Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اولاد کو درست عقائد سکھائیے

اولاد کو درست عقائد سکھائیے
عنوان: اولاد کو درست عقائد سکھائیے
تحریر: بنت سلیم عطاریہ

اولاد کو درست عقائد سکھائیے

عقیدہ ایمان کی بنیاد

عقیدہ مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے جس پر اس کی آخرت اور اعمال کی قبولیت کا دارومدار ہے۔ جس طرح ایک زمین کہ اگر بنجر ہو گی تو کتنا ہی بیج کیوں نہ ڈال دیا جائے، کوئی نفع نہ دے گی لیکن اگر زمین زرخیز ہو گی تو ضرور نفع حاصل ہو گا، یونہی اگر مسلمان کے عقائد درست ہوں گے تو اس کے اعمال بارگاہِ رب العزت میں مقبول ہوں گے وگرنہ اس کے نیک اعمال بھی کچھ نفع نہ دیں گے۔

مسلمانوں کی موجودہ حالت

لیکن مسلمانوں کی اکثریت بنیادی عقائد سے ہی نا آشنا ہے اور اپنی اولاد کی دینی تعلیم پر بھی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ تمام تر توجہ فقط دنیاوی تعلیم اور مال و منصب کے حصول پر ہوتی ہے۔

والدین کی ذمہ داری

والدین کی ذمہ داری ہے جس طرح اپنی اولاد کی دنیاوی زندگی کے لئے فکر مند ہیں، ان کی آخرت کے لئے بھی فکر مند ہوں۔ انھیں درست عقائد اور نیک اعمال کی تعلیم دیں۔

حضرت ابراہیم و یعقوب علیھما السلام کی اپنے بیٹوں کو وصیت

قرآن پاک میں الله رب العزت کا ارشاد ہے:

وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُؕ-یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ

ترجمہ کنزالایمان: اور ابراہیم اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو اسی دین کی وصیت کی کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا ہے تو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ [پارہ: 1، سورہ بقرہ، آیت: 132]

تفسیر صراط الجنان میں ہے:

اس سے معلوم ہوا کہ والدین کو صرف مال کے متعلق ہی وصیت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اولاد کو عقائدِ صحیحہ، اعمالِ صالحہ، دین کی عظمت، دین پر استقامت، نیکیوں پر مداومت اور گناہوں سے دور رہنے کی وصیت بھی کرنی چاہیے۔ اولاد کو دین سکھانا اور ان کی صحیح تربیت کرتے رہنا والدین کی ذمہ داری ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا فرمان مبارک

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک شخص سے فرمایا:

”اپنے بچے کی اچھی تربیت کرو کیونکہ تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کی کیسی تربیت کی اور تم نے اسے کیا سکھایا۔“ [شعب الایمان، الستون من شعب الایمان وہو باب فی حقوق الاولاد والاھلین، ج: 6، ص: 400، الحدیث: 8662]

کیا عقیدے کی بات کرنا فرقہ واریت پھیلانا ہے؟

افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بسا اوقات عقیدے کی بات کرنے کو فرقہ پرستی کا نام دے دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم فقط مسلمان ہیں ہمارا کسی فرقے سے تعلق نہیں۔ جبکہ الله پاک کے پیارے محبوب دانائے غیوب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ:

”بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹے تھے، میری اُمّت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے ایک جنّتی ہے، باقی سب جہنّم میں جائیں گے۔ پوچھا گیا: یارسول الله صلی الله تعالی علیه وسلم وہ جو ایک جنّتی ہو گا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: مَا اَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِی یعنی وہ گروہ جنّتی ہو گا جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر چلے گا۔“ [ترمذی، کتاب الایمان، باب ہذہ الامۃ، ص: 622، حدیث: 2641]

ایک دوسری جگہ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے:

سَبْعُوْنَ فِی النَّارِ وَ وَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَھِیَ الْجَمَاعَۃُ“ بہتر دوزخی اور ایک جنتی اور وہ بڑا گروہ ہے۔ [سنن ابو داود، کتاب السنۃ، شرح السنۃ، ج: 2، ص: 286، مکتب رحمانیہ لاہور]

یہ کہنا درست نہیں کہ ہمارا کسی سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ نجات کے لئے صحابہ کرام علیھم الرضوان کے طریقے کی پیروی ضروری ہے۔ ہمارے بزرگان دین، تابعین و تبع تابعین سب صحابہ کرام علیھم الرضوان کے عقائد اور انکے راستے پر تھے۔ اور جو بھی اہلسنت و جماعت سے الگ ہوا یا ہو گا وہ گمراہ ہے۔

اھل سنت و جماعت کے چہرے قیامت میں روشن ہوں گے

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے آیتِ کریمہ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: جن کے چہرے قیامت کے دن روشن ہوں گے وہ اہلِ سنت و جماعت ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی ارشاد فرمایا۔ [تفسیر خازن، ج: 1، ص: 286]

عقائد اہلسنت سیکھئے

افسوس کہ دورِ حاضر میں کئی گمراہ فرقے جنھوں نے اسلاف کے راستے کو چھوڑا، قرآن و حدیث کی من چاہی تشریح و تفسیر بیان کر کے مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ بعض بھولے بھالے مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہو کر گمراہ ہو جاتے، بعض ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے (الْعِیَاذُ بِاللّٰهِ)۔

اس کا ایک بہت بڑا سبب اسلاف کی تعلیمات سے نا آشنائی اور علمِ دین سے دوری ہے۔ اپنے عقائد سے متعلق معلومات ہونا اور صحیح و غلط کی پہچان بے حد ضروری ہے۔ عقائدِ اہلِ سنت خود بھی سیکھیے اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیے تاکہ موجودہ مسلمان اور آنے والی نسلوں کے دین و ایمان کی حفاظت ہو۔

کن عقائد و علوم کا سیکھنا فرض ہے؟

اعلی حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ الله علیه حدیث مبارکہ ”طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ“ کے تحت فرماتے ہیں:

سب میں اولین واہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادى عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمى صحیح العقیدہ سنى بنتا ہے اور جس کے انکار و مخالفت سے کافر یا گمراہ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد مسائل نماز یعنى اس کے فرائض و شرائط و مفسدات (ىعنى نماز توڑنے والى چیزىں) سیکھیں تاکہ نماز صحیح طور پر ادا کرسکے، پھر جب رمضان المبارک کى تشرىف آورى ہو تو روزوں کے مسائل، مالک نصاب نامى (ىعنى حقیقتا تو ہوگئى بڑھنے والے مال کے نصاب کا مالک) ہوجائے اور زکوۃ کے مسائل، صاحب استطاعت ہو تو مسائل حج، نکاح کرنا چاہے تو اس کے ضرورى مسائل، تاجر ہو تو خرید و فروخت کے مسائل، مزارع ىعنى کاشتکار (و زمیندار) ہو تو کھیتى باڑى کے مسائل، ملازم ہے اور ملازم رکھنے والے پر اجارہ کے مسائل، وعلى ھذالقیاس (یعنى اور اسى پرقیاس کرتے ہوئے)۔

ہر مسلمان عا قل و بالغ مرد و عورت پر اس کى موجودہ حالات کے مطابق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔ نیز مسائل قلب (باطنى مسائل) یعنى فرائض قلبى (باطنى فرائض) مثلا عاجزى و اخلاص اور توکل وغیرہا اور ان کو حاصل کرنے کا طرىقہ اور باطنى گناہ مثلا تکبر، ریا کارى، حسد وغیرہ اور ان کا سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔ [فتاوىٰ رضوىہ، ج: 23، ص: 625]

علمِ دین کس سے سیکھنا چاہیے؟

علمِ دین صحیح العقیدہ سنی مستند علماءِ کرام سے ہی حاصل کیجئے۔ آج کے دور میں دعوتِ اسلامی بھی الله پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جو صحیح عقیدے مسلمانوں تک پہنچانے اور انکے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ مدنی چینل، جامعات و مدارس، مختلف دینی اجتماعات، کئی دینی کورسز، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مستند کتب و رسائل کے ذریعے مسلمانوں میں علم دین کو عام کرنے میں مصروف عمل ہے۔

دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہو جائیں، خود بھی علمِ دین حاصل کیجیے اور اپنی اولاد کو بھی دینِ اسلام سے آشنا کر کے پابندِ شریعت بنائیے، اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کا سامان کیجئے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!