Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قیامت کی نشانیاں احادیث کی روشنی میں (قسط: سوم)

قیامت کی نشانیاں احادیث کی روشنی میں (قسط: سوم)
عنوان: قیامت کی نشانیاں احادیث کی روشنی میں (قسط: سوم)
تحریر: حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری علیہ الرحمہ
پیش کش: بشیر مدنی

عورتیں ترکی گھوڑوں پر سوار ہوں گی

یعنی فخر و مباہات کے طور پر مردوں سے مشابہت اختیار کریں، چناں چہ متصلاً فرمایا گیا ”اور عورتیں مردوں سے مشابہت الخ“ تو یہ قرینۂ مقارنہ سابقہ کا بیان ہے۔ بناء بریں اس میں افادۂ عموم ہے یعنی خاص شہ سواری ہی نہیں بلکہ اور بھی مردانہ اطوار اپنائیں گی اور مستحقِ ذنب ہوں گی۔ اور عورتیں مردوں اور مرد عورتوں سے مشابہت کریں۔

یعنی یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اور یہ نشانی واقع ہو چکی اور زمانۂ حال میں بکثرت اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ اور یہ شرعاً ممنوع ہے۔

چین کی گھڑی عورتوں سے مشابہت

مسند امام احمد ج: ۱، ص: ۳۳۹ پر ہے:
لَعَنَ اللّٰهُ الْمُتَشَبِّهِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.
یعنی اللہ کی لعنت ہے ان لوگوں پر جو عورتوں کی وضع اختیار کریں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی وضع اختیار کریں۔

عورتوں اور مردوں نے بہت طریقے ایک دوسرے سے مشابہت کے اختیار کر لیے ہیں، انھی میں سے یہ مروجہ چین کی گھڑی ہے جسے عام طور پر مردوں میں پہننے کا رواج ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ بہت سارے امام، مولوی اور مفتی بھی بے دریغ اس کو پہنے ہوئے نظر آتے ہیں، یہ قطعاً زینتِ ممنوعہ اور تجلی ناجائز ہے۔ اس کا جواز اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کے کلمات سے بتایا جا رہا ہے حالاں کہ ان کے کلمات سے ہرگز اس کا جواز ثابت نہیں ہوتا。

اولاً:- تو یہ چین جو ہاتھ میں پہنی جاتی ہے، ان (اعلیٰ حضرت) کے زمانے میں تھی ہی نہیں۔

ثانیاً:- جس چین پر اس کو قیاس کیا جا رہا ہے اس کے تعلق سے اعلیٰ حضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی قدس سرہ متعدد جگہ جو کچھ فرماتے ہیں اس سے اس کی صاف حرمت مستفاد ہوتی ہے۔

اعلیٰ حضرت سے یہ سوال ہوا کہ ”فی زماننا کرتوں اور صدریوں میں چاندی کے بوٹام مع زنجیر لگاتے ہیں جائز ہے یا نہیں، الیٰ آخرہ“ اس کے جواب میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ”چاندی کے صرف بوٹام ٹانکنے میں حرج نہیں کہ کتبِ فقہ میں سونے کی گھنڈیوں کی اجازت مصرح ....... مگر یہ چاندی کی زنجیریں کہ بوٹاموں کے ساتھ لگائی جاتی ہیں سخت محلِ نظر ہیں۔ کلماتِ ائمہ سے جب تک ان کے جواز کی دلیلِ واضح کہ آفتابِ روشن کی طرح ظاہر و جلی ہو، نہ ملے حکمِ جواز دینا محض جرات ہے کہ چاندی سونے کے استعمال میں اصل حرمت ہے۔ شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ ”اشعة اللمعات شرح مشكوة“ میں فرماتے ہیں: اصل در استعمال ذہب و فضہ حرمت است، یعنی جب شرعِ مطہر نے حکمِ تحریم فرما کر ان کی اباحتِ اصلیہ کو نسخ کر دیا تو اب ان میں اصل حرمت ہو گئی کہ جب تک کسی خاص چیز کی رخصت شرع سے واضح و آشکار نہ ہو ہرگز اجازت نہ دی جائے گی بلکہ مطلق تحریم کے تحت میں داخل رہے گی، هٰذا وَجْهٌ وَأَقُوْلُ! ثَانِيًا ظاہر ہے کہ ان زنجیروں کے اس طرح لگانے سے تزئین مقصود ہوتا ہے، بلکہ تزئین ہی مقصود ہوتا ہے، اور ایسے ہی تزئین کو تجلی کہتے ہیں، علما تصریح فرماتے ہیں: مرد کو سوا انگوٹھی، چینی اور تلوار کے سامان مثل پرتلے وغیرہ کے چاندی سے تجلی کسی طرح جائز نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۹، ص: ۳۴،]

نیز اسی کے صفحہ نمبر ۲۹۸ / ۲۹۹ پر فرماتے ہیں ”زنجیروں کے لیے نہ زر (بٹن) کی طرح کوئی نص فقیر نے پایا نہ جواز پر کوئی صاف دلیل بلکہ وہ بظاہر مقصود بنفسہا ہیں، نہ زر کی طرح کپڑے کی کوئی غرض ان سے متعلق، نہ علم کی طرح ثوب میں مستہلک کے تابعِ ثوب ٹھہریں، نہ ان سے سنگار اور زینت کے سوا کوئی فائدہ مقصود اور وہ زیورِ زنان سے کمال مشابہ ہیں۔

ان کی ہیئت و حالت بالکل سہاروں کی سی ہے کہ ایک طرف ان کے کنڈوں میں بالیاں پرو کر ان کو دونوں جانب سے پیشانی کے بالوں پر لا کر کانٹا ڈال کر ملا دیتے ہیں، وہ بھی ان زنجیروں کی طرح لڑیاں ہی ہیں بلکہ ان سے علاوہ تزئین ایک فائدہ بھی مقصود ہوتا ہے کہ بالیوں کا بوجھ کانوں پر نہ پڑے، یہ انھیں اٹھا کر سہارا دیتے رہیں، اسی لیے ان کو سہارے کہتے ہیں اور ان زنجیروں کی لڑیاں سوا زینت کے کوئی فائدہ نہیں دیتیں تو بہ نسبت سہاروں کے ان کی لڑیاں جھومر کی لڑیوں سے اشبہ ہیں اور سہاروں کی طرح یہ بھی داخلِ ملبوس ہیں، بلکہ ان کا صرف زینت کے لیے بالذات مقصود اور کپڑے کی اغراض سے محض بے تعلق و نامستہلک ہونا جھومر کی طرح ان کے اور بھی زیادہ لبسِ مستقل کا مقتضی ہے الیٰ آخرہ“۔

یہاں سے ظاہر ہوا کہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت قدس سرہ کے زمانے میں جو جیبی گھڑی کی چین رائج تھی۔ جسے کرتے صدری وغیرہ میں لگا کر گھڑی جیب میں رکھتے تھے، ان کے نزدیک اس کا بھی وہی حکم ہے جو زیور کا ہے، تو یہ چیز جو دستی گھڑی میں لگائی جاتی ہے بدرجۂ اولیٰ زیور ہے اور اس کے پہننے سے تجلی و زیبائش مقصود ہونا ظاہر تر ہے۔ لہٰذا اس کی حرمت اظہر اور اس میں عورتوں سے تشبہ باہر و روشن تر۔ وہاں پہننے سے مشابہ ہونے کی وجہ سے حکمِ حرمت دیا تو یہاں پہننے میں کوئی شبہ ہی نہیں تو یہاں خالص حرمت ہے نہ کہ شبہ حرمت۔ جس کے بارے میں فرمایا کہ ”محرمات میں شبہ مثلِ یقین ہے تو اس میں چیز کی حرمت بہ نسبت زنجیر کے خوب آشکار ہے“۔

یہاں سے مجوزین کے قیاس کی حالت ظاہر ہو گئی، ہماری دانست میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت قدس سرہ کے کلمات میں نہ تعارض ہے، نہ ان کے کسی فتویٰ سے اس چیز یا اس زنجیر کا جواز نکلتا ہے۔ بالفرض اگر صورتِ تعارض ہو بھی تو رجوع ان تصریحات کی طرف لازم ہے کہ خود قوی اور شبہ سے صاف ہے، اور جس کلمہ سے اس کا خلاف متوہم ہو اس کی تاویل لازم ہے اور اس طرح تطبیق دینا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر ”الطیب الوجیز“ میں علامہ شامی کی اس بحث کے پیشِ نظر کہ یہ وضع لبس ہے یا محض تعلیق زنجیر۔ اعلیٰ حضرت نے یہ فرما دیا کہ ”احتراز اولیٰ ہے یا اس سے بچنا چاہیے“ تو تاویل اسی کلمہ توہم جواز کی ضروری ہے تاکہ دوسرے فتاویٰ سے تعارض لازم نہ آئے بسا اوقات ”اولیٰ“ یا اس کے ہم معنی لفظ کا اطلاق ”واجب“ پر کرتے ہیں، چناں چہ ”عنایة“ ج: ۱، ص: ۲۴۲ پر ہے:

وَكَذٰلِكَ إِنْ صَلَّىٰ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُوْنَ وَيُنْصِتُوْنَ سَأَلَ أَبُوْ يُوْسُفَ أَبَا حَنِيْفَةَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ إِذَا ذَكَرَ الْإِمَامُ هَلْ يَذْكُرُوْنَ وَيُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَّسْتَمِعُوْا وَيُنْصِتُوْا وَلَمْ يَقُلْ لَا يَذْكُرُوْنَ وَلَا يُصَلُّوْنَ فَقَدْ أَحْسَنَ فِيْ الْعِبَارَةِ وَاحْتَشَمَ مِنْ أَنْ يَّقُوْلَ لَا يَذْكُرُوْنَ وَلَا يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا كَانَ الِاسْتِمَاعُ وَالْإِنْصَاتُ أَحَبَّ لِأَنَّ ذِكْرَ اللّٰهِ وَالصَّلَاةَ عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيْسَ بِفَرْضٍ وَاسْتِمَاعُ الْخُطْبَةِ فَرْضٌ.

یوں ہی اگر خطیب نبی علیہ الصلاۃ والسلام پر درود پڑھے تو لوگوں کو سننا اور چپ رہنا لازم ہے، امام ابو یوسف نے امام اعظم سے پوچھا امام اگر ذکر کرے کیا مقتدی بھی ذکر کریں اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام پر درود بھیجیں، امام اعظم نے فرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ وہ لوگ خطبہ سنیں اور خاموش رہیں اور امام اعظم نے یہ نہ کہا کہ ذکر نہ کریں اور درود نہ بھیجیں، تو اس طرح تعبیر میں حسنِ اسلوب سے کام لیا اور یہ کہنے سے بچے کہ ذکر نہ کریں اور درود نہ بھیجیں اور سننا اور خاموش رہنا اس لیے پسندیدہ ٹھہرا کہ اللہ کا ذکر اور نبی علیہ السلام پر درود بھیجنا فرض نہیں اور خطبے کا سننا فرض ہے۔

ایامِ عشرہ میں ان رنگوں سے پرہیز کریں

نیز جوہرہ نیرہ ج: ۲، ص: ۲۶۰ پر ہے:
وَيَنْبَغِيْ أَنْ يَّكُوْنَ قَدْرُ فِضَّةِ الْخَاتَمِ مِثْقَالًا وَلَا يُزَادُ عَلَيْهِ وَقِيْلَ لَا يَبْلُغُ بِهِ الْمِثْقَالَ.
یعنی انگوٹھی کی چاندی کی مقدار ایک مثقال ہونا چاہیے اور اس سے زیادہ کرنا منع ہے اور ایک قول یہ ہے کہ چاندی کی مقدار پوری ایک مثقال نہ کرے۔

اس جگہ بھی ”يَجِبُ“ کی جگہ ”يَنْبَغِيْ“ فرمایا یجب (واجب) کی جگہ ینبغی (چاہیے) فرمایا: خود فتاویٰ رضویہ میں اس کی نظیر یہ ارشاد ہے عشرۂ محرم میں تین رنگوں کی بابت فرماتے ہیں:

”مسلمان کو چاہیے عشرۂ مبارکہ میں تین رنگوں سے بچے سبز، سرخ، سیاہ، سبز کی وجہیں تو معلوم ہو گئیں اور سرخ آج کل ناصبی خبیث خوشی کی نیت سے پہنتے ہیں۔ سیاہ میں اودا نیلا کاسنی، سبز میں کاہی، دھانی، سرخ میں گلابی، عنابی نارنجی سب داخل ہیں، غرض جس پر ان میں کوئی رنگ صادق آئے اگر سوگ یا خوشی کی نیت سے پہنے جب تو خود ہی حرام ہے ورنہ ان کی مشابہت سے بچنا بہتر، الیٰ آخرہ۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۹، ص: ۳۰۱،]

یہاں بہتر اور حرام کے تقابل سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر سوگ یا خوشی کی نیت نہ ہو تو ان کپڑوں کو پہننا جائز بلکہ اچھا اور بہتر ہے۔ حالاں کہ سیاقِ کلام سے یہ معنی کس قدر بیگانہ ہے، یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں تو قطعاً یہاں بہتر معنی تفضل پر نہیں، نہ محض مستحب کے معنی میں ہے اور یہاں عبارت میں لفظ ”چاہیے“ بھی محض مستحب کے معنی میں نہیں کہ مقابل واجب قرار پائے بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر یہ نیت نہ بھی ہو جب بھی ان کی مشابہت سے بچنا اولیٰ و اوجب ہے، تو یہاں بھی لفظ ”چاہیے“ اور بہتر ”واجب“ کی جگہ استعمال ہوا ہے، اس لیے پہلے یہ کہا ”عشرۂ محرم کے سبز رنگے ہوئے کپڑے بھی ناجائز ہیں یہ بھی سوگ کی غرض سے ہیں الیٰ آخرہ“ [9 / 300]

شاید ایک وجہ اس جیبی گھڑی کی زنجیر کے جواز کی ممکن ہے اس صورت میں جب کہ وہ چیز چاندی و سونے کے علاوہ کسی اور دھات کی ہو، اور اس سے تجلی، زیبائش و نمائش مقصود نہ ہو بلکہ گھڑی کی حفاظت کے لیے کپڑے میں چھپا کر لگائی جائے، یہ صورت اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے کلمات سے اگر اس چیز کے جواز کا ایہام ہوتا ہے تو اس کا محمل یہی صورت ہے، اور اسی صورت پر ان کے کلمات کو محمول کرنے سے ان کے فتاویٰ میں تعارض کا وہم مندفع ہو جاتا ہے۔ مگر یہ صورت جیبی گھڑی کی چین میں نہیں۔ تو اس پر قیاس درست نہیں کہ دونوں صورتیں جدا گانہ ہیں۔ (جاری.....)

[ماہنامہ سنی دنیا، مارچ، اپریل ۲۰۰۵ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!