| عنوان: | اللہ دیکھ رہا ہے (قسط:اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد اسلم رضا میمن |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
انسان چاہے خلوت میں ہو یا جلوت میں، اکیلے ہو یا لوگوں کے جھرمٹ میں، چھپ کر عمل کرے یا ظاہر میں، الغرض جو کچھ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عمل سے باخبر اور اس کا نگہبان ہے، دلوں کے پوشیدہ راز جانتا ہے، زمین و آسمان میں کوئی ذرہ برابر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں، نیک اعمال پر جزا دیتا ہے اور گنہگاروں کو توبہ کے لیے ڈھیل دیتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا [النساء: 1] ”اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔“
مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں یہ بات راسخ کر لے، کہ میرا کوئی عمل اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں، لہٰذا چاہیے کہ اپنے مالکِ حقیقی اللہ کی یاد کو ہر وقت اپنے دل میں بسائے رکھے اور یقینِ کامل رکھے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے! اللہ دیکھ رہا ہے! ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ [البقرۃ: 265] ”اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔“
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: إِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ [النحل: 91] ”یقیناً اللہ تمہارے کام جانتا ہے۔“
اللہ تعالیٰ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے
اللہ رب العالمین ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور ہمارا حال ہم سے زیادہ جانتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ مَّا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ [ق: 16-18] ”یقیناً آدمی کو ہم نے پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ ان کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں (یعنی ہم بندے کے حال کو خود اس سے زیادہ جانتے ہیں) جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے (یعنی انسان کا ہر عمل لکھنے والے دو فرشتے) ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں، جب بھی بندہ اپنی زبان سے کوئی (اچھی یا بری) بات نکالتا ہے اسے لکھنے کے لیے اس کے پاس ایک محافظ (فرشتہ) تیار بیٹھا ہوتا ہے۔“
اللہ تعالیٰ ہمارے کام دیکھ رہا ہے
ہم جہاں کہیں اور جس حال میں بھی ہوں، اللہ تعالیٰ ہمارے سب کام دیکھ رہا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ [الحدید: 4] ”وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں بھی ہو، اور اللہ تمہارے سب کام دیکھ رہا ہے۔“
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: عَالِمٌ بِكُمْ أَيْنَمَا كُنْتُمْ ”تم جہاں بھی ہو وہ تمہیں جانتا ہے۔“
حضرت سیدنا عبادہ بن صامت سے روایت ہے، سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ إِيْمَانِ الْمَرْءِ أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى مَعَهُ حَيْثُ كَانَ ”آدمی کا افضل ترین ایمان یہ ہے کہ وہ اس بات کا یقین رکھے کہ جہاں بھی ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔“
فکرِ آخرت کا حکم
خدا نخواستہ اگر دل میں گناہ کرنے کا خیال پیدا ہو، تو خود کو ذہن نشین کرائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کی کیفیت، خیالات اور ہر گناہ سے آگاہ ہے، لہٰذا اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی اور گناہ کیا، تو بروزِ قیامت اس کے باعث ہماری سخت پکڑ ہوگی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰهَ إِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ [الحشر: 18] ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجا اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔“
حافظ ابنِ کثیر اللہ تعالیٰ کے فرمان ”ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے آگے کیا بھیجا“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور دیکھو کہ تم نے کل بروزِ قیامت مالک کی بارگاہ میں حاضری کے لیے، اعمالِ صالحہ کا کون سا ذخیرہ تیار کر رکھا ہے؟! تم جان لو کہ وہ تمہارے تمام اعمال اور احوال سے خوب آگاہ ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، تمہارے چھوٹے بڑے سب اعمال اس کے سامنے ہیں۔“
ہر عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا
اللہ کریم کی رحمت نیک بندوں کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے، آج انسان جو بھی عمل کرتا ہے، بروزِ قیامت اسے دیکھے گا اور اس پر ذرہ برابر بھی ظلم و زیادتی نہیں ہوگی، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کے اعمال ملاحظہ فرما رہا ہے، ارشاد فرماتا ہے: وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ [الانبیاء: 47] ”قیامت کے دن ہم عدل و انصاف کی ترازو رکھیں گے، تو کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا اور اگر کوئی عمل رائی کے دانے برابر ہو تو ہم اسے بھی لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں۔“
اس تصور سے ایک سچے مسلمان کے دل کے تمام گوشے خالقِ کائنات جل جلالہ کی یاد سے معمور ہو جاتے ہیں اور رگ رگ میں یہ بات سما جاتی ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے! اللہ دیکھ رہا ہے، تو دنیا کی ہوس، لالچ اور دیگر گناہوں کی چاہت اس کے دل سے نکل جاتی ہے، قلب و ذہن پر پڑے پردے دور ہو جاتے ہیں، اللہ کے نور سے اس کا دل روشن و منور ہو جاتا ہے۔
حضرت سیدنا لقمان کی وصیت
حضرت سیدنا لقمان کے بیٹے نے پوچھا کہ ابا جان! اگر تنہائی میں چھپ کر گناہ کیے جائیں تو رب تعالیٰ کیسے جانے گا؟ اس کے جواب میں آپ نے اپنے بیٹے کو جس طرح سمجھایا، اسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں یوں بیان فرمایا: يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ [لقمان: 16] ”اے میرے بیٹے! برائی اگر رائی کے دانے برابر ہو، پھر وہ پتھر کی چٹان میں ہو، یا آسمان و زمین کے کسی حصے میں، اللہ اسے بھی لے آئے گا، یقیناً اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے۔“
یعنی نیکی یا بدی کیسی ہی معمولی ہو اور کیسے ہی پوشیدہ مقام پر کی جائے، بروزِ قیامت بندے پر ظاہر کر دی جائے گی، اس کا حساب ضرور ہوگا، یعنی اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر حال میں تمہارے ہر عمل سے خبردار ہے۔
چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ
وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
ارے او مجرمِ بے پروا دیکھ
سر پہ تلوار ہے، کیا ہونا ہے
عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو
خالقِ کائنات جل جلالہ اپنی ساری مخلوق سے باخبر ہے، وہ ہمیں دیکھتا بھی ہے اور ہماری باتیں سنتا بھی ہے اور ہماری دلی کیفیات سے بھی واقف ہے، لہٰذا ہر ایک کو چاہیے کہ جلوت و خلوت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور ان چیزوں سے دور رہے جن سے اللہ رب العالمین نے منع فرمایا ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ احسان کیا ہے؟ فرمایا: احسان یہ ہے: أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ”کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تمہیں یہ کیفیت نصیب نہیں تو یہی یقین پیدا کر لو، کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“
حضرت امام ابنِ حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ احسان کے پہلے مرتبہ کا مطلب یہ ہے کہ ”مسلمان کے دل پر معرفتِ الہیہ کا اس قدر غلبہ ہو اور وہ مشاہدہِ حق میں اس طرح کھو جائے کہ گویا اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے“ اور دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ معرفتِ الہیہ کے اس مقام پر اگرچہ نہ ہو کہ اللہ کو دیکھے، مگر اس کے ذہن میں ہر وقت یہ بات موجود رہے کہ ”وہ جو بھی عمل کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔“ اس طرح عبادت کے دو درجے ہو گئے: ایک یہ کہ ”عبادت کے وقت یہ خیال جما رہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں“، دوسرا درجہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔“ جب ایک مسلمان کو یہ درجہ نصیب ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ظاہر و باطن کو دیکھ رہا ہے، آنکھوں کی چوری سے لے کر سینے کے اندر تک مطلع ہے، دل کی دھڑکنوں کے ساتھ خطرات بھی اس سے پوشیدہ نہیں، تو پھر دل میں بغاوت، سرکشی، حکم عدولی، اطاعت چھوڑنے اور اس کے آداب و شرائط میں کمی کرنے کا، یا کسی گناہ کا خیال بھی نہیں آ سکے گا۔
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مبارک نے ایک شخص سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتے رہا کرو! اس نے اس کی وضاحت کے بارے میں سوال کیا، آپ نے فرمایا: ”ہمیشہ اس طرح رہو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو“، یعنی ہمیشہ اپنے اعمال پر اللہ تعالیٰ کو نگہبان تصور کیے رہو!
رمضان المبارک میں ایک ماہ لگاتار روزوں کی مشق سے، رمضان شریف گزر جانے کے بعد بھی کچھ کھاتے پیتے وقت اچانک خیال آتا ہے، کہ میرا تو روزہ ہے اور یہ کیفیت بعدِ رمضان بھی کئی دنوں تک باقی رہتی ہے، بالکل اسی طرح جب مسلمان ہر وقت یہ تصور رکھے گا کہ ”مجھے اللہ دیکھ رہا ہے“ تو جب کسی ممنوع چیز کی طرف قدم بڑھے گا، یہ تصور اس کے قدم روک دے گا۔
[سنی دنیا، جولائی 2023ء، ص: 20]
