Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فتنہ غامدیت کا پوسٹ مارٹم (قسط: اول)

مضمون: فتنہ غامدیت کا پوسٹ مارٹم (قسط: اول)
عنوان: مضمون: فتنہ غامدیت کا پوسٹ مارٹم (قسط: اول)
تحریر: رئیس التحریر علامہ یٰسین اختر مصباحی علیہ الرحمہ
پیش کش: نازیہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

تاریخ اسلام میں بہت سے فتنوں نے جنم لیا جیسے خوارج کا فتنہ، معتزلہ کا فتنہ، باطنیہ کا فتنہ، قادیانی فتنہ اور انکار حدیث کے پرویزی جیسے فتنے وغیرہ وغیرہ۔ آج کے دور میں ایک نیا فتنہ فتنہ غامدی کے نام سے الحادی قسم کی فکر کے ساتھ مسلمانوں کو اصل دین اسلام سے کاٹ کر جعلی اسلام تھما رہا ہے۔ دین میں ایسی ایسی نئی تشریحیں کر رہا ہے کہ جس پر ایمان لانے سے مسلمان ملحدانہ مغربی خیالات کا حامل ہو کر اصل دین اسلام سے مکمل کٹ جاتا ہے۔ آج کی تحریر کا موضوع یہی فتنہ غامدی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم غامدی کے فتنے کو سمجھیں، پہلے غامدی کا تھوڑا تعارف بھی ہو جائے تاکہ اس فتنہ پرور خبیث انسان کی اصلیت بھی آپ کو معلوم ہو جائے۔

جاوید احمد نے احمد غامدی کا اصلی نام اور نسب کیا ہے؟

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جس شخص نے یہ فتنہ پھیلایا ہوا ہے اس نے اپنا اصلی نام اور اصلی نسب بھی لوگوں سے چھپایا ہوا ہے۔ جاوید احمد غامدی کا اصل نام محمد شفیق ہے اور اس کا تعلق کاکڑ زئی قبیلے سے ہے۔ اس فتنہ پرور انسان نے فتنہ پھیلانے سے پہلے نہ صرف اپنا نام تبدیل کیا بلکہ اپنا نسب بھی بدلا تاکہ لوگ اس کی اصلیت سے ناواقف ہوں۔ دشمن ایجنسیاں ہمیشہ اپنے بندے لانچ کرنے سے پہلے ان کی اصل شناخت بھی چھپاتی ہیں۔ آج یہ شخص محمد شفیق المعروف ”جاوید احمد غامدی“ اپنا تعلق یمن کے ایک قبیلے غامد سے بتاتا ہے اور اسی نسبت سے خود کو غامدی کہلاتا ہے۔

یاد رہے نسب تبدیل کرنا دین اسلام میں سختی سے منع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کفر ہے کہ آدمی ایسے نسب کا دعوی کرے جس کو وہ خود نہیں پہچانتا یا اپنے نسب کی کسی چیز کا انکار کرے اگرچہ وہ معمولی قسم کی ہو۔ [ابن ماجہ، رقم: 2744، مسند احمد، ج: 3، ص: 215]

کیا غامدی عالم یا مفتی ہے جو دین اسلام کی تشریح کرتا ہے؟

جاوید احمد غامدی ایک ایسا فتنہ پرور آستین کا سانپ ہے جس نے زندگی میں کبھی کوئی دینی کورس تک نہیں کیا، یہ نہ تو عالم دین ہے اور نہ ہی مدرسے سے سند یافتہ یا فارغ التحصیل، لیکن یہ دین اسلام کی تشریحات ایسے کرتا ہے جیسے مفتی اعظم پاکستان ہو۔

افسوس اس بات پر بھی ہے کہ جو لوگ اس کی من گھڑت باتوں پر یقین کرتے ہیں انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ غامدی محض بی اے پاس ہے۔ جس شخص کے پاس دین کی کوئی ڈگری تک نہیں، نہ کسی مدرسے سے پڑھا، نہ درس نظامی کیا اور نہ ہی تجوید سیکھی۔

  • وہ قرآن پاک کی تفسیر کیسے کر سکتا ہے؟
  • احادیث کے صحیح یا غلط ہونے کا کیسے فیصلہ کر سکتا ہے؟
  • شعائر اسلام کی نئی تعبیریں کرنے کا حق اس خبیث کو کس نے دیا؟

کیا دین اسلام اتنا لاوارث ہو گیا کہ آج یہ بی اے پاس لفنگا اٹھ کر قرآن کی من مانی تفسیر کرتا پھر رہا ہے؟ علماء دین اس فتنے کے خلاف اعلان جہاد کیوں نہیں کرتے؟

جاوید غامدی کو کس جماعت نے کثرت سے جھوٹ بولنے کی وجہ سے نکالا تھا؟

جاوید احمد غامدی 1970ء کے عشرے میں چند برس جماعت اسلامی کا رکن رہا، مولانا مودودی سے بہت متاثر تھا، جماعت اسلامی کے بقول جب غامدی پارٹی میں تھا تو بہت جھوٹ بولتا تھا، یہاں تک کہ مولانا مودودی نے خود بھی اس کے جھوٹ پکڑے تھے، اکثر اوقات جب کبھی ملاقات میں کسی کتاب کا حوالہ دیا جاتا، چاہے وہ کتاب اس دنیا میں موجود ہی نہ ہو، پھر بھی غامدی فوراً جھوٹ بول دیتا کہ میں نے وہ کتاب پڑھ رکھی ہے۔ اسی جھوٹ در جھوٹ بولنے کی عادت پر جماعت اسلامی نے اس کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی قائم کی اور مولانا مودودی کے مشورے پر اسے پارٹی سے نکال دیا تھا۔ جب پرویز مشرف نے ملک میں لبرل ازم کو فروغ دینا شروع کیا تو غامدی کی درخواست پر سن 2006ء میں اسے کچھ عرصے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر بھی لگایا گیا تھا۔ آج کل یہ فتنہ پرور انسان پاکستان سے بھاگ کر بیرون ملک مقیم ہے۔

غامدی کا طریقہ واردات قادیانیوں جیسا ہی ہے:

غامدی کہتا ہے کہ میرا علماء اسلام بالخصوص اہل سنت سے کوئی حقیقی اختلاف نہیں محض تعبیر کا اختلاف ہے ورنہ میں خود بھی اہل سنت بلکہ احناف سے ہی ہوں۔ قارئین! غامدی اس لفظ تعبیر کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ یہ تعبیر کا وہی طریقہ اپناتا ہے جو اس سے پہلے قادیانیوں کے جھوٹے نبی غلام احمد قادیانی لعنتی نے اپنایا تھا۔ تعبیر کے ذریعے قادیانیوں نے بہت سے مسلمانوں کو دین اسلام سے بدظن کر کے قادیانی بنایا، ٹھیک اسی طرح جاوید احمد غامدی بھی شعائر اسلام اور قرآن و احادیث کی نت نئی من گھڑت تعبیریں کر کے مسلمانوں کو اصل اسلام سے کاٹ کر جعلی اسلام تھما رہا ہے۔

عام آدمی اس تعبیر کے کھیل کو سمجھ نہیں پاتا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک چھوٹی مثال دیتا ہوں۔ قادیانی بھی قرآن پاک کو ماننے کا دعوی کرتے ہیں مگر انہوں نے قرآنی لفظ خاتم النبیین کی غلط تعبیر کر کے نہ صرف اپنے لیے جھوٹی نبوت کا دروازہ کھولا بلکہ وہ اپنی اس حرکت سے غیر مسلم بھی قرار پائے۔

اسی طرح غامدی بھی شعائر اسلام کی نت نئی تعبیریں کر کے لوگوں کی اس طرح برین واشنگ کرتا ہے کہ آج کا مسلمان چودہ سو سال کے پہلے اصل اسلام کو چھوڑ کر لبرل آزاد خیال بن جائے، یعنی مرضی ہو تو نماز پڑھو ورنہ نہ پڑھو، گرمی لگتی ہے تو روزہ چھوڑ دو جیسی من گھڑت تعبیرات کو اسلام کا لیبل لگا کر پھیلا رہا ہے، جبکہ کفار کے خلاف جہاد کا بھی انکار کر چکا ہے۔

غامدی نے کوئی دو تین باتوں پر غلط تعبیریں نہیں کیں بلکہ پورے دین اسلام کو ہی الٹا بنا کے پیش کیا ہے۔ مسلمان کا جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے اس میں بھی غلط تعبیریں کر کے مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کہ جنت میں صرف مسلمان جائیں گے، یعنی کوئی بھی غیر مسلم جب تک کلمہ نہیں پڑھ لیتا، جنت میں نہیں جا سکتا چاہے کتنے ہی نیک اعمال کرے لیکن غامدی کہتا ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ یعنی یہودی، عیسائی اور ہندو بھی اچھے عمل کرنے پر جنت میں جائیں گے چاہے مرتے دم تک اپنے مذہب پر قائم رہیں۔

غامدی نے مسلمان کا ایمان کمزور کرنے کے لیے، قرآنی آیات کی غلط تعبیریں کیں، حدیث و سنت کا من گھڑت مفہوم بیان کیا، عبادات پر شکوک و شبہات پیدا کیے۔

مسلمان معاشرے کے اسلامی احکامات اور ریاست یہاں تک کہ فقہی مسائل پر بھی اپنی من گھڑت تعبیریں (تشریح) کی ہیں اور ان سب تعبیروں کو ملا کر غامدی نے ایک نیا مذہب غامدیت کھڑا کر کے اسے اسلام کا نام دیا ہے جو کہ ہرگز اسلام نہیں ہے کیونکہ اس کے عقائد چودہ سو سال سے قائم اسلامی عقائد سے نوے فیصد مختلف ہیں۔ ایک بی اے پاس شخص مسلمانوں کو دین اسلام کی ایسی ایسی تعبیریں سنا رہا ہے جو اسلام کی چودہ سو سال میں کسی نے نہیں سنائیں۔ (جاری ہے) [جہان رضا: اکتوبر، نومبر 2018ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!