| عنوان: | قرآن مجید میں مذکور پرندے |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | مظفر حسین شیرانی |
قرآن مجید میں مذکور پرندے
سلویٰ (بٹیر)
وَاَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى۔
اور ہم نے (اے بنی اسرائیل!) تم پر من اور سلویٰ اتارا۔ [البقرۃ: 57]
یہی بات کچھ دیگر سورتوں اور آیتوں میں بھی کہی گئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی دعا کی برکت سے اللہ رب العزت نے قوم بنی اسرائیل کے لیے جنتی غذائیں من و سلویٰ نازل فرمائیں۔ من اور سلویٰ کس نوع کی غذائیں تھیں؟ ان کی تفسیر میں بہت ساری باتیں کہی گئی ہیں۔ من کے متعلق ترجیح یافتہ قول یہ ہے کہ یہ ترنجبین کی طرح ایک میٹھی چیز تھی اور سلویٰ کے بارے میں زیادہ صحیح یہ مانا گیا ہے کہ وہ ایک چھوٹا پرندہ تھا۔ پھر اس پرندے کی تعیین شخصی کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، ازاں جملہ ایک قول یہ ہے کہ یہ بٹیر یا بٹیر کی قسم کا ایک پرندہ تھا لیکن یہ خیال رہنا چاہیے کہ اس بابت کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔ بٹیر (Quail) کے متعلق معلومات عامہ اور اس کے خصائص و امتیازات کو یوں بیان کیا جاتا ہے:
- بٹیر ایک چھوٹے قد کا پرندہ ہے، جو جنگلوں، کھیتوں، گھاس کے میدانوں، اور جھاڑیوں میں پایا جاتا ہے۔
- عہد حاضر میں بٹیر کی فارمنگ ایک منافع بخش اور تیزی سے ترقی کرنے والا کاروبار ہے، کیوں کہ یہ جلد بالغ ہو کر انڈے دینے والا پرندہ ہے اور اس کی افزائش کے لیے جگہ اور وسائل بھی کم درکار ہوتے ہیں۔
- بٹیر کی مختلف اقسام مختلف خطوں کی آب و ہوا کے مطابق ڈھل جاتی ہیں، جو انھیں فارمنگ کے لیے موزوں بناتی ہیں۔
- بٹیر سال میں کئی بار انڈے دیتے ہیں، ہر بار 5-12 انڈے دے سکتے ہیں اور عام طور پر 16-18 دن کے اندر اس کے انڈے نکل آتے ہیں۔
- اس کے انڈے سائز میں چھوٹے مگر غذائیت سے بھرپور اور مرغی کے انڈوں سے زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں، جن میں پروٹین، وٹامن B12، اور دیگر معدنیات شامل ہیں۔
- بٹیر کے گوشت میں پروٹین کی مقدار زیادہ اور چکنائی کم ہوتی ہے، جو دل اور دماغ کی بیماریوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
- بٹیر کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں جیسے یوریشین بٹیر، جاپانی بٹیر، افریقی بٹیر، اور امریکی بٹیر۔
- بٹیر کی خوراک میں بیج، کیڑے مکوڑے، پتے، اور چھوٹے پھل شامل ہوتے ہیں۔
- بٹیر کے رہنے کی جگہ عموماً زمین پر ہوتی ہے، اور یہ جھاڑیوں یا گھاس میں چھپ کر گھونسلہ بناتے ہیں۔
- خطرے کی صورت میں زمین پر دبک جانے کی عادت انھیں شکاریوں سے بچاتی ہے۔
- بٹیر کی زندگی کا دورانیہ جنگل میں 2-3 سال اور قید میں 3-5 سال ہوتا ہے۔
- بٹیر بازی ایک دیہی کھیل ہے، جس میں بٹیر لڑانے کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور کچھ ممالک میں اس پر پابندیاں بھی ہیں۔
- بٹیر کے انڈے اور گوشت انسانی صحت کے لیے مفید ہیں اور دماغی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں۔
- بٹیر کے گھونسلے عام طور پر زمین پر پتوں یا گھاس میں بنائے جاتے ہیں۔
- بٹیر کی اڑان بہت تیز ہوتی ہے لیکن یہ زیادہ لمبی پرواز نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے یہ شکاریوں کے لیے چیلنج پیدا کرتے ہیں۔
- یہ عموماً صبح اور شام کے وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور دن کے باقی حصے میں زمین پر چھپے رہتے ہیں۔
- بٹیر کا شور نرم اور موسیقیت بھرا ہوتا ہے، جو ان کی پہچان میں مدد دیتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پرندے
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے خلیل اور محبوب ترین بندے ہیں، انھوں نے ایک موقع پر اپنے رب سے عرض کیا:
رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰىؕ-قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ-قَالَ بَلٰى وَ لٰـكِنْ لِّیَطْمَىٕنَّ قَلْبِیْؕ-قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًاؕ-وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠۔
اے رب میرے مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے جِلائے گا، فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں؟ عرض کی یقین کیوں نہیں! مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آ جائے۔ فرمایا: چار پرندے لے کر اپنے ساتھ مانوس کر، پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے، پھر انھیں بلا وہ پاؤں سے دوڑتے ہوئے تیرے پاس چلے آئیں گے اور یقین رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔ [البقرۃ: 260]
زیادہ تر تفاسیر کے مطابق وہ چار پرندے مرغ، مور، کبوتر، اور کوّا تھے۔ ان چاروں میں سے کوے کا ذکر پیچھے ”غراب“ کے زمرے میں گزر چکا ہے، مرغ، مور اور کبوتر کے خواص یہ ہیں:
مرغ (Chicken)
مرغ دنیا کے مشہور ترین اور عام پالتو پرندوں میں شامل ہے، جو اپنی گوشت، انڈوں، اور مختلف خصوصیات کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں حروفِ ابجد کی ترتیب میں مرغ کے بارے میں معلومات پیش کی جا رہی ہیں:
- مرغ ایک گھریلو پرندہ ہے، جو تقریباً تمام دنیا میں پالا جاتا ہے۔
- مرغ کی فارمنگ گوشت اور انڈے کی پیداوار کے لیے کی جاتی ہے، جو عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
- مرغ کے انڈے پروٹین، وٹامن ڈی، اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں اور اس کا چھلکا کیلشیم کا اہم ذریعہ ہوتا ہے جو کھاد کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔
- مرغ کی خوراک میں دانے، سبزیاں، اور پروٹین شامل کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی صحت بہتر ہو۔ ویسے وہ از خود عموماً چھوٹے کیڑے مکوڑے، دانے، اور کھانے کے دیگر ذرات کھاتے ہیں۔
- مرغ کا گوشت نرم، لذیذ اور آسانی سے ہضم ہونے والا ہوتا ہے، جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ اور چکنائی کم ہوتی ہے، جو صحت کے لیے مفید ہے۔
- مرغ کی کئی نسلیں ہیں، جن میں لیئر (انڈے دینے والے) اور بروئلر (گوشت کے لیے) مشہور ہیں۔
- مرغ کی انڈے دینے کی صلاحیت سالانہ 200-300 انڈے تک ہو سکتی ہے، خاص طور پر لیئر نسل میں۔ عام طور پر اس کے انڈوں سے 21 دن میں بچے نکل آتے ہیں۔
- مرغ کو عام طور پر 6-8 ہفتوں میں ذبح کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، خاص طور پر بروئلر نسل میں۔
- مرغ کی آواز (بانگ دینا) دن کے آغاز کا پتہ دیتی ہے اور کئی دیہی علاقوں میں گھڑی کا کام دیتی ہے جبکہ اس کی بانگ مختلف حالات میں خطرہ بتانے، یا اپنے علاقے کے دفاع کے لیے بھی ہوتی ہے۔
- مرغ کے پروں کا رنگ مختلف نسلوں کے لحاظ سے سفید، کالا، یا رنگین ہو سکتا ہے۔
- مرغ میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت کے لیے ویکسین اور حفاظتی تدابیر ضروری ہوتی ہیں۔
- مرغ کے پنجے زمین کھودنے کے لیے مضبوط ہوتے ہیں، جس سے وہ خوراک تلاش کرتے ہیں۔
- مرغ کی فارمنگ دنیا بھر میں غذائی قلت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
- مرغ کی بیماریوں میں برڈ فلو اور نیوکاسل جیسی بیماریاں عام ہیں، جن سے بچاؤ کے لیے ویکسین دی جاتی ہے۔
- مرغ کی فارمنگ میں حیاتیاتی فضلہ (Biowaste) کھاد اور توانائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- مرغ ایک سماجی پرندہ ہے جو اپنے گروہ کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے۔
- مرغ کا گوشت دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا گوشت ہے۔
مور (Peacock)
مور ایک خوب صورت اور دلکش پرندہ ہے، جو اپنی رنگین دم اور مخصوص خوب صورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ مور کے بارے میں حروفِ ابجد کی ترتیب میں معلومات درج ذیل ہیں:
- مور دنیا کے خوب صورت ترین پرندوں میں شمار ہوتا ہے اور اپنی رنگین دم کے لیے مشہور ہے۔
- مور کی دم میں رنگین پر ہوتے ہیں، جن پر خوب صورت دھاری دار نقش و نگار ہوتے ہیں، جو اسے منفرد بناتے ہیں۔
- مور کا نر ”مور“ اور مادہ ”مورنی“ کہلاتی ہے، جبکہ مورنی کی دم چھوٹی اور کم رنگین ہوتی ہے۔
- مور کی خوراک میں دانے، پھل، بیج، اور کیڑے مکوڑے شامل ہیں۔
- مور بارش کے موسم میں اپنے خوب صورت پروں کو پھیلانے اور ناچنے کے لیے مشہور ہیں، جو قدرت کے حسن کو مزید نکھارتے ہیں۔
- مور کی نسل ”پاوو کرسٹیٹس“ (Pavo cristatus) ہے، جو ہندوستانی مور کے لیے مخصوص ہے۔
- مور عموماً جنگلوں، باغات، اور کھلی جگہوں میں رہتے ہیں، جہاں انھیں خوراک اور حفاظت میسر ہوتی ہے۔
- مور کی آواز تیز اور مخصوص ہوتی ہے، جو اکثر خطرے یا اپنے ساتھی کو بلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
- مورنی زمین پر گھاس یا پتوں کے درمیان عموماً 3-5 انڈے دیتی ہے، جو 28 دن میں نکلتے ہیں، اس دوران وہ ان کی حفاظت کرتی ہے۔
- مور کی دم میں تقریباً 200 لمبے پر ہوتے ہیں، جو اسے ناچتے وقت کھولنے میں مدد دیتے ہیں۔
- مورنی کی رنگت نر کے مقابلے مدھم ہوتی ہے تاکہ وہ گھونسلہ بناتے وقت شکاریوں سے محفوظ رہے۔
- مور کی عمر 15-20 سال تک ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ محفوظ ماحول میں رہیں۔
- مور کے پر دنیا بھر میں آرائش کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
- مور کے رہنے کی جگہ عموماً درختوں پر ہوتی ہے، لیکن وہ زمین پر بھی چہل قدمی کرتے ہیں۔
- نر مور اپنی دم کے ذریعے مادہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو تولیدی عمل کا اہم حصہ ہے۔
- مور کو اکثر باغات اور جنگلوں کی خوب صورتی بڑھانے کے لیے پالا جاتا ہے۔
- مور کو قدیم ہندوستانی، ایرانی، اور یونانی تہذیبوں میں اہمیت حاصل ہے اور وہ وہاں کے فنون میں بھی نمایاں ہیں جبکہ یہ بھارت میں قومی پرندے کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔
- مور کا ناچ قدرت کے حسن کا ایک شاندار مظہر ہے، جو انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔
- مور عموماً صبح اور شام کے وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور دن کے وقت آرام کرتے ہیں۔
کبوتر (Pigeon)
- کبوتر ایک پُر امن اور خوب صورت پرندہ ہے جو دنیا کے تقریباً ہر خطے میں پایا جاتا ہے اور انسانوں کے قریب رہنا پسند کرتا ہے۔
- کبوتر کی پرواز کی رفتار 60-70 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے، اور یہ 360 ڈگری دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- کبوتروں کی اوسط عمر 5-15 سال ہوتی ہے، لیکن اگر ان کی دیکھ بھال بہتر طریقے سے کی جائے تو یہ 20 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
- کبوتروں کی مختلف اقسام ہیں، جن میں ”ریسنگ ہومر“ پیغام رسانی کے لیے اور ”فینٹیل“ اپنی خوب صورت دُم کے لیے مشہور ہیں۔
- کبوتر کی خوراک میں بیج، اناج، پھل، اور سبزیاں شامل ہیں، اور یہ صاف پانی کے بغیر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے۔
- کبوتر اپنی وفاداری کے لیے مشہور ہیں اور ایک بار جوڑا بنانے کے بعد زندگی بھر اپنے ساتھی کے ساتھ رہتے ہیں۔
- کبوتروں کے اندر راستہ پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے، جو انھیں اپنے گھونسلے تک سینکڑوں میل دور سے واپس لانے میں مدد کرتی ہے۔
- غارِ ثور کے واقعے میں کبوتر کا ذکر آتا ہے، جس نے غار کے منہ پر گھونسلہ بنا کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفاداری نبھائی۔
- قدیم زمانے میں کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، خاص طور پر جنگوں میں۔
- کبوتروں کے دشمنوں میں شکاری پرندے، بلّیاں، اور دیگر شکاری شامل ہیں، لیکن یہ اونچی جگہوں پر گھونسلے بنا کر ان خطرات سے بچتے ہیں۔
- کبوتروں کی افزائش نسل تیز ہوتی ہے، مادہ کبوتر عموماً دو انڈے دیتی ہے، اور انڈے تقریباً 18 دن میں بچے بن جاتے ہیں۔
- نر اور مادہ دونوں اپنے بچوں کو دودھ جیسا خاص مادہ (crop milk) کھلاتے ہیں، جو ان کی ابتدائی نشو و نما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
- کبوتروں کی دم اور پر نہایت مضبوط ہوتے ہیں، جو انھیں ہوا میں توازن برقرار رکھنے اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
- کبوتروں کے اندر سماجی فطرت پائی جاتی ہے، اس لیے یہ گروہوں میں رہنا پسند کرتے ہیں اور تنہائی میں جلد بیمار پڑ سکتے ہیں۔
- کبوتروں کا گوشت غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور قدیم طب میں کمزوری اور دیگر جسمانی مسائل کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
- کبوتروں کی دیکھ بھال کے لیے ان کی رہائش گاہ کو صاف اور خشک رکھنا ضروری ہے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔
- کبوتروں کی پرورش گھریلو ماحول میں آسان ہے اور یہ کم خرچ پر پالی جانے والی مخلوق ہے۔
- کبوتروں کو تربیت دے کر انھیں پیغام رسانی، خطابت، اور یہاں تک کہ مختلف مقابلوں کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔
- کبوتروں کی خوشبو پہچاننے کی صلاحیت انھیں سماجی زندگی میں مدد دیتی ہے، جس سے وہ اپنے گروہ کے دیگر افراد کی شناخت کر پاتے ہیں۔
(جاری۔۔۔)
