Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

گمراہ کون ؟ (قسط دوم)

جماعت اہل حدیث (غیر مقلدین) کا مختصر تعارف
عنوان: جماعت اہل حدیث (غیر مقلدین) کا مختصر تعارف
تحریر: مولانا سید احمد رضا، مولانا صدام حسین
پیش کش: جامعہ رضائے مصطفیٰ، رائچور

جماعت اہل حدیث (غیر مقلدین) کا مختصر تعارف

اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک گمراہ اور بددین فرقوں میں سے ایک ”فرقۂ وہابیہ“ ہے، جس کو اہل حدیث، غیر مقلد، سلفی یا نجدی کہا جاتا ہے۔ اس فرقہ کے بھی بہت سارے عقائد کفریہ ہیں، جن کا بیان ہم آگے کریں گے۔ اس فرقۂ اہل حدیث کی فکری بنیاد تقی الدین احمد بن تیمیہ حرانی نے ڈالی؛ پھر کئی صدیوں کے بعد انگریزی سازش کا شکار ہو کر محمد بن عبدالوہاب نجدی نے جزیرۃ العرب میں ابن تیمیہ کے افکار و خیالات کو عملی شکل دی اور باقاعدہ وہابیت اور نجدیت کی ابتدا کی۔ پھر اس سے متاثر ہو کر برصغیر ہندو پاک میں اسماعیل دہلوی نے ان عقائدِ باطلہ کو اردو زبان میں پھیلایا اور ان کی خوب تشہیر کی۔

جماعت اہل حدیث کے بانیان

ابن تیمیہ: نام تقی الدین احمد ہے، مگر اس نے اپنی کنیت ابن تیمیہ سے شہرت پائی۔ ۶۶۱ھ (۱۲۶۳ء) میں حران، ترکی میں پیدا ہوا اور سات سال کی عمر میں دمشق (ملکِ شام) کو ہجرت کر گیا، وہیں تعلیم حاصل کی اور اسی جگہ کو میدانِ عمل بنایا۔ جب اس کا یہ باطل نظریہ سامنے آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر کے لیے سفر کرنا ناجائز بلکہ سفرِ معصیت ہے، تو اس دور کے علما نے حاکمِ وقت سے اس کے قتل کی درخواست کی۔ نتیجے میں دمشق کے قید خانے میں قید کر دیا گیا، یہاں تک کہ ۷۲۸ھ کو قید خانے میں مر گیا۔ [ماخوذ از: تقدیم ازالۃ الفریب، ص: ۲۱]

محمد بن عبدالوہاب نجدی: ۱۱۱۵ھ (۱۷۰۳ء) میں پیدا ہوا اور ۱۲۰۶ھ (۱۷۹۲ء) میں مر گیا۔ اس کی اصل بنی تمیم سے ہے۔ علماے مدینہ نے اس میں گمراہی محسوس کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ شخص عنقریب گمراہ ہوگا۔ اس کے والد عبدالوہاب اور بھائی سلیمان بن عبدالوہاب بھی اس کے گندے عقائد سے نفرت کرتے تھے، یہاں تک کہ بھائی نے اس کے رد میں ”الصواعق الإلهية في الرد على الوهابية“ نامی کتاب بھی لکھی۔ اس نے مسلمانوں کی تکفیر میں ان آیات سے استدلال کیا جو مشرکین کے حق میں نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو کافر قرار دیا۔

بقول انور شاہ کشمیری: ”ابن عبدالوہاب نجدی ایک بے وقوف اور کم علم شخص تھا، کافر کہنے کے حکم میں جلد بازی کرتا تھا“۔ محمد بن عبدالوہاب نجدی، ابن تیمیہ کی کتابیں پڑھ کر اس کی فکر سے متاثر ہوا اور اسے اپنا کر عام بھی کیا۔ جماعت اہل حدیث کے پیروکاروں کو ”نجدی“ جو کہا جاتا ہے، وہ اسی ابن عبدالوہاب نجدی کی طرف نسبت کرتے ہوئے کہا جاتا ہے۔ [ماخوذ از: ازالۃ الفریب، فتنوں کا ظہور]

اسماعیل دہلوی: ۱۱۹۳ھ (۱۷۷۹ء) کو دہلی میں پیدا ہوا، اس نے سید احمد بن عرفان کی صحبت اختیار کی اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اسماعیل دہلوی، محمد بن عبدالوہاب نجدی کے وہابیانہ افکار سے متاثر تھا اور شیخِ نجدی کی ”کتاب التوحید“ کے افکار و نظریات پر مشتمل ”تقویۃ الایمان“ نامی کتاب تیار کی، جس کو انگریزوں نے چھپوا کر تقسیم کروایا؛ اس طرح ہندوستان میں وہابی تحریک کا آغاز ہوا۔ ۱۲۴۶ھ میں افغانیوں کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ [ماخوذ از: فتنوں کا ظہور، ص: ۸۸]

جماعت اہل حدیث کے مشہور پیشوا

(۱) عبدالحق بنارسی (۲) میاں نذیر حسین دہلوی (۳) نواب صدیق حسن بھوپالی (۴) ڈپٹی نذیر احمد دہلوی (۵) مولوی ثناء اللہ امرتسری (۶) شیخ ناصر الدین البانی (۷) نواب وحید الزماں حیدرآبادی۔

جماعت اہل حدیث کے عقائدِ باطلہ اور اہلِ سنت کے عقائدِ حقہ

عقیدہ (۱)

مولوی اسماعیل دہلوی نے ”تقویۃ الایمان“ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے لکھا کہ حضور کی مراد یہ تھی کہ ”میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں، تو کب سجدہ کے لائق ہوں؟“ [تقویۃ الایمان، ص: ۲۵]

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء فنبي الله حي يرزق“ (بے شک اللہ نے زمین پر حرام کیا ہے کہ پیغمبروں کے بدن کھائے، لہٰذا اللہ کے نبی زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں)۔ [ابن ماجہ، حدیث: ۱۶۳۷]

اہلِ سنت کا عقیدہ: انبیا علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اسی طرح اصلی حیات کے ساتھ زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں۔ [بہارِ شریعت، ج: ۱، ص: ۵۸]

عقیدہ (۲)

محمد بن عبدالوہاب نجدی لکھتے ہیں کہ قبر والوں کو پکارنا، ان سے مدد طلب کرنا اور ان سے دنیوی و اخروی ضرورتیں مانگنا شرکِ اکبر ہے؛ چاہے یہ عقیدہ رکھے کہ وہ خود مدد کرتے ہیں یا وسیلہ بنتے ہیں۔ [کتاب التوحید، ص: ۸۳]

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَةَ﴾ [المائدہ: ۳۵] (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو)۔

اہلِ سنت کا عقیدہ: اہل قبور سے مدد چاہنا جائز ہے۔ بذاتِ خود نفع و نقصان کا پہنچانے والا اللہ ہے، اور انبیا و اولیا اللہ کی دی ہوئی قوت سے مدد کرتے ہیں۔ [فیصلہ حق و باطل، ص: ۹۱]

عقیدہ (۳)

نواب وحید الزماں حیدرآبادی نے لکھا کہ ہندوؤں کے رام چندر، لچھمن، کشن اور چین کے بدھا وغیرہ کو نبی تسلیم کرنا ہم پر واجب ہے۔ [ہدیۃ المہدی، ص: ۱۵۵]

اہلِ سنت کا عقیدہ: نبی اس بشر کو کہتے ہیں جس کی طرف اللہ عزوجل نے وحی بھیجی ہو۔ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے۔ نبی کو نبی نہ ماننا یا غیر نبی کو نبی ماننا دونوں ہی کفر ہے۔ [بہارِ شریعت، ج: ۱]

عقیدہ (۴)

نواب وحید الزماں نے لکھا کہ کسی ایک امام کی تقلید کو واجب قرار دینا خرافات و بدعت ہے۔ [ہدیۃ المہدی، ص: ۲۱۵]

اہلِ سنت کا عقیدہ: تقلید پر امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے؛ جو مذاہبِ اربعہ (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) سے خارج ہوگا، وہ بدعتی ہے۔ [حاشیہ طحطاوی]

جماعت اہل حدیث کی چند گستاخانہ عبارتیں

  1. ہر مخلوق اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔ [تقویۃ الایمان، ص: ۱۸]
  2. انبیا اور اولیا اللہ کے بے بس بندے ہیں اور ہمارے بڑے بھائی کی طرح ہیں۔ [تقویۃ الایمان، ص: ۱۱۱]
  3. نماز میں حضور کا خیال لانا اپنے بیل اور گدھے کے خیال میں ڈوبنے سے برا ہے۔ [صراطِ مستقیم، ص: ۱۳۸]
  4. نبی کو نہ اپنا حال معلوم ہے نہ دوسروں کا۔ [تقویۃ الایمان، ص: ۶۵]

جماعت اہل حدیث کے متعلق حکمِ شرع

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ ”وہابی ایک بے دین فرقہ ہے جو محبوبانِ خدا کی تعظیم سے جلتا ہے اور طرح طرح کے حیلوں سے ان کے ذکر و تعظیم کو مٹانا چاہتا ہے“۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۹، ص: ۹۵]


عنوان: گمراہ کون؟ (قسط دوم)
تحریر: مولانا سید احمد رضا، مولانا صدام حسین
پیش کش: جامعہ رضائے مصطفیٰ، رائچور

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!