| عنوان: | مضمون: اعلی حضرت امام احمد رضا کے تعلیمی نظریات |
|---|---|
| تحریر: | مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
شرق سے غرب تک، شمال سے جنوب تک، عوام سے لے کر خواص تک، اپنوں سے بیگانوں تک جس ذات کا چرچا آج زبان زد خاص و عام ہے، وہ ذات مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی ہے۔ جن کی ذات تمام علمی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور زمانہ ان کی ہمہ جہت شخصیت کو سمجھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، مگر ذات احمد رضا اتنی پہلو دار ہے کہ ابھی تک ان کے علمی کارناموں کا کما حقہ احاطہ نہیں کیا جاسکا ہے۔
امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ 10 شوال المکرم 1272ھ / 14 جون 1856ء کو حضرت مولانا مفتی نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام محمد اور تاریخی نام المختار رکھا گیا۔ جد امجد مفتی رضا علی خان علیہ الرحمہ نے آپ کا اسم گرامی احمد رضا تجویز کیا۔ [سوانح اعلیٰ حضرت، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی، ص: 88]
کہا جاتا ہے کہ جن افراد سے قدرت کو کوئی اہم کام لینا ہوتا ہے، انہیں بہت زیادہ صلاحیتوں کے ساتھ بھیجا جاتا ہے، اور وہ شخصیتیں اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بنیاد پر جلد ہی سب کو یہ احساس کرا دیتی ہیں کہ وہ کوئی عام نہیں ہیں، بلکہ خاص ہیں۔ اعلیٰ حضرت بھی انہیں عظیم شخصیتوں میں ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ آپ کی ذہانت و فطانت شروع ہی سے آشکار ہونے لگی تھی۔ محض چار سال کی عمر میں قرآن کریم ناظرہ مکمل کیا اور چھ سال کی چھوٹی سی عمر میں مجمع عام منبر پر بیٹھ کر میلاد پاک کے موضوع پر ایک عمدہ تقریر فرمائی۔ [سیرت امام احمد رضا، مولانا عبد الحکیم اختر شاہجہاں پوری، مطبوعہ لاہور، ص: 3]
چھ سال کی چھوٹی سی عمر میں مجمع عام میں آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد پاک پر تقریر کر کے آپ نے اپنے عزائم ظاہر فرما دیے تھے، اور لوگوں کو یہ احساس کرا دیا تھا کہ آگے چل کر یہی نو خیز بچہ عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسبانی کرے گا اور ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی ہستی کو فنا کر کے زمانے کو یہ پیغام دے گا: ع /
دہن میں زباں تمہارے لیے
بدن میں ہے جاں تمہارے لیے
جب اعلیٰ حضرت اپنی عمر کے آٹھویں دور میں داخل ہوئے تو ایک اور حیرت انگیز واقعہ ظہور میں آیا۔ عموماً اس عمر میں بچے پابندی سے پڑھائی کرتے رہیں، یہی بہت بڑی بات ہوتی ہے مگر اعلیٰ حضرت نے اس ننھی سی عمر میں ہی اپنی خدا داد صلاحیتوں کا اظہار شروع کر دیا۔ محض آٹھ سال کی عمر میں آپ نے درس نظامی میں شامل نصاب کی ایک اہم کتاب هداية النحو کی عربی زبان میں شرح لکھ کر ایک زمانہ کو حیرت میں ڈال دیا۔ [سیرت امام احمد رضا، مولانا عبد الحکیم اختر شاہجہان پوری، لاہور، ص: 4]
اس عمر میں درس نظامی پڑھنا، نصاب میں شامل کتابوں کو سمجھنا ہی بہت بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے، مگر امام احمد رضا نے نہ صرف کتاب کو سمجھا، بلکہ اس کو سمجھنے کے لیے اس کی شرح، وہ بھی عربی زبان میں لکھ کر سارے زمانے کو یہ جتا دیا:
مجھ کو جانا ہے بہت آگے
حد پرواز سے
اس طرح تیزی کے ساتھ تعلیم کی سیڑھیاں طے کرتے ہوئے آپ تیرہ سال دس ماہ کی عمر میں علوم عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کر کے فارغ ہو گئے۔ 14 شعبان المعظم 1286ھ / 19 نومبر 1869ء کو آپ دستار فضیلت سے نوازے گئے۔
اسی دن آپ نے رضاعت سے متعلق ایک فتویٰ لکھا۔ امیدوں کے مطابق جواب بالکل درست تھا اس سے خوش ہو کر والد محترم حضرت علامہ مفتی نقی علی خاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نور نظر کو فتویٰ نویسی کی اجازت عطا فرمائی اور خود مسند افتا پر بٹھایا۔ [سوانح اعلیٰ حضرت مولانا بدرالدین قادری، رضا اکیڈمی ممبئی، ص: 92]
اس فتوے کے متعلق خود امام احمد رضا فرماتے ہیں: ”یہ وہی فتویٰ ہے جو چودہ شعبان 1286ھ کو سب سے پہلے اس فقیر نے لکھا اور اسی 14 شعبان 1286ھ کو منصب افتا عطا ہوا اور اسی تاریخ سے بحمد الله تعالى نماز فرض ہوئی اور ولادت دس شوال المکرم 1272ھ بروز شنبہ وقت ظہر مطابق 14 جون 1856ء 10 جیٹھ سدی 1319 سمبت کو ہوئی۔ تو منصب افتا ملنے کے وقت فقیر کی عمر تیرہ برس دس مہینہ چار دن کی تھی۔ جب سے لے کر اب تک برابر یہی خدمت دین لی جارہی ہے، والحمد لله۔“ [ملفوظ، ج: 1، ص: 420، مطبوعہ رضوی کتاب گھر دہلی]
عمر عزیز کے تیرہویں سال سے آپ کا قلمی سفر جو شروع ہوا تو تا دم وفات جاری رہا اور اس عرصے میں قریب 55 علوم و فنون پر مشتمل ایک ہزار سے زائد کتابیں تصنیف فرمائیں۔ ماہر رضویات حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
آپ کی تصنیفات، تالیفات، تعلیقات اور شروح و حواشی کی نامکمل فہرست علامہ محمد ظفر الدین رضوی، علامہ عبد المبین نعمانی، عبد الستار ہمدانی، سید ریاست علی قادری اور راقم نے مرتب کی تھی جو پچاس سے زائد علوم وفنون میں لگ بھگ ایک ہزار ہیں۔ [ڈاکٹر مسعود احمد - چشم و چراغ خاندان برکاتیہ، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں، ص: 7]
اس قلمی سفر میں آپ نے مذہب و عقیدہ، اخلاق و تصوف، شریعت و طریقت، شعر و شاعری، منطق و فلسفہ، فقہ و حدیث، ترجمہ و تفسیر، فصاحت و بلاغت، درایت و روایت، سائنس و ریاضی، ہیئت و نجوم جیسے اہم موضوعات پر ہزاروں صفحات تحریر فرما کر پوری اسلامی دنیا پر احسان عظیم فرمایا ہے۔
سید محمد جیلانی اشرف کچھوچھوی تحریر فرماتے ہیں: ”اگر ہم ان (امام احمد رضا) کی علمی وتحقیقی خدمات کو ان کی 65 سالہ زندگی کے حساب سے جوڑیں تو ہر 5 گھنٹے میں امام احمد رضا ایک کتاب ہمیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک متحرک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا جو کام تھا امام احمد رضا نے تن تنہا انجام دے کر اپنی جامع و ہمہ صفت شخصیت کے زندہ نقوش چھوڑے ہیں۔“ [ماہنامہ المیزان ممبئی، امام احمد رضا نمبر، ص: 6]
تعلیمی نظریات:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و تصنیفات سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ علوم جدیدہ مثلاً سائنس و جغرافیہ، ریاضی و معاشیات اور علم تجارت وغیرہ کے خلاف نہیں تھے، کیوں کہ ان علوم میں خود آپ نے بہت ساری کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ ہاں! آپ کے نظریہ تعلیم میں اس چیز کی قید ضرور ہے کہ تمام علوم چاہے وہ قدیم ہوں یا جدید سب کا مقصد تفہیم دین ہونا چاہیے۔ آپ کے نزدیک تعلیم کے مندرجہ ذیل مقاصد ہیں:
- تفہیم دین
- رضائے الہی کا حصول
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: رزق علم میں نہیں وہ تو رزاق مطلق کے پاس ہے جو خود اپنے بندوں کا کفیل ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 22، ص: 10]
آگے فرماتے ہیں: دنیوی علوم کا حصول اگر اس نیت سے کیا جائے کہ اس سے دین کا مفاد مقصود ہو تو وہی تعلیم دین بن جائے گی۔
- حسن نیت اور حسن عمل کی ترتیب کرنا۔
فرماتے ہیں: حسن نیت سے بے شمار احکام بدل جاتے ہیں۔ اچھا بھلا کام نیت بدلنے سے نامسعود ہو جاتا ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 10، ص: 5]
- معرفت الہی
- تفہیم منصب رسالت
- خیر و شر میں فرق کی وضاحت
- تعمیری کردار
مذکورہ مقاصد کو سامنے رکھ کر تعلیم حاصل کی جائے تو یقیناً ایک صالح معاشرہ وجود میں آئے گا۔ یہ اصول نہ صرف اہل اسلام کے لیے مفید ہیں، بلکہ اگر غیر مسلم بھی اس پر عمل کر لیں تو ضرور بالضرور وہ بھی اس کے مفید اثرات محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔
آج ہمارے سماج میں تیزی کے ساتھ تعلیم کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے باوجود معاشرے میں اخلاقی گراوٹ بھی تیزی کے ساتھ آ رہی ہے، اور یہ گراوٹ بھی سماج کے اس طبقے میں آرہی ہے جسے سماج کا سب سے اعلیٰ طبقہ مانا جاتا ہے۔ آئے دن ہم اخبارات میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے چوری جیسے معاملات میں گرفتاری کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں۔
حصول تعلیم کے باوجود آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس بات کا امام احمد رضا کے لفظوں میں سیدھا سا جواب ہے: ”خیر و شر میں فرق کی وضاحت اور تعمیری کردار سے غفلت برتنا۔“ اگر آج بھی معاشرہ امام احمد رضا کے اس تعلیمی نظریے پر عمل کرلے تو ایک انقلاب برپا ہو جائے گا اور ہم سماج میں پھیل رہی ان بیماریوں کے خلاف بار بار کے احتجاج و ہڑتال سے بھی محفوظ رہیں گے۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے تفہیم دین کے لیے کچھ اور علوم کو معاون قرار دیا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:
- علم طبیعات و ارضیات، تاکہ ان علوم کے ذریعے پانی اور مٹی کی ماہیت اور احوال معلوم کیے جاسکیں، تاکہ اس کے ذریعے بدن، لباس اور جائے سجدہ کی طہارت و پاکی کے مسائل معلوم ہوسکیں۔
- علم ریاضی کا جاننا، تاکہ اس کے ذریعے فرائض و میراث کے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے۔
- علم توقیت کا جاننا، تاکہ اس کے ذریعے نماز، روزہ، حج وغیرہ کے اوقات متعین کرنے میں آسانی ہو، اور وقت کا صحیح ادراک ہو۔
- علم کیمیا کا جاننا، تاکہ اس کے ذریعے اشیاء کی اصل ماہیت کی پہچان کی جاسکے وغیرہ۔
انگریزی زبان کا پڑھنا: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی بارگاہ میں انگریزی زبان کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ذی علم مسلمان اگر بہ نیت رد نصاریٰ انگریزی پڑھے گا اجر پائے گا، اور دنیا کے لیے صرف زبان سیکھنے یا حساب، اقلیدس، جغرافیہ جائز علوم پڑھنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہو کر اپنے دین و علم سے غافل نہ ہو جائے، ورنہ جو چیز اپنا دین و علم بقدر فرض سیکھنے میں مانع آئے حرام ہے۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کا نقطہ نظر بالکل واضح ہے کہ اگر علوم جدیدہ ایک زبان کے طور پر حاصل کیے جائیں تو جائز ہے۔ اگر دین کے فائدے کی غرض سے ان علوم کو سیکھا جائے تو صرف جائز ہی نہیں، بلکہ ان کے سیکھنے پر اجر و ثواب بھی ملے گا لیکن اگر ان علوم کی وجہ سے اپنے دین کو ہی فراموش کرنے لگے تو یقیناً یہ بڑے خسارے کا سودا ہے، کیوں کہ ایک مسلمان کے لیے اس کے ایمان سے بڑی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ ایمان سلامت تو سب سلامت، ایمان نہیں تو خیر نہیں۔
اساتذہ کا مقام:
تعلیم کا حصول بغیر استاذ کے ممکن نہیں۔ (عام حالات میں تو یہی قاعدہ ہے، ہاں جسے اللہ نواز دے وہ الگ بات ہے)، اس لیے ایک انسان کی زندگی میں ماں باپ کے بعد سب سے اہم رول اس کے اساتذہ کا ہوا کرتا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے مختلف مقامات پر اساتذہ کے مقام و مرتبے کا بیان کیا ہے، فرماتے ہیں:
- عالم دین ہر مسلمان کے حق میں عموماً اور استاد علم دین اپنے شاگرد کے حق میں خصوصاً نائب حضور پرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ [فتاوی رضویہ جدید، ج: 33، ص: 638، مطبوعہ پور بندر گجرات]
- اگر استاذ کا حکم مباحات میں ہے تو حتی الوسع اس کی بجا آوری میں اپنی سعادت جانے۔
- جس سے اس کے استاذ کو کسی طرح کی تکلیف پہنچی وہ علم کی برکت سے محروم رہے گا۔
- اساتذہ کو دھوکہ دینا خصوصاً امر دین میں گناہ کبیرہ ہے اور یہ یہودیوں کی خصلت ہے۔ [فتاوی رضویہ جدید، ج: 23، ص: 682، مطبوعہ پور بندر گجرات]
اساتذہ کے لیے ہدایات:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اساتذہ کرام کو بھی چند ہدایات فرماتے ہیں:
- جو علم سکھایا جائے، سیکھنے والا اس کا اہل ہو۔
- استاذ جو پڑھا رہا ہے اس میں خود غواصی (مہارت) رکھتا ہو۔
- استاذ متعلقہ کتابیں پوری تحقیق اور گہرائی کے ساتھ پڑھائے۔
- تنقید کا پہلو بھی پیش نظر رہے، تاکہ طلبہ کے ذہن میں کوئی اشکال وارد ہو تو اس کا تصفیہ بھی ہو۔
اعلیٰ حضرت خود اپنے درس کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
”فقیر نے قدرت والے رب کی مدد سے ان تمام علوم و فنون میں غواصی کی اور ان کے دقائق و حقائق کو آسان کر کے ان کے اصحاب کو سکھائے اور ان کی کتابیں چھان بین اور تنقید کے ساتھ پڑھائیں۔“ [امام احمد رضا، الإجازات المتينة]
یہ اعلیٰ حضرت کے تعلیمی نظریات کی اجمالی باتیں تھیں۔ اگر تفصیل سے کام لیا جائے تو کافی صفحات درکار ہوں گے، اس لیے تھوڑے کو بہت سمجھتے ہوئے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم امام احمد رضا کے تعلیمی نظریات کو زیادہ سے زیادہ عام کریں، تاکہ ہمارا معاشرہ جو قلت علم کی وجہ سے دیگر اقوام سے بہت پیچھے ہو گیا ہے، پھر سے تعلیمی میدان میں اقوام عالم کی قیادت کرے۔
پیغام شریعت دہلی، ستمبر، اکتوبر 2019ء، ص: 43
