Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضور حافظ ملت: ایک عہد ساز شخصیت

حضور حافظ ملت: ایک عہد ساز شخصیت
عنوان: حضور حافظ ملت: ایک عہد ساز شخصیت
تحریر: نا معلوم
پیش کش: محمد اکرم رضا رضوی شراوستی

اس عالمِ رنگ و بو میں بے شمار افرادِ انسانی وجود پذیر ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پیوندِ خاک ہو گئے۔ کتنی ہستیاں صفحۂ ہستی پر نمودار ہوئیں اور پردۂ عدم میں روپوش ہو گئیں۔ از آدم تا ایں دم لاتعداد انسانوں نے جنم لیا اور اس دارِ فانی کو خیر آباد کہہ کر رخصت ہو گئے۔ روزمرہ آمد و رفت کا یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامِ قیامت جاری رہے گا۔

لیکن کتنے مؤقر لوگوں کو اس دنیا نے یاد رکھا؟ اور کتنے عظیم افراد کو تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ رکھا؟ ایسے نفوسِ قدسیہ اور جامع کمالات اشخاص کی تعداد ہر دور میں قلیل ہی رہی ہے جنہوں نے گم گشتگانِ راہِ منزل کی صحیح رہنمائی فرمائی، نورِ توحید سے تاریک قلوب کو مجلیٰ و مصفیٰ فرمایا، عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سرشار کیا اور سینوں میں محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی جوت جگائی۔ عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آشنا کیا اور بے شمار اوصافِ حمیدہ و فضائلِ حسنہ کا خوگر بنا کر لاتعداد محاسنِ جلیلہ اور شمائلِ حمیدہ کے آبدار موتیوں سے ظاہر و باطن کو مزین فرمایا۔

آئیے ہم آپ کو ایسی ہی ہستی سے متعارف کرائیں جس کے افعال و اقوال، کردار و اعمال اور شب و روز کے معمولات ہمارے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔ جس نے نصف صدی تک دین و ملت کی حفاظت و پاسبانی کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا جس کی بدولت آج دنیا ان کو حافظِ ملت کے نام سے پہچانتی ہے۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان درس و تدریس سے پورے طور پر منسلک تھے، وہیں آپ تقریر و خطابت میں بھی ملکہ رکھتے تھے۔ ان کی تقریر حکمت اور موعظۂ حسنہ سے بھرپور ہوا کرتی تھی۔ سننے والا ان کی تقریر سے ضرور متاثر ہوتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ کی بات دل سے نکلتی تھی نہ صرف زبان سے۔ آپ کی تقریر کی اثر انگیزی کا ایک واقعہ نذرِ قارئین ہے:

1973ء میں رائے پور چھتیس گڑھ میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسے میں آپ تشریف لے گئے۔ جلسے میں پڑھے لکھے لوگوں کا خاصا مجمع تھا۔ کئی غیر مسلم اسکالرز بھی تھے۔ آپ نے مذہبِ اسلام کی صداقت، قرآنِ مجید کی حقانیت اور قدیم و جدید علوم کے نفع و نقصان پر نہایت پرمغز خطاب فرمایا۔ تقریر کے بعد سارا مجمع آپ کی دست بوسی پر ٹوٹ پڑا۔ اس وقت کچھ غیر مسلم بھی کنارے کھڑے حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کا دیدار کر رہے تھے۔ ان میں ”شری واستو جی“ نام کے ایک شخص بھی تھے۔ وہ غالباً کسی کالج کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے تنہائی میں جا کر کسی سے پوچھا کہ یہ جو آپ کے گرو جی ہیں ہم ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ تو مجھے ودیا ساگر دکھائی دیتے ہیں۔ کیا ہم کو ان سے ملنے کے لیے وقت مل سکتا ہے؟ اس شخص نے حضرت سے ملنے کا وقت اور مکمل پتا بتا دیا۔ شری واستو جی نے حضرت کے پاس پہنچ کر بہت سارے سوالات کیے۔ جن کو آپ نے نہایت متانت و سنجیدگی سے حل کر دیا۔ شری واستو جی اس سے بہت متاثر ہوئے اور فوراً آپ کے ہاتھوں پر توبہ کر کے دولتِ ایمان سے مالا مال ہو گئے۔ ان کے ساتھی ”گنیش جی“ نے بھی اپنے گھر کے تمام افراد کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان نے ان کا نام ”بلال“ اور شری واستو جی کا نام ”نور محمد“ رکھا۔ [حافظ ملت کا فیضانِ نظر، ص: 37]

کسی کو اس کی شرعی چوک پر اصلاح کی نیت سے تنبیہ کرنا امر بالمعروف کا ایک حصہ ہے۔ ایسے مواقع پر عوام تو اصلاح قبول کر لیا کرتے ہیں مگر خواص کو اصلاح کی نیت سے کچھ کہنا بڑا دشوار امر ہے۔ جبکہ خواص کو اس کا زیادہ حق پہنچتا ہے کہ اصلاح کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لیں تاکہ عوام ان کی پیروی کر کے راہِ راست پر آ سکیں۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کی موجودگی میں ایک مقرر سے عقائد کے کسی مسئلے کے بیان میں غلطی ہو گئی تھی۔ حضور حافظِ ملت اپنے وقت پر جب کرسی پر تشریف فرما ہوئے تو خطبۂ مسنونہ کے بعد تلاوت کردہ آیت کی تشریح کے بعد فرمایا: آدمی سے اگر غلطی کا صدور خفیہ اور پوشیدگی میں ہو تو اس کی توبہ بھی خفیہ اور پوشیدگی میں ہوگی اور اگر انسان سے غلطی کا صدور علانیہ ہو تو اس کی توبہ علانیہ ضروری ہے تاکہ علانیہ غلطی سے جو لوگ غلطی کا شکار ہو گئے ان کی اصلاح ہو جائے۔ اس کے بعد مقرر صاحب کے بیان کردہ مسئلہ کی غلطی کو واضح کر کے مسئلہ کی صحیح صورت سے آگاہ فرمایا اور کئی کتابوں کے حوالے سے مسئلہ کو مبرہن کر کے مقرر صاحب کو مائیک پر آ کر اپنے بیان کردہ مسئلے سے رجوع کرنے کا حکم دیا۔ [معارف حافظ ملت، ص: 42]

بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمۃ کے دولت کدہ پر محفلِ میلاد شریف میں حضرت مولانا اسلم عزیزی کی ابتدائی تقریر ہوئی، دورانِ تقریر ”مومنِ کامل“ بول گئے۔ اس پر حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنی تقریر میں ایمان کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان کامل اور ناقص نہیں ہوتا بلکہ کمال، نقصان مومن کی صفت ہے۔ [معارفِ حافظ ملت، ص: 42]

بابِ علم میں غلطی ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں اور نہ ہی کچھ عیب البتہ غلطی پر اصرار کرنا اور اصلاح قبول نہ کرنا بڑی غلطی ہے۔ نام و نمود اور شہرت کے خواہاں لوگوں کی طرف سے ایسے مواقع پر جو ردِ عمل دیکھا جاتا ہے اس کے پیشِ نظر اصلاح سے چشم پوشی میں عافیت محسوس کی جاتی ہے۔ اس خصوص میں حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کو دیکھا جائے تو آپ کی ذات ایک مثالی شخصیت کی حیثیت سے ہمارے سامنے ہے۔ آپ اصلاح کے انجام سے مستغنی ہو کر بلا خوفِ لومِ لائم مسئلہ بیان فرما دیتے۔ توبہ کی ترغیب بھی دلاتے۔ خفیہ اور علانیہ ہو تو علانیہ توبہ کی ترغیب دلاتے۔

ایک مرتبہ گورکھپور کے کسی جلسے میں مدعو تھے مگر عین تاریخ پر طبیعت اتنی علیل ہو گئی کہ سفر مشکل ہو گیا لیکن جذبۂ صادق القولی کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب آپ بخار سے تپتے ہوئے بدن کے ساتھ شریکِ اجلاس ہوئے۔ حالانکہ لوگوں نے منع کیا لیکن حضور حافظِ ملت پھر بھی نہ مانے۔ یہ حضور حافظِ ملت کی قومی ہمدردی تھی، آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں رک جانا چاہیے مگر میں نے وعدہ کر لیا ہے نہیں پہنچوں گا تو غریبوں کا دل ٹوٹ جائے گا۔ مذہب کا نقصان ہوگا۔ [حضور حافظ ملت افکار و کارنامے، ص: 101]

آپ جب کسی کو کوئی خلافِ شرع کام کرتا دیکھتے تو فوراً اس میں اصلاح کی کوشش کرتے۔ جیسا کہ ایک بار کا واقعہ ہے کہ جمعہ کا دن تھا اور جامع مسجد راجہ مبارک شاہ میں نمازِ جمعہ میں آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا، استنجا کی جگہ کم تھی اور حاجت مندوں کی تعداد زیادہ، نتیجہ یہ کہ دو آدمی استنجے کے لیے بیٹھے تھے اور متعدد اشخاص لوٹا لیے کھڑے انتظار میں تھے۔ طہارت کے لیے بیٹھنے والوں کی رانیں کھلی ہوئی تھیں حضور حافظِ ملت جن کے لیے جامع مسجد راجہ مبارک شاہ کا پرشکوہ منبر منتظر تھا، صدر دروازے سے داخل ہوئے اور اتفاقاً حضرت کی نگاہ گھٹنا کھولے استنجا کرتے شخص پر پڑ گئی۔ مسجد میں پہنچ کر منبر سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور آدھا گھنٹہ تک غیظ و غضب میں ڈوبی ہوئی تقریر فرمائی۔ ستر پوشی سے متعلق رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بے حیائی پر وعیدیں اور طہارت کے احکام و آداب آپ کی تقریر کا عنوان تھا۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان نے اصلاحِ امت کی خاطر کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔ اگرچہ ان کتابوں کی تعداد بہت کم ہے۔ آپ کو بھی اس کا قلق ہمیشہ رہا۔ آپ آخری زمانے میں اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

مجھے لوگوں نے کسی کام کا نہ رکھا۔ غیر اہم اور غیر ضروری کاموں میں مجھے ایسا الجھا دیا کہ لکھنے کا خاطر خواہ کام نہ ہو سکا جس کا مجھے افسوس ہے۔ حالانکہ اوائلِ عمر میں میرا قلم نہایت برق رفتار تھا اور اب نہ تو وہ قوتِ دماغ ہے اور نہ ہی فرصت۔ اس لیے اب میرا مطمحِ نظر اور میری زندگی کا مقصد صرف اور صرف جامعہ اشرفیہ کی تکمیل ہے۔ [حافظ ملت نمبر، ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور، ص: 412]

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کی چند کتابوں کے نمونے:

ارشاد القرآن:

آپ نے یہ رسالہ 1947ء کے ہنگامۂ ترکِ وطن کے وقت تحریر فرمایا جب مسلمانانِ ہند بغیر سوچے سمجھے ترکِ وطن کر کے نوزائیدہ پڑوسی ملک پاکستان جا رہے تھے۔ بروقت یہ رسالہ آپ نے شائع اور مفت تقسیم کرا کے مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی جس کے جلوے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

مسلمانو! تمہاری ہوا کا رخ وہی گنبدِ خضریٰ ہے۔ تمہارے مقصود وہی تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں، تمہاری مشکلات کا حل انہی کی نظرِ کرم اور اشارۂ ابرو پر موقوف ہے۔ تمہارے مقاصد کا حصول انہی کی تعلیم پر ہے جس کو مسلمان اپنی بدنصیبی سے فراموش کر چکے ہیں۔ [ارشاد القرآن، ص: 05]

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان قومِ مسلم کی بدحالی اور ان کی بداعمالیوں کو دیکھ کر تڑپ جاتے اور حتی الامکان ان کی اصلاح کی کوشش کرتے۔ چنانچہ آپ کے دردِ دل اور سوزِ دروں کا اندازہ اس تحریر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:

مسلمانو! جاگو اور خوابِ غفلت سے بیدار ہو جاؤ تمہاری اصلاح و فلاح اسی میں مضمر ہے کہ سچے اور پکے مسلمان بن جاؤ۔ تمہاری کامیابی اسی پر موقوف ہے کہ تمہاری زندگی اسلامی اور موت اسلامی ہو۔ تمہارا ظاہر بھی اسلامی ہو اور تمہارا باطن بھی اسلامی ہو، تمہارے عقائد بھی اسلامی ہوں اور اعمال بھی اسلامی ہوں۔ تمہارے جذبات اسلامی جذبات ہوں اور تمہارے خیالات بھی اسلامی خیالات ہوں، تمہارا سینہ اسلامی ایمانی انوار سے منور ہو اور تمہارا جسم اعمالِ صالحہ سے مزین، مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکر تمہاری عادت ہو، اللہ رب العزت پر توکل و اعتماد تمہاری سرشت ہو، قرآنی تعلیمات پر عمل تمہاری طبیعتِ ثانیہ بن جائے۔ [ارشاد القرآن، ص: 09]

ارشاد القرآن کا عام مسلمانوں پر جو اثر ہوا اس کے متعلق حضرت علامہ بدر القادری صاحب فرماتے ہیں 1947ء کے ہنگامۂ ترکِ وطن میں مبارک پور میں ارشاد القرآن مفت تقسیم کی گئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ایک بھی مسلمان نے ترکِ وطن نہ کیا۔ یہ تھا خلوصِ دینی و ملی درد میں ڈوبی ہوئی تحریر کا اثر۔ [حیات حضور حافظ ملت، ص: 434]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!