاظ یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ کچھ طوطے سینکڑوں الفاظ یاد کر سکتے ہیں اور نہ صرف انسانی آوازوں کی نقل کرتے ہیں بلکہ جذبات اور ماحول کے مطابق بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔ بلبل جیسے کئی نر پرندے گا کر اپنی مادہ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ہر پرندے کی آواز دوسرے پرندے سے مختلف ہوتی ہے۔ الگ الگ قسم کے پرندے اپنے گھونسلے مختلف طریقوں سے بناتے ہیں۔ شکاری پرندے شکار کے لیے الگ الگ حربے اپناتے ہیں۔ پرندے موسموں کی تبدیلی کو پہلے سے محسوس کرتے ہیں اور اپنے طرزِ زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ کوا مرنے والے ساتھی کو دفن کرنے جیسا عمل کرتا ہے۔ پرندے مختلف رنگوں کو انسانوں سے زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں، یہاں تک کہ وہ الٹرا وائیلٹ (UV) روشنی کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ پرندے اپنے بچوں کے لیے قربانی کی حد تک جا سکتے ہیں جیسے حباری پرندہ (Killdeer) شکاری کو اپنے بچوں سے دور رکھنے کے لیے زخمی ہونے کی اداکاری کرتا ہے اور خود کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
پرندوں کی نیند:
پرندوں کی نیند بجائے خود قدرت خداوندی کی دلیل ہے کیوں کہ پرندے انسانوں کی طرح مست ہو کر نہیں سوتے بلکہ وہ آدھا دماغ جاگتے ہوئے اور آدھا دماغ سوتے ہوئے آرام کرتے ہیں تاکہ شکاریوں سے محفوظ رہ سکیں۔
معمولی چڑیا کی طاقت:
عام چڑیا (Sparrow) اپنی جسامت کے مقابلے میں انتہائی طاقت ور ہوتی ہے اتنی کہ ہر قسم کے موسمی حالات میں زندہ رہ سکتی ہے۔ (جاری ۔۔۔)
