| عنوان: | قیامت کی نشانیاں احادیث کی روشنی میں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | بشیر مدنی |
رشوت کا لین دین عام ہو گا
پھر سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے قربِ قیامت کی ایک اور نشانی یہ بتائی کہ رشوت کا لین دین لوگوں میں عام ہوگا گویا ان کے نزدیک وہ معمولی بات ہو حالاں کہ اللہ و رسول (جل وعلا و ﷺ) کے نزدیک معمولی بات نہیں بلکہ سخت حرام ہے، قرآنِ شریف میں اس کی حرمت مصرح ہے، اور حدیث میں فرمایا:
لَعَنَ اللّٰهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ
(یعنی اللہ کی لعنت ہے رشوت لینے اور دینے والے پر) [مسند امام احمد، ج: ۲، ص: ۳۸۷،]
یعنی رشوت لینے والا مطلقاً مستحقِ لعنت ہے اور دینے والا بھی اسی رسی میں گرفتار ہے، جب کہ ناجائز کام کے لیے رشوت دے یا بغیر مجبوری کے دے اور دفعِ ظلم اور جائز حق کی تحصیل کے لیے جب رشوت دیے بغیر چارہ نہ ہو تو یہ صورت مستثنیٰ ہے اور دینے والا اس وعید کا مصداق نہیں۔
قرآن کو ساز کے طرز پر پڑھنا
یعنی تجوید کے قواعد کا لحاظ نہیں رکھیں گے اور قرأت کا جو طریقہ سرکار ﷺ کے زمانے سے متوارث ہے اس کی پیروی نہ کریں گے، یعنی گانے کے طور پر اتار چڑھاؤ کے ساتھ قرآن پڑھیں گے، یا ساز کے ساتھ قرآن کی تلاوت کریں گے اور غالباً یہ پچھلی بات بھی واقع ہو گئی اور پہلی بات تو قرائے زمانہ میں عام ہے۔
(۶) اور تم دیکھو لوگوں نے درندوں کی کھالوں کو بطورِ زین استعمال کیا۔
اس سے شیر وغیرہ کی کھال پر بیٹھنے سے ممانعت معلوم ہوتی ہے، اور یہ ممانعت بعض حدیثوں میں وارد ہوئی اور اگر اس سے مقصود فخر و مباہات ہو تو اسے ممانعت اس کی تحریم کا فائدہ دے گی اور سرکار ﷺ نے قربِ قیامت کی جو نشانیاں بیان فرمائیں یہ ساری علامتیں واقع ہو چکیں، اس پر مشاہدہ شاہدِ عدل ہے۔
(۷) اور جب اولاد دل کی گھٹن ہو جائیں。
اس سے مراد اولاد میں نافرمانی کی کثرت ہے اور اس کی مزید تفصیل حدیث میں آ رہی ہے۔
علما اہلِ ثروت کے لیے جھکیں گے
اس سے مراد علما کے گروہ میں وہ فساق ہیں جو مال و جاہ کی لالچ میں اہلِ ثروت کے لیے جھکیں گے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرائیں گے اور دنیا داروں کو ان کی خواہش کے موافق فتویٰ دیں گے، جیسا کہ آگے اسی حدیث میں بیان ہوا، اس سے مقصود علما اور عوام دونوں کی تحذیر و تنبیہ ہے۔
امام جلال الدین سیوطی حضرت عبد اللہ بن مبارک سے اپنی کتاب ”اللآلئ المصنوعۃ“ میں حدیث روایت کرتے ہیں جس کو انھوں نے ابو معن سے روایت کیا انھوں نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی سہیل بن حسان قلبی نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک وہ چکنی پھسلنی چٹان جس پر علما کے پیر نہیں جمتے طمع ہے، اسی میں حضرت انس سے مرفوعاً مروی ہے کہ علما اللہ کے رسولوں کے بندوں کے پاس امین ہیں جب تک بادشاہ سے نہ ملیں اور دنیا میں دخل نہ دیں۔ تو جب دنیا میں دخل دینے لگیں اور بادشاہوں سے مل جائیں تو بے شک انھوں نے رسولوں کے ساتھ خیانت کی تو ان سے دور رہو۔ مگر سارے علما کا یہ حال نہ ہوگا۔
بخاری شریف کی حدیث میں وارد ہوا جو حضرت امیر معاویہ سے مروی ہے کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو فقیہ (دین کی سمجھ رکھنے والا) بناتا ہے اور میں تو بانٹنے والا ہوں، اللہ دیتا ہے، میری امت کا ایک گروہ اللہ کا حکم آنے تک اللہ کے دین پر قائم رہے گا، ان کے مخالف انھیں کچھ نہ نقصان پہنچا سکیں گے۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیامت تک خیارِ علما جو شریعت کے پاسبان اور دین کے فقیہ ہیں ہوتے رہیں گے، وہ خود دین پر قائم رہیں گے، اور ان کی برکت سے ان کے سچے متبعین کہ اہلِ سنت و جماعت ہیں دین پر قائم رہیں گے اور اس پر خود اسی حدیث میں قرینہ موجود کہ فرمایا قرا بکثرت ہوں گے اور فقہا کم رہ جائیں گے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ ایسے لوگ قیامت آنے تک آتے رہیں گے اور یہ جو فرمایا کہ قاری بکثرت ہوں گے فقرۂ سابقہ سے ملانے پر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قاریوں کی کثرت سے ایسے لوگ مراد ہیں جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن اس کے معنی میں فہم و تدبر سے کام نہ لیں گے اور اس طرح صحابۂ کرام کا وہ طریقہ جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے جو انھوں نے لیا اور ان کے متبعین میں رائج ہوا متروک ہو جائے گا۔
حضرت ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے انھوں نے فرمایا ہم سے حدیث بیان کی ان صحابی نے جو ہم کو قرآن پڑھاتے تھے کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے دس آیتیں سیکھتے تھے تو دوسری دس آیتوں کی قرأت نہ شروع کرتے جب تک کہ جو ان میں علم و عمل ہے جان نہیں لیتے، انھوں نے فرمایا تو حضور ﷺ ہم کو علم و عمل دونوں کی تعلیم دیتے تھے۔
سرکار کو قیامت کی خبر
اس حدیثِ جلیل سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کو کائنات کے تمام واقعات کی خبر ہے۔ ماضی و مستقبل سب کا علم ہے، عالم کا ذرہ ذرہ پیشِ نظر ہے، قربِ قیامت کی نشانیاں اور خود قیامت سب مشاہدے میں ہیں۔ علما فرماتے ہیں کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام دنیا سے تشریف نہ لے گئے مگر اس حال میں کہ اللہ نے حضور کو اس سے مطلع فرما دیا کہ قیامت کب آئے گی، اس کی تعین لوگوں سے پوشیدہ رکھنے کا سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کو حکم دیا بلکہ بعض احادیث سے قیامت کے احوال کا بھی پیشِ نظر ہونا ثابت ہے، علمائے کرام کی اس رائے کی تائید ایک حدیث سے مستفاد ہوتی ہے۔
یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جو کنز العمال جلد 14 ص 583 پر موجود اور خاصی طویل ہے، اس میں حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا علیہ الصلاۃ والسلام کے دفن کے تھوڑے عرصے بعد ایک ہوا کا ذکر ہے، جو یمن کے طرف سے چلے گی روئے زمین پر جتنے مسلمان اس وقت ہوں گے یہ ہوا ان کی روح قبض کر لے گی اور قرآن کو ایک ہی رات میں اٹھا لیا جائے گا تو انسانوں کے سینوں میں اور ان کے گھروں میں اس میں سے کچھ نہ رہے گا تو ایسے لوگ رہ جائیں گے جن میں نہ کوئی نبی ہوگا نہ قرآن ہوگا اور نہ ان میں کوئی مسلمان ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا تو یہاں پر ہم سے قیامت کے برپا ہونے کا وقت چھپا لیا گیا تو ہم نہیں جانتے کہ ان لوگوں کو کتنی مہلت دی جائے گی۔ پوری حدیث یہ ہے:
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: أَنْتَ الَّذِيْ تَزْعُمُ أَنَّ السَّاعَةَ تَقُوْمُ إِلَىٰ مِائَةِ سَنَةٍ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَأَنَا أَقُوْلُ ذٰلِكَ، وَمَنْ يَّعْلَمُ قِيَامَ السَّاعَةِ إِلَّا اللّٰهُ؟ إِنَّمَا قُلْتُ: مَا كَانَتْ رَأْسُ مِائَةٍ لِلْخَلْقِ مُنْذُ خُلِقَتِ الدُّنْيَا إِلَّا كَانَ عِنْدَ رَأْسِ الْمِائَةِ أَمْرٌ. قَالَ: ثُمَّ يُوْشِكُ أَنْ يَّخْرُجَ ابْنُ حَمَلِ الضَّأْنِ. قِيْلَ: وَمَا ابْنُ حَمَلِ الضَّأْنِ؟ قَالَ: رُوْمِيٌّ أَحَدُ أَبَوَيْهِ شَيْطَانٌ، يَسِيْرُ إِلَى الْمُسْلِمِيْنَ فِيْ خَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ بَحْرًا، حَتَّىٰ يَنْزِلَ بَيْنَ عَكَّا وَصُوْرَ، ثُمَّ يَقُوْلُ: يَا أَهْلَ السُّفُنِ، اخْرُجُوْا مِنْهَا. ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ، ثُمَّ يَقُوْلُ لَهُمْ: لَا قُسْطَنْطِيْنِيَّةَ لَكُمْ وَلَا رُوْمِيَّةَ حَتَّىٰ يُفْصَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْعَرَبِ. قَالَ: فَيَسْتَمِدُّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّىٰ تَمُدَّهُمْ عَدَنُ أَبْيَنَ عَلَىٰ قُلُصَاتِهِمْ، فَيَجْتَمِعُوْنَ فَيَقْتَتِلُوْنَ، فَتُكَابُّهُمُ النَّصَارَى الَّذِيْنَ بِالشَّامِ وَيُخْبِرُوْنَهُمْ بِعَوْرَاتِ الْمُسْلِمِيْنَ، فَيَقُوْلُ الْمُسْلِمُوْنَ: الْحَقُوْا فَكُلُّكُمْ لِنِدٍّ عَدُوٍّ حَتَّىٰ يَقْضِيَ اللّٰهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، فَيَقْتَتِلُوْنَ شَهْرًا لَّا يَكِلُّ لَهُمْ سِلَاحٌ وَلَا لَكُمْ، يَقْذِفُ الطَّيْرُ عَلَيْكُمْ وَعَلَيْهِمْ. قَالَ: وَبَلَغَنَا أَنَّهُ إِذَا كَانَ رَأْسُ الشَّهْرِ قَالَ رَبُّكُمُ: الْيَوْمَ أَسُلُّ سَيْفِيْ، فَأَنْتَقِمُ مِنْ أَعْدَائِيْ، وَأَنْصُرُ أَوْلِيَائِيْ، فَيَقْتَتِلُوْنَ مَقْتَلَةً مَّا رُئِيَ مِثْلُهَا قَطُّ، حَتَّىٰ مَا تَسِيْرُ الْخَيْلُ إِلَّا عَلَى الْخَيْلِ، وَمَا يَسِيْرُ الرَّجُلُ إِلَّا عَلَى الرَّجُلِ، وَمَا يَجِدُوْنَ خَلْقًا يَّحُوْلُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُسْطَنْطِيْنِيَّةِ وَلَا رُوْمِيَّةَ. فَيَقُوْلُ أَمِيْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ: لَا غُلُوْلَ الْيَوْمَ، مَنْ أَخَذَ الْيَوْمَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ. قَالَ: فَيَأْخُذُوْنَ مَا يَخِفُّ عَلَيْهِمْ وَيَدَعُوْنَ مَا ثَقُلَ عَلَيْهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذٰلِكَ إِذْ جَاءَهُمْ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِيْ ذَرَارِيْكُمْ، فَيَرْفُضُوْنَ مَا فِيْ أَيْدِيْهِمْ وَيُقْبِلُوْنَ، وَيُصِيْبُ النَّاسَ مَجَاعَةٌ شَدِيْدَةٌ، حَتَّىٰ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرِقُ وَتَرَ قَوْسِهٖ فَيَأْكُلُهٗ، وَحَتَّىٰ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرِقُ حَجَفَتَهٗ فَيَأْكُلُهَا، حَتَّىٰ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُكَلِّمُ أَخَاهُ فَمَا يَسْمَعُهُ الصَّوْتَ مِنَ الْجَهْدِ. فَبَيْنَمَا هُمْ كَذٰلِكَ إِذْ سَمِعُوْا صَوْتًا مِّنَ السَّمَاءِ: أَبْشِرُوْا فَقَدْ أَتَاكُمُ الْغَوْثُ. فَيَقُوْلُوْنَ: نَزَلَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ. فَيَسْتَبْشِرُوْنَ وَيَسْتَبْشِرُ بِهِمْ. صَلِّ يَا رُوْحَ اللّٰهِ. فَيَقُوْلُ: إِنَّ اللّٰهَ أَكْرَمَ هٰذِهِ الْأُمَّةَ فَلَا يَنْبَغِيْ لِأَحَدٍ أَنْ يَّؤُمَّهُمْ إِلَّا مِنْهُمْ. فَيُصَلِّيْ أَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ بِالنَّاسِ. قِيْلَ: وَأَمِيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِيْ سُفْيَانَ؟ قَالَ: لَا، يُصَلِّيْ عِيْسَىٰ خَلْفَهٗ، فَإِذَا انْصَرَفَ عِيْسَىٰ دَعَا بِحَرْبَتِهٖ فَأَتَى الدَّجَّالَ فَقَالَ: رُوَيْدَكَ يَا دَجَّالُ، يَا كَذَّابُ. فَإِذَا رَأَى عِيْسَىٰ وَعَرَفَ صَوْتَهٗ ذَابَ كَمَا يَذُوْبُ الرَّصَاصُ إِذَا أَصَابَتْهُ النَّارُ، وَكَمَا تَذُوْبُ الْأَلْيَةُ إِذَا أَصَابَتْهَا الشَّمْسُ، وَلَوْلَا أَنَّهٗ يَقُوْلُ رُوَيْدًا لَذَابَ حَتَّىٰ لَا يَبْقَىٰ مِنْهُ شَيْءٌ. فَيَحْمِلُ عَلَيْهِ عِيْسَىٰ فَيَطْعَنُ بِحَرْبَتِهٖ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ فَيَقْتُلُهٗ وَيُفَرِّقُ جُنْدَهٗ تَحْتَ الْحِجَارَةِ وَالشَّجَرَةِ وَعَامَّةُ جُنْدِهِ الْيَهُوْدُ وَالْمُنَافِقُوْنَ، فَيُنَادِيْ الْحَجَرُ: يَا رُوْحَ اللّٰهِ، هٰذَا تَحْتِيْ كَافِرٌ فَاقْتُلْهُ. فَيَأْمُرُ عِيْسَىٰ بِالصَّلِيْبِ فَيُكْسَرُ وَبِالْخِنْزِيْرِ فَيُقْتَلُ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا حَتَّىٰ إِنَّ الذِّئْبَ لَيَرْبِضُ إِلَىٰ جَنْبِهٖ مَا يَغْمِزُ بِهَا، وَحَتَّىٰ إِنَّ الصِّبْيَانَ لَيَلْعَبُوْنَ بِالْحَيَّاتِ مَا تَنْهَشُهُمْ، وَيَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا. فَبَيْنَمَا هُمْ كَذٰلِكَ إِذْ سَمِعُوْا صَوْتًا قَالَ: فُتِحَتْ يَأْجُوْجُ وَمَأْجُوْجُ. وَهُوَ كَمَا قَالَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ: (وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ) فَيُفْسِدُوْنَ الْأَرْضَ كُلَّهَا حَتَّىٰ إِنَّ أَوَائِلَهُمْ لَيَأْتِيْ أَنْهَرَ الْعَجَاجِ فَيَشْرَبُوْنَهٗ كُلَّهٗ، وَإِنَّ آخِرَهُمْ لَيَقُوْلُ: قَدْ كَانَ هٰهُنَا نَهْرٌ. وَيُحَاصِرُوْنَ عِيْسَىٰ وَمَنْ مَّعَهٗ بَيْتَ الْمَقْدِسِ وَيَقُوْلُوْنَ: مَا نَعْلَمُ فِيْ الْأَرْضِ أَحَدًا إِلَّا ذَبَحْنَاهُ، هَلُمُّوْا نَرْمِيْ مَنْ فِيْ السَّمَاءِ. فَيَرْمُوْنَ حَتَّىٰ تَرْجِعَ إِلَيْهِمْ سِهَامُهُمْ فِيْ نُصُوْلِهَا الدَّمُ لِلْبَلَاءِ، فَيَقُوْلُوْنَ: مَا بَقِيَ فِيْ الْأَرْضِ وَلَا فِيْ السَّمَاءِ. فَيَقُوْلُ الْمُؤْمِنُوْنَ: يَا رُوْحَ اللّٰهِ، ادْعُ عَلَيْهِمْ بِالْفَنَاءِ. فَيَدْعُو اللّٰهَ عَلَيْهِمْ فَيَبْعَثُ النَّغَفَ فِيْ آذَانِهِمْ فَيَقْتُلُهُمْ فِيْ لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَتَنْتَنُ الْأَرْضُ كُلَّهَا مِنْ جِيَفِهِمْ فَيَقُوْلُوْنَ: يَا رُوْحَ اللّٰهِ، نَمُوْتُ مِنَ النَّتْنِ. فَيَدْعُو اللّٰهَ، فَيَبْعَثُ وَابِلًا مِّنَ الْمَطَرِ فَيَجْعَلُهٗ سَيْلًا، فَيَقْذِفُهُمْ كُلَّهُمْ فِيْ الْبَحْرِ. ثُمَّ يَسْمَعُوْنَ صَوْتًا فَيُقَالُ: مَهْ؟ قِيْلَ: غُزِيَ الْبَيْتُ الْحَصِيْنُ. فَيَبْعَثُوْنَ جَيْشًا فَيَجِدُوْنَ أَوَائِلَ ذٰلِكَ الْجَيْشِ، وَيُقْبَضُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَوَلِيَهُ الْمُسْلِمُوْنَ، وَغَسَّلُوْهُ وَحَنَّطُوْهُ وَكَفَّنُوْهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ وَحَفَرُوْا لَهٗ وَدَفَنُوْهُ. فَيَرْجِعُ أَوَائِلُ الْجَيْشِ وَالْمُسْلِمُوْنَ يَنْفُضُوْنَ أَيْدِيَهُمْ مِّنْ تُرَابِ قَبْرِهٖ، فَلَا يَلْبَثُوْنَ بَعْدَ ذٰلِكَ إِلَّا يَسِيْرًا حَتَّىٰ يَبْعَثَ اللّٰهُ الرِّيْحَ الْيَمَانِيَّةَ. قِيْلَ: وَمَا الرِّيْحُ الْيَمَانِيَّةُ؟ قَالَ: رِيْحٌ مِّنْ قِبَلِ الْيَمَنِ لَيْسَ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ يَّجِدُ نَسِيْمَهَا إِلَّا قُبِضَتْ رُوْحُهٗ. قَالَ: وَيُسْرَىٰ عَلَى الْقُرْآنِ فِيْ لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا يُتْرَكُ فِيْ صُدُوْرِ بَنِيْ آدَمَ وَلَا فِيْ بُيُوْتِهِمْ مِّنْهُ شَيْءٌ إِلَّا رَفَعَهُ اللّٰهُ. فَيَبْقَى النَّاسُ لَيْسَ فِيْهِمْ نَبِيٌّ وَلَيْسَ فِيْهِمْ قُرْآنٌ وَلَيْسَ فِيْهِمْ مُؤْمِنٌ. قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَمْرٍو: فَعِنْدَ ذٰلِكَ أُخْفِيَ عَلَيْنَا قِيَامُ السَّاعَةِ فَلَا نَدْرِيْ كَمْ يُتْرَكُوْنَ، كَذٰلِكَ تَكُوْنُ الصَّيْحَةُ. قَالَ: وَلَمْ تَكُنْ صَيْحَةٌ قَطُّ إِلَّا بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ عَلَىٰ أَهْلِ الْأَرْضِ. قَالَ: وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ: (وَمَا يَنْظُرُ هٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ) [ص: 15] قَالَ: فَلَا أَدْرِيْ كَمْ يُتْرَكُوْنَ كَذٰلِكَ (كر)
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ صحابۂ کرام اپنے بارے میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ ان سے قیامت کا وقت چھپا لیا گیا اور چھپانے والے حضور علیہ الصلاۃ والسلام ہیں۔ تو یہ چھپنا اس امر کی دین ہے کہ سرکار ﷺ کو قیامت کے برپا ہونے کے وقت کی خبر تھی مگر بتانے کا حکم نہ تھا اس لیے صحابۂ کرام سے چھپایا。
بخاری شریف کتاب الوضو میں حضرت اسما بنت ابو بکر سے حضور ﷺ نے فرمایا کوئی ایسی چیز نہیں جو میں نے اب سے پہلے نہ دیکھی تھی۔ مگر یہ کہ ان کو ایسے مقام پر دیکھا یہاں تک کہ جنت دوزخ کا مشاہدہ فرما لیا اور بے شک میری طرف وحی آتی ہے کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے فتنۂ دجال کے مثل یا اس کے قریب تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتے آئیں گے۔ تو پوچھا جائے گا اس شخص کے بارے میں (یعنی حضور کے بارے میں) تمھارا کیا علم ہے؟ تو مومن یا موقن (شکِ راوی) کہے گا کہ یہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس روشن نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے تو ہم نے ان کا کہا مانا اور ایمان لائے اور ان کی پیروی کی۔ تو اس سے کہا جائے گا سو جا بھلا چنگا۔ اس سے کہا جائے گا کہ ہمیں معلوم تھا بے شک تو مومن ہے اور منافق یا مرتاب (شکِ راوی) کہے گا میں نہیں جانتا میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے وہی کہا。
حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے جو نشانیاں بتائیں ان میں اکثر یا کل واقع ہو گئیں اور اکثر نشانیاں اس زمانے میں بھی پائی جاتی ہیں، اور جو نشانیاں رہ گئی ہیں تو وہ ضرور واقع ہوں گی۔
مصاحف کی تزئین اور مساجد کی آراستگی
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قربِ قیامت کی نشانیوں میں جو باتیں شمار کی گئیں وہ سب ناجائز و حرام نہیں ان میں کچھ وہ بھی ہیں جو جائز و مباح ہیں مثلاً مصحف شریف کو سونے چاندی سے مزین کرنا اور مسجد کو نقش و نگار سے آراستہ کرنا۔ امرِ مباح ہے، در مختار میں ہے:
وَجَازَ تَحْلِيَةُ الْمُصْحَفِ (أَيْ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ) لِمَا فِيْهِ مِنْ تَعْظِيْمِهٖ كَمَا فِيْ نَقْشِ الْمَسْجِدِ. [ج: 6، ص: 386،]
اور اس پر یعنی مسجد کے نقش و نگار کے جواز پر خود حدیث ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما شاہد ہے کہ فرمایا تم ضرور مسجدوں کو منقش کرو گے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے اس امر کی ممانعت نقل نہ فرمائی۔ خود عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل اس جواز پر شاہدِ عدل ہے۔
بخاری شریف میں ہے کہ مسجد حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں کچی اینٹ کی بنی تھی اور اس کی چھت کھجور کے پتوں کی تھی اور ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں کچھ زیادہ نہ کیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں توسیع فرمائی اور اس کو اسی طور پر بنائی، اینٹ اور کھجور کے پتوں سے جیسی حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں تھی اور اس کے ستون لکڑی کے اسی طور پر رکھے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی بہت توسیع کی اور پھس کی دیوار کو منقش پتھر اور چونے سے بنائی اور اس کے ستون نقشین پتھر کے بنائے اور بیش قیمت لکڑی کی چھت بنائی۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ ہر نئی بات جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھی ناجائز نہیں بلکہ یہ (بدعت) کبھی واجب ہوتی ہے جیسے گمراہوں کے رد کے لیے دلائل قائم کرنا۔ اور کتاب و سنت کو سمجھنے کے لیے نحو و صرف وغیرہ مبادی کو سیکھنا۔ اور کبھی مستحب ہوتی ہے جیسے سرائے اور مدرسے بنانا اور ہر وہ نیکی جو صدرِ اول میں نہ تھی، اور کبھی مکروہ ہوتی ہے جیسے ایک قول پر مسجد کا نقش و نگار، اور کبھی مباح ہوتی ہے جیسے لذیذ کھانے، کپڑے کما فی رد المحتار۔
اور ضابطہ یہ ہے کہ جس چیز سے اللہ و رسول جل وعلا ﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمایا وہ ممنوع و ناجائز ہے اور جس سے منع نہ فرمایا وہ ممنوع نہیں بلکہ منع ہے اور اشیا میں اصل اباحت ہے۔
اور مہینے گھٹ جائیں
مجمع البحار الانوار میں ہے کہ اہلِ ہیت نے کہا کہ دائرۃ البروج دائرہ معدل النہار پر مستقبل میں منطبق ہو جائے گا۔ توضیح اس مقام کی یہ ہے کہ قطبِ شمالی اور قطبِ جنوبی کے درمیان ایک دائرۂ عظیمہ مانع کیا ہے، جس کا فاصلہ دونوں قطبوں سے برابر ہے یعنی وہ دائرۂ عظیمہ قطبِ شمالی سے ۹۰ درجے پر ہے اور قطبِ جنوبی سے بھی ۹۰ درجے پر ہے اسی دائرۂ عظیمہ کا نام دائرہ معدل النہار ہے۔ ۲۱ مارچ اور ۲۳ ستمبر کو آفتاب دائرہ معدل النہار پر حرکت کرتا ہے اور ۲۲ جون کو آفتاب جس نقطے سے طلوع کرتا ہے اس نقطے سے ۲۳ درجہ ۲۷ دقیقہ جنوب میں معدل النہار ہے۔ یوں ہی ۲۲ جون کو جس نقطے پر آفتاب غروب کرتا ہے اس نقطے سے بھی ۲۳ درجہ ۲۷ دقیقہ جنوب میں معدل النہار ہے، اور ۲۲ دسمبر کو آفتاب جس نقطے سے طلوع کرتا ہے اس نقطے سے ۲۳ درجہ ۲۷ دقیقہ شمال میں معدل النہار ہے۔ یوں ہی ۲۲ دسمبر کو جس نقطے پر آفتاب غروب کرتا ہے اس نقطے سے بھی ۲۳ درجہ ۲۷ دقیقہ شمال میں معدل النہار ہے یعنی ۲۲ جون اور ۲۲ دسمبر کے مطلع کے بین وسط میں معدل النہار ہے یوں ہی ۲۲ جون اور ۲۲ دسمبر کے مقطع کے جانبِ غروب کے بیچ و بیچ معدل النہار ہے۔
اس کو معدل النہار اس لیے کہا جاتا ہے کہ سورج جب اس دائرے کے سیدھ میں آتا ہے تو تمام مقامات میں دن رات تقریباً برابر ہوتے ہیں۔ جو دائرہ معدل النہار کو اس طرح قطع کرتا ہے کہ دونوں کے قطبوں میں ۲۳ درجہ ۲۷ دقیقہ فاصل رہتا ہے اسی دائرۂ عظیمہ کو دائرۃ البروج یا منطقۃ البروج کہتے ہیں۔ اس دائرے سے ستاروں کی حرکات کی مقدار طول اور میلِ شمس معلوم ہوتا ہے یہاں سے معلوم ہوا کہ جب تک یہ دائرۂ عظیمہ دائرہ معدل النہار کو اس طور پر کاٹتا ہوا چلے گا کہ مندرجہ بالا فاصلہ دونوں میں قائم رہے اور جب تک حرکتِ شمس معمول کے مطابق رہے۔
تفسیرِ کبیر میں امام رازی علیہ الرحمہ نے إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ کی تفسیر میں ایک قول یہ نقل کیا کہ:
أُلْقِيَتْ وَرُمِيَتْ عَنِ الْفَلَكِ
یعنی جب سورج فلک سے نیچے ڈال دیا جائے۔ اس سے اس قول کی تائید اور حدیث کی تصدیق مستفاد ہوتی ہے اور اس صورت میں خود آیتِ کریمہ سے مضمونِ حدیث کی تصدیق ثابت۔ اور حدیث کا مضمون مفہومِ آیت کا بیان ہے کہ سورج جب اپنے مدار سے نیچے جو زمین سے کروڑوں میل اوپر ہے، اپنے مدار سے نیچے پھینکا جائے گا تو لامحالہ اس کا دائرہ چھوٹا ہوتا جائے گا اور نیچے آنے کے سبب اس کی حرکت تیز ہو جائے گی، تو مسافت بھی کم اور حرکت بھی شمس تیز ہوگی لہٰذا بدایۃً زمانے کی مقدار گھٹ جائے گی، حضرت ابو ہریرہ سے حدیث مروی ہے کہ جب قیامت قریب ہوگی زمانہ قریب ہو جائے گا (تھوڑا رہ جائے گا) تو سال مہینے کی طرح اور مہینے جمعہ کی طرح اور جمعہ کی مدت اتنی ہوگی جتنی دیر میں کھجور کی ٹہنی آگ میں جل جلے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ تَقَارَبَ الزَّمَانُ، فَتَكُوْنُ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، كَاحْتِرَاقِ السَّعْفَةِ فِيْ النَّارِ“ [کنز العمال، ج: 14، ص: 227،]
سال اور مہینہ وغیرہ کی مقدار قائم رہے گی اور یہ فاصلہ جتنا کم ہوتا جائے گا اس کے نتیجے میں دائرۃ البروج دائرہ معدل النہار سے بتدریج نزدیک ہوتا جائے گا اور زمانے کی مقدار گھٹتی جائے گی یہاں سے ظاہر ہوا کہ یہ جو فرمایا گیا کہ مہینے گھٹ جائیں گے اپنے ظاہری معنی پر ہے اور کوئی وجہ حقیقی معنی سے مانع نہیں تو وہی حقیقتاً مراد ہے اور حدیث جو آخر میں ذکر کی گئی وہ فقرۂ حدیث سے فقرۂ مذکورہ کی تفسیر ہے۔ وللہ الحمد۔
(جاری...)
[ماہنامہ سنی دنیا، مارچ، اپریل ۲۰۰۵ء]
