Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خلقت محمدی (قسط: اول)

خلقت محمدی (قسط: اول)
عنوان: خلقت محمدی (قسط: اول)
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد
پیش کش: ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی
منجانب: جامعہ مصباح تاج الشریعہ، ردولی شریف، بہار

کچھ نہ تھا، نہ زمین تھی نہ آسمان، نہ آفتاب تھا نہ ماہتاب، نہ دن تھا نہ رات، نہ گرمی تھی نہ سردی، نہ نسیم تھی نہ شمیم، نہ پھول تھے نہ پھل، نہ بہار تھی نہ خزاں، نہ بادل تھے نہ برسات، نہ چرند تھے نہ پرند، نہ صحرا تھے نہ گلشن، نہ شجر تھے نہ حجر، نہ دریا تھے نہ سمندر، نہ ہوا تھی نہ پانی، نہ آگ تھی نہ خاک، نہ جن تھے نہ ملک، نہ حیوان تھے نہ انسان، نہ یہ چہل پہل تھی نہ یہ ریل پیل، نہ دیوانگی تھی نہ شعور، نہ ہجر تھا نہ وصال، نہ اقرار تھا نہ انکار، نہ آہ تھی نہ فریاد، نہ رونا تھا نہ ہنسنا، نہ جاگنا تھا نہ سونا، نہ جذبہ تھا نہ احساس، نہ جوانی تھی نہ بڑھاپا، نہ ہوش تھا نہ خرد، نہ نشیب تھا نہ فراز۔

کچھ نہ تھا، وہی وہ تھا، پھر کیا ہوا؟ کائنات کی وسیع و عریض فضاؤں میں ایک نور چمکا۔ وہ نور کیا چمکا گویا زندگی میں بہار آ گئی۔ سلسلہ چل نکلا۔ چراغ سے چراغ جلنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا جہاں جگمگانے لگا۔ ٹھہریے ٹھہریے، دیکھیے دیکھیے، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے وہ کیا فرما رہے ہیں:

”اے جابر! اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے اپنے نور سے تیرے نبی کے نور کو پیدا فرمایا، یہ یقینی بات ہے، اس میں کوئی شک نہیں، پھر وہ نور قدرتِ الہی سے جہاں خدا نے چاہا دورہ کرتا رہا، اُس وقت لوح، قلم، جنت، دوزخ، فرشتے، آسمان، زمین، سورج، چاند، جن و انس کچھ نہ تھا“۔

ایک مرتبہ فرمایا: ”سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرا نور پیدا فرمایا اور میرے ہی نور سے ہر چیز پیدا فرمائی“۔

قرآنِ حکیم میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللّٰهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ ”بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب“۔

کون جانے یہ نور کب ظاہر ہوا، اتنا پتہ چلتا ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز حضرت جبریل علیہ السلام سے دریافت فرمایا: ”تمہاری عمر کتنی ہے؟“ انھوں نے عرض کیا:

”اس کے سوا میں کچھ نہیں جانتا کہ چوتھے حجابِ عظمت میں ہر ستر ہزار برس کے بعد ایک ستارہ طلوع ہوتا تھا جسے میں نے اپنی عمر میں ستر ہزار مرتبہ دیکھا“۔

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبریل! میرے رب کے عزت و جلال کی قسم وہ ستارہ میں ہی ہوں“۔

امام بخاری نے بخاری شریف میں وہ طویل حدیث نقل فرمائی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تمام اشیاء بتدریج نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدا فرمائیں۔ چنانچہ اسی حدیثِ شریف کی روشنی میں اہلِ حدیث کے مشہور فاضل نواب صدیق حسن خان صاحب بعض عرفا کے تاثرات و خیالات نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”چونکہ ممکنات کی ہر شے، موجودات کے ہر ایک ذرے میں حقیقتِ محمدیہ علیہ الصلوٰۃ والسلام جاری و ساری ہے اس لیے تشہد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا گیا ہے۔ پس آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نمازیوں کے وجود میں حاضر ہیں اس لیے نمازی پر واجب ہے کہ اس حقیقت سے باخبر رہے اور اس مشاہدے سے غافل نہ رہے تاکہ انوارِ قرب اور اسرارِ معرفت سے روشن اور بامراد ہو“۔ ہاں!

در راہِ عشق مرحلہ قرب و بعد نیست
می بینمت عیاں دعا می فرستمت

سکھ مت کے بانی گرو نانک (1469ء - 1539ء) نے ریاضیاتی طور پر بیان کیا ہے کہ نورِ محمدی کائنات کی ہر شے میں جلوہ گر ہے، انھوں نے اپنے شبد میں بڑے یقین کے ساتھ کہا ہے:

گرو نانک یوں کہے
ہر شے میں محمد کو پائے

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے میں نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری ہے تو گویا ہم یہ اعتراف کرتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے اپنی تخلیق میں نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرہونِ منت ہے، آپ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا۔

اگر یہ حقیقت ہے تو پھر اس کو دنیا کی ہر مذہبی کتاب میں ہونا چاہیے، حدیث میں ہونا چاہیے، دیدہ وروں کے اقوال میں ہونا چاہیے۔ آئیے ایک نظر احادیث پر ڈالیں:

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: ”اے محمد! میری عزت و جلال کی قسم اگر آپ نہ ہوتے تو میں نہ زمین پیدا کرتا اور نہ آسمان اور نہ یہ نیلگوں چھت بلند کرتا اور نہ یہ خاکی فرش بچھاتا“。

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یوں فرمایا: ”میرے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے اور کہا اے محمد! اگر آپ نہ ہوتے تو جنت پیدا نہ کرتا، آپ نہ ہوتے جہنم پیدا نہ کرتا“。

ایک اور روایت میں یہ بھی ہے: ”آپ نہ ہوتے تو دنیا پیدا نہ کرتا“。

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے فرمایا، محمد نہ ہوتے تو میں تم کو پیدا نہ کرتا“。

اور ایک دوسری حدیث میں ہے: ”اگر محمد نہ ہوتے تو نہ تم کو پیدا کرتا اور نہ ہی زمین و آسمان کو“。

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز حضرت جبریل علیہ السلام سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”آپ کا رب فرماتا ہے، بے شک میں نے تم پر انبیاء کو ختم کیا، اور کوئی ایسا نہ بنایا جو تم سے زیادہ میرے نزدیک عزت والا ہو، تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا کہ کہیں میرا ذکر نہ ہو جب تک کہ میرے ساتھ تم یاد نہ کیے جاؤ، بے شک میں نے دنیا اور اہلِ دنیا سب کو اس لیے بنایا کہ تمہاری عزت اور اپنی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ ان پر ظاہر کروں اور اگر تم نہ ہوتے نہ میں آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے اصلاً نہ بناتا“。

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام سے لغزش سرزد ہو گئی تو انھوں نے آپ کے وسیلے سے مغفرت کی دعا فرمائی، رب تعالیٰ نے پوچھا، ”محمد کو کیسے پہچانا؟“ عرض کیا آنکھ کھولتے ہی سرِ عرش یہ کلمہ لکھا دیکھا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ فرمایا، ”میں نے تمہیں بخش دیا اور ساتھ ہی یہ فرمایا: وہ تمہاری اولاد میں سے آخری نبی ہیں، اگر وہ نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا“。

یہ روایت ابن تیمیہ نے فتاویٰ کبریٰ میں نقل کی ہے۔ انجیل برناباس اور انجیل یوحنا میں بھی اس عالمگیر حقیقت کا ذکر ملتا ہے۔

انجیل برناباس میں رب تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے: ”میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر تمام اشیاء بنائی ہیں تاکہ اس کے وسیلے سے تمام اشیاء میری صفت و ثنا کریں“。

اس انجیل برناباس میں ہے حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام سے جب پوچھا گیا کہ آنے والے رسول کا کیا نام ہوگا، تو آپ نے فرمایا: ”اس کا نام محمد ہوگا، کیوں کہ اللہ نے جس وقت اس کی روح پیدا کی یہی نام رکھا تھا اور اس روح کو ایک آسمانی نور میں رکھا تھا اور فرمایا تھا: محمد انتظار کیجیے کیوں کہ میں تیری خاطر جنت، دنیا اور بکثرت مخلوق پیدا کروں گا، جس پر آپ کو گواہ بناؤں گا جو تجھ پر سلام بھیجے گا اس پر سلام بھیجا جائے گا“。

اور انجیل یوحنا میں ہے: ”ساری چیزیں اس کے وسیلے سے پیدا ہوئیں، جو کچھ پیدا ہوا ہے اُس میں سے کوئی چیز بھی اس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔ اس میں زندگی تھی، اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھا“。

مندرجہ بالا حقائق و شواہد سے معلوم ہوا کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور کائنات کے ذرے ذرے میں جاری و ساری ہے اور بے شک آپ وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ (م 150ھ) اپنے نعتیہ قصیدے میں فرماتے ہیں:

  1. اگر آپ نہ ہوتے تو کوئی انسان پیدا نہیں کیا جاتا اور نہ مخلوقِ خدا پیدا کی جاتی۔
  2. آپ ہی کے نور سے چودھویں کے چاند نے چاندنی کا لباس پہنا اور آپ ہی کے جمال کے نور سے سورج نورانی ہے۔ [ماخوذ از: قصیدۃ النعمان مع شرح رحمۃ الرحمان، مطبوعہ سیالکوٹ، ص: 40، 41]

حضرت عمر بن فارض رضی اللہ عنہ (633ھ / 1234ء) نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں قصیدہ بائیۃ الکبریٰ پیش کیا ہے، اس میں فرماتے ہیں: ”موجودات کے ہر وجود کی اصل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے۔ کیونکہ آپ ساری کائنات کے لیے روحِ اعظم کی صورت میں ہیں اور آپ ہی رابطہِ ایجاد ہیں، مکاشفہ والوں کو شہود کی نعمتِ عظمیٰ آپ ہی کے سبب ملتی ہے کیوں کہ شہود روح کی صفت اور فخرِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ مقدس تمام روحوں کی اصل ہے“。

علامہ ابن جوزی (م 597ھ / 1200ء) سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد آمد پر ملتِ اسلامیہ کو مبارک باد دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اگر آپ نہ ہوتے تو یہ ساری دنیا ہی نہ پیدا کی جاتی، یہ فخر کی بات ہے میں انکار کی بات نہیں کر رہا، ایسے ہدایت کرنے والے نبی کی اُمت! تمہیں مبارک ہو!“。

علامہ محمد ہاشم ٹھٹوی علیہ الرحمہ (1104ھ / 1694ء تا 1172ھ / 1758ء) سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں اپنے ایک عربی قصیدے میں فرماتے ہیں:

  1. تمام جہاں تجھ سے روشن ہوا، تو اے اللہ کے نور مجھے بھی چمکا!
  2. تمام کائنات کے اطراف تیرے روئے زیبا سے روشن ہوئے۔
  3. تمام دل محمدِ عربی کی طرف مائل ہوئے کیوں کہ وہی تو حسن و جمال کو تقسیم کرنے والے ہیں۔
  4. اگر آپ نہ ہوتے تو سات طبق آسمانوں کے اور نہ ہی جنت اور نغمہ سرا پرندے ہوتے۔

اور ایک عاشقِ صادق نے کیا خوب فرمایا ہے:

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے

  • [جاری...]
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!