Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عہد رسالت مآب میں سورج گہن کا واقعہ

عہد رسالت مآب میں سورج گہن کا واقعہ
عنوان: عہد رسالت مآب میں سورج گہن کا واقعہ
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: ساریہ فاطمہ رضویہ

عہد رسالت مآب میں سورج گہن کا واقعہ جو ریکارڈ میں ہے وہ ایک بار ہوا، اور اتفاق سے اسی دن ہوا جس دن آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ نے ایام شیر خوارگی میں وفات پائی۔ لوگ کہنے لگے کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کی موت کے سبب سورج میں گہن لگا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر واضح فرمایا سورج اور چاند گہن کا کسی کی موت و حیات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ اللہ کی نشانی ہیں، جس سے خوف و خشیت الہی کے دواعی پیدا ہونے چاہیے۔ اصحاب سیر نے وہ تاریخ 10 ربیع الاول 10ھ درج کی ہے۔ جب کہ مسلم ماہرین سائنس نے وہ تاریخ 27 جنوری 632ء بروز پیر مطابق 29 شوال دسویں ہجری، اور مقامی وقت دن کے دس بجے بتایا ہے۔ دونوں کی تطبیق اور حقیقت یافت کرنا خود ایک کام ہے۔ لیکن پہلے ہم ان قدسی صفات شخصیتوں کے ذکر سے دل و دماغ کو معطر کرتے ہیں جن کا ذکر اس واقعہ کا حصہ ہے۔ یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کی والدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا مختصر تذکرہ۔

حضرت ماریہ قبطیہ اور حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہما:

امام محمد بن صالحی شامی کی سیرت کی مشہور کتاب ”سبل الہدی والارشاد“ اور احوال صحابہ پر مشتمل امام ابن اثیر جزری کی کتاب ”اسد الغابہ“ میں جو کچھ درج ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:

آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے ہجرت کے ساتویں سال تحفہ میں ایک باندی بھیجی تھی جن کا نام ماریہ بنت شمعون تھا، جن کے ساتھ ان کی بہن سیرین بھی تھیں اور ایک خادم اور بہت کچھ مال و منال۔ ماریہ مصر کی قبطی قوم سے تھیں جس کی وجہ سے انھیں ماریہ قبطیہ کہا جاتا ہے۔ ان کی بہن سیرین کو آقا علیہ السلام نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو دے دیا، جن سے عبد الرحمٰن بن حسان پیدا ہوئے۔ ماریہ قبطیہ کو ام سلیم بنت ملحان کے گھر اتارا، اور ان پر اسلام پیش کیا، انھوں نے قبول کرلیا۔ تو آپ نے انھیں اپنے لیے قبول فرمایا۔ اور ان کے قیام کا انتظام مدینہ منورہ کے عوالی خطہ میں کردیا۔ ان کی قیام گاہ ”مشربہ ام ابراہیم“ کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا اسی مقام پر تاحیات سکونت پذیر رہیں حتی کہ سولہ ہجری میں عہد فاروقی میں آپ کی وفات ہوئی۔ اور جنت البقیع شریف میں مدفون ہوئیں۔

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ ماہ ذو الحجہ سن آٹھ ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی ولادت سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر مسرت ہوئی کہ ابو رافع جنھوں نے ولادت کی بشارت سنائی انھیں ایک غلام عطا کیا، ساتویں دن آپ نے نام رکھا، اور حلق کراکر بال کے برابر چاندی صدقہ کیا۔

حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر ابھی اٹھارہ ماہ کی تھی، اور ہنوز شیر خوارگی کے ایام، کہ بحکم الہی ان کی قضا آگئی۔ اور ساری کائنات کو صبر کرنے والے باپ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسو آنسو کرکے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات دس ربیع الاول بروز منگل دس ہجری کو ہوئی۔ آقا علیہ السلام نے ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔ اور انھیں بقیع شریف میں حضرت عثمان بن مظعون کے قریب دفن کیا۔

مروی ہے کہ آقا علیہ السلام کو علالت کی خبر ملی تو حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ صاحبزادے کو دیکھنے آئے، والدہ کی گود میں آخری سانس لے رہے تھے۔ آپ نے انھیں اپنی گود میں لیا، آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اور زبان پر یہ کلمات تھے: اے ابراہیم! اگر یہ موت حق نہ ہوتی اور سچا وعدہ نہ ہوتا کہ بعد والے پہلوں سے ضرور ملیں گے تو ہمیں تم پر اس سے بھی شدید غم ہوتا۔ اے ابراہیم! ہمیں تمہاری جدائی کا غم ہے۔ آنکھیں روتی ہیں، دل غمزدہ ہے مگر ہم زبان سے ایسی بات نہیں کہہ سکتے جو رب کو ناراض کرے۔ [اسد الغابہ، ج: 1، ص: 153، ملخصاً]

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں غسل دیا۔ اور حضرت فضل و اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما قبر میں اترے۔ آقا علیہ السلام قبر کے کنارے بیٹھے، قبر پر ایک علامت نصب کی اور اس قبر پر پانی کا چھڑکاؤ فرمایا۔ یہ پہلی قبر تھی جس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کے تعلق سے جو کچھ ارشاد فرمایا وہ جملے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمتوں کے امین ہیں۔

حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام:

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام بیٹے بیٹیاں قریش کی عظیم خاتون اور آپ کی پہلی زوجہ کریمہ حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے تھیں۔ اور آخری بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے تھے۔ جو آپ کی باندی تھیں، قرشیہ نہ تھیں، ہوسکتا ہے رنگ و نسل کا فرق پیدا کرنے والا جاہلی مزاج یہ سوچ پیدا کرے کہ پھر تو حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام وہ ہوگا جو باقی اولاد کا ہے، لہذا ان کے تعلق سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایسے امور ذکر کیے جو باقی اولاد کے بارے میں منقول نہیں، مثلاً: ابراہیم زندہ ہوتے تو میرے بعد نبی ہوتے، یا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ ابراہیم ہوتے، اس مفہوم کی روایتیں مختلف الفاظ میں مناقب اور رجال کی کتب میں موجود ہیں جن میں کئی روایتیں اسد الغابہ میں نقل کی گئی ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت حضرت ابراہیم کی شکل میں ایک قبطی خاتون کے رحم سے عالم وجود میں آنے کے سبب آپ نے قبطی قوم کو اپنا رشتہ دار قرار دیا۔ بلکہ قبطیوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائی۔ [اسد الغابہ، تذکرہ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ]

حضرت ابن شہاب زہری سے مرسلاً اور حضرت ابی بن کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا: إِذَا مَلَكْتُمُ الْقِبْطَ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِمْ فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَإِنَّ لَهُمْ رَحِمًا. یعنی قبطی قوم پر تمہارا قابو ہو تو ان کے ساتھ احسان کرنا کہ انھیں ذمہ اور رشتہ داری کا شرف حاصل ہے۔ [مسند عبد الرزاق، رقم: 9996]

طبرانی نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا: اللهَ اللهَ فِي قِبْطِ مِصْرَ فَإِنَّكُمْ مُسْتَظْهِرُونَ عَلَيْهِمْ فَيَكُونُونَ لَكُمْ عُدَّةً وَأَعْوَانًا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى. یعنی مصر کی قبطی قوم کے بارے میں اللہ سے ڈرنا، کہ تم ان پر عنقریب قابو پاؤ گے اور وہ اللہ کی راہ میں تمہارا سہارا اور مددگار ہوں گے۔ [سبل الہدی والارشاد، ج: 11، ص: 459]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اگر حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو ضرور صدیق اور نبی ہوتے۔ اس پر امام ابو یوسف صالحی نے مستقل باب قائم کیا اور متعدد روایتیں درج کی ہیں۔ جن میں ایک یہ ہے: ”لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا“۔ امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت عبد اللہ ابو اوفی کا یہ قول نقل کیا کہ اگر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کو آنا ہوتا تو آپ کے بیٹے ابراہیم کی وفات نہ ہوتی۔ لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ [سبل الہدی والارشاد، ج: 1، ص: 457]

مصنف نے اس مقام پر متعدد روایتیں درج کی ہیں جن میں ضعاف بھی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امام ابو عمر نے اس پر یہ ریمارک دیا کہ یہ کیا بات ہوئی؟ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا نبی نہ تھا۔ ہر نبی سے نبی ہی پیدا ہو تو ہر شخص نبی ہوتا، کہ سب حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں ہیں۔ [اسد الغابہ، ج: 1، ص: 155، ملخصاً]

امام نووی نے بھی تہذیب میں فرمایا کہ: یہ روایت ”کہ حضرت ابراہیم حیات رہتے تو نبی ہوتے“ باطل ہے غیب پر جسارت ہے۔ اس پر شیخ الاسلام حافظ ابن حجر نے فرمایا: امام نووی کا یہ انکار عجیب ہے جبکہ یہ روایت تین صحابہ سے مروی ہے شاید انھیں اس کی تاویل کی صورت نہ ملی۔ حالانکہ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قضیہ شرطیہ ہے جس کا وقوع لازم نہیں اور کسی صحابی پر گمان نہیں کیا جا سکتا کہ محض اپنے گمان سے کہہ دیں۔ [الاصابہ] فتح الباری میں فرمایا گیا کہ اگر یہ روایتیں امام نووی کے ذہن میں رہتیں تو ایسی بات نہ کرتے۔ [سبل الہدی والارشاد، ج: 11، ص: 461، مختصراً]

سورج گہن کا واقعہ:

اتفاق یہ کہ جس دن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا اسی دن سورج کو گہن لگا۔ دور جاہلیت میں لوگوں کا ایسا خیال تھا کہ ایسا کسی بڑی شخصیت کی وفات کے سبب ہوتا ہے۔ چنانچہ اس موقع پر بھی یہ بات لوگوں کی زبان پر آئی۔ ظاہر ہے لوگوں کی زبان پر یہ بات سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کے احترام میں آئی، دنیا دار ایسی باتوں پر خوش ہوتے ہیں کہ بیٹے کی عظمت کا سکہ مفت لوگوں کے دلوں پر بیٹھے کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن مقام رسالت اس طرح کے اوہام کو گوارا کرنے نہیں دیتا۔ اور حق بات زبان رسالت مآب سے جاری ہوتی ہے۔ خطبہ ارشاد ہوتا ہے، اس میں فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال غلط ہے، بلکہ سورج اور چاند اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں کسی کی موت و زیست سے اس کا تعلق نہیں۔

یہ واقعہ کب ہوا؟ شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ سن دس ہجری ربیع الاول شریف کی دسویں تاریخ کو ہوا۔ لیکن ماہرین حساب کہتے ہیں کہ وہ تاریخ 27 جنوری 632ء تھی جس کے مطابق قمری تاریخ 29 شوال دس ہجری تھی۔ کیونکہ سال دس ہجری کی ذو القعدہ کی پہلی تاریخ 29 جنوری بروز بدھ کو تھی۔ ذو القعدہ 29 کا مہینہ تھا اور پہلی ذو الحجہ 27 فروری بروز جمعرات اس طور پر کہ حجۃ الوداع شریف بروز جمعہ 6 مارچ کو ہوا۔ ان کے مطابق حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جزیرۃ العرب میں جتنے سورج گہن یا چاند گہن ہوئے ان کا ریکارڈ یہ ہے:

مکی دور:

  • 23 جولائی 613ء بروز پیر مقامی وقت کے مطابق دن کے دس بجے۔
  • 21 مئی 616ء بروز جمعہ مقامی وقت کے مطابق دن کے دس بجے۔
  • 4 نومبر 617ء بروز جمعہ مقامی وقت کے مطابق دن کے گیارہ بجے۔
  • 2 ستمبر 620ء بروز منگل مقامی وقت کے مطابق دن کے دس بجے۔

مدنی دور:

  • 21 اپریل 627ء بروز منگل مطابق 29 ذی القعدہ پانچویں ہجری مقامی وقت کے مطابق دن کے گیارہ بجے۔
  • 27 جنوری 632ء بروز پیر مطابق 29 شوال دسویں ہجری، مقامی وقت کے مطابق دن کے دس بجے۔

سورج گہن کے متعلق حدیث کا ارشاد:

اس واقعے کے بارے میں حدیث کی تمام کتابوں میں روایتوں کا ذخیرہ موجود ہے، لیکن عموماً یہ روایتیں اس واقعے کی تفصیلات نہیں دیتیں، بلکہ یہ آپ کے خطبے کی تفصیلات دیتی ہیں، اور بتاتی ہیں کہ صلوۃ الکسوف کیسے ادا کی جائے؟ ہم ذیل میں انھیں روایات کے سہارے کچھ حقائق معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

بخاری شریف کتاب الکسوف میں ہے:

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ فَصَلُّوا وَادْعُوا اللهَ.

یعنی آقا علیہ السلام کے زمانے میں سورج گہن آلود ہوا اس دن جس دن آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی تو لوگ کہنے لگے کہ ایسا حضرت ابراہیم کی موت کے سبب ہوا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کی موت و حیات سے گہن نہیں لگتا، جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ تعالی سے دعا کرو۔ [بخاری شریف، کتاب الکسوف]

یہ بات قابل غور ہے کہ اس دن پہلے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا پھر سورج میں گہن لگا؟ یا پہلے سورج گہن ہوا، پھر ان کا انتقال ہوا۔ پہلی صورت میں اس عقیدت کا مفہوم یہ ہوگا کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال کے غم میں سورج بھی شریک ہوگیا۔ اور دوسری صورت میں یہ جاہلی واہمہ ہوگا کہ آسمان کے کواکب پر جو کچھ تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کے نتیجے میں زمین پر بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ پہلے کیا ہوا اس کی تحقیق کچھ قرائن نیز حدیث کے الفاظ ”لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ“ میں غور و خوض کے ذریعے کی جا سکتی ہے کہ لام علت پر داخل ہے یا معلول پر؟ جس اہتمام کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قول کی تردید کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے سورج گہن لگا پھر انتقال ہوا۔ کیونکہ آپ نے اس بات کا دوسرے موقعوں پر بھی شدت سے رد کیا ہے کہ کواکب کے تغیرات سے زمین میں خیر و شر کے واقعات ہوتے ہیں۔

بخاری شریف میں ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے کہ سورج گہن ہوا تو آپ چادر شریف گھسیٹتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے اور ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ [بخاری، باب الکسوف، رقم: 1040]

مسلم شریف میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ سورج گہن آلود ہوا تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور قمیص کے بجائے زرہ پہن لی۔ فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعٍ حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ. [مسلم شریف، کتاب الکسوف، فتح الباری، ج: 2، ص: 669]

اس گھبراہٹ کا سبب خشیت الہی تھا جس پر دلیل بخاری شریف کی حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی یہ حدیث ہے:

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّ اللهَ تَعَالَى يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ.

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں، انھیں کسی کی موت کے سبب گہن نہیں لگتا، بلکہ اللہ تعالی ان سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔ [بخاری، کتاب الکسوف]

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس بات کا خوف تھا۔ اس کا حل حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک روایت سے یہ ملتا ہے کہ یہ قیامت کا خوف تھا۔ اس کی تخریج امام طحاوی نے کی، فرماتے ہیں کہ عہد رسالت مآب میں سورج گہن ہوا تو گھبراہٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے کہ کہیں قیامت تو نہیں حتی کہ مسجد میں تشریف لائے اور طویل ترین قیام و رکوع و سجود والی نماز ادا کی اتنی طویل میں نے کبھی نہ دیکھی، پھر فرمایا: یہ نشانیاں ہیں جنھیں اللہ تعالی بھیجتا ہے، کسی کی موت و زیست کے سبب ایسا نہیں ہوا، بلکہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔ جب تم کچھ ایسا دیکھو تو گھبرا کر اللہ تعالی کے ذکر و دعا و استغفار کی طرف بڑھو۔ طحاوی شریف کی روایت یہ ہے:

عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يُخَوِّفُ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ. [شرح معانی الآثار، باب صلوۃ الکسوف کیف ھی]

مسند امام احمد بن حنبل میں جو تفصیل ہے اس میں یہ ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو اس میں یہ بھی فرمایا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ گہن اور ستاروں کا اپنے مطالع سے ادھر ادھر ہونا یہ بڑے لوگوں کی موت کے سبب ہوتا ہے، یہ غلط ہے، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ ان میں کون توبہ کرتا ہے، قسم اللہ کی، میں نے ابھی نماز میں وہ سب دیکھ لیا جس کا تم اپنی دنیا و آخرت میں سامنا کروگے۔ [مسند امام احمد، رقم: 20178] [ماخوذ از: ماہ نامہ پیغام شریعت دہلی، جون 2016ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!