| عنوان: | قیامت کی نشانیاں احادیث کی روشنی میں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | بشیر مدنی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُوْلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ: «مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ إِذَا رَأَيْتُمُ النَّاسَ أَضَاعُوْا الصَّلَاةَ، وَأَضَاعُوْا الْأَمَانَةَ، وَاسْتَحَلُّوا الْكَبَائِرَ، وَأَكَلُوا الرِّبَا، وَأَخَذُوا الرِّشَىٰ، وَشَيَّدُوا الْبِنَاءَ، وَاتَّبَعُوا الْهَوَىٰ، وَبَاعُوا الدِّيْنَ بِالدُّنْيَا، وَاتَّخَذُوا الْقُرْآنَ مَزَامِيْرَ، وَاتَّخَذُوْا جُلُوْدَ السِّبَاعِ صِفَافًا، وَالْمَسَاجِدَ طُرُقًا، وَالْحَرِيْرَ لِبَاسًا، وَكَثُرَ الْجَوْرُ، وَفَشَا الزِّنَا، وَتَهَاوَنُوْا بِالطَّلَاقِ، وَائْتُمِنَ الْخَائِنُ، وَخُوِّنَ الْأَمِيْنُ، وَصَارَ الْمَطَرُ قَيْظًا، وَالْوَلَدُ غَيْظًا، وَأُمَرَاءُ فَجَرَةٌ، وَوُزَرَاءُ كَذَبَةٌ، وَأُمَنَاءُ خَوَنَةٌ، وَعُرَفَاءُ ظَلَمَةٌ، وَقَلَّتِ الْعُلَمَاءُ، وَكَثُرَتِ الْقُرَّاءُ، وَقَلَّتِ الْفُقَهَاءُ، وَحُلِّيَتِ الْمَصَاحِفُ، وَزُخْرِفَتِ الْمَسَاجِدُ، وَطُوِّلَتِ الْمَنَابِرُ، وَفَسَدَتِ الْقُلُوْبُ، وَاتَّخَذُوا الْقَيْنَاتِ، وَاسْتُحِلَّتِ الْمَعَازِفُ، وَشُرِبَتِ الْخُمُوْرُ، وَعُطِّلَتِ الْحُدُوْدُ، وَنَقَصَتِ الشُّهُوْرُ، وَنُقِضَتِ الْمَوَاثِيْقُ، وَشَارَكَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا فِيْ التِّجَارَةِ، وَرَكِبَ النِّسَاءُ الْبَرَاذِيْنَ، وَتَشَبَّهَتِ النِّسَاءُ بِالرِّجَالِ وَالرِّجَالُ بِالنِّسَاءِ، وَيُحْلَفُ بِغَيْرِ اللّٰهِ، وَيَشْهَدُ الرَّجُلُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُّسْتَشْهَدَ، وَكَانَتِ الزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، وَعَقَّ أُمَّهُ، وَأَقْصَىٰ أَبَاهُ، وَصَارَتِ الْإِمَارَاتُ مَوَارِيْثَ، وَسَبَّ آخِرُ هٰذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ، وَكَثُرَتِ الشُّرَطُ، وَصَعِدَتِ الْجُهَّالُ الْمَنَابِرَ، وَلَبِسَ الرِّجَالُ التِّيْجَانَ، وَضُيِّقَتِ الطُّرُقَاتُ، وَشُيِّدَ الْبِنَاءُ، وَاسْتَغْنَى الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ، وَكَثُرَتْ خُطَبَاءُ مَنَابِرِكُمْ، وَرَكَنَ عُلَمَاؤُكُمْ إِلَىٰ وُلَاتِكُمْ، فَأَحَلُّوْا لَهُمُ الْحَرَامَ، وَحَرَّمُوْا عَلَيْهِمُ الْحَلَالَ، وَأَفْتَوْهُمْ بِمَا يَشْتَهُوْنَ، وَتَعَلَّمَ عُلَمَاؤُكُمُ الْعِلْمَ لِيَجْلِبُوْا بِهٖ دَنَانِيْرَكُمْ وَدَرَاهِمَكُمْ، وَاتَّخَذْتُمُ الْقُرْآنَ تِجَارَةً، وَضَيَّعْتُمْ حَقَّ اللّٰهِ فِيْ أَمْوَالِكُمْ، وَصَارَتْ أَمْوَالُكُمْ عِنْدَ شِرَارِكُمْ، وَقَطَعْتُمْ أَرْحَامَكُمْ، وَشَرِبْتُمُ الْخُمُوْرَ فِيْ نَادِيْكُمْ، وَلَعِبْتُمْ بِالْمَيْسِرِ، وَضَرَبْتُمْ بِالْكَبَرِ وَالْمِعْزَفَةِ وَالْمَزَامِيْرِ، وَمَنَعْتُمْ مَحَاوِيْجَكُمْ زَكَاتَكُمْ وَرَأَيْتُمُوْهَا مَغْرَمًا، وَقُتِلَ الْبَرِيْءُ لِغَيْظِ الْعَامَّةِ بِقَتْلِهِ، وَاخْتَلَفَتْ أَهْوَاؤُكُمْ، وَصَارَ الْعَطَاءُ فِيْ الْعَبِيْدِ وَالسُّقَاطِ، وَطُفِّفَ الْمَكَائِيْلُ وَالْمَوَازِيْنُ، وَوَلِيَتْ أُمُوْرَكُمُ السُّفَهَاءُ.»
[أبو الشيخ في الفتن وعويس في جزئه والديلمي] [كنز العمال، ج: 14، ص: 573-574،]
حضرت زید ابن واقد سے روایت ہے، انھوں نے مکحول سے روایت کی، انھوں نے مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کی، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے جب تم دیکھو لوگوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور امانت کو رائیگاں کر دیا اور کبیرہ گناہوں کو حلال ٹھہرایا، اور سود خوری اور رشوت ستانی کی اور مکان پختہ بنائے اور خواہشوں کی پیروی کی اور دین کو دنیا کے بدلے بیچا اور قرآن کو گانا ٹھہرا دیا (یعنی گانے کے طور پر اتار چڑھاؤ کے ساتھ قرآن پڑھیں گے، یا ساز کے ساتھ قرآن کی تلاوت کریں گے، اور غالباً یہ پچھلی بات بھی واقع ہو گئی اور پہلی بات تو قرائے زمانہ میں عام ہے) اور جب تم دیکھو لوگوں نے درندوں کی کھالوں کو بطورِ زین استعمال کیا، اور مسجدوں کو راستہ بنا لیا اور مردوں نے ریشم کو پہناوا ٹھہرا لیا اور جب ظلم زیادہ ہو اور زنا عام ہو اور طلاق معمولی بات سمجھی جائے اور خائن کے پاس امانت رکھی جائے، اور امین کو خائن ٹھہرایا جائے اور بارش شدتِ گرمی ہو جائے (غالباً مطلب یہ ہے کہ بارش کم ہو اور خشک سالی عام ہو۔ یا بارش کا اثر یعنی سبزہ اور خنکی ہوا مرتب نہ ہو) اور جب اولاد دل کی گھٹن ہو جائے اور بدکار امرا اور جھوٹے وزیر اور خائن امیر اور ظالم محتسب ہوں، اور علما اہلِ ثروت کے لیے سینوں پر ہاتھ رکھ کر جھکیں، اور قرا بکثرت ہوں اور فقہا کی قلت ہو اور مصاحف سونے چاندی سے مزین کیے جائیں اور مسجدیں آراستہ کی جائیں اور منبر دراز کیے جائیں، اور دل فاسد ہو جائیں اور لوگ گانے والیاں رکھیں اور باجے حلال ٹھہرائے جائیں اور شراب پی جائے اور اللہ کی حدود معطل کی جائیں اور مہینے گھٹ جائیں اور عہد و پیماں توڑے جائیں اور عورت اپنے شوہر کی تجارت میں شریک ہو اور عورتیں ترکی گھوڑوں پر بیٹھیں اور عورتیں مردوں سے اور مرد عورتوں سے مشابہت کریں اور غیر اللہ کی قسم کھائی جائے اور آدمی گواہی میں سبقت کرے بغیر اس کے کہ گواہی طلب کی جائے اور زکوٰۃ تاوان ٹھہرے اور امانت مالِ غنیمت اور مرد اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور ماں کی نافرمانی کرے اور باپ کو دور رکھے اور عہدے میراث ہو جائیں اور اس امت کے پچھلے لوگ اگلوں کو گالیاں دیں (اس کے مصداق رافضی، وہابی، خارجی ہیں) اور آدمی کی عزت اس کے شر کے ڈر سے ہو اور سپاہیوں کی کثرت ہو اور جاہل منبر پر چڑھیں اور مرد تاج پہنیں اور راستے تنگ ہوں اور رہائش کے مکان اونچے پختہ بنیں، اور مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے بے نیاز ہوں اور تمھارے منبر کے خطیب بکثرت ہوں اور تمھارے علما تمھارے والیوں کی طرف جھکیں، تو ان کے لیے حرام حلال ٹھہرا دیں اور حلال کو حرام کر دیں اور ان کو من چاہا فتویٰ دیں اور تمھارے علما علم اس لیے سیکھیں کہ تمھارے رئیسوں کے دینار و درہم اکٹھا کریں اور تم قرآن کو تجارت ٹھہرا لو اور تمھارے مالوں میں جو اللہ کا حق ہے اسے ضائع کر دو اور تمھارے مال تمھارے اشرار کے قبضوں میں ہوں اور تم اپنے رشتوں کو کاٹو اور اپنی مجلسوں میں شراب پیو اور جوا کھیلو اور طبلہ بجاؤ اور مزامیر کے آلات بجاؤ اور اپنے محتاجوں کو اپنی زکوٰۃ نہ دو اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھو اور بے گناہ کا قتل ہو تاکہ عام لوگ اس کے قتل سے گھٹیں اور تمھارے خیالات مختلف ہوں اور بخششیں خادموں میں اور کم مرتبہ لوگوں میں عام ہوں اور پیمانے اور ترازو میں کم ہوں (یعنی کم تولیں) اور تمھارے امور کے والی بے وقوف لوگ ہوں۔
تشریح و تصریح و تفصیل
”جب تم دیکھو لوگوں نے نماز کو ضائع کر دیا“
یعنی نماز کو ضائع کرنا چند طور سے ہے۔ نجاست سے پرہیز نہ کرے، کپڑے میں اس قدر نجاست ہو جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے یا ناپاک جگہ میں نماز پڑھے یا وضو صحیح طور پر نہ ہو یا نماز میں کوئی شرط یا رکن ادا نہ ہو یا معاذ اللہ دل طہارتِ باطنی و نورِ ایمانی سے خالی ہو، بایں طور کہ اللہ و رسول جل وعلا ﷺ کی تعظیم سے خالی ہو اور ضروریاتِ دین میں سے کسی امرِ ضروری دینی مثلاً اللہ کی پاکی نبی کے علمِ غیب یا خاتم الانبیاء (ﷺ) کی ختمِ نبوت وغیرہ کا منکر ہو اگرچہ زبان سے کلمہ پڑھتا ہو، اور یہ آخری صورت بدترین حالت ہے۔ جس میں نماز ہی کو رائیگاں کرنا نہیں بلکہ ایمان کو بھی ضائع کرنا ہے (اور اس کے مصداق وہابیہ، دیابنہ، قادیانی، روافض اور تمام منکراتِ ضروریاتِ دین ہیں) انھی کے لیے مخبرِ صادق ﷺ نے غیب کی سچی خبر دی: ”سَيُصَلِّيْ قَوْمٌ لَّا دِيْنَ لَهُمْ“ یعنی ایک ایسی قوم نماز پڑھے گی جس کا دین نہ ہوگا (کنز العمال)۔ ان تمام صورتوں میں نماز اصلاً ہوتی ہی نہیں اگرچہ ظاہری صورت نماز کی دیکھنے میں آتی ہے، اور نماز کو رائیگاں کرنے کی یہ صورت بھی ہے کہ اصلاً نماز نہ پڑھیں، نماز کو ضائع کرنا یہ بھی ہے کہ رکوع و سجود میں طمانیت جو کہ واجب ہے نہ کرے۔ اس طرح واجباتِ نماز میں سے کوئی واجب چھوڑ دینا، یا خشوع و خضوع کے بغیر نماز پڑھنا، ان صورتوں میں تضییعِ صلاۃ لازم آتی ہے۔
نماز کو ضائع کرنا
بخاری شریف میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ انھوں نے دیکھا ایک شخص کو کہ رکوع و سجود کامل طور پر نہیں کر رہا تھا، جب اس نے اپنی نماز پوری کی تو حضرت حذیفہ نے کہا تو نے نماز نہیں پڑھی۔ راوی کا بیان ہے میں گمان کرتا ہوں کہ حضرت حذیفہ نے اس شخص سے کہا کہ اگر تو اس حالت پر مرا تو تو سنتِ محمد ﷺ پر نہ مرے گا۔ اور نماز کو ضائع کرنا یہ بھی ہے کہ وقت گزار کر پڑھے۔ اسی بخاری شریف میں حضرت زہری سے روایت کیا وہ کہتے ہیں کہ میں دمشق میں انس بن مالک کی خدمت میں حاضر ہوا وہ روتے تھے تو میں نے عرض کی کہ آپ کے رونے کا سبب کیا ہے۔ تو انھوں نے کہا میں نبی علیہ السلام کے زمانے کی کوئی چیز نہیں پہچانتا سوائے اس نماز کے اور یہ نماز بھی ضائع کر دی گئی۔
[بخاری شریف، باب تضییع الصلاۃ عن وقتھا، ص: ۱۷-۱۹۸،]
نماز میں خشوع و خضوع کا طریقہ
یعنی یہ حدیث نماز کو اس کا وقت گزار کر ادا کرنے کے بیان میں امام بخاری نے ذکر کی۔ نیز طبرانی میں انھی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، فرماتے ہیں فرمایا حضور ﷺ نے جو نمازیں ان کے وقتوں پر پڑھے اور ان کا وضو کامل ہو اور نمازوں میں قیام، خشوع، رکوع و سجود کامل طور پر کرے، تو اس کی نماز سفید چمکتی ہوئی نکلتی ہے، کہتی ہے اللہ تیری حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی، اور جو نا وقت نماز پڑھے اور وضو کامل نہ کرے اور نہ خشوع، رکوع و سجود تمام کرے تو اس کی نماز نکلتی ہے سیاہ اندھیری، کہتی ہے اللہ تجھے ضائع کرے جیسا کہ تو نے مجھے ضائع کیا یہاں تک کہ جب اس جگہ پر پہنچتی ہے جہاں اللہ چاہتا ہے، لپیٹ دی جاتی ہے جیسے کہ پرانا کپڑا لپیٹ دیا جاتا ہے پھر اس نمازی کے منھ پر مار دی جاتی ہے۔
اسی کے ہم معنی حضرت عبادہ بن ثابت سے مروی ہے اور کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی فرمایا، ہم پر رسول اللہ ﷺ جلوہ گر ہوئے اور سات نفر تھے۔ چار ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے اور تین ہمارے عربوں میں سے ہم لوگ حضور ﷺ کی مسجد پر اپنی کمر ٹکائے تھے تو فرمایا تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو، ہم نے عرض کیا ہم بیٹھے ہیں نماز کے انتظار میں تو حضور ﷺ تھوڑی دیر ٹھہرے پھر ہم پر توجہ فرمائی تو فرمایا جان لو کہ تمھارا رب فرماتا ہے جو پانچوں نمازیں ان کے وقتوں پر پڑھے اور ان نمازوں کی پابندی کرے اور ان کے آداب کی حفاظت کرے اور نمازوں کو ضائع نہ کرے۔ اور نمازوں کو ناحق تساہل سے ضائع نہ کرے۔ تو اس کے لیے میرے اوپر عہد ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں اور جو ان نمازوں کو ان کے وقتوں پر نہ پڑھے اور ان کے آداب کی حفاظت نہ کرے اور ناحق تساہل سے انھیں ضائع کر دے تو اس کے لیے میرے اوپر کوئی عہد نہیں چاہوں تو عذاب دوں اور چاہوں تو بخش دوں。
اس حدیث کو روایت کیا طبرانی نے ”اوسط“ میں اور ”کبیر“ میں اور امام احمد کے الفاظ یوں ہیں: راوی نے کہا اس دوران کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں بیٹھا تھا ہم لوگ حضور ﷺ کی مسجد کی طرف اپنی کمر ٹکائے تھے، اتنے میں حضور ﷺ حجرۂ مقدسہ سے باہر تشریف لائے، نمازِ ظہر کے وقت میں تو فرمایا: اس کے بعد امام احمد نے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کی۔
امانت کو رائیگاں کرنا
یعنی امانت کو اس کے مستحق تک نہ پہنچایا اور حدیث میں لفظِ امانت عام ہے جو مال، علم، عمل سب کو شامل ہے، خازن میں زیرِ آیت کریمہ:
إِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰی أَهْلِهَا [النساء: 58]
(یعنی بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔ کنز الایمان)
یہ آیت تمام امانت کو شامل ہے تو اس کے حکم میں ہر وہ امانت داخل ہے جس کی ذمے داری انسان کو سونپی گئی ہے اور یہ تین قسم پر ہے، پہلی یہ کہ اللہ کی امانت کو ملحوظ رکھے، اور یہ اللہ کے احکام بجا لانا اور ممنوعات سے پرہیز کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ امانت ہر شے میں لازم ہے یہاں تک کہ وضو اور جنابت سے پاکی کے لیے غسل، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور ہر قسم کی عبادات میں۔ اور دوسری قسم یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس میں اللہ کی امانت ملحوظ رکھے اور وہ اللہ کی وہ نعمتیں ہیں جو اللہ نے بندے کے تمام اعضا میں رکھی ہیں، تو زبان کی امانت یہ ہے کہ زبان کو جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ خلافِ شرع باتوں سے محفوظ رکھے اور آنکھ کی امانت یہ ہے کہ محرمات پر نگاہ سے آنکھ کو بچائے۔ اور کان کی امانت یہ ہے کہ لغو، بے حیائی اور جھوٹی باتیں اور اس کے مثل خلافِ شرع باتیں سننے سے پرہیز کریں۔ تیسری قسم یہ ہے کہ بندہ اللہ کے بندوں کے ساتھ معاملات میں امانت کا لحاظ رکھے۔
لہٰذا اس پر ودیعت اور عاریت کا ان لوگوں کو لوٹانا ضروری ہے جنھوں نے اس کے پاس یہ امانتیں رکھیں اور اس میں ان کے ساتھ خیانت کرنا منع ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امانت اس کو پہنچا جس نے تیرے پاس امانت رکھی اور اس کے ساتھ خیانت نہ کر جس نے تیرے ساتھ خیانت کی۔
ابو داؤد و ترمذی، فقال حدیث حسن غریب۔
اسی میں ناپ اور تول کو پورا کرنا داخل ہے۔ لہٰذا ان میں کمی کرنا حرام ہے اور اس کے امور میں امیروں اور بادشاہوں کا رعیت کے ساتھ اور علما کا عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی داخل ہے، تو یہ تمام چیزیں اس امانت کی قبیل سے ہیں جس کا ان کے مستحقین کو پہنچانے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا۔ بغوی نے اپنی سند سے روایت کی، فرماتے ہیں کہ ایسا ہوا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور یہ نہ فرمایا ہو کہ اس کا ایمان نہیں جس کے پاس دیانت داری نہیں اور اس کا دین نہیں جس کو عہد کا پاس نہیں۔
علم کو نہ چھپایا جائے
اقول:- علما کی عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی یہی ہے کہ وہ اللہ و رسول (جل وعلا ﷺ) کے احکام ان تک پہنچائیں اور اہلِ کو وہ علم سکھائیں جو ان کے پاس اس کی امانت ہے، اس کو چھپا لینا امانت کو ضائع کرنا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ”اللآلئ المصنوعة“ میں اپنی سند سے سرکار سے روایت کیا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”تَنَاصَحُوْا فِيْ الْعِلْمِ، وَلَا يَكْتُمْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، فَإِنَّ خِيَانَةً فِيْ الْعِلْمِ أَشَدُّ مِنْ خِيَانَةٍ فِيْ الْمَالِ“ [اللآلئ المصنوعة، ج: ۱، ص: ۲۰۸،]
یعنی علم کے معاملے میں خیر خواہی سے کام لو اور کوئی کسی سے علم نہ چھپائے اس لیے کہ علم میں خیانت مال میں خیانت سے سخت تر ہے۔
تقریرِ بالا سے روشن ہو گیا اور ادائے فرضیت و امانت کا معنی خوب روشن ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا، کہ امانت کو ضائع کرنا ان تمام مذکورہ صورتوں کو شامل ہے۔ یہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کے دہنِ مبارک سے نکلے ہوئے ایک کلمے کی جامعیت اور اس میں کثرتِ معانی کا یہ حال ہے کہ کسی کا بیان اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
میں نثار تیرے کلام پر
ملی یوں تو کس کو زباں نہیں
وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو
وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں
علم کو چھپانا اس سے مراد یہ ہے کہ اہلِ سے پوشیدہ نہ رکھے، جیسا کہ تقریر بالا میں گزرا اور خود آیتِ کریمہ سے یہ قید صراحتاً مستفاد ہے اور بلاشبہ یہ مال میں خیانت سے زیادہ سخت ہے، کہ بعض صورتوں میں کتمانِ علم سے نوبت کفر تک پہنچتی ہے، جیسے حضور ﷺ کے فضائلِ جلیلہ شہیرہ کثیرہ کو چھپانا اور ان کے بجائے ایسی باتیں بیان کرنا جس سے تنقیصِ شانِ رسالت ہوتی ہے اور یہ اگلے زمانے میں یہودیوں کی خصلت تھی اور اب اس کے مصداق وہابیہ، دیابنہ وغیرہ ہیں۔ سرکارِ ابد قرار ﷺ نے فرمایا کہ ہر امت میں کچھ لوگ یہودی ہیں اور میری امت کے یہودی تقدیرِ الٰہی کے جھٹلانے والے ہیں (اللآلئ المصنوعۃ) مفہومِ حدیث سے خوب ظاہر کہ کچھ لوگوں کو سرکار ﷺ نے تکذیب اور کتمانِ حق کی وجہ سے یہودی فرمایا تو وہابیہ وغیرہ ہم جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علمِ غیب ہی کے منکر ہیں، اور دانستہ فضائل چھپاتے ہیں اور ضروریاتِ دین کو نہیں مانتے، یہ بھی بلاشبہ اس حدیث کے مصداق ہیں اور وہ حدیث جس میں فرمایا کہ اس کا ایمان نہیں جس کے پاس دیانت نہیں، ان منکرین کے حق میں اپنے ظاہری معنی پر ہے تو ان کی کلمہ گوئی اصلاً انھیں مفید نہیں۔
ذباب فی ثیاب، لب پہ کلمہ، دل میں گستاخی
سلام اسلام ملحد کو کہ تسلیمِ زبانی ہے
یہاں سے ظاہر ہوا کہ حدیث میں قربِ قیامت کی نشانیوں میں جو یہ فرمایا کہ کبیرہ گناہوں کو حلال ٹھہرائیں گے یہ فقرہ سابقہ سے مربوط ہے اور دونوں میں علاقہ سبب و مسبب کا ہے یعنی جب امانت ان سے مسلوب ہو جائے گی تو اس کا ضائع کرنا یہی ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں میں بے پرواہی کے ساتھ مبتلا ہو جائیں گے، یا معاذ اللہ انھیں حلال جان کر ایمان سے دور اور دین سے بے زار ہو جائیں گے۔ حدیث دونوں معنی کو شامل ہے اور دونوں فریق حدیث کے الگ الگ محمل کے اعتبار سے حدیث کے مصداق ہیں۔ اور دوسرا فریق یعنی جو محرماتِ قطعیہ کو حلال جانے مسلوب الامانت ایمان سے محروم اسلام سے خارج ہے۔ اور اللہ کی عظمت کے لحاظ سے ہر گناہ اور ہر معصیت کبیرہ ہے، اگرچہ بعض معاصی بمقابلۂ بعض کبیرہ ہیں اور بعض صغیرہ ہیں اور کبیرہ کی جامع تعریف یہ ہے کہ وہ ہر ایسی معصیت ہے جس کے مرتکب پر کتاب و سنت میں وعیدِ شدید آئی اور جس کے ارتکاب سے عدالت ساقط ہو جاتی ہے، جیسے سود خوری، یتیم کا مال کھانا، ماں باپ کی نافرمانی، قطعِ رحم، جادو، چغلی، جھوٹی گواہی اور حاکم کے پاس ناحق لوگوں کی شکایت کرنا، زنا کی دلالی اور محارم کے معاملے میں بے غیرتی وغیرہ، یوں ہی کہ گناہ جس کے مرتکب پر لعنت وارد ہوئی اسی طرح ہر صغیرہ جس پر اصرار کرے اور بار بار اس کا مرتکب ہو۔
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَنْهُمَا: ”لَا كَبِيْرَةَ مَعَ الِاسْتِغْفَارِ، وَلَا صَغِيْرَةَ مَعَ الْإِصْرَارِ“
استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں رہتا۔
سود خوری کا مسلمانوں میں عام ہونا
یعنی قربِ قیامت کے آثار میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ سود خوری عام طور پر مسلمانوں میں پائی جائے گی، مسلمان ایک دوسرے سے سود کا لین دین کریں گے یعنی ناپ تول والی جنس کو جیسے گیہوں، سونا، چاندی وغیرہ اسی جنس کے بدلے تفاضل کے ساتھ بیچیں گے، زیادہ لینے کی شرط پر مسلمان مسلمان کو ادھار دے گا، یہاں سے معلوم ہوا کہ سود مسلمان یا مسلمان اور ذمی کے درمیان مالِ معصوم میں ہوتا ہے اور اس پر خود حدیث پر پہلا فقرہ کہ نماز کو ضائع کریں گے قرینہ ہے، نیز اس حدیث میں تصریح فرمائی کہ مسلمان اور حربی کافر کے درمیان سود نہیں۔ لہٰذا آج کل کفار سے زیادہ لینا سود کی حد میں نہیں آتا۔ لہٰذا ان سے بغیر بد عہدی کے جو کچھ جس طریقے سے ملے وہ مسلمان کے لیے جائز ہے۔ یہاں سے بینک اور ڈاک خانے کے منافع کا حکم معلوم ہوا تفصیل کے لیے ”رسالہ بینک“ مرتبہ مفتی قاضی عبد الرحیم بستوی ملاحظہ ہو۔
یوں ہی مسلم اپنے مسلمان بھائی کو قرض ادا کرنے کی صورت میں بلا شرط بطور انعام کچھ دے دے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مندرجہ بالا تقریر سے یہ بھی روشن ہوا کہ ربا کے لیے قدر (ناپ تول) و جنس کی شرط ہے، اس صورت میں ان دونوں میں سے کوئی بات نہ پائی جائے تو سود نہ ہوگا، لہٰذا نوٹ کے بدلے نوٹ کمی بیشی پر لینا دینا جب کہ یہ نقد ہو جائز ہے، (تفصیل کے لیے ”كفل الفقيه الفاهم“ مصنفہ امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ ملاحظہ ہو) اور گیہوں اور جو وغیرہ مختلف جنس سے تفاضل کے ساتھ بیچنا جائز ہے کہ گیہوں اور جو ایک جنس نہیں اور روٹی کو گیہوں یا آٹے کے بدلے کمی یا زیادتی کے ساتھ بیچنا بھی جائز ہے اس لیے کہ یہاں جنس متحد ہے لیکن روٹی میں مقدار جو کہ شرطِ سود ہے مفقود ہے۔ (جاری...)
[ماہنامہ سنی دنیا، مارچ اپریل ۲۰۰۵ء]
