Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
عنوان: اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
تحریر: محمد شکیل بریلوی، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پیش کش: آفرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

غیر منقسم ہندوستان میں زمانہ قدیم ہی سے مذہب حق مذہب اسلام کی آبیاری کے لیے متعدد علمی گھرانے سر گرم عمل تھے، جنہوں نے مختلف علوم و فنون میں بیش بہا خدمات انجام دے کر دین و سنیت کو فروغ بخشا، دہلی کی سر زمین پر علمی مرکز قائم کر کے علم حدیث کے فروغ کا سہرا خاندان محقق علی الاطلاق علامہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے سر جاتا ہے اور اودھ میں تہذیب و ثقافت کے شہر لکھنؤ میں علمی و روحانی مرکز قائم کر کے دین و سنیت کی خدمات اور امت کی صحیح رہنمائی میں خانوادہ فرنگی محل کی خدمات اظہر من الشمس ہیں بایں سبب اس خانوادے کو ”دارالعلم و العمل“ کہا گیا ہے، ہندوستان میں مدارس میں موجود مروجہ نصاب تعلیم جو درس نظامی کے نام سے موسوم ہے، اسی خانوادے کی دین ہے، جس کو اس خانوادے کے فرد فرید نظام الدین فرنگی محلی نے ترتیب دیا، علوم عقلیہ کے فروغ میں خانوادہ علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ کی خدمات بھی آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں، ان تینوں ہی گھرانے سے نسل بعد نسل عرصہ دراز تک علمی و روحانی تشنگی کو بجھا یا جاتا رہا اور ملک و بیرون ملک ان کے اس سلسلہ علمی سے ایک عہد فیض یاب ہوتا رہا، مرور زمانہ کے ساتھ دیگر اور بھی کئی علمی مراکز قائم ہوئے جہاں سے علم کی سوغات تشنگان علوم و معرفت کو ملتی رہی جن میں شمالی ہندوستان کی قابل ذکر درسگاہیں علامہ فضل رسول بدایونی اور علامہ نقی علی خاں علیہم الرحمۃ کی ہیں بدایونی درسگاہ سے بھی علمی و روحانی فیضان کئی نسلوں تک جاری و ساری رہا جن میں شاہ فضل رسول بدایونی، شاہ عبد القادر بدایونی، شاہ عبد المقتدر بدایونی علیہم الرحمۃ وہ عظیم المرتبت شخصیات ہیں جن کے علم کا شہرہ محض سر زمین ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ بیرون ہند بھی تھا۔

گزشتہ سارے خانوادوں کی علمی ضیا پاشی مرور زمانہ کے ساتھ ماند پڑتی چلی گئی اور ایک دور ایسا آیا کہ ان خاندانوں کی خدمات ماضی کا سنہرا باب بن کر رہ گئیں اور تشنہ لبوں کو علمی تشنگی دور کرنے کے لیے ان خانوادوں کی تصنیفی خدمات پر ہی اکتفا کرنا پڑتا لیکن بارہویں صدی کے اواخر میں جس خانوادے نے علم و معرفت کی ہندوستان میں بیش بہا خدمات انجام دیں وہ علامہ رضا خاں علیہ الرحمہ کا گھرانا ہے جہاں تشنگان علوم و معرفت کی سیرابی کے لیے جو انتظام کیاگیا وہ اس دور سے لے کر اب تک جاری و ساری ہے۔ اور اس فیضان علمی کو جس طرح سے اس خانوادے کے فیض یافتہ تلامذہ نے بر قرار رکھا اسی طرح خانوادے کے فرزند اور شہزادگان نے بھی اس علمی وراثت کو اسلاف کی پرورش پر قائم رہتے ہوئے آگے بڑھایا اور اکناف عالم میں اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعے امت کی اصلاح و رہنمائی کا فریضہ دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تعلم کے ذریعے انجام دیا اور دے رہے ہیں، آج تقریباً ڈھائی صدی گزرنے کے بعد بھی اس خانوادے کا خورشید علم یونہی درخشاں ہے۔

اہل علم حضرات پر یہ امر بخوبی منکشف ہے کہ اس خانوادے کی دینی خدمات کو عروج ۱۰ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ میں حضور اعلی حضرت عظیم البرکت شاہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے اس خاکدان گیتی پر تشریف آوری اور شعور و آگہی کے منازل طے کرنے کے بعد ملا حالانکہ ازیں قبل ان کے اجداد کرام بھی مرجع خلائق تھے مگر امام اہلسنت کی درسگاہِ فیض نے جو ملت بیضاء کی آبیاری فرمائی وہ کسی پر پوشیدہ نہیں آپ نے تعلیم و تعلم، تحریر و قلم، بیعت و ارشاد، وعظ و نصیحت اور کردار سازی کے ذریعے وہ دینی خدمات انجام دیں جس کی مثال بر صغیر میں ماقبل و مابعد میں نہیں ملتی دیگر خانوادوں کی خدمات مسلم مگر خانوادۂ رضویہ کی خدمات اپنی مثال آپ تھیں، اعلی حضرت عظیم البرکت کو اللہ رب العزت نے اپنے ان برگزیدہ بندوں میں منتخب فرمایا جن کو اس خاکدان گیتی پر ہر صدی میں احیائے دین اور تجدید ملت کے لیے پیدا فرمایا، جس زمانے میں اللہ رب العزت نے حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو پیدا فرمایا وہ زمانہ شان الوہیت و رسالت کی تنقیص میں حد سے تجاوز کر چکا تھا اور سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان و عقیدے پر ڈاکہ زنی کرنے والے افراد ہر پل گھات لگائے بیٹھے تھے اور ہمہ تن کوشاں تھے، کہ اہلِ ایمان کے دلوں سے محبت رسول کا جوہر نکال دیا جائے تاکہ اسلام مخالف مشن کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے۔

شان الوہیت و رسالت میں تنقیص اور گستاخانہ نظریات کی ترویج اس طور پر کی گئی کہ باری تعالیٰ کے لیے امکان کذب کا قول قدرت کاملہ کو محور بنا کر کیا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے لیے اس کا امکان نہ مانا گیا تو معاذ اللہ بندے کی قدرت اللہ رب العزت کی قدرت سے بڑھ جائے گی، اور دربار رسالت علم غیب، اختیارات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، استعانت و توسل، بشریت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، حیات انبیاء علیہم السلام سے متعلق ایسے عیوب و نقائص سے پر کفری عقائد کو رواج عام دینے کی سعی لاحاصل کی گئی جن کے سبب بندۂ مومن کے دل میں محبت و عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو نایاب خزینہ ہے اس کو لوٹ لیا جائے اور ان کے ایمان کی بنیاد کو متزلزل کر دیا جائے، مگر خالق کائنات کا کروڑوں احسان ہے کہ اس نے اس پر فتن دور میں اسلام کے اس بطل جلیل مرد مجاہد کو پیدا فرمایا جس نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے زبان و بیان تحریر و قلم کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائی اور ان باطل طاقتوں کا دندان شکن جواب دیا اور اپنی عمر عزیز کا لمحہ لمحہ بموجب فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم:

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

اہلِ ایمان کے دلوں میں عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی الکھ جگانے اور باطل طاقتوں کی سرکوبی میں لگا دیا اور تقریبا کل باطل فرقوں کے رد و ابطال میں وہ قلمی جہاد فرمایا کہ نہ ہی ماضی میں اس کی نظیر ملتی ہے اور نہ مستقبل میں نظر آتی ہے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا تصنیف کردہ ذخیرہ کتب اس کا شاہد عدل ہے جس میں ہر ایک تحریر اپنے عنوان پر حق تحقیق ادا کرتے ہوئے فقید المثال ہے چاہے وہ علم غیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر مبنی بر کرامت تحریر ”الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیۃ“ ہو یا طواغیت اربعہ کی کفریہ عبارات پر علمائے حرمین شریفین کی تصدیقات یافتہ فتویٰ ”حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین“ ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور تحریر ہو۔

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

تحقیق و تدقیق کے بیش بہا موتی یوں تو دیگر علمی درس گاہوں میں بھی طالبان علوم و معرفت کو میسر آتے مگر اعلی حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمہ کی بارگاہ فیض کی امتیازی شان یہ تھی کہ یہاں کے فیض یافتگان کو جو علم و تحقیق کے گوہر ملتے وہ نادر و نایاب ہی ہوتے عالم کے گوشے گوشے سے آنے والے مسائل شرعیہ کے جوابات امام اہلسنت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریر فرمائے اور دیگر مختلف علوم و فنون میں ہزار سے زائد جو کتب و رسائل معرض وجود میں آئے ان کا تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد اس امر کی حقیقت ہر صائب الرائے پر واضح ہو جاتی ہے، نیز ان جواہر تحقیقات و تدقیقات کے علاوہ جو بیش قیمت خزانہ اس بارگاہ سے ملتا وہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا، جو اسی بارگاہ کی خصوصیت تھی، عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا سمندر جس طرح امام اہلسنت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینے میں موجزن تھا (جس کی غمازی امام عشق و محبت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نعتیہ دیوان حدائق بخشش کا ایک ایک شعر کرتا ہے) اسی طرح آپ کی بارگاہ کے فیض یافتگان میں بھی اس کا عکس نظر آتا گوکہ خانوادہ رضویہ کی امتیازی شان یہ تھی کہ جس طرح یہاں علمی پیاس کو بجھایا جاتا اسی طرح اہلِ ایمان کو عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا جام پلایا جاتا جس کی خماری نگاہ ناز میں ہمیشہ رہتی، اور عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں سرشار رہنے کی وجہ سے شان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخانہ زبان کھلنے پر جیسے امام اہلسنت کا قلم خرمن باطل پر بجلیاں گراتا ویسے ہی آپ کے فیض یافتگان کا قلم بھی برق باری میں آپ کے قلم کا پرتو ہوتا آپ کی بارگاہ فیض سے استفادہ کرنے والا ہر ایک فرد گوہر نایاب اور علم کا در شہسوار ہے۔ امام اہلسنت کے تربیت یافتگان میں امام کے علم و تحقیق کی جھلک دیکھنے کے لیے تحقیقی و تصنیفی کارناموں کا مطالعہ کیا جائے، اور امام کی بارگاہ سے نوش کردہ جام عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی خماری اور اثر دیکھنے کے لیے ان کی زندگی کی ہر ہر ادا اور منظوم کارناموں کو ملاحظہ کیا جائے، عشق رسالت کی سرمستی کا بیان خود آپ کے خلف اصغر حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ کے اس شعر میں ملاحظہ ہو:

پیا ہے جام محبت جو آپ نے نوری
ہمیشہ اس کا رہے گا خمار آنکھوں میں

امام عشق و محبت کے جذبۂ عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ نے شعر و سخن کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سراپا اور آپ کے منسوبات کو ہی موضوع بنایا، اور صنف سخن میں نعت و منقبت کے علاوہ دنیوی اصناف سخن غزل، مرثیہ وغیرہ سے یکسر گریز کیا، خود ہی فرماتے ہیں:

کروں مدحِ اہلِ دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ ناں نہیں

آپ ہی کی طرح آپ کے تربیت یافتگان کا بھی یہی مزاج تھا کہ مدح و ستائش کا محور اس ذات بالا صفات کو بناتے جو محبوب رب کائنات ہے، اور بعد از خدا سب سے زیادہ مدح و ستائش کی مستحق ہے، یا جو اس ذات ستودہ صفات سے نسبت رکھنے والے ہیں، آپ کے شہزادگان و نبیرگان کے نعتیہ دواوین اس کے شاہد عدل ہیں۔

غرض یہ کہ امام عشق و محبت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ والرضوان سر زمین بریلی پر تشریف فرما ہوتے ہوئے دین و ملت کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں مستقبل میں جس کی نظیر لانے سے زمانہ قاصر ہے، چنانچہ ارباب دانش ان خدمات کا ذکر جمیل کرتے ہوئے کبھی تو یوں گویا ہوتے ہیں کہ ”میں نے اپنی زندگی میں اتنی روٹیاں نہیں کھائیں جتنی کتابوں کا مطالعہ کیا، اور ان کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد جب میں نے مولانا احمد رضا خاں بریلوی کو پڑھا تو ایسا لگا کہ میں علم و تحقیق کے سمندر میں غوطہ لگا رہا ہوں“ (کوثر نیازی) اور کبھی اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ”بریلی کی تو فضا میں ہی فقہ تیرتا ہے“ (مولانا حسن رضا پٹنہ) اور کبھی یوں گویا ہوتے ہیں کہ امام اہلسنت کے در سے وابستگی میں ہماری نسلوں کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی ضمانت ہے، اور یہ آخر الذکر امر محض اظہار خیال یا عقیدتوں کا خراج نہیں بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اس لئے کہ مسلک اعلی حضرت مسلک اہلِ سنت پر گامزن رہتے ہوئے تعلیمات رضا پر عمل کرنے والے کسی بھی فرد پر احباب ہوں یا اغیار کسی نے بھی گم گشتگی راہ کا الزام تک نہیں لگایا چہ جائے کہ اس کا تحقیقی ثبوت۔ عالم اسلام کے خوش عقیدہ سنی مسلمان اسی ماہ مبارک صفر المظفر ۲۵ تاریخ کو اپنے محسن و کرم فرما کی بارگاہ میں عقیدتوں کا خراج پیش کرتے ہیں، اور اسی یوم وصال کے موقع پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم اہلسنت والجماعت کو امام اہلسنت کے فیضان کرم سے بالعموم اور اس ماہ مقدس میں بالخصوص مالا مال فرمائے اور اس کو ہماری ابدی سعادت کا ذریعہ بنائے۔

آمِين بِجَاهِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَعَلَى آلِهِ أَفْضَلَ الصَّلَوَاتِ وَأَكْرَمَ التَّسْلِيمِ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!