| عنوان: | کافرانہ مسلک |
|---|---|
| تحریر: | مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی |
| پیش کش: | محمد صابر عطاری |
ناگپور سے ہمارے عزیز مولانا مصطفی رضا صاحب نے بہ غرضِ استفسار ایک قوالی کا ویڈیو لنک بھیجا، اوپن کیا تو قوال صاحب کی خاصی بے سری آواز کانوں سے ٹکرائی، آواز کو کسی طور برداشت کیا مگر قوال کے منہ سے نکلنے والا کلام کسی طور برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا، حسنِ مطلع کچھ اس طرح تھا:
صابر کا ہوں میں بندہ، صابر میرا خدا ہے
میرا کافرانہ مسلک، مشرب میرا جدا ہے
مسلم معاشرے کا عام انسان بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ لفظِ خدا، اللہ تعالیٰ ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے، کسی غیر کو خدا کہنا جائز نہیں مگر مذکورہ کلام لکھنے والے کی جسارت تو دیکھیے کہ کس بے باکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے حضرت مخدوم صابر کلیری علیہ الرحمہ کو اپنا خدا قرار دیا اور اتنے ہی پر بس نہیں کیا اپنے باطل نظریہ کو ”کافرانہ مسلک“ کہہ کر مکمل ڈھٹائی بھی دکھا رہا ہے۔
لفظِ خدا کی تشریح
خدا فارسی زبان کا لفظ ہے، اپنی اصل حالت اور معنی کے ساتھ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے، لغوی اعتبار سے لفظِ خدا کے مختلف معنی بیان کیے گئے ہیں:
- معبود
- دیوتا
- مالک
- آقا
- خود مختار
- باکمال
- ماہر وغیرہ
لیکن صدیوں سے لفظِ خدا کا استعمال اللہ تعالیٰ کے اسمِ صفاتی ”رب“ کے ترجمہ کے طور پر کیا جا رہا ہے، غیر اللہ کے لیے اسے بولنا جائز نہیں جیسا کہ مشہور فارسی لغت غیاث اللغات میں ہے: ”خدا بالضم بمعنی مالک و صاحب - چو لفظِ خدا مطلق باشد بر غیر ذاتِ باری تعالیٰ اطلاق نکند۔“ [غیاث اللغات، ص: 185]
یعنی لفظِ خدا (پیش کے ساتھ) مالک اور صاحب کے معنی میں آتا ہے، جب لفظِ خدا مطلقاً استعمال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے بولنا جائز نہیں۔
شرعاً کسی بندہِ خدا کو اپنا خدا ماننے کا کیا حکم ہے، یہ بتانے کی بھی حاجت نہیں رہی کہ قوال نے خود ہی اس کا حکم بتاتے ہوئے اپنے نظریہ کو ”کافرانہ مسلک“ قرار دیا ہے، اب کوئی اضافی دانش ور یہاں اہلِ نظر اور مجاذیب کے ان اقوال کی بحث نہ چھیڑیں جو شذوذ کے قبیل سے ہیں حالانکہ ان کا بھی عوامی استعمال منع ہے، ہر گزرتے دن قوالیوں میں ایسے گمراہانہ بلکہ کفریہ اشعار بڑھتے جا رہے ہیں اس لیے اب دو پہلوؤں پر بات کرنا بے حد ضروری ہو گیا ہے:
- بزرگوں سے منسوب محفلوں میں ایسے کلام پڑھنا۔
- قائلینِ سماع کے اہلِ علم کی ان پر خاموشی۔
ایک ایسا مجمع جہاں مسلمانوں کے بچے، جوان، بوڑھے اور نسبتاً کم پڑھے لکھے افراد موجود ہوں، وہاں ایسا کلام پڑھنا کہاں تک درست قرار پائے گا؟
عام لوگوں کے لیے اس کلام میں حضرت صابر پاک کا نام ہی کلام پر اعتبار کرنے کے لیے کافی ہے، اگر ایسا کلام ان کی زبانوں پر جاری ہو جائے یا وہ یہ مان بیٹھیں کہ کسی محترم شخصیت کو خدا ماننے میں کوئی حرج نہیں ہے تو وہ اپنے پیر و مرشد، ماں باپ، اساتذہ اور ہر اس شخص کو اپنا خدا کہنے میں نہیں ہچکچائیں گے جو ذرا بھی رتبہ و رسوخ والا ہو۔
جس طرح ہندو سماج میں ہر بڑے عہدے والے کو پربھو اور بھگوان کہنا عام ہے اسی طرح کل کو مسلمان بھی اونچے لوگوں کو خدا کہنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔
قائلینِ سماع میں ایک ٹھیک ٹھاک تعداد عالم اور دانش وران کی ہے جو واضح طور پر عقیدہِ توحید و رسالت، الفاظ کی نزاکتوں اور باریکیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، اس کے باوجود ان کا ایسے گمراہانہ کلام پر خاموش رہنا، تنبیہ نہ کرنا بہت زیادہ کھلتا ہے، اگر یہ حضرات آگے آ کر ایسے شتر بے مہار قوالوں کو تنبیہ کریں اور انہیں دائرہِ شرع میں اشعار کہنے اور غیر اخلاقی حرکات و سکنات سے باز رکھنے کی تاکید کریں تو اس کا خاطر خواہ اثر ہوگا۔
قوالوں کی خرمستیاں
پچھلے کچھ وقت سے دیکھا جا رہا ہے کہ قوالی کے نام پر فکری اور عملی آوارگی لگاتار بڑھتی جا رہی ہے، بعض قوال صرف فلمی گانوں کی دھن پر ہی قوالی بناتے ہیں، جیسے ہی کوئی نیا فلمی گانا ریلیز ہوا ٹھیک اسی سر تال کے ساتھ قوالی بھی مارکیٹ میں آ جاتی ہے، نقل میں کوئی کمی باقی نہ رہ جائے اس لیے سر تال کے ساتھ ساتھ گانوں کے لٹکے جھٹکے بھی قوالی میں شامل کیے جاتے ہیں، جس کے لیے قوال اور قوالہ باضابطہ اچھے خاصے dance moves بھی دکھاتے ہیں۔
قوالوں کا ایک گروہ ایسا سطحی اور بازاری کلام لکھتا ہے جو کسی طور پر ایک شریف اور مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا ذرا یہ نمونہ دیکھیں:
چلے ہیں سب ریڑی بھنڈاری اپن چلا ہے جم کے
ریل گاڑی کے ہر ڈبے میں دھوئیں اڑیں گے چلم کے
ٹکٹ وکٹ کی کاہے ٹینشن، ٹی ٹی اپنا جٹ ہے
اب کی چھٹی میں اپنا تو نمبر بھی بالکل فٹ ہے
اے پپا! خواجہ کا میلا آریلا، اپن اجمیر جاریلا
ذرا غور کریں! اس کلام کو سن کر ذہن میں خواجہ غریب نواز کے کسی عاشق کی تصویر ابھرتی ہے یا کسی چرسی اور چلمیے کی؟
ذمہ داران سے گزارش
قائلینِ سماع کے اہلِ علم اور ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور تصوف و قوالی کے نام پر چل رہے اس غیر شرعی اور غیر اخلاقی سسٹم کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ صوفیا اور تصوف کا صحیح پیغام لوگوں تک پہنچ سکے، اگر وقت رہتے اس سسٹم کو نہ روکا گیا تو آنے والے وقت میں محافلِ سماع میں دم مارو دم کی صدائیں اور چلم کے دھوئیں اڑانے سے شاید ہی کوئی روک پائے۔
اغیار ویسے ہی تصوف پر معترض ہیں، ایسی حرکات اور ایسے کلام انہیں مزید صوفیا اور تصوف پر اعتراض کا موقع فراہم کریں گے اس لیے ایسے قوالوں کی اصلاح اور بروقت تنبیہ کی جائے تاکہ دامنِ تصوف پر کوئی داغ نہ آ سکے۔
[ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، فروری 2022ء، ص: 39]
