| عنوان: | یومِ چہار شنبہ کے فضائل و معمولات (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی صابر القادری فیضی |
| پیش کش: | نازیہ احمدی ضیائی |
چہار شنبہ یعنی بدھ کا دن (کفار کے لیے) منحوس ہے، حضرت سیدنا علی اور حضرت سیدنا جابر اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم سے مرفوعاً روایت ہے کہ بدھ کا دن منحوس ہے اور حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماہ کا آخری بدھ دائمی منحوس ہے اور حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ قَالَ نَحْسٌ قِيْلَ وَكَيْفَ ذٰلِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غَرِقَ اللهُ تَعَالٰى فِيْهِ فِرْعَوْنَ وَأَهْلَكَ عَادًا وَّثَمُوْدَ.
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدھ کے دن کے متعلق پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا یہ دن منحوس ہے۔ عرض کیا گیا یہ کس طرح یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس دن فرعون کو غرق کیا اور عاد و ثمود کو ہلاک کیا۔ [تفسیرِ مدارک، غنیۃ الطالبین، ص: 73]
علمائے شرعِ متین فرماتے ہیں کہ بدھ کا دن منحوس ہے مگر کافروں کے لیے منحوس ہے اور مسلمانوں کے لیے مبارک دن ہے۔ [تفسیرِ صاوی، ج: 4، ص: 125]
کیونکہ بدھ کے دن کو یومِ نور فرمایا گیا ہے، واقعی مسلمانوں کے لیے یومِ نور ہے، اسی لیے بزرگانِ دین تدریس کی مجلس کا انعقاد بدھ کے دن فرماتے ہیں کیونکہ علم نور ہے تو اس کی ابتدا نور کے دن ہی مناسب ہے۔
چہار شنبہ کے دن ناخن کاٹنے کی فضیلت
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص بدھ کے روز ناخن کاٹے گا تو وسوسہِ شیطانی اس سے دور ہو جائیں گے اور امن و سلامتی حاصل ہوگی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن اپنے ناخن کاٹے اور مونچھیں تراشے اور اچھی طرح غسل کر کے مسجد کی طرف نماز پڑھنے کے لیے جائے تو اس کے ساتھ ہزار فرشتے چلتے ہیں اور سب کے سب خدا سے اس کی شفاعت اور اس کے لیے دعاءِ مغفرت کرتے ہیں۔
اعمش نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ ایک بار جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے میں دیر کی پھر کچھ مدت کے بعد حاضر ہوئے، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ اے خدا کے مقرب فرشتے اتنے عرصے تک تم کیوں نہیں آئے تو جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ ایسے لوگوں کے ہوتے ہوئے ہم لوگ نہیں آ سکتے جو کہ نہ ناخن کاٹتے ہیں نہ مونچھیں تراشتے ہیں اور نہ وضو کرنے میں اعضا اور نہ جوڑوں کو اچھی طرح سے دھوتے ہیں اور نہ مسواک کرتے ہیں پھر یہ آیت پڑھی وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ یعنی ہم اس وقت زمین پر اترتے ہیں جب ہمیں خداوندِ قدوس حکم دیتا ہے۔
ایک نیک عالمِ دین کا واقعہ
ایک نیک عالم بدھ کے روز ناخن تراشتا تھا اسے بتایا گیا کہ حدیثِ شریف میں بدھ کے دن ناخن تراشنا مکروہ فرمایا گیا ہے اس نے اس دن سے ناخن کاٹنا چھوڑ دیا پھر خیال آیا اور بدھ کے دن ناخن کاٹ لیے تو اسے برص کی بیماری لاحق ہو گئی، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی اسے خواب میں زیارت نصیب ہوئی، آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا تو نے میری نہیں سنی تھی؟ عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک آپ سے حدیث صحیح ثابت نہیں ہوئی، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا میری حدیث سننا ہی کافی تھا، پھر بطورِ شفقت اس کے بدن پر دستِ مبارک پھیرا تو برص کی بیماری بالکلیہ زائل ہو گئی۔ [فیض القدیر، ج: 1، ص: 46]
بدھ کے دن سینگی لگوانا اور رگ کٹوانا اچھا نہیں ہے، اس سے برص کی بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہے، حدیثِ شریف میں ہے کہ مَنِ احْتَجَمَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ يَوْمَ السَّبْتِ فَرَأٰى فِي جَسَدِهٖ وَضَحًا فَلَا يَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَهٗ یعنی جو شخص بدھ کے یا سنیچر کے روز سینگی لگوائے (اگر) اپنے جسم پر برص کو دیکھے تو اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔
حکایت: دیلمی راوی ہیں کہ ابو جعفر نیشاپوری نے ایک روز کہا کہ حجامت والی حدیث صحیح نہیں تو انہوں نے بدھ کے دن رگ کٹوائی تو ان کو برص کی بیماری لاحق ہو گئی۔ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا تو میں نے اپنی بیماری کی شکایت بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں کی تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں چاہیے کہ میری حدیث کی اہانت نہ کیا کرو یعنی تم نے میری حدیث سن کر اس کی مخالفت کی جب ہی تو اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہو۔ [جامع الصغیر، ج: 6، ص: 34]
چہار شنبہ کے دن کپڑا کاٹنے کی فضیلت
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کپڑا کاٹنے میں بھی احتیاط ضروری ہے بدھ کے دن کپڑا کاٹنے میں برکت ہے اور اس کپڑے کے ساتھ عمر بھی بڑھتی ہے۔ [علم الیقین، ص: 48]
یومِ چہار شنبہ کے اہم واقعات
خالقِ کائنات نے بدھ کے دن سات کافروں کو سات چیزوں سے ہلاک فرمایا:
- عوج بن عنق کو ہدہد کے ساتھ
- قارون کو خسف کے ساتھ
- فرعون اور اس کے لشکر کو دریا کے ساتھ
- نمرودِ ملعون کو مچھر کے ساتھ
- قومِ لوط کو سنگریزوں کے ساتھ
- شداد بن عاد کو حضرت جبریل علیہ السلام کی آواز کے ساتھ
- قومِ عاد کو ہوا کے ساتھ ہلاک فرمایا۔ [کتاب السبعات، ص: 80]
عوج بن عنق کے قتل کا بیان
بیان کرتے ہیں کہ عوج بن عنق کی عمر چار ہزار پانچ سو سال کی تھی، قد بہت دراز تھا اتنا لمبا کہ طوفانِ نوح علیہ السلام کا پانی اس کے گھٹنوں سے اوپر نہیں بڑھا، بیان کیا جاتا ہے کہ پہاڑ پر بیٹھ کر اپنا ہاتھ سمندر کی طرف دراز کرتا اور مچھلیاں پکڑ لیتا اور ان کو دھوپ میں بھون کر کھاتا جب اہلِ شہر پر غضب ناک ہوتا تو ان پر پیشاب کر دیتا جس میں وہ ڈوب جاتے۔ جب حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ میدانِ تیہ میں داخل ہوئے تو عوج نے ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لشکر کے پاس آیا تو دیکھا کہ لشکر ایک مربع فرسنگ میں پھیلا ہوا ہے اس نے ایک پہاڑ کو اکھاڑ کر اپنے سر پر رکھا تاکہ موسیٰ علیہ السلام کے لشکر پر پھینک کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دے تو اللہ تعالیٰ نے ہدہد کو الماس کے پتھر کے ساتھ بھیجا تو ہدہد نے اس پتھر کو اس پہاڑ پر رکھا جو عوج کے سر پر تھا خداوندِ قدوس کی قدرت سے الماس کے پتھر نے پہاڑ میں سوراخ کیا اور پھر اس کی گردن کو چیر دیا جس سے عوج ہلاک ہو گیا۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قدِ مبارک چالیس گز تھا اور ان کا عصا مبارک بھی چالیس گز کا تھا آپ نے چالیس گز ہوا میں چھلانگ لگائی اور عوج کو عصا مارا تو عصا اس کے ٹخنے کو لگا مگر اس کی ضرب اتنی شدید تھی کہ عوج گر کر مر گیا، عوج کو اس کی بلند قامت اور بے پناہ طاقت موت سے نہ بچا سکی، کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے:
اَلْمَوْتُ بَابٌ وَّكُلُّ النَّاسِ دَاخِلُهٗ
يَالَيْتَ شِعْرِيْ بَعْدَ الْبَابِ مَا الدَّارُ
اَلدَّارُ جَنَّةُ خُلْدٍ إِنْ عَمِلْتَ بِهَا
يُرْضِي الْإِلٰهَ وَإِنْ خَالَفْتَ فَالنَّارُ
هُمَا مَحَلَّانِ مَا لِلنَّاسِ غَيْرُهُمَا
فَانْظُرْ لِنَفْسِكَ أَيَّ الدَّارِ تَخْتَارُ
[ایضاً، ص: 81]
قارون کی ہلاکت کا بیان
قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یصھر کا بیٹا تھا بہت ہی خوبصورت تھا اسی لیے اس کو منور کہتے تھے اور بنی اسرائیل میں توریتِ شریف کا سب سے عمدہ قاری تھا، ناداری کے زمانے میں نہایت متواضع اور با اخلاق تھا، دولت ہاتھ آتے ہی اس کی حالت تبدیل ہو گئی اور سامری کی طرح منافق ہو گیا، قارون بھی بدھ کے روز ہلاک ہوا اس کی قدرے تفصیل یہ بیان کی جاتی ہے کہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار لے جانے کے بعد مذبح کی ریاست حضرت سیدنا ہارون علیہ السلام کو سپرد فرما دی۔
بنی اسرائیل اپنی قربانیاں حضرت سیدنا ہارون علیہ السلام کے پاس لاتے اور وہ مذبح میں رکھتے، آسمان سے آگ اتر کر اس کو کھا لیتی، قارون کو حضرت سیدنا ہارون علیہ السلام کے اس منصب پر رشک ہوا اس نے حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ رسالت تو آپ کی ہوئی اور قربانی سرداری حضرت ہارون علیہ السلام کی، میں کچھ نہ رہا باوجودیکہ میں توریت کا بہترین قاری ہوں میں اس پر صبر نہیں کر سکتا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ منصب حضرت ہارون کو میں نے نہیں دیا بلکہ خداوندِ قدوس نے دیا ہے قارون نے کہا کہ خدا کی قسم میں آپ کی تصدیق نہ کروں گا جب تک کہ آپ اس کا ثبوت مجھے نہ دکھا دیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے رؤسائے بنی اسرائیل کو جمع کر کے فرمایا کہ اپنی اپنی لاٹھیاں لے آؤ انہیں اپنے قبے میں جمع کیا، رات بھر بنی اسرائیل ان لاٹھیوں کا پہرہ دیتے رہے، صبح کو حضرت ہارون علیہ السلام کا عصا سرسبز و شاداب ہو گیا اور اس میں سے پتے نکل آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے قارون! تو نے دیکھا، قارون نے کہا یہ تو آپ کے جادو سے کوئی تعجب نہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے ساتھ مدارات کرتے تھے اور وہ آپ کو ہر وقت ایذا دیتا تھا اور اس کی سرکشی اور تکبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عداوت دم بدم ترقی پر تھی، اس نے ایک مکان بنایا جس کا دروازہ سونے کا تھا اور اس کی دیواروں پر سونے کے تختے نصب کیے گئے تھے، بنی اسرائیل صبح و شام اس کے پاس آتے کھانا کھاتے باتیں بناتے اسے ہنساتے اور جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو قارون آپ کے پاس آیا تو اس نے آپ سے طے کیا کہ درہم و دینار اور مویشی وغیرہ میں سے ہزارواں حصہ زکوٰۃ دے گا لیکن جب گھر جاکر حساب کیا تو اس کے مال میں سے اتنا بھی بہت زیادہ ہو رہا تھا اور اس کے نفس نے اتنی بھی ہمت نہ کی اور اس نے بنی اسرائیل کو جمع کر کے کہا کہ تم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہر بات میں اطاعت کی، اب وہ تمہارے مال لینا چاہتے ہیں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے بڑے ہیں آپ جو چاہیں حکم دیجیے کہنے لگا کہ فلانی بد چلن عورت کے پاس جاؤ اور اس سے ایک معاوضہ کر کہ وہ موسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگائے ایسا ہوا تو بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ دیں گے۔
چنانچہ قارون نے اس بد چلن عورت کو ہزار اشرفی روپیہ وعدہ کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگانے پر طے کیا، دوسرے روز بنی اسرائیل کو جمع کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بنی اسرائیل آپ کا انتظار کر رہے ہیں کہ آپ وعظ و نصیحت فرمائیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے اور بنی اسرائیل میں کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل جو چوری کرے گا اس کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور جو بہتان لگائے گا اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور جو زنا کرے گا تو اس کے اگر بیوی نہیں ہے تو اس کو سو کوڑے مارے جائیں گے اگر بیوی ہے تو اس کو سنگسار کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
قارون کہنے لگا کہ یہ حکم سب کے لیے ہے خواہ آپ ہی ہوں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خواہ میں ہی کیوں نہ ہوں، کہنے لگا بنی اسرائیل کا خیال ہے کہ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) آپ نے فلاں عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اسے بلاؤ، وہ آئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اس کی قسم جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا پھاڑا اور اس میں راستے بنائے اور توریتِ شریف نازل فرمائی سچ کہہ دے، وہ عورت ڈر گئی اور اللہ کے نبی علیہ السلام پر بہتان لگا کر انہیں ایذا دینے کی جرأت اسے نہ ہوئی اور اس نے اپنے دل میں کہا اس سے تو یہ کرنا بہتر ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا کہ جو کچھ قارون کہلانا چاہتا ہے اللہ عزوجل کی قسم یہ جھوٹ ہے اور اس نے آپ پر تہمت لگانے کے عوض میں میرے لیے بہت مالِ کثیر مقرر کیا ہے۔
تب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کے حضور روتے ہوئے سجدہ میں گرے اور یہ عرض کرنے لگے کہ یا رب! اگر میں تیرا رسول ہوں تو میری وجہ سے قارون پر غضب فرما، اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی کہ میں نے زمین کو آپ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا ہے، آپ اس کو جو چاہیں حکم دیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فرمایا: اے بنی اسرائیل! اللہ تعالیٰ نے مجھے قارون کی طرف بھیجا ہے جیسا کہ فرعون کی طرف بھیجا تھا جو قارون کا ساتھی ہو اس کے ساتھ اس کی جگہ ٹھہرا رہے اور جو میرے ساتھ ہو جدا ہو جائے، سب لوگ قارون سے جدا ہو گئے اور سوائے دو شخصوں کے کوئی اس کے ساتھ نہ رہا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا کہ انہیں پکڑ لے، قارون اور اس کے ساتھی گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے پھر آپ یہی فرماتے رہے حتیٰ کہ وہ لوگ گردنوں تک دھنس گئے اب وہ بہت منت و سماجت کرتے تھے اور قارون آپ کو اللہ کی قسمیں اور رشتہ و قرابت کے واسطے دیتا تھا مگر آپ نے التفات نہ فرمایا، یہاں تک کہ وہ دھنس گئے اور زمین برابر ہو گئی۔
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ قیامت تک دھنستے ہی چلے جائیں گے۔ بنی اسرائیل نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کے مکان اور اس کے خزائن و اموال کی وجہ سے اس کے لیے بد دعا کی ہے، یہ سن کر آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس کا مکان اور اس کے خزانے و اموال سب زمین میں دھنس گئے۔ [تفسیرِ خزائن العرفان وغیرہ]
خداوندِ قدوس اسی قارون کے متعلق فرماتا ہے:
فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ [سورۃ القصص: 81]
یعنی تو ہم نے اسے (قارون) اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔ [سنی دنیا، بریلی شریف، مئی 2018ء]
