Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عظمت امام اعظم رضی اللہ عنہ

عظمت امام اعظم رضی اللہ عنہ
عنوان: عظمت امام اعظم رضی اللہ عنہ
تحریر: مولانا مجتبیٰ اشرف عظیم آبادی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت ایک روایت کے مطابق ۷۰ھ اور دوسری روایت کے مطابق ۸۰ھ میں کوفہ میں ہوئی۔ آپ کا نام نعمان اور کنیت ابو حنیفہ ہے اور والدِ محترم کا نام ثابت۔ عربی میں نعمان اس خون کو کہتے ہیں کہ جس خون پر مدارِ حیات ہوتا ہے اور فقاہت میں آپ اسی خون کی طرح اعلیٰ مقام پر فائز ہیں کہ امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

النَّاسُ فِي الْفِقْهِ عِيَالُ أَبِي حَنِيفَةَ

”فقہ میں سب لوگ ابوحنیفہ کے محتاج ہیں۔“

آپ کی کنیت ابوحنیفہ کی توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ کا حلقۂ درس بہت وسیع ہوتا تھا، طلبہ کے لئے وقف کی چار سو دواتیں ہمیشہ ہوتی تھیں اور اہلِ عراق دوات کو حنیفہ کہتے تھے اس لئے آپ کو ابو حنیفہ یعنی دوات والے کہا گیا۔ بعض نے کہا کہ آپ کی حنیفہ نام کی ایک شاہزادی تھیں جن کی وجہ سے آپ کو ابو حنیفہ کہا گیا۔

آپ کے پیدا ہونے کی خوشخبری سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی عطا فرمادی تھی جیسا کہ علامہ موفق بن احمد مکی رحمۃ اللہ علیہ (م ۵۷۸ھ) اپنی کتاب مناقب امام اعظم ابو حنیفہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں ایک مرد پیدا ہوگا جس کا نام ابو حنیفہ ہوگا وہ قیامت کے دن میری امت کا چراغ ہوگا۔“

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اپنی کتاب تبییض الصحیفہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جسے نعمان کہا جائے گا اور اس کی کنیت ابو حنیفہ ہوگی وہ اللہ کے دین اور میری سنت کو زندہ کرے گا۔“

آپ کے پوتے اسماعیل بن حماد فرماتے ہیں کہ ہمارے دادا امام اعظم ابو حنیفہ کے دادا زوطا اپنے بیٹے اور امام اعظم کے والد ثابت کو لے کر سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے اور ان کی اولاد کے لئے برکت کی دعا فرمائی، اسی دعا کی برکت ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ! خطیب بغدادی ابویحییٰ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوحنیفہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قبر انور کھود رہا ہوں، اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ پھر جب میں بصرہ آیا تو میں نے اس کی تعبیر حضرت محمد بن سیرین سے معلوم کرائی تو انھوں نے فرمایا کہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کو پرکھنے اور ان کی جستجو میں لگا ہوا ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اور کوفہ

کوفہ وہ عظیم شہر ہے جو عراق میں دریائے فرات کے کنارے آباد ہے، جسے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حکم سے ۱۷ھ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بسایا تھا، جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رَأْسُ الْإِسْلَامِ، رَأْسُ الْعَرَبِ، كَنْزُ الْإِيمَانِ فرمایا، جسے حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ نے رُمْحُ اللَّهِ اور سَيْفُ اللَّهِ فرمایا اور ساتھ ہی اسے اپنا دارالخلافت بھی بنایا، جہاں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن و حدیث کا درس دیا اور اس درس میں بیک وقت چار چار ہزار افراد حاضر ہوتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے تلامذہ کے ساتھ آپ کے استقبال کے لئے نکلے تو سارا میدان آپ کے تلامذہ سے بھر گیا۔ جسے دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ”اے ابن مسعود! آپ نے تو کوفہ کو علمِ فقہ سے بھر دیا ہے، اب کوفہ آپ کی بدولت مرکزِ علم بن گیا ہے۔“ جسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے قُبَّةُ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِ الْإِسْلَامِ یعنی اسلام اور اہلِ اسلام کا گھر فرمایا، جہاں ایک ہزار پچاس صحابہ کرام آکر آباد ہوئے جن میں ستر اصحابِ بدر اور تین سو بیعتِ رضوان کے شرکا تھے، جس جگہ یہ نجومِ ہدایت اکٹھے ہوں اس کی ضوفشانیاں کہاں تک ہوں گی، اس کا اندازہ ہر ذی فہم لگا سکتا ہے۔

اسی کی برکتیں تھیں کہ کوفہ کا ہر گھر علم کے نور سے جگمگا رہا تھا ہر گھر دارالحدیث اور دارالعلوم بن گیا تھا۔ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ جس عہد میں پیدا ہوئے، اس وقت کوفہ میں حدیث و فقہ کے ایسے ائمہ مسندِ تدریس کی زینت تھے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ آفتاب و ماہتاب تھے۔ مثال کے طور پر کوفہ میں اس وقت حضرت ابراہیم نخعی موجود تھے جو فقہ کے ساتھ ساتھ علمِ حدیث کے مسلم الثبوت امام گزرے ہیں جنھیں فقیہِ عراق کہا جاتا تھا، جو متعدد صحابہ کرام کی صحبت میں رہے؛ بصرہ، کوفہ، حجاز اور شام جیسی جگہ میں آپ سے زیادہ علم والا اس وقت کوئی نہ تھا، جن کے انتقال پر امام شعبی نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم نخعی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما اور حضرت علقمہ کے فضل و کمال میں نمونہ و جانشین تھے۔ ایسی عظیم اور مقبول شخصیت کی صحبت میں امام اعظم چھبیس سال رہے اور ان سے اکتسابِ فیض کیا۔

وہیں کوفہ میں اس وقت حضرت ہشام بن عروہ بن زبیر بھی موجود تھے، جن کی بارگاہ میں حضرت سفیان ثوری، امام مالک، ابن عیینہ جیسے کوہِ علم و فضل نے زانوئے تلمذ طے کیا۔ اور کوفہ کی اس وقت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس وقت صحابہ کرام میں سے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ وہیں موجود تھے، جن کی زیارت سے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ مشرف ہوئے۔ ان کا وصال ۸۷ھ میں ہوا، گویا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کی حیات مبارکہ کے سترہ سال ملے۔

اس کے علاوہ اگر آپ کی سنِ ولادت ۸۰ھ مانیں تو آپ نے مندرجہ ذیل صحابہ کرام کا زمانہ پایا اور کچھ سے ملاقات بھی ہوئی:

  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بصرہ میں متوفی ۹۳ھ
  • حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بصرہ میں متوفی ۹۲ھ
  • حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ مدینے میں متوفی ۹۱ھ
  • حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ مدینے میں متوفی ۹۲ھ
  • حضرت ابو امامہ انصاری رضی اللہ عنہ متوفی ۱۰۰ھ کوفے میں
  • حضرت ابو البداح رضی اللہ عنہ کوفے میں متوفی ۱۱۷ھ
  • حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کوفے میں متوفی ۹۴ھ

(اسد الغابہ ج ۲ ص ۳۲۲، اصابہ ج ۲ ص ۱۳)

اور اگر آپ کی سنِ ولادت ۷۰ھ مانیں تو آپ نے درج ذیل صحابہ کا بھی زمانہ پایا جو مختلف دیار میں جلوہ گر تھے:

  • حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ متوفی ۷۴ھ
  • حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ متوفی ۷۴ھ
  • حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ متوفی ۷۴ھ
  • حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ متوفی ۷۳ھ
  • حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ متوفی ۷۴ھ
  • حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ متوفی ۷۴ھ

بعض روایات میں ہے کہ آپ نے چھبیس صحابہ کرام سے ملاقات کی، بعض نے لکھا کہ بیس صحابہ کرام سے ملاقات کی، بعض نے لکھا کہ دس صحابہ سے ملاقات کی۔ لیکن اس تعلق سے امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو سات صحابہ کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور بعض صحابہ سے احادیث روایت کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا، اور وہ صحابہ جن سے آپ کو ملاقات کا شرف حاصل ہوا وہ حضرت انس بن مالک، حضرت عبداللہ بن حارث، حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت معقل بن یسار، حضرت واثلہ بن اسقع، حضرت عبداللہ بن انیس، حضرت عائشہ بنت عجرد رضی اللہ عنہم وغیرہ ہیں۔

پھر کوفہ کی یہ علمی شان صحاحِ ستہ کے مصنفین کے عہد تک باقی رہی، یہی وجہ ہے کہ جب امام بخاری سے پوچھا گیا کہ آپ کوفہ کتنی دفعہ گئے؟ آپ نے فرمایا: ”کوفہ اور بغداد تو میں اتنی دفعہ گیا کہ اس کو شمار نہیں کر سکتا۔“ اگر کوفہ میں کچھ نہیں تھا تو امام بخاری علیہ الرحمہ جیسے احادیث کے بحرِ نا پیدا کنار اتنی دفعہ کوفہ کیوں گئے کہ جس کو وہ اپنے محیر العقول حافظے کے باوجود شمار نہیں کر سکے تو کہنا پڑے گا کہ امام بخاری علیہ الرحمہ ان گنت دفعہ کوفہ علم حاصل کرنے کے لئے گئے۔ پھر کوفہ کی یہ حالت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے وصال کے تقریباً اسی سال بعد کی تھی تو اسّی سال پہلے کوفہ میں علم و فضل کا کیا حال رہا ہوگا جو کہ تابعینِ عظام کا زمانہ تھا بلکہ صحابہ کرام کا اخیر دور تھا۔

امام اعظم کا علمی مقام

منصور خلیفہ نے ایک دفعہ آپ سے دریافت کیا کہ آپ نے علم کس کس سے حاصل کیا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے علم حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت عبد الله بن عمر اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے اصحاب سے حاصل کیا ہے۔“ اسی کی برکتیں ہیں کہ اکثر محدثین آپ رضی اللہ عنہ کے باواسطہ یا بلا واسطہ شاگرد ہوئے، مثلاً آپ کے شاگرد امام مالک اور امام محمد، ان کے شاگرد امام شافعی، اور امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل، اور ان کے شاگرد امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داؤد، اور امام بخاری کے شاگرد امام ترمذی اور امام نسائی رضی اللہ عنہم وغیرہ ہیں۔ غرض کوئی محدث ایسا ہو جس کو امام اعظم سے بلاواسطہ یا باواسطہ شرفِ تلمذ حاصل نہ ہوا ہو۔ (فتح المبین مع تنبیہ الوہابیین ص ۲۵۶ / علامہ منصور خان)

ایک دفعہ مدینہ طیبہ کی حاضری کے موقع پر آپ سیدنا امام باقر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے ایک ساتھی نے تعارف کرایا کہ یہ ابو حنیفہ ہیں۔ پس امام باقر رضی اللہ عنہ نے امام اعظم سے فرمایا: ”وہ تمہی ہو جو قیاس کر کے میرے جدِ کریم کی حدیثوں کا رد کرتے ہو؟“ (چونکہ حاسدین نے آپ کے بارے میں یہ پھیلا رکھا تھا کہ یہ مسئلہ قیاس سے بیان کرتے ہیں) پس امام اعظم نے عرض کیا: ”معاذ اللہ! حدیث کو کون رد کر سکتا ہے، حضور اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں۔“ اجازت ملنے کے بعد امام اعظم نے عرض کیا: ”حضور! مرد کمزور ہے یا عورت؟“ امام باقر نے فرمایا: ”عورت!“ پھر عرض کیا: ”وراثت میں مرد کا حصہ زیادہ ہے یا عورت کا؟“ امام باقر نے فرمایا: ”مرد کا!“ آپ نے عرض کیا: ”حضور! اگر میں قیاس سے حکم دیتا تو عورت کو مرد کا دونا حصہ دینے کا حکم دیتا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔“ پھر عرض کیا: ”حضور! نماز افضل ہے یا روزہ؟“ امام باقر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نماز!“ پھر عرض کیا: ”قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جب نماز روزہ سے افضل ہے تو حائضہ پر نماز کی قضا بدرجۂ اولیٰ لازم ہونی چاہئے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ پس اگر میں احادیث کے خلاف قیاس سے حکم دیتا تو یہ حکم دیتا کہ حائضہ نماز کی بھی قضا ضرور کرے۔“ اس علمی گفتگو پر امام باقر اتنا خوش ہوئے کہ کھڑے ہو کر آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا۔

خطیب بغدادی احمد بن صباغ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے امام شافعی محمد بن ادریس علیہ الرحمہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی نے امام مالک بن انس سے پوچھا کیا آپ نے امام اعظم ابو حنیفہ کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! میں نے دیکھا ہے، وہ ایسے شخص تھے کہ اگر وہ تم سے کہہ دیتے کہ یہ سواری سونے کی ہے تو وہ دلائل کے ذریعہ ثابت کر دیتے کہ یہ سواری سونے کی ہے۔“

ایک دفعہ امام اعظم اور امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے شاگردوں کے درمیان اپنے اپنے شیخ کو لے کر بحث شروع ہوگئی، ہر گروہ اپنے امام کی فضیلت کا دعویدار تھا۔ اس موقع پر حضرت امام ابو عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں گروہ کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے اصحابِ امام شافعی سے فرمایا: ”تم اپنے امام کے اساتذہ کو شمار کراؤ۔“ جب انھوں نے اپنے امام کے اساتذہ کو شمار کرایا تو وہ ۸۰ تھے، پھر انہوں نے اصحابِ امام اعظم سے فرمایا: ”اب تم اپنے امام کے اساتذہ کو شمار کراؤ!“ پس جب انہوں نے امام اعظم کے اساتذہ کو شمار کرایا تو وہ چار ہزار تھے۔

اس طرح اساتذہ کی تعداد کے ذریعہ آپ نے ان کے مابین اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا کہ امام اعظم حدیث و فقہ دونوں میں امام الائمہ تھے۔ آپ کے تقریباً ایک ہزار شاگرد تھے جن میں چالیس افراد اجتہاد کے بہت ہی اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور وہ آپ کے مشیرِ خاص بھی تھے، جن میں امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن الشیبانی، امام حماد بن ابی حنیفہ، امام زفر بن ہذیل، امام عبد اللہ بن مبارک، امام وکیع بن جراح، امام داؤد بن نصیر رحمہم اللہ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

خطیب بغدادی یحییٰ بن ضریس سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت سفیان ثوری کو کہتے ہوئے سنا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ ابو حنیفہ فرماتے ہیں، کوئی بھی مسئلہ ہو میں سب سے پہلے کتاب اللہ میں دیکھتا ہوں، پھر اگر اس میں وہ مسئلہ نہیں ملتا ہے تو میں سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تلاش کرتا ہوں، پھر جب کتاب اللہ اور سنت دونوں میں وہ مسئلہ نہیں ملتا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متفق علیہ قول کی طرف رجوع کرتا ہوں، اس میں بھی وہ مسئلہ نہیں پاتا تو میں ان کے مختلف فیہ قول کی طرف رجوع کرتا ہوں، پھر ان میں سے بھی وہی لیتا ہوں جو ان میں قوی ہوتا ہے، پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا پھر میں ان میں سے کسی ایک کی روشنی میں قیاس کرتا ہوں، پھر جب مسئلہ مکمل ہو جاتا ہے تو اسے حضرت ابراہیم، شعبی، ابن سیرین، عطاء، ابن مسیب رضی اللہ عنہم وغیرہ چالیس مجتہدین کے سامنے رکھتا ہوں، پھر وہ اسی نہج پر غور و فکر اور اجتہاد کرتے ہیں۔

امام اعظم ائمہ و فقہا کی نظر میں

امام شافعی نے امام مالک رضی اللہ عنہ سے آپ کے بارے میں پوچھا تو امام مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

سُبْحَانَ اللَّهِ، لَمْ أَرَ مِثْلَهُ، تَاللَّهِ

”اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے ابو حنیفہ کے مثل کسی کو نہیں دیکھا۔“

امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے آپ کے بارے میں فرمایا: ”وہ علم اور زہد و تقویٰ کے ایسے مقام پر فائز تھے کہ دوسرا اس مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔“

امام خطیب تبریزی نے فرمایا: ”اہلِ اسلام پر لازم و ضروری ہے کہ وہ نماز میں امام اعظم ابو حنیفہ کے لئے دعا مانگا کریں کیونکہ انھوں نے حدیث و فقہ کی ان کے لئے حفاظت کی ہے۔“

امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے متعلق ان دو شخصوں کے سوا کوئی بدگمانی نہیں کر سکتا: ایک تو وہ شخص جو ان کے علم سے حسد کرنے والا ہو، دوسرا وہ شخص جو ان کے علم سے ناواقف ہو۔

ابو بکر بن عیاش بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سفیان کے بھائی عمر بن سعید کا انتقال ہوا تو ہم ان کو تعزیت پیش کرنے کے لئے ان کے گھر گئے، تعزیت کرنے والوں سے پورا گھر بھرا ہوا تھا، اسی اثنا میں ابو حنیفہ بھی اپنی ایک جماعت کے ساتھ تعزیت پیش کرنے کے لئے تشریف لائے۔ پس حضرت سفیان آپ کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور عزت و احترام کے ساتھ اپنی جگہ لا کر بٹھایا اور خود آپ کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گئے، یہاں تک کہ جب آپ چلے گئے تو میں نے حضرت سفیان سے پوچھا کہ آپ نے ان کو اپنی جگہ کیوں بٹھایا اور اس قدر تعظیم و تکریم کیوں کی؟ تو آپ نے فرمایا: ”وہ علم و تقویٰ میں بہت ہی اعلیٰ مقام پر فائز ہیں، اگر میں ان کے علم کے لئے کھڑا نہ ہوتا تو ان کے فقہ کے لئے کھڑا ہوتا، اگر فقہ کے لئے کھڑا نہ ہوتا تو ان کے تقویٰ و ورع کے لئے کھڑا ہوتا۔“

حضرت عبد اللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بن عمارہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ”خدا کی قسم! میں نے فقہ میں آپ سے زیادہ عمدہ کلام کرتے ہوئے کسی کو نہ دیکھا اور نہ ہی آپ سے زیادہ کسی کو حاضر جواب پایا۔“ حافظ عبدالعزیز امام ابوداؤد سے نقل کرتے ہیں کہ ”جو شخص امام ابوحنیفہ کو دوست رکھے، وہ سنی ہے اور جو بغض رکھے وہ بدعتی ہے۔“

امام مسعر بن کدام بیان کرتے ہیں کہ میں امام اعظم کی مسجد میں آیا تو میں نے آپ کو اشراق کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر اس کے بعد آپ طلبہ کو پڑھانے کے لئے بیٹھ گئے اور ظہر تک پڑھاتے رہے، پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی اور پھر پڑھانے کے لئے بیٹھ گئے اور عصر تک پڑھاتے رہے، پھر آپ نے عصر کی نماز ادا کی اور پھر پڑھانے کے لئے بیٹھ گئے اور مغرب تک پڑھاتے رہے، پھر آپ نے مغرب کی نماز ادا کی اور عشا تک مسجد میں ہی بیٹھے رہے، میں نے اس وقت اپنے دل میں سوچا کہ یہ عجیب بزرگ ہیں یہ اپنے شغل سے فارغ ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی تھکتے ہیں، پھر جب عشا کے بعد لوگ مسجد سے چلے گئے تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے یہاں تک فجر طلوع ہو گئی، اس کے بعد آپ اپنے دولت کدہ پر تشریف لے گئے اور لباس وغیرہ تبدیل کر کے مسجد تشریف لائے اور فجر کی نماز ادا کی اور حسبِ سابق طلبہ کو ظہر تک پڑھایا اور ظہر کی نماز ادا کی، پھر ظہر سے لے کر عصر تک پڑھایا اور عصر کی نماز ادا کی، پھر عصر سے لے کر مغرب تک پڑھایا اور مغرب کی نماز ادا کی، پھر مغرب سے عشا تک پڑھایا اور پھر عشا کی نماز ادا کی۔

پس میں نے سوچا کہ یہ عجیب بزرگ ہیں کہ یہ تھکتے ہی نہیں ہیں، پھر عشا کے بعد جب لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور صبحِ صادق تک عبادات میں مشغول رہے، پھر وقتِ صبح صادق اپنے مکان پر چلے گئے اور لباس وغیرہ تبدیل کر کے تشریف لائے اور فجر کی نماز ادا کی، پھر اس دن اور رات میں بھی آپ کا یہی معمول رہا، پس میں نے اپنے دل میں یہ عہد کیا کہ میں یہاں سے ہر گز نہ جاؤں گا حتیٰ کہ ان کا انتقال ہو جائے یا میں مرجاؤں۔

ابن ابی معاذ بیان کرتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی مسجد میں ہی حضرت مسعر کا حالتِ سجدہ میں انتقال ہوا۔

امام اعظم اور قرآن پاک

خطیب بغدادی حماد بن یونس سے روایت کرتے ہیں کہ جس مقام پر امام اعظم ابو حنیفہ کا انتقال ہوا اس جگہ پر آپ نے ستر ہزار مرتبہ قرآنِ مجید ختم فرمایا تھا، خطیب بغدادی نے خارجہ بن مصعب کو کہتے ہوئے سنا کہ ختمِ قرآن ایک رکعت میں چار اماموں نے کیا ہے: ایک سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، دوسرے حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تیسرے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، چوتھے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ خطیب بغدادی نے یحییٰ بن نصر کو کہتے ہوئے سنا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بسا اوقات ماہِ رمضان میں ساٹھ ختمِ قرآن فرماتے تھے۔

اسد بن عمرو سے روایت ہے کہ انھوں نے امام اعظم ابو حنیفہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن کریم کی کوئی ایسی سورۃ نہیں جس کی میں نے اپنے وتر کی رکعتوں میں تلاوت نہ کی ہو۔

امام اعظم کی تقویٰ شعاری

خطیب بغدادی علی بن حفص سے روایت کرتے ہیں کہ حفص ابن عبد الرحمن تجارت میں امام اعظم کے شریک تھے۔ پس امام اعظم نے ایک دفعہ ان کو کچھ سامانِ تجارت دے کر بھیجا تو فرمایا: ”فلاں کپڑے کے تھان میں عیب ہے، لہٰذا جب تم اس کو فروخت کرنا تو ضرور بتا دینا۔“ چنانچہ حفص بن عبد الرحمن گئے اور وہ تمام مال فروخت کر دیا اور خریدار کو عیب بتانا بھول گئے، اور یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ تھان کس سے فروخت کیا ہے۔ جب حضرت امام اعظم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے اس مالِ تجارت سے آئے ہوئے سارے مال کو صدقہ کر دیا۔ آپ نے مسلسل چالیس سال تک عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی اور تیس سال روزے رکھے اور رات میں مسلسل چالیس برس لیٹے نہیں۔

آپ کے وصال کی وجہ اور تجہیز و تدفین

منصور نے جب بغداد کو دارالسلطنت بنایا تو آپ کو بلوایا اور آپ کی خدمت میں عہدۂ قضا پیش کیا۔ آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں اس عہدہ کے لائق نہیں ہوں۔ منصور نے جھنجھلا کر کہا کہ تم جھوٹے ہو۔ امام اعظم نے فرمایا کہ اگر میں اپنی بات میں سچا ہوں تو بھی ثابت ہے کہ میں عہدۂ قضا کے لائق نہیں، اور تمہارے اعتبار سے جھوٹا ہوں تو بھی عہدۂ قضا کے لائق نہیں اس لئے کہ جھوٹے کو قاضی بنانا جائز نہیں۔ اس پر بھی منصور نہ مانا اور قسم کھا کر کہا تم کو قبول کرنا پڑے گا، پس آپ نے بھی قسم کھا کر کہا کہ میں بھی ہر گز قبول نہیں کروں گا۔

اس پر منصور بہت ناراض ہوا اور آپ کو قید خانے میں ڈال دیا، لیکن اس سے آپ پر کوئی اثر نہ پڑا بلکہ اس کے قید کرنے سے آپ کی عظمت و رفعت اور بلند ہو گئی اور عوام و خواص سبھی آپ سے کسبِ فیض کے لئے قید خانہ میں ہی آنے لگے، اور امام محمد تو اخیر وقت تک قید خانے میں ہی آپ سے علم حاصل کرنے کے لئے آتے رہے۔ جب منصور نے دیکھا کہ قید کرنے سے بھی کوئی بات نہیں بن رہی ہے تو اس نے خفیہ طور پر آپ کو زہر دلوا دیا، جس کی وجہ سے آپ کا وصالِ مبارک نوے سال کی عمر میں دو شعبان المعظم ۱۵۰ھ کو بغداد میں ہوا۔ اور وصال ہوتے ہی یہ خبر بجلی کی طرح پورے بغداد میں پھیل گئی اور چہار جانب سے لوگوں کا سیلاب امنڈ پڑا، حتیٰ کہ قاضی بغداد حضرت حسن بن عمار نے آپ کو غسل دیا اور غسل سے فارغ ہوتے ہوئے، اس قدر جمِ غفیر اکٹھا ہو گیا کہ پہلی نمازِ جنازہ میں پچاس ہزار کا مجمع تھا، اس پر بھی آنے والے لوگوں کا تانتا بندھا رہا حتیٰ کہ آپ کی نمازِ جنازہ چھ دفعہ پڑھی گئی، اخیر میں آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے صاحبزادے حضرت حماد نے پڑھائی اور عصر کے قریب آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

ماخوذ از: (مقدمہ نزہۃ القاری / ماہنامہ سنی دنیا، مارچ ۲۰۲۳ء، ص ۴۲ تا ۴۷)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!