| عنوان: | مروجہ تعزیہ اور مراسمِ محرم علما و محدثین کی نظر میں |
|---|---|
| تحریر: | مولانا طفیل احمد مصباحی |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
محرم الحرام بڑی عزت و حرمت اور عظمت و کرامت والا مہینہ ہے، اسلامی مہینوں میں محرم الحرام پہلا مہینہ ہے، قرآنِ مقدس میں جن چار مہینوں کو عزت و حرمت والا مہینہ کہا گیا ہے، ان میں سے ایک ماہِ محرم بھی ہے، لوگ زمانہِ جاہلیت میں بھی محرم الحرام کی عزت و احترام کیا کرتے تھے اور اس کی حرمت و تقدس کا خیال کرتے ہوئے اس میں جنگ و جدال سے پرہیز کیا کرتے تھے، حدیثِ پاک میں محرم کو اللہ کا مہینہ بتایا گیا ہے، اس طرح محرم الحرام کی دسویں تاریخ ”عاشور“ کو بے پناہ فضائل و خصوصیات حاصل ہیں، مسلم شریف کی حدیث ہے:
مَنْ صَامَ عَاشُوْرَاءَ غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ
یعنی عاشورا کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ [مسلم شریف، کتاب الصیام، حدیث: 1162، ص: 589، بیروت]
جلیل القدر ناقد، محدث حضرت علامہ ابو الفرج عبد الرحمن بن جوزی قدس سرہ نے اپنی کتاب ”بستان الواعظین“ میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے:
”اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین، آسمان، سورج، چاند، ستارے، عرش، کرسی، لوح، قلم، جنت اور تمام فرشتوں کو محرم کی دسویں تاریخ یعنی عاشورا کے دن پیدا فرمایا، حضرت آدم و حوا، حضرت ابراہیم و حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی پیدائش اسی عاشورا کے دن ہوئی، عاشورا کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ گلزار ہوئی، اسی دن حضرت عیسیٰ و حضرت ادریس علیہما السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، عاشورا کے دن حضرت یوسف علیہ السلام قید سے نکالے گئے، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو حکومت و سلطنت عطا ہوئی اور اسی عاشورا کے دن سب سے پہلے آسمان سے بارش نازل ہوئی وغیرہ۔“ [بستان الواعظین، ص: 202-203، دار الکتاب العربی، بیروت]
اس روایت سے عاشورا کے دن کی اہمیت و فضیلت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں، جو دن اس قدر اہمیت و فضیلت والا ہو، اس دن کو لہو و لعب اور خرافات و لغویات میں گزارنا بہت افسوس اور کم نصیبی کی بات ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت عطا فرمائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم عاشورا کے دن زیادہ سے زیادہ نیک عمل کر کے ثواب حاصل کرتے اور زادِ آخرت تیار کرتے اور تعزیہ و دیگر مراسمِ محرم (جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے) سے دور و نفور رہتے، لیکن افسوس صد افسوس! ہم نے محرم الحرام کی عظمت و حرمت اور یومِ عاشورا کی فضیلت و کرامت کو فراموش کر دیا اور عاشورا کے دن اجر و ثواب کمانے کے بجائے عذاب و عتاب کا سامان مہیا کرنے میں لگ گئے، اللہ کی پناہ! مروجہ تعزیہ اور دیگر مراسمِ محرم سراسر ناجائز و حرام ہیں۔
مروجہ تعزیہ اور دیگر مراسمِ محرم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آئیے! علما و محدثین کے اقوال و ارشادات کی روشنی میں ان کی حرمت و عدمِ جواز ملاحظہ فرمائیں اور ناجائز مراسمِ محرم سے بچنے کی بھرپور کوشش کریں۔
نوحہ و ماتم اور سینہ کوبی
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے واقعہ کو یاد کر کے محرم کے مہینے میں اور خاص طور سے عاشورا کے دن نوحہ و ماتم اور چیخ و پکار کرنا بدعتِ سیئہ اور ناجائز و حرام ہے، مشہور محدث و مؤرخ علامہ حافظ ابن کثیر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
وقد أسرف الرافضة في دولة بني بويه في حدود الأربعمائة وما حولها، فكانت الدباب تضرب ببغداد ونحوها من البلاد في يوم عاشوراء، ويذر الرماد والتبن في الطرقات والأسواق وتعلق المسوح على الدكاكين ويظهر الناس الحزن والبكاء ... ثم يخرج النساء حاسرات عن وجوههن ينحن ويلطمن وجوههن وصدورهن حافيات في الأسواق إلى غير ذلك من البدع الشنيعة.
ترجمہ: رافضیوں (شیعوں) نے آلِ بویہ کے دورِ حکومت میں مسلم ممالک کے حدود و اطراف میں بڑا ادھم مچایا، بغداد اور دیگر ممالک میں عاشورا کے دن ڈھول اور تاشے بجائے جاتے، جن سے گلی کوچوں اور بازاروں میں دھول اور گھاس پھوس اڑتے، دکانوں پر ٹاٹ لٹکائے جاتے، لوگ غم و اندوہ کا پیکر بنے آہ و بکا کرتے، عورتیں چہرہ کھولے بازاروں میں نکلتیں اور نوحہ و ماتم کرتیں اور سینہ پیٹتے ہوئے اپنے چہروں پر طمانچے لگاتیں وغیرہ، غرض کہ عاشورا کے دن اس قسم کی خرافات اور بدعاتِ سیئات انجام دی جاتیں۔ [البدایۃ والنہایۃ، ج: 8، ص: 196، دار الحدیث قاہرہ، مصر]
علامہ ابن کثیر کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ محرم کے موقع پر ڈھول تاشے بجانا، نوحہ و ماتم، سینہ کوبی اور چہرے پر طمانچے مارنا وغیرہ بدعتِ سیئہ ہے اور بدعتِ سیئہ کا ارتکاب حرام و گناہ ہے، حدیثِ پاک میں جو فرمایا گیا: كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ کہ ہر بدعت گمراہی ہے، تو اس سے یہی ”بدعتِ سیئہ“ مراد ہے، علامہ ابن حجر ہیتمی قدس سرہ (استاذِ شہباز محمد بھاگلپوری) لکھتے ہیں:
وإياه ثم إياه أن يشغله ببدع الرافضة ونحوهم من الندب والنياحة والحزن إذ ليس ذلك من أخلاق المؤمنين وإلا لكان يوم وفاته أولى وأحرى.
ترجمہ: عاشورا کے دن شیعہ حضرات نوحہ و ماتم اور چیخ و پکار کی شکل میں جو بدعات و خرافات انجام دیتے ہیں، ان سے بچو، سختی کے ساتھ (بچو)، کیونکہ (یہ) مسلمانوں کا طریقہ نہیں۔ [الصواعق المحرقۃ، ص: 183، مکتبہ حقیقۃ ترکی]
اگر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر غم و ماتم کرنا جائز و درست ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ وفات پر غم و ماتم کرنا زیادہ اولیٰ اور لائق تر ہوتا، جب حضور سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کا غم و ماتم نہیں تو پھر امام حسین کی شہادت پر غم و ماتم کرنا کیسا؟ علامہ اسماعیل حقی حنفی فرماتے ہیں:
لا ينبغي للمؤمن أن يتشبه بيزيد الملعون في بعض الأفعال وبالشيعة والروافض والخوارج أيضا يعني لا يجعل ذلك اليوم يوم عيد أو يوم مأتم.
ترجمہ: مسلمان یزید، شیعہ، خوارج و روافض کی نقل نہ اتارے یعنی عاشورا کے دن کو خوشی کا (یا) ماتم کا دن نہ بنائے۔ [تفسیر روح البیان، ج: 4، ص: 162، مکتبہ اسلامیہ، کوئٹہ]
شاہ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:
”در روز عاشورا جز صوم و توسیع طعام ثابت نہ شدہ“
[مکتوبات شیخ عبد الحق محدث دہلوی، مع اخبار الاخیار، فارسی، ص: 108، کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند]
مروجہ تعزیہ
مسند الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ عاشورہِ محرم کے موقع پر تعزیہ بنانا، قبر و صورت اور علم وغیرہ تیار کرنا کیسا ہے؟ آپ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:
”تعزیہ داری در عشرہِ محرم و ساختنِ ضرایح و صورت و غیرہ درست نیست، زیرا کہ تعزیہ داری عبارت از ایں است کہ ترک لذائذ و ترک زینت کند و صورتِ محزون و غم گین نماید، یعنی مانندِ زنان سوگ دارد و مر در اہیچ جا ایں قسم در شرع ثابت نیست“
ترجمہ: عشرہِ محرم میں تعزیہ داری اور قبر و صورت وغیرہ بنانا جائز نہیں، کیونکہ تعزیہ داری کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ زینت و لذت ترک کر کے عورتوں کے مثل سوگ منایا جائے، غمگین اور رنجور و محزون کی صورت اختیار کی جائے اور شریعتِ مطہرہ میں مردوں کے لیے اس قسم کی تعزیہ داری ثابت نہیں۔ [فتاویٰ عزیزی، جلد اول، ص: 68، رحمن پبلشر، پشاور، پاکستان]
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی تین سطر کے بعد مزید لکھتے ہیں:
”نیز تعزیہ داری کہ ہم چوں مبتدعان می کنند بدعت است و ہم چنیں ساختنِ ضرایح و صورتِ قبور و علم و غیرہ ایں ہم بدعت است و ظاہر است کہ بدعتِ حسنہ کہ در آں ماخوذ نیست بلکہ بدعتِ سیئہ است و حالِ بدعتِ سیئہ ایں است کہ در حدیث وارد است ’شَرُّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ‘ و حالِ مبتدع کہ ایں قسم بدعتہا اختراع می کند آں است کہ بدعتِ او را در لعنِ خدا اسیر می کند و فرائض و نوافل او در درگاہِ الٰہی مقبول نیست۔“
ترجمہ: تعزیہ داری جیسا کہ بد مذہب اور بدعتی لوگ کرتے ہیں، یہ بدعت ہے، یوں ہی تابوت، قبروں کی صورت اور علم وغیرہ یہ بھی بدعت ہے اور ظاہر ہے کہ یہ بدعتِ سیئہ ہے، حدیثِ پاک کے مطابق بدعتِ سیئہ سب سے بری چیز ہے اور ہر بدعت (جو سنت کے خلاف ہو) ضلالت و گمراہی ہے، جو لوگ تعزیہ وغیرہ کی اس بدعت میں مبتلا ہیں اور اس قسم کی بدعت ایجاد کرتے ہیں، ان کا حکم یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کی لعنت میں گرفتار ہیں، خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے فرائض و نوافل قبول نہیں۔ [فتاویٰ عزیزی، جلد اول، ص: 69، رحمن پبلشر، پشاور، پاکستان]
مسلمانو! اس عبارت کو غور سے پڑھو اور بار بار پڑھو کہ مروجہ تعزیہ، تابوت، قبروں کی صورت اور علم وغیرہ بنانا، کس قدر گناہ کا کام ہے کہ اس غلط کام سے خدا کی لعنت ہوتی ہے اور بارگاہِ خداوندی میں ان خرافات کے سبب فرائض و واجبات قبول نہیں ہوتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری محدث بریلوی قدس سرہ مروجہ تعزیہ سے متعلق لکھتے ہیں:
”تعزیہ کی اصل اس قدر تھی کہ روضہِ پر نور حضور شہزادہِ گل گوں قبا حسین شہیدِ ظلم و جفا صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علی جدہ الکریم وعلیہ کی صحیح نقل بنا کر بہ نیتِ تبرک، مکان میں رکھنا، اس میں شرعاً کوئی حرج نہ تھا کہ تصویر مکانات وغیرہ ہر غیر جاندار کی بنانا، رکھنا سب جائز! اور ایسی چیزیں کہ معظمانِ دین کی طرف منسوب ہو کر عظمت پیدا کریں ان کی تمثال (شکل) بہ نیتِ تبرک پاس رکھنا قطعاً جائز، جیسے صدہا سال سے طبقہ فطبقہ (یکے بعد دیگرے) ائمہِ دین و علمائے معتمدین نعلین شریفِ حضور سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشے بناتے اور ان کے فوائد جلیلہ و منافع جزیلہ میں مستقل رسالے تصنیف فرمائے ہیں، جسے اشتباہ (شبہ) ہو امام علامہ تلمسانی کی ’فتح المتعال‘ وغیرہ کا مطالعہ کرے، مگر جہاں بے خرد (بے عقل جاہلوں) نے اس اصلِ جائز کو بالکل نیست و نابود کر کے صدہا خرافات وہ تراشیں کہ شریعتِ مطہرہ سے الامان الامان کی صدائیں آئیں، اول تو نفسِ تعزیہ میں روضہِ مبارک کی نقل ملحوظ نہ رہی، ہر جگہ نئی تراش، نئی گڑھت، جسے اس نقل سے کچھ علاقہ بہ نسبت، پھر کسی میں پریاں، کسی میں براق، کسی میں اور بے ہودہ طم طراق (دھوم دھام) پھر کوچہ بہ کوچہ، دشت بہ دشت، اشاعتِ غم کے لیے ان کا گشت اور ان کے گرد سینہ کوبی اور ماتم سازی کی شور افگن، کوئی ان تصویروں کو جھک جھک کر سلام کر رہا ہے، کوئی مشغولِ طواف، کوئی سجدے میں گرا ہے، کوئی ان مایہِ بدعات (سامانِ بدعات) کو معاذ اللہ جلوہ گاہِ حضرت امامِ عالی جدہ علیہ الصلوۃ والسلام سمجھ کر اس ابرک پنی سے مرادیں مانگتا ہے، منتیں مانتا ہے، حاجت روا جانتا ہے، پھر باقی تماشے، باجے، تاشے، مردوں عورتوں کا راتوں کو میل (اختلاط) اور طرح طرح کے بے ہودہ کھیل ان سب پر طرہ ہیں۔
غرض عشرہِ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعتِ پاک تک نہایت بابرکت و محلِ عبادت ٹھہرا ہوا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا، پھر وبالِ ابتداع (بدعت نکالنے کے وبال) کا وہ جوش ہوا کہ خیرات کو بھی بطورِ خیرات نہ رکھا، ریا و تفاخر علانیہ ہوتا ہے، پھر وہ بھی یہ نہیں کہ سیدھی طرح محتاجوں کو دیں بلکہ چھتوں پر بیٹھ کر پھینکیں گے، روٹیاں زمین پر گر رہی ہیں، رزقِ الٰہی کی بے ادبی ہوتی ہے، پیسے ریتے میں گر کر غائب ہوتے ہیں، مال کی اضاعت (بربادی) ہو رہی ہے مگر نام تو ہو گیا کہ فلاں صاحب لنگر لٹا رہے ہیں۔
اب بہارِ عشرہ کے پھول کھلے، تاشے باجے بجتے چلے، طرح طرح کے کھیلوں کی دھوم، بازاری عورتوں کا ہر طرف ہجوم، شہوانی میلوں کی پوری رسوم، جشن یہ کچھ! اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا یہ ساختہ تصویریں بعینہا حضرات شہدائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے جنازے ہیں۔ (پھر) کچھ نوچ اتار، باقی توڑ تاڑ کر دفن کر دیے، یہ ہر سال اضاعتِ مال (مال ضائع کرنے) کے جرم و وبال جداگانہ رہے، اللہ تعالیٰ صدقہ حضرات شہدائے کربلا علیہم الرضوان والثنا کا، ہمارے بھائیوں کو نیکیوں کی توفیق بخشے اور بری باتوں سے توبہ عطا فرمائے، آمین۔
اب کہ تعزیہ داری اس طریقہِ نامرضیہ (ناپسندیدہ) کا نام ہے، قطعاً بدعت و ناجائز و حرام ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، مترجم، ص: 512، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]
صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہ فرماتے ہیں:
”تعزیہ داری کہ واقعاتِ کربلا کے سلسلہ میں طرح طرح کے ڈھانچے بناتے اور ان کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضہِ پاک کی شبیہ کہتے ہیں، کہیں تخت بنائے جاتے ہیں، کہیں ضریح (گنبد نما) بنتی ہے اور علم اور شندے (جھنڈے یا نشان) نکالے جاتے ہیں، ڈھول تاشے اور قسم قسم کے باجے بجائے جاتے ہیں، تعزیوں کا بہت دھوم دھام سے گشت ہوتا ہے، آگے پیچھے ہونے میں جاہلیت کے سے جھگڑے ہوتے ہیں، کبھی درخت کی شاخیں کاٹی جاتی ہیں، کہیں چبوترے کھدوائے جاتے ہیں، تعزیوں سے منتیں مانی جاتی ہیں، سونے چاندی کے علم چڑھائے جاتے ہیں، ہار پھول، ناریل چڑھاتے ہیں، وہاں جوتے پہن کر جانے کو گناہ جانتے ہیں بلکہ اس شدت سے منع کرتے کہ گناہ پر بھی ایسی ممانعت نہیں کرتے، چھتری لگانے کو بہت برا جانتے ہیں، تعزیوں کے اندر دو مصنوعی قبریں بناتے ہیں، ایک پر سبز غلاف اور دوسری پر سرخ غلاف ڈالتے ہیں، سبز غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر اور سرخ غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر یا شبیہِ قبر بتاتے ہیں اور وہاں شربت، مالیدہ وغیرہ پر فاتحہ دلواتے ہیں، یہ تصور کر کے کہ حضرت امامِ عالی مقام کے روضہ اور مواجہہ اقدس میں فاتحہ دلا رہے ہیں۔
پھر یہ تعزیے دسویں تاریخ کو مصنوعی کربلا میں لے جا کر دفن کرتے ہیں گویا یہ جنازہ تھا جسے دفن کر آئے، پھر تیجہ، دسواں، چالیسواں سب کچھ کیا جاتا ہے اور ہر ایک خرافات پر مشتمل ہوتا ہے، حضرت قاسم کی مہندی نکالتے ہیں گویا ان کی شادی ہو رہی ہے اور مہندی رچائی جائے گی اور اس تعزیہ داری کے سلسلہ میں کوئی پیک (پیغام پہنچانے والا) بنتا ہے جس کی کمر سے گھنگرو بندھے ہوتے ہیں گویا یہ حضرت امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد اور ہرکارہ ہے جو یہاں سے خط لے کر ابنِ زیاد یا یزید کے پاس جائے گا اور وہ ہرکاروں (قاصدوں) کی طرح بھاگا پھرتا ہے۔
کسی بچے کو فقیر بنایا جاتا ہے، اس کے گلے میں جھولی ڈالتے ہیں اور گھر گھر اس سے بھیک منگواتے ہیں، کوئی سقہ (پانی بھرنے والا) بنایا جاتا ہے چھوٹی سی مشک اس کے کندھے سے لٹکتی ہے گویا یہ دریائے فرات سے پانی بھر کر لائے گا، کسی علم پر مشک لٹکتی ہے اور اس میں تیر لگا ہوتا ہے، گویا یہ حضرت عباس علمدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں کہ فرات سے پانی لا رہے ہیں اور یزیدیوں نے مشک کو تیر سے چھید دیا ہے، اس قسم کی بہت سی باتیں کی جاتی ہیں، یہ سب لغو خرافات ہیں ان سے ہرگز سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش نہیں، یہی تم خود غور کرو کہ انہوں نے احیائے دین و سنت کے لیے یہ زبردست قربانیاں کیں اور تم نے معاذ اللہ اس کو بدعات کا ذریعہ بنا لیا؟
بعض جگہ اس تعزیہ داری کے سلسلہ میں براق بنایا جاتا ہے جو عجب قسم کا مجسمہ ہوتا ہے کہ کچھ حصہ انسانی شکل کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ جانور کا سا، شاید یہ حضرت امامِ عالی مقام کی سواری کے لیے ایک جانور ہوگا، کہیں دلدل بنتا ہے، کہیں بڑی بڑی قبریں بنتی ہیں، بعض جگہ آدمی ریچھ، بندر، لنگور بنتے ہیں اور کودتے پھرتے ہیں جن کو اسلام تو اسلام انسانی تہذیب بھی جائز نہیں رکھتی، ایسی بری حرکت اسلام ہرگز جائز نہیں رکھتا۔ افسوس کہ محبتِ اہلِ بیتِ کرام کا دعویٰ اور ایسی بے جا حرکتیں! یہ واقعہ تمہارے لیے نصیحت تھا اور تم نے اس کو کھیل تماشا بنا لیا۔
اسی سلسلے میں نوحہ و ماتم بھی ہوتا ہے اور سینہ کوبی ہوتی ہے، اتنے زور زور سے سینہ کوٹتے ہیں کہ ورم ہو جاتا ہے، سینہ سرخ ہو جاتا ہے، بلکہ بعض جگہ زنجیروں اور چھریوں سے ماتم کرتے ہیں کہ سینے سے خون بہنے لگتا ہے، تعزیوں کے پاس مرثیہ پڑھا جاتا ہے اور تعزیہ جب گشت کو نکلتا ہے اس وقت بھی اس کے آگے مرثیہ پڑھا جاتا ہے، مرثیہ میں غلط واقعات نظم کیے جاتے ہیں، اہلِ بیتِ کرام کی بے حرمتی اور بے صبری اور جزع فزع کا ذکر کیا جاتا ہے اور چونکہ اکثر مرثیہ رافضیوں ہی کے ہیں، بعض میں تبرا بھی ہوتا ہے مگر اس روشنی میں سنی بھی اسے بے تکلف پڑھ جاتے ہیں اور انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں، یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں۔
اظہارِ غم کے لیے سر کے بال بکھیرتے ہیں، کپڑے پھاڑتے اور سر پر خاک ڈالتے اور بھوسا اڑاتے ہیں، یہ بھی ناجائز اور جاہلیت کے کام ہیں، ان سے بچنا نہایت ضروری ہے، احادیث میں ان کی سخت ممانعت آئی ہے، مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے امور سے پرہیز کریں اور ایسے کام کریں جن سے اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم راضی ہوں کہ یہی نجات کا راستہ ہے، تعزیوں اور علم کے ساتھ بعض لوگ لنگر لٹاتے ہیں یعنی روٹیاں یا بسکٹ یا اور کوئی چیز اونچی جگہ سے پھینکتے ہیں، یہ ناجائز ہے کہ رزق کی سخت بے حرمتی ہوتی ہے۔“ [بہارِ شریعت، حصہ: 16، ص: 247، ج: 3، مکتبۃ المدینہ، دہلی]
حضور سرکار مفتیِ اعظم ہند بریلوی فرماتے ہیں:
”تعزیہ داری جو شرعاً ناجائز ہے، اس کے لیے جبراً چندہ لینا کس قدر شنیع (بری) بات ہے۔“ [فتاویٰ مصطفویہ، ص: 535، مفتی اعظم ہند اکیڈمی، دھمتری]
تعزیہ اور دیگر مراسمِ محرم سے متعلق سرکار مفتیِ اعظم ہند سے استفتا ہوا، جس کا مضمون کچھ اس طرح ہے: محرم میں (لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ) صرف امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز ہونی چاہیے اور ہرے کپڑے پہننا چاہیے اور روٹی کے بسکٹ کا لنگر اوپر سے لٹانا چاہیے اور قلاوہ (پٹہ) جس میں سرخ اور ہرے گنڈے پڑے ہوتے ہیں، اس کو گلے میں پہننا چاہیے اور عطر وغیرہ نہ لگانا چاہیے اور عشرہ (سے) تیرہ تک گھر میں جھاڑو نہ دینا چاہیے اور کام بھی چھوڑ دینا چاہیے، حکم فرمایا جائے کہ مذکورہ بالا کام درست ہیں؟ سرکار مفتیِ اعظم ہند اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
”یہ سب باتیں غلط ہیں، محرمیوں (محرم منانے والوں) کے اختراع (ہیں)، ایسا کہنے اور کرنے والوں پر توبہ لازم۔“ [فتاویٰ مصطفویہ، ص: 532، مفتی اعظم ہند اکیڈمی، دھمتری]
خلیفہِ اعلیٰ حضرت مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ کا فتویٰ ملاحظہ کریں:
”ہندوستان کی مروجہ تعزیہ داری بلاشبہ بدعات و ممنوعات کا ایسا مجموعہ ہے کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔“ [خطبات محرم، ص: 471، مکتبہ خانہ امجدیہ، دہلی]
حضور شیرِ بیشہِ اہلِ سنت علامہ حشمت علی خاں پیلی بھیتی لکھتے ہیں:
”تعزیے بنانا، انہیں باجے تاشے کے ساتھ دھوم دھام سے اٹھانا، ان کی زیارت کرنا، ان کا ادب اور تعظیم کرنا، انہیں سلام کرنا، انہیں چومنا، ان کے آگے جھکنا اور آنکھوں سے لگانا، بچوں کو ہرے کپڑے پہنانا، گھر گھر بھیک منگوانا کربلا جانا وغیرہ شرعاً ناجائز و گناہ ہیں۔“ [شمع ہدایت، ص: 30، ج: 3]
اجمل العلما حضرت مفتی اجمل شاہ منجھلی فرماتے ہیں:
”عرف و رواج میں جس کا نام تعزیہ داری ہے، وہ بکثرت ممنوعاتِ شرعی پر مشتمل ہے تو ایسی تعزیہ داری ناجائز ہے۔“ [فتاویٰ اجملیہ، ص: 83، ج: 4، فاروقیہ بک ڈپو، دہلی]
ایک جگہ اور لکھتے ہیں:
”محرم میں ڈھول تاشہ بجانا اور ماتم کرنا حرام و ناجائز ہے اور مسجد کے قریب ان کا بجانا اشد حرام اور شرمناک جرات ہے۔“ [فتاویٰ اجملیہ، ص: 37، ج: 4، فاروقیہ بک ڈپو، دہلی]
جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی قدس سرہ فرماتے ہیں:
”مروجہ تعزیہ داری، ڈھول تاشا، باجا وغیرہ یزیدیوں کی نقل اور رافضیوں کا طریقہ ہے، یہ ناجائز و حرام ہے۔“ [فتاویٰ فیض الرسول، ص: 510، ج: 2، براؤں شریف، بستی]
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”فی زمانہ مروجہ تعزیہ بہت سے محرمات اور خرافات پر مشتمل ہے، اس لیے مروجہ تعزیہ داری ناجائز ہے۔“ [فتاویٰ نعیمیہ، ص: 773-774، مکتبہ جامِ نور، دہلی]
بحر العلوم حضرت مفتی عبد المنان عظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”چوک (امام باڑہ) اور تعزیہ داری سب ناجائز ہے، اس لیے وہاں فاتحہ دینا ناجائز ہے۔“ [فتاویٰ بحر العلوم، ص: 446، ج: 5، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
”مروجہ تعزیہ اور قوالی جائز نہیں۔“
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ ارقام فرماتے ہیں:
”تعزیہ کا جلوس، آگے پیچھے ڈھول تاشا، باجا، گاجا فلمی گیت، جاندار کی تصویر، عورتوں کا ہجوم اور اسی طرح کی دیگر خرافات جو آج کل تعزیہ داری میں کیے جاتے ہیں، ناجائز و حرام ہیں۔“ [فتاویٰ فیض الرسول، ص: 512، ج: 2، براؤں شریف، بستی]
اس کے بعد لکھتے ہیں:
”مسلمانانِ اہلِ سنت پر لازم ہے کہ اس قسم کی تعزیہ داری (مروجہ تعزیہ) میں کسی طرح ہرگز شریک نہ ہوں اور نہ اپنے اہلِ و عیال کو شرکت کی اجازت دیں، ورنہ گنہگار مستحقِ عذابِ نار ہوں گے۔“ [فتاویٰ فیض الرسول، ص: 513، ج: 2، براؤں شریف، بستی]
حجۃ السلف عمدۃ الخلف حضرت مفتی مطیع الرحمن ضیائی بھاگلپوری کا فتویٰ ہے:
”مروجہ تعزیہ سراسر ناجائز اور خالص فضول خرچی ہے۔“
حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ”خطبات محرم“، ص: 469 تا 474 پر مروجہ تعزیہ اور دیگر مراسمِ محرم کی حرمت و قباحت سے متعلق جو فتویٰ نقل کیا ہے، اس پر تقریباً 75 جلیل القدر علما اور مفتیانِ عظام کے دستخط اور تصدیقات موجود ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مروجہ تعزیہ کے حرام و ناجائز ہونے پر علمائے کرام کا اجماع و اتفاق ہے، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری محدث بریلوی قدس سرہ نے ہند و پاک کی مروجہ تعزیہ داری سے متعلق باضابطہ ایک رسالہ لکھا ہے اور اس کا نام ”أعالى الإفادة في تعزية الهند وبيان الشهادة“ رکھا ہے، اس مفید رسالے میں آپ نے تعزیہ اور محرم کے دیگر ناجائز مراسم و امور کے بارے میں بڑے مفصل اور مدلل انداز میں شریعتِ مطہرہ کے احکام بیان کیے ہیں، یہ مبارک رسالہ ”فتاویٰ رضویہ“ مترجم کی جلد 24 اور غیر مترجم فتاویٰ رضویہ کی نویں جلد میں موجود ہے، اس رسالے کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:
شیعوں کی مجلسِ مرثیہ خوانی میں شرکت
”مجلسِ مرثیہ خوانی اہلِ شیعہ میں اہلِ سنت و جماعت کو شریک و شامل ہونا حرام ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، مترجم، ص: 522، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]
تعزیہ بنانا اور اس پر نذر و نیاز کرنا
آج کل محرم شریف کے پہلے عشرے میں مسلمان تعزیہ بناتے ہیں اور تعزیہ کے سامنے نذر و نیاز کرتے ہیں، اسی طرح امام باڑہ کے پاس بھی نیاز و فاتحہ دیتے ہیں، اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا کہ تعزیہ بنانا اور اس پر نذر و نیاز کرنا، عرائض (درخواست) بہ امیدِ حاجت برآری لٹکانا اور بہ نیتِ بدعتِ حسنہ اس کو داخلِ حسنات جاننا کیسا ہے؟ جواب ارشاد فرماتے ہیں: ”افعالِ مذکورہ جس طرح عوامِ زمانہ میں رائج ہیں، بدعتِ سیئہ (جس کا کرنا حرام و گناہ اور باعثِ گمراہی ہے) و ممنوع و ناجائز ہیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، مترجم، ص: 527، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں:
”شیرینی و حلوہ، تعزیہ ہائے کہ مردم رو بروئے آں پیش کش نہند، مکروہ است۔“
ترجمہ: تعزیہ کے سامنے لوگ جو شیرینی اور حلوہ رکھتے ہیں (اور اس ہیئت کے ساتھ فاتحہ و نیاز دلاتے ہیں) یہ مکروہ ہے۔ [فتاویٰ عزیزی، ص: 106، ج: 2، رحمن پبلیکیشنز، پشاور، پاکستان]
شہادت نامہ پڑھنے کا حکم
آج کل جو شہادت نامہ (امام حسین کی شہادت سے متعلق منظوم کلام) پڑھا جاتا ہے، اس میں اکثر غلط سلط روایات اور بے سر و پیر کی باتیں ہوا کرتی ہیں، اس قسم کا ”شہادت نامہ“ پڑھنا ناجائز و گناہ ہے، ہاں! شہادت نامہ صحیح روایات اور درست واقعاتِ کربلا پر مشتمل ہو تو اسے پڑھنا جائز ہے، امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں:
”کتبِ شہادت (شہادت نامہ) جو آج کل رائج ہیں، اکثر حکایاتِ موضوعہ (گڑھی ہوئی حکایتیں) و روایاتِ باطلہ پر مشتمل ہیں، یوں ہی مرثیے ایسی چیزوں کا پڑھنا، سننا سب گناہ و حرام ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ص: 517، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]
ایک اور سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
”ذکرِ شہادتِ شریف جب کہ روایاتِ موضوعہ کلماتِ ممنوعہ (گڑھی ہوئی روایتوں اور ناجائز باتوں) و نیتِ نامشروعہ سے خالی ہو اسے پڑھنا اور سننا عینِ سعادت ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ص: 517، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]
مجلسِ اہلِ بیت منعقد کرنا
