Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دور سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ میں اسلام کا عروج ( قسط: اول)

دورِ سیدنا صدیقِ اکبر میں اسلام کا عروج (قسط: اول)
عنوان: دورِ سیدنا صدیقِ اکبر میں اسلام کا عروج (قسط: اول)
تحریر: محمد انس رضا حامی برکاتی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

جب ہم تاریخِ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافتِ راشدہ کے صبح آشنا افق کو دیکھتے ہیں تو ایک نام آفتاب کی طرح چمکتا ہے، ایک ذات مہتاب کی طرح جھلملاتی ہے اور ایک شخصیت گلزارِ خلافت میں خوشبو بن کر بسی ہوتی ہے۔

وہ نامِ مقدس یارِ غارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، رفیقِ مزار افضل الخلق بعد الانبیاء، عتیق و صدیقِ اکبر حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر عبداللہ بن ابی قحافہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہے، یہ وہ عظیم ذات ہے جس کے دورِ خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ پورا عہدِ خلافت دینِ حق کی تقویت، امت کی وحدت اور شریعت کی سربلندی کا عملی نمونہ بن گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کا ہر لمحہ دین کے استحکام کا مظہر بن گیا۔ یہ دور دراصل ثبات کا دور بھی ہے، فصلِ آزمائش کا دور بھی ہے، باطل کے انہدام کا موسم بھی ہے۔ وہ دور جس میں اسلام عرب سے کائناتی ریاست کی بنیادوں تک پہنچ گیا۔

اضطرابِ صحابہ

حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد کے لمحات قیامت سے کم نہ تھے، دل لرز گئے، زبانیں خاموش ہو گئیں، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے دل اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ایسے میں خلیفۂ اول، یارِ غار و مزار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذاتِ مبارکہ نے صحابہ کرام کو سنبھالا اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ امت کے لیے آبِ حیات ثابت ہوا، ارشاد فرمایا:

”مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّداً قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ“

ترجمہ: جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا وصالِ ظاہری ہو گیا اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

یہ اعلان دراصل امت کے ہوش و حواس کی واپسی کے لیے تھا، اس اعلان کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حقیقت کو قبول فرمایا اور دوسری ضروریات کی طرف توجہ فرمائی۔

الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْش

حضراتِ انصار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب صحیح فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے، تب بھی سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی ذاتِ پاک نے ان کو راہ دکھائی۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سب سے اہم معاملہ خلافت کا تھا۔ حضراتِ انصار، حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔

وہاں خلیفۂ اول سیدنا فاروقِ اعظم و سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْش“ (امام خاندانِ قریش سے ہی ہوں گے)۔

پس حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ ہاتھ دراز فرمائیں اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیعت فرمائی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بیعت فرمائی اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بنے۔ [اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج: ۴، ص: ۴۰۵]

مانعینِ زکوٰۃ سے اعلانِ جنگ

سرکار صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے مانعینِ زکوٰۃ سے اعلانِ جنگ فرمایا:

”وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا“

ترجمہ: اللہ کی قسم! میں ضرور ان لوگوں سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ لوگ مجھ سے ایک بکری کا بچہ بھی روک لیتے، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے لڑتا۔ [بخاری شریف، حدیث: ۱۴۰۰]

اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: پس اللہ کی قسم! یہ (فیصلہ) صرف اس وجہ سے تھا کہ اللہ نے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کا سینہ کھول دیا، تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔ [ایضاً]

علمائے اہلِ سنت فرماتے ہیں: اگر اس مرحلے پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نرمی فرماتے تو اسلام کی بنیادیں ہل جاتیں اور ہر حکمِ شرعی کے مقابلے میں گروہ اپنی اپنی تعبیرات نکال لیتے۔ [البدایہ والنہایہ]

مانعینِ زکوٰۃ سے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ کا ارادہ فرمایا تو اس پر سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ و دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں مشورہ پیش کیا کہ ابھی جنگ مناسب نہیں، توقف کریں! اس پر سرکار صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کن انداز میں فرمایا: ”وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ“۔ [صحیح البخاری، حدیث: ۱۳۹۹، تاریخ الخلفاء، ص: ۷۵]

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اٹھتے ہوئے اس فتنے کو روکا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی رہنمائی فرمائی۔

مدعیانِ نبوت کا خاتمہ

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چند خبیثوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، ان کے فتنے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔

اسود عنسی

ابہلہ بن کعب اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا یہ کہف حنان کا رہنے والا تھا۔ یمن وغیرہ پر قبضہ کیا اور معاملہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ صنعا و طائف پر بھی قابض ہوا۔ عمرو بن معدی کرب، قیس بن عبد، فیروز دیلمی یہ اس کے خاص لوگوں میں سے تھے۔ فیروز کی چچا زاد بہن سے نکاح کیا اور ایک روز حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ اسود کو قتل کر دیا گیا ہے۔ عرض کی گئی: کس نے؟ تو غیب داں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فیروز نے۔ دوسری روایت میں اسود کے قتل کی خبر خلافتِ صدیقی میں ربیع الاول کے آخری ایام میں موصول ہوئی۔ [البدایہ والنہایہ، ج: ۹، ص: ۲۲۹-۲۳۶]

مسیلمہ کذاب

اس بدبخت نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی مگر تابع نہ ہوا اور تقریباً ۱۱ھ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیلمہ کے اثرات بڑھنے لگے لیکن سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فوج کشی اس لیے نہیں فرمائی کہ اس وقت ساری توجہ اس طرف تھی کہ روم کے بڑھتے ہوئے اقتدار سے عرب کی حفاظت کیسے کی جائے۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں حضرت عکرمہ بن ابی جہل کی قیادت میں مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے ایک لشکر یمامہ روانہ فرمایا۔ چونکہ یہ لشکر ناکافی تھا پس شرحبیل بن حسنہ کی قیادت میں ایک اور لشکر روانہ فرمایا، حضرت عکرمہ نے یمامہ پہنچ کر شرحبیل کا انتظار کیے بغیر مسیلمہ پر حملہ کر دیا اور شکست سے دوچار ہوئے۔ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو جب شکست کی خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور شرحبیل کو اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا حکم دیا۔

مسیلمہ سے جنگ کرنے کے لیے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا۔ مسیلمہ کے پاس ۴۰ ہزار کا لشکر موجود تھا۔ شرحبیل نے بھی انتظار کیے بغیر مسیلمہ پر حملہ کیا اور ناکام ہوئے، حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ پہنچے جہاں قبل از جنگ مدینہ منورہ سے ایک اور لشکر برائے امداد روانہ کر دیا گیا تھا۔

سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ لشکر کے ساتھ ”عقربا“ پہنچے جہاں مسیلمہ اپنے لشکرِ جرار کے ساتھ خیمہ زن تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی فوج ترتیب دی اور دونوں لشکر کا آمنا سامنا ہوا، گھمسان کی جنگ ہوئی۔ بالآخر مسیلمہ حضرت وحشی بن حرب کے ہاتھوں قتل ہوا، حضرت وحشی وہی ہیں جنھوں نے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔ یہ جنگ ”جنگِ یمامہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ [تاریخ الخلفاء]

```text مضمون کا نام: پہلی قسط - دورِ سیدنا صدیقِ اکبر میں اسلام کا عروج رائٹر کا نام: محمد انس رضا حامی برکاتی پیش کش: بنت اسلم برکاتی
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!