Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

آغوشِ ماں کی آخری یاد

آغوشِ ماں کی آخری یاد
عنوان: آغوشِ ماں کی آخری یاد
تحریر: عالمہ ام الورع ایوبی
پیش کش: ندائے قلم ایوبیہ اکیڈمی للبنات

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے تم کہیں گئی ہی نہیں ہو، بس گھر کے کسی کونے میں بیٹھی مجھے دیکھ رہی ہو۔ میں آج بھی تھک جاتی ہوں تو بے اختیار دروازے کی طرف دیکھتی ہوں شاید تم آؤ، شاید پہلے کی طرح میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہو: ”آ جاؤ بیٹا! بہت تھک گئی ہو۔“ ماں تمہیں یاد ہے؟ جب مہمان آتے تھے تو میں جلدی جلدی کام کرنے لگتی تھی اور تم میری طرف ایسے دیکھتی تھی جیسے میری تھکن تمہارے اپنے جسم میں اتر رہی ہو۔

پھر فوراً میرے ہاتھ سے کام لے کر کہتی: ”بس چھوڑ دو، میری بچی تھک جائے گی۔“ اور میں اس وقت شاید سمجھ نہیں پاتی تھی کہ دنیا میں ماں جیسی محبت دوبارہ کبھی نہیں ملتی۔ ماں! تم صرف میری ماں نہیں تھی تم میرے دل کا سکون تھی، ایک تم ہی تو تھی جو میری خاموشی سن لیتی تھی۔ میں چاہے سب کے سامنے ہنس رہی ہوتی مگر تم فوراً جان لیتی تھی کہ میری آنکھوں کے پیچھے کوئی درد چھپا ہوا ہے۔ تم پوچھتی بھی نہیں تھی بس مجھے سینے سے لگا لیتی تھی اور نہ جانے کیوں تمہارے سینے سے لگتے ہی میرا ہر درد رو پڑتا تھا۔

ایک تم ہی تو تھی جس سے میں سب کچھ کہنا چاہتی تھی، اپنی چھوٹی چھوٹی پریشانیاں، اپنے ڈر، اپنی اداسیاں، یہاں تک کہ وہ باتیں بھی جو میں زبان سے کبھی ادا نہیں کر پاتی تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا میری ماں مجھے کبھی سمجھے بغیر نہیں چھوڑے گی۔ لوگ کہتے تھے ایک دن ماں بچھڑ جاتی ہے اور میں فوراً ان کی بات کاٹ دیتی تھی، میرا دل یہ ماننے پر تیار ہی نہیں ہوتا تھا۔ مجھے لگتا تھا میری ماں مجھے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہے؟ ماں تو سانس کی طرح ہوتی ہے نا، اور کوئی اپنی سانسوں سے بھی جدا ہوتا ہے کیا؟

لیکن پھر ایک دن اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر نے مجھے خاموش کر دیا، تم رخصت ہو گئیں اور میرے اندر جیسے سب کچھ ٹوٹ گیا۔ اس دن پہلی بار محسوس ہوا کہ ماں کے جانے کے بعد انسان صرف یتیم نہیں ہوتا وہ اندر سے خالی بھی ہو جاتا ہے۔ اب میں بیمار پڑتی ہوں تو کوئی رات بھر جاگ کر میرے ماتھے پر ہاتھ نہیں رکھتا، اب میں رو دوں تو کوئی یہ نہیں کہتا: ”میری بچی کو کس کی نظر لگ گئی۔“ اب میں تھک جاؤں تو کوئی میرے ہاتھ سے کام نہیں لیتا۔

ماں! تمہارے بعد میں نے لوگوں کے ہجوم دیکھے، رشتے دیکھے، محبت کے دعوے دیکھے مگر تم جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ آج بھی کبھی اچانک دل بہت بھر آتا ہے تو میں چپکے سے تمہاری تصویروں کو دیکھتی ہوں اور پھر یوں لگتا ہے جیسے میری روح تمہیں پکار رہی ہو۔ ماں! بس ایک بار واپس آ جاؤ نا، صرف ایک بار مجھے پہلے کی طرح گلے لگا لو۔ میں بہت تھک گئی ہوں ماں، تمہارے بغیر بہت تھک گئی ہوں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!