Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نکاح کی تاریخ اور شرعی احتیاطیں

نکاح کی تاریخ اور شرعی احتیاطیں
عنوان: نکاح کی تاریخ اور شرعی احتیاطیں
تحریر: اسلم امجدی (بگھاڑی)
پیش کش: لباب اکیڈمی

نکاح انسان کی زندگی کا وہ پاکیزہ بندھن ہے جو دلوں کو سکون اور روح کو اطمینان عطا کرتا ہے۔ یہ محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل اور زندگی کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ اسی کے ذریعے انسان گناہوں سے بچتا اور محبت، ذمہ داری اور وفا کے راستے پر چلتا ہے۔ پر جب اس عظیم سنتِ نکاح کو ادا کرنے کا موقع آتا ہے تو نکاح کی تاریخ طے کرتے وقت، جہاں دیگر امور کا خیال رکھا جاتا ہے کہ فلاں تاریخ ہو تاکہ میرے بھائی یا میری پھوپھی یا میری بہنیں شریک ہو سکیں، تو اسی وقت اس بات کی رعایت کرنا بھی نہایت لازم و ضروری ہے؛ کیونکہ یہ ایک نہایت حساس اور نازک مرحلہ ہے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ جس لڑکی کی شادی ہو رہی ہے وہ حالتِ حیض میں ہے یا حالتِ طہر میں۔ اگر حالتِ طہر میں ہو تو تاریخ رکھی جائے، اور اگر حالتِ حیض میں ہو تو تاریخ نہ رکھی جائے۔ یہ اس لیے کہ آج کل کے نوجوانوں میں میڈیا، سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور ٹیلی ویژن کی وجہ سے ایک غلط سوچ پیدا ہو چکی ہے کہ شبِ زفاف میں ہمبستری کرنا لازم و ضروری ہے، اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اپنے آپ کو مردانگی میں کمی سمجھا جاتا ہے، چاہے دلہن حالتِ حیض میں ہو یا حالتِ طہر میں۔

سنن ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ أَتَى حَائِضًا، أَوِ امْرَأَةً فِيْ دُبُرِهَا، أَوْ كَاهِنًا، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ

یعنی: جو حائضہ عورت سے جماع کرے، یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے، یا کاہن کے پاس جائے، تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ [جامع ترمذی، ج: 1، ص: 242، رقم الحدیث: 135، مطبوعہ: مصر]

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”یعنی یہ تینوں شخص قرآن و حدیث کے منکر ہو کر کافر ہو گئے۔ خیال رہے کہ یہاں سے شرعی کفر ہی مراد ہے، اسلام کا مقابل۔ اور ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو عورت سے دبر (یعنی پچھلے مقام) میں یا بحالتِ حیض صحبت کو جائز سمجھ کر صحبت کریں۔“ [مراٰۃ المناجیح، ج: 1، ص: 308، مطبوعہ: مکتبہ اسلامیہ]

اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے، جو مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے بھی پوچھا گیا کہ: ”حیض و نفاس میں نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟“ اس کے جواب میں ہے: ”حیض یا نفاس میں نکاح صحیح ہے، مگر جب تک پاک نہ ہو لے، جماع حرام ہے۔“ [فتاویٰ امجدیہ، ج: 2، ص: 55، مکتبہ رضویہ، کراچی]

بہارِ شریعت میں ہے: ”ایسی حالت میں جماع کو جائز جاننا کفر ہے، اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سخت گنہگار ہوا، اس پر توبہ فرض ہے، اور آغازِ حیض میں کیا تو ایک دینار، اور ختم کے قریب کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مستحب ہے۔“ [بہارِ شریعت، ج: 1، حصہ: 2، ص: 382، مکتبۃ المدینہ]

اور یہ بات بھی ذہن سے کنارہ کش نہ ہونے دیں کہ آپ ایک لڑکی کے باپ یا بھائی ہیں، براہِ راست اس سے ایسے معاملات پوچھنا آپ کے لیے مناسب نہیں۔ اس کا آسان اور باوقار طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی اہلیہ سے کہیں کہ وہ نرمی اور حکمت کے ساتھ یہ بات دریافت کریں۔ جب آپ کو اس حوالے سے اطمینان ہو جائے تو بغیر کسی کو بتائے، نکاح کی تاریخ طے کرتے وقت ان ایام کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی تاریخ منتخب کریں جو مدتِ حیض کے دنوں سے ہٹ کر ہو۔ اس چھوٹی سی احتیاط کے ذریعے نہ صرف شرعی آداب کی رعایت ہو جاتی ہے بلکہ معاشرے کو بھی ایک بڑی خرابی سے بچایا جا سکتا ہے۔ اللہ رب العزت سے عاجزانہ دعا ہے کہ ہمیں دین کی باریکیوں کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور ہر قدم پر شرعی احکام کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری زندگیاں سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!