Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قرآنیات (سلسلہ: 04)

قرآن مجید میں مذکور پرندے
عنوان: قرآن مجید میں مذکور پرندے
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: مظفر حسین شیرانی

گزشتہ قسطوں میں ہم نے ان تین پرندوں کا ذکر پڑھا جن کا قرآن مجید میں صراحتاً نام لے کر ذکر ہوا: ابابیل، ہدہد اور غراب۔ آج ان باقی پرندوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، جن کا قرآن کریم میں ذکر تو ہے لیکن ناموں کی صراحت نہیں، یا نام مذکور ہیں تو ان کی شخصی تعیین میں اختلاف ہے یا پھر پرندوں کا بطور جنس ذکر کیا گیا ہے۔ ایسی متعدد آیات کی تفصیل یہ ہے:

4. سلیمان علیہ السلام کے پرندے:-

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئبِیْنَ۔ [النمل: 17]

اور (حضرت سلیمان علیہ السلام نے) پرندوں کا جائزہ لیا تو بولے مجھے کیا ہوا کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا یا وہ واقعی غیر حاضر ہے۔

یہاں خاص طور پر ہدہد کے علاوہ عام طور پر جنس پرند کا ذکر ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کا جائزہ لیا اور دریں اثنا آپ نے یہ پایا کہ ہدہد غائب ہے۔ در اصل حضرت سلیمان علیہ السلام کے دائرہ مملکت میں جہاں جن و انس تھے، وہیں پرند بھی تھے۔

5. پرندے بھی امت ہیں:-

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىٕرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ [الأنعام: 38]

زمین میں چلنے والا ہر چوپایہ اور اپنے پروں سے اڑنے والا ہر پرندہ تم ہی جیسی امت ہے۔

اس آیت میں چوپایوں اور پرندوں کو انسانوں کی طرح امت قرار دیا گیا لیکن ظاہر ہے پرندوں اور چوپایوں کی انسانوں سے ہمہ جہت مماثلت نہیں ہو سکتی، اس لیے اس مماثلت سے کیا مراد ہے، اس کی تفسیر میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں جیسے:

  1. یہ حیوانات بھی انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کو پہچانتے اور اسے ایک جانتے ہیں۔
  2. یہ بھی اس کی تسبیح پڑھتے اور عبادت کرتے ہیں۔
  3. یہ انسانوں کی طرح باہمی الفت رکھتے اور ایک دوسرے سے سمجھتے سمجھاتے ہیں۔
  4. روزی طلب کرنے، ہلاکت سے بچنے، نر و مادہ کا امتیاز رکھنے میں انسان کی طرح ہیں۔
  5. پیدا ہونے، مرنے، مرنے کے بعد حساب کے لیے اُٹھنے میں انسانوں کی طرح ہیں۔ [ملخصاً: صراط الجنان]

6. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزاتی پرندہ:-

اللہ رب العزت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا تو آپ کو درج ذیل معجزات عطا فرمائے:

  1. مٹی سے پرندے کی صورت بنا کر پھونک مارنا اور اس سے حقیقی پرندہ بن جانا،
  2. پیدائشی اندھوں کو آنکھوں کا نور عطا فرما دینا،
  3. کوڑھ کے مریضوں کو شفایاب کردینا،
  4. مردوں کو زندہ کردینا،
  5. غیب کی خبریں دینا۔

آپ علیہ السلام نے قوم کے سامنے پہلے معجزے کا یوں ذکر کیا:

اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ۔ [آل عمران: 49]

میں تمہارے لیے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً اللہ کے حکم سے پرند ہوجاتی ہے۔

یہی بات سورہ مائدہ میں اللہ رب العزت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح ارشاد فرمائی:

وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ۔ [المائدۃ: 110]

اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس پرندے کو زندہ کیا، وہ کون سا تھا؟ اس میں بحث ہے۔ بعض تفاسیر جیسے خازن، قرطبی، روح المعانی وغیرہ میں خفاش یعنی چمگادڑ کا ذکر ملتا ہے، لیکن چوں کہ یہ تفصیل اسرائیلی روایات پر مبنی ہے اور قرآن مجید یا صحیح احادیث میں اس کا کوئی صراحتاً ذکر نہیں، اس لیے علماء کا عمومی موقف یہ ہے کہ اسے اپنے عموم پر باقی رکھتے ہوئے قدرت خداوندی کے مظاہر میں سے ایک نشان ہی سمجھا جائے اور بس۔ تاہم مرجوح مرویات کے مطابق ہی سہی، قدرت الٰہی کی عظیم مظہر مخلوق چمگادڑ (Bat) کے درج ذیل حیران کن خصائص کو نظر میں رکھنا چاہیے:

  1. چمگادڑ وہ حیران کن جاندار ہے، جس کے متعلق یہ مستقل بحث ہے کہ وہ پرندہ ہے یا جانور؟ اس سوال کے جواب میں دونوں ہی قسم کی باتیں ہیں اور دونوں ہی طرف اپنے اپنے دلائل۔
  2. در اصل چمگادڑ وہ واحد اور عجیب جانور ہے جو بنا پروں کے اُڑتا ہے لیکن دوسرے پرندوں کی طرح اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیوں کہ اس کے پنجوں کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ وہ اسے اڑنے میں ہی مدد نہیں کرتے بلکہ ہوا میں سہارا بھی فراہم کرتے ہیں لیکن چلنے میں معاون نہیں ہوتے۔
  3. چمگادڑیں پرندہ ہوتے ہوئے بھی چونچ کی بجائے دانت رکھتیں اور انسانوں کی طرح ہنستی ہیں۔
  4. مادہ چمگادڑ کی چھاتی ہوتی ہے، وہ بچہ جنتی ہے اور انسانوں کی طرح اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔
  5. دنیا میں تقریباً 1400 قسم کی چمگادڑیں پائی جاتی ہیں۔
  6. سب سے چھوٹی چمگادڑ: Bumblebee bat کا وزن: تقریباً 2 گرام اور لمبائی: 29-33 ملی میٹر اور سب سے بڑی چمگادڑ: Flying Fox کی لمبائی: تقریباً 1.5 میٹر ہوتی ہے۔
  7. چمگادڑ کے بارے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ پرندہ کھاتا پیتا بھی منہ سے ہے اور فاضل مادوں کا اخراج بھی منہ ہی سے کرتا ہے۔
  8. چمگادڑیں ہر وقت 60 ایسی بیماریاں ساتھ لیے پھرتی ہیں، جو ان کے توانا مدافعاتی نظام کے خلاف کارگر نہیں ہوتیں لیکن ان میں سے اکثر انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
  9. چمگادڑ حیران کن طور پر اپنی سائز جیسی مخلوقات کی نسبت زیادہ مدت تک زندہ رہتی ہیں۔
  10. عام تاثر کے برخلاف چمگادڑوں کی صرف چھوٹی انواع صوتی لہروں سے مقام اور رخ کا تعین کرتی ہیں کیوں کہ وہ دیکھ نہیں سکتیں لیکن بڑی چمگادڑوں کی نظر انسانوں سے بھی بہتر ہوتی ہیں اور وہ رات کی تاریکی میں بھی انتہائی سرعت کے ساتھ ویسے ہی پرواز کرتی ہیں جیسے کوئی تیز کبوتر دن میں پرواز کرتا ہے اور کسی چیز سے ٹکراتیں بھی نہیں۔ اس لیے مانا جاتا ہے کہ ان کو اطلاع دینے والا کوئی صوتی نظام ہوتا ہے ورنہ یہ آہستہ آہستہ پرواز کرتیں۔
  11. ان کے کان بڑے اور حساس ہوتے ہیں، جو آواز کی لہروں سے راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  12. کچھ چمگادڑیں گوشت خور ہوتی ہیں جو کیڑے مکوڑے اور چھوٹے جانور کھاتی ہیں اور کچھ پھل خور ہوتی ہیں۔
  13. خون پینے کے لیے مشہور چمگادڑ کی کچھ قسمیں زیادہ تر مویشیوں کا خون پیتی ہیں۔
  14. اڑنے کو ممکن بنانے کے لیے چمگادڑیں اپنی خوراک بہت تیزی سے ہضم کرتی ہیں۔ بعض اوقات وہ 30-60 منٹ میں خوراک مکمل ہضم کر لیتی ہیں، اسی وجہ سے ان کا وزن کم رہتا ہے۔
  15. چمگادڑوں سے خارج ہونے والے فضلے میں پوٹاشیم نائٹریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جسے بطور کھاد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسی سے بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی تیار کیا جاتا ہے۔ امریکی خانہ جنگی میں چمگادڑوں کے فضلے کو اس مقصد کے لیے بہت زیادہ استعمال کیا گیا۔
  16. سائنس دان اس امکان کی کھوج کر رہے ہیں کہ چمگادڑ انسانی نسل کو کینسر، الزائمر، شوگر، آٹو امیون بیماریوں، فالج اور دل کی مختلف بیماریوں سے لڑنے میں مدد دے سکے کیوں کہ چمگادڑوں میں حیاتیاتی خصوصیات سے پُر ایسا خزانہ ہوتا ہے جو ہماری بہت مدد کر سکتا ہے۔
  17. چمگادڑیں غاروں، درختوں، چھتوں، اور دیگر اندھیرے مقامات میں رہتی ہیں۔
  18. زیادہ تر چمگادڑیں رات کو فعال ہوتی ہیں اور دن کے وقت الٹا لٹک کر آرام کرتی ہیں۔
  19. چمگادڑیں عام طور پر 20-30 سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔
  20. چمگادڑیں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پرواز کر سکتی ہیں جو کسی بھی دوسرے جانور سے زیادہ ہے۔
  21. ان کے پاس ایکو لوکیشن (echo-location) سسٹم ہوتا ہے جو مکمل اندھیرے میں بھی انھیں صاف دیکھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  22. چمگادڑوں کی ”Echolocation“ ٹیکنالوجی سے متاثر ہو کر انسان نے راڈار اور سونار ٹیکنالوجی بنائی۔
  23. چمگادڑوں کی آواز انسانوں کے سننے کی صلاحیت سے زیادہ (Ultrasound) فریکوئنسی پر ہوتی ہے۔
  24. ایک غار میں ایک وقت میں لاکھوں چمگادڑیں رہ سکتی ہیں۔
  25. چمگادڑ کبھی بوڑھی نہیں ہوتی 10-20 سالہ چمگادڑ کو دیکھ کر ان کی عمروں کا فرق نہیں محسوس ہوتا۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!