Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عوام الناس میں پھیلی مشہور غلط فہمیوں کا ازالہ

عوام الناس میں پھیلی مشہور غلط فہمیوں کا ازالہ
عنوان: عوام الناس میں پھیلی مشہور غلط فہمیوں کا ازالہ
تحریر: مولانا عبد اللطیف علیمی
پیش کش: بنت محمد صدیق

لوگوں کے سامنے ستر کھول کر نہانا کیسا ہے؟

جواب: لوگوں کے سامنے ستر کھول کر نہانا حرام و ناجائز ہے کیونکہ مرد کا ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک ستر ضروری ہے، بلا ضرورت ستر کھولنا جائز نہیں۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”لوگوں کے سامنے ستر کھول کر نہانا حرام ہے۔“

لہٰذا لوگوں کے سامنے ستر کھول کر نہانے سے اجتناب ضروری ہے ورنہ گنہگار ہوگا۔ [بہارِ شریعت، ج: 1، ص: 38، قادری کتاب گھر بریلی شریف]

داڑھی منھ چھپا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب: سردی کے موسم میں عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ٹھنڈک کی وجہ سے کان اور داڑھی مفلر یا رومال وغیرہ سے چھپا کر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ داڑھی، منھ، ناک چھپا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے البتہ کان چھپا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”ناک اور منہ کو چھپانا اور بے ضرورت کھنکار نکالنا یہ سب مکروہِ تحریمی ہے۔“ [بہارِ شریعت، ج: 1، حصہ: 3، مکروہات کا بیان]

کیا فقط کتے کے چھو جانے سے کپڑا ناپاک ہو جاتا ہے؟

جواب: عوام میں مشہور ہے کہ کتے کا بدن اگر انسان کے جسم یا کپڑے سے لگ جائے تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے جبکہ صحیح مسئلہ یہ ہے کہ کتے کا جسم انسان کے کپڑے یا بدن سے صرف چھو جانے سے ناپاک نہیں ہوتا ہے ہاں اگر کتے کے جسم پر کوئی ناپاکی لگی ہو اور وہ اس کے جسم سے چھوٹ کر انسان کے کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو وہ جگہ ناپاک ہوگی نہ کہ پورا کپڑا یا بدن ایسے ہی کتے کا پسینہ اور اس کا تھوک بھی ناپاک ہے وہ بھی جہاں لگے گا ناپاک ہو جائے گا خواہ کپڑا ہو یا بدن لیکن اگر ایسی کوئی صورت نہ ہو تو صرف چھو جانے یا کپڑے سے لگ جانے کی وجہ سے ناپاکی کا حکم نہ ہوگا، بہارِ شریعت میں ہے: ”کتا، بدن یا کپڑے سے چھو جائے تو اگرچہ اس کا جسم تر ہو بدن اور کپڑا پاک ہے، ہاں اگر اس کے بدن پر نجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لعاب لگے تو ناپاک کر دے گا۔“ [بہارِ شریعت، ج: 1، حصہ: 2، ص: 101، قادری کتاب گھر بریلی شریف]

نمازِ جنازہ میں ایک ایک ہاتھ کھول کر سلام پھیرنا کیسا ہے؟

جواب: عام طور پر دیکھا گیا ہے لوگ نمازِ جنازہ میں ایسا کرتے ہیں کہ جب دائیں جانب سلام پھیرتے ہیں تو پہلے دایاں ہاتھ کھولتے ہیں پھر جب بائیں جانب سلام پھیرتے تو بایاں ہاتھ کھولتے ہیں ایسا کرنا درست نہیں بلکہ نمازِ جنازہ میں چوتھی تکبیر کے بعد بغیر کچھ پڑھے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کھول کر سلام پھیر دینا چاہیے، بہارِ شریعت میں ہے: ”چوتھی تکبیر کے بعد بغیر کوئی دعا پڑھے ہاتھ کھول کر سلام پھیر دے۔“ [بہارِ شریعت، ج: 1، حصہ: 4، ص: 154، قادری کتاب گھر بریلی شریف]

کیا عورت کے انتقال کے بعد شوہر کندھا دے سکتا ہے؟

جواب: عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ عورت اگر انتقال کر جائے تو شوہر اس کو نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ کندھا دے سکتا ہے یہ جہالت ہے درست مسئلہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد مرد عورت کو نہ چھو سکتا ہے نہ نہلا سکتا ہے لیکن دیکھنے اور کندھا دینے میں کوئی حرج نہیں۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”عورت مر جائے تو شوہر نہ اسے نہلا سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے اور دیکھنے کی ممانعت نہیں، عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ منھ دیکھ سکتا ہے محض غلط ہے صرف نہلانے اور اس کے بدن کو بلا حائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔“ [بہارِ شریعت، ج: 1، حصہ: 4، ص: 135، قادری کتاب گھر بریلی شریف]

میت کے ہاتھ سینے پر رکھے جائیں یا بغل میں؟

جواب: بعض جگہوں پر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ میت کا ہاتھ سینے کے اوپر رکھتے ہیں یا ناف کے نیچے رکھتے ہیں جیسا کہ نماز میں یہ درست نہیں کیونکہ میت کا ہاتھ سینے پر رکھنا منع ہے اس لیے کہ یہ یہودیوں اور نصرانیوں کا طریقہ ہے مستحب یہ ہے کہ میت کے ہاتھ پہلو میں رکھے جائیں۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”میت کے دونوں ہاتھ کروٹوں میں رکھیں سینے پر نہ رکھیں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے، بعض جگہ ناف کے نیچے اس طرح رکھتے ہیں جیسے نماز کے قیام میں یہ بھی نہ کریں۔“ [بہارِ شریعت، ج: 1، حصہ: 4]

کیا آنکھ پھڑکنے سے کوئی نقصان ہوتا ہے؟

جواب: عوام الناس میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ جب مرد کی بائیں آنکھ پھڑکتی ہے تو کہتے ہیں کہ مصیبت آتی ہے ایسے ہی جب عورت کی دائیں آنکھ پھڑکتی ہے تب بھی کہتے ہیں کہ مصیبت آتی ہے، اس کے برعکس ہو تو کہتے ہیں کہ خوشی ملتی ہے۔ محض لغو خیال ہے شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”بدفالی جائز نہیں جیسے آنکھ پھڑکنے کو برا شگون مانتے ہیں اس کا اعتبار نہ کرنا چاہیے۔“ [فتاویٰ بحر العلوم، ج: 4، ص: 145، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]

کیا بلی راستہ کاٹ دے تو نقصان ہوتا ہے؟

جواب: بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ کسی گلی یا راستے سے جا رہے ہیں اور سامنے سے بلی گزر جائے تو کچھ دیر کے لیے ٹھہر جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بلی راستہ کاٹ گئی اور برا شگون لیتے ہیں کہتے ہیں کہ اب کچھ نہ کچھ نقصان ہو سکتا ہے اور اس چیز کو بدفالی خیال کرتے ہیں حالانکہ یہ سب بیکار کی باتیں ہیں اسلام میں ایسا کچھ بھی نہیں کیوں کہ بلی کے راستہ کاٹنے سے برا شگون لینا بد فالی خیال کرنا غیر مسلموں کا طریقہ ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس طرح کے خیالات ہر گز نہ رکھیں بلکہ یہ عقیدہ رکھیں کہ نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا، حدیثِ شریف میں ہے: ”روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال تو لیتے تھے بدفالی نہ لیتے تھے۔“ [مرآۃ المناجیح، ج: 6، ص: 221، نعیمی کتب خانہ گجرات]

کیا خنزیر کا نام لینے سے چالیس دن تک زبان ناپاک رہتی ہے؟

جواب: یہ بات عوام میں بہت مشہور ہے کہ اگر کوئی شخص خنزیر کا نام لے لے یا ویسے ہی کہہ دے تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب اس کی زبان چالیس دن تک ناپاک رہے گی یہ لوگوں کی غلط فہمی اور ان کی جہالت ہے، صحیح بات یہ ہے کہ مذہبِ اسلام میں خنزیر کھانا حرام اور اس کا گوشت، پوست، ہڈی، بال، پسینہ اور تھوک وغیرہ پورا بدن اور اس سے خارج ہونے والی ہر چیز ناپاک ہے حتیٰ کہ اس سے نفرت کرنا مومن کی شان ہے لیکن اس کے نام لینے کی وجہ سے یہ کہنا کہ زبان ناپاک ہو گئی غلط ہے، البتہ بلا ضرورت نام نہیں لینا چاہیے، واللہ تعالیٰ اعلم۔

جانوروں کو آپس میں لڑانا کیسا ہے؟

جواب: کچھ علاقوں میں جانوروں کا لڑائی میں مقابلہ کرواتے ہیں جب کہ مرغا، بکرا یا بیل، تیتر، بٹیر وغیرہ اور دیگر جانوروں کو آپس میں لڑانا حرام ہے اس لیے کہ انہیں بلا وجہ ایذا پہنچانا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور بعض جگہ پر تو مال کی شرط پر جانور لڑائے جاتے ہیں، یہ جوا بھی ہے اور حرام در حرام اور ان کا تماشہ دیکھنا بھی ناجائز ہے، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”بٹیر بازی، مرغ بازی اور اسی طرح ہر جانور کا لڑانا جیسے لوگ مینڈھے لڑاتے ہیں لعل لڑاتے ہیں یہاں تک کہ حرام جانوروں مثلاً ہاتھیوں ریچھوں کا لڑانا بھی سب مطلقاً حرام ہے کہ بلا وجہ بے زبانوں کو ایذا ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، نصف آخر، ص: 190، رضا اکیڈمی ممبئی]

حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”جانوروں کو لڑانا مثلاً مرغ، بٹیر، تیتر، مینڈھے، ہینے وغیرہ کہ ان جانوروں کو بعض لوگ لڑاتے ہیں یہ حرام ہے اور اس میں شرکت کرنا یا اس کا تماشہ دیکھنا یہ بھی ناجائز ہے۔“ [بہارِ شریعت، ج: 4، ص: 131، قادری کتاب گھر بریلی شریف]

کیا نوٹوں کا ہار پہننا جائز ہے؟

جواب: آج کل لوگوں میں یہ رواج ہے کہ خوشی کے موقع پر خاص طور سے شادی بیاہ اور جلسوں وغیرہ میں نوٹوں کا ہار پہنتے اور پہناتے ہیں یہ طریقہ شرعاً درست نہیں بلکہ ناجائز و گناہ ہے اور نوٹوں کا ہار پہننا اس لیے درست نہیں ہے کہ اس میں فخر و ریا اور مال و دولت سے دلی محبت کے اظہار کی خوشی پائی جاتی ہے لہٰذا اس کا استعمال ناجائز ہے، البتہ خالص پھولوں کا سہرا یا ہار بالکل جائز ہے، فتاویٰ فقیہِ ملت میں ہے: ”روپیہ کا مالا پہننا حرام ہے۔“ [فتاویٰ فقیہِ ملت، ج: 2، ص: 341، فقیہِ ملت اکیڈمی]

کھانا کھانے کے لیے پوچھنے پر اس کے جواب میں ”بسم اللہ کرو“ کہنا کیسا ہے؟

جواب: کھانا کھاتے وقت جب کوئی آ جاتا ہے تو ہندوستان کا عرف یہ ہے کہ اسے کھانے کو پوچھتے ہیں: کہتے ہیں ”آؤ کھانا کھاؤ“ اگر نہ پوچھیں تو طعن کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا تک نہیں، یہ بات یعنی دوسرے مسلمان کو کھانے کے لیے بلانا اچھی بات ہے مگر بلانے والے کو یہ چاہیے کہ یہ پوچھنا محض نمائش کے لیے نہ ہو بلکہ دل سے پوچھے اور یہ بھی رواج ہے کہ جب کسی کو کھانے کے لیے پوچھا جاتا ہے تو کہتا ہے بسم اللہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہاں بسم اللہ کہنے کے کوئی معنی نہیں، اس موقع پر بسم اللہ کہنے کو علمائے کرام نے بہت سخت ممنوع فرمایا بلکہ اس موقع پر دعائیہ الفاظ کہنا بہتر ہے مثلاً اللہ برکت دے، اللہ زیادہ دے۔ [بہارِ شریعت، ج: 4، حصہ: 16، ص: 20، قادری کتاب گھر بریلی شریف]

کیا پان کھانا سنت ہے؟

جواب: عوام الناس میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ پان کھانا سنت ہے حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ پان کھانا نہ سنت ہے اور نہ ہی مستحب بلکہ مباح ہے، جیسا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”پان کھانا نہ سنت ہے نہ مستحب صرف مباح ہے ہاں بعض عوارضِ خارجیہ کے باعث مباح ہو سکتا ہے جیسے کھانے میں میزبان کی دل شکنی ہو یا بوسہِ زوجہ کے لیے منھ کو خوشبودار کرنے کی نیت سے بلکہ واجب بھی جیسے ماں یا باپ حکم دے اور نہ ماننے میں اس کی ایذا ہو یوں ہی عارض کے سبب مکروہ بھی ہو سکتا ہے جیسے تلاوتِ قرآن مجید میں بلکہ حرام بھی جیسے نماز میں۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 206، رضا اکیڈمی ممبئی]

دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں: ”پان بلا شبہ جائز ہے اور زمانہِ حضرت شیخ العالم فرید الدین گنج شکر و حضرت سلطان المشائخ نظام الملۃ والدین علیہما الرضوان سے مسلمان میں بلا نکیر رائج ہے۔“ [مرجع سابق، ص: 111]

[سنی دنیا / جولائی 2023ء، ص: 27]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!