| عنوان: | بد مذہبوں سے میل جول کا شرعی حکم |
|---|---|
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
بد مذہبوں سے قطع تعلق کا حکم
ہر قسم کے بدمذہبوں سے قطع تعلق کا حکم ہے۔ کبھی شرعی ضرورت و حاجت اور مصلحتِ شرعیہ کے سبب بعض احکام میں تخفیف ہوتی ہے۔ یہ حکم سببِ تخفیف کی بقا تک محدود رہتا ہے۔
بھارتی مسلمانوں کے زخم خوردہ حالات
بھارتی مسلمانوں پر کانگریسی عہد میں بھی مظالم ہوئے اور بھاجپائی عہد میں ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے، بلکہ انگریزوں کے عہدِ حکومت میں بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں۔ ظلم و ستم کا سدِ باب لازم ہے۔ عصرِ حاضر میں بعض متفکرین بتاتے ہیں کہ تمام کلمہ گو طبقات متحد ہو جائیں تو ظلم و ستم بند ہو جائے گا۔ ان کا یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو وہابیہ اور دیابنہ سے اتحاد کے واسطے محض حیلے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں۔
اگر تمام دلت متحد ہو جائیں تو دلتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیسے ختم ہو جائیں گے۔ ظلم و ستم کا خاتمہ ڈیفنس سے ہوتا ہے۔ کوئی آپ کو قتل کرنے آئے اور آپ اپنا مضبوط دفاع کر کے دشمن کو پچھاڑ دیں تو دشمن آپ سے خوف محسوس کرے گا، کیوں کہ قاتل کو بھی اپنی جان خطرے میں محسوس ہوگی۔ ظلم و ستم کا خاتمہ ڈیفنس سے ہوتا ہے، نہ کہ اہلِ باطل سے اتحاد سے۔ اگر سب لوگ متحد ہو کر بھی ڈیفنس نہ کریں تو ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہے گا۔ شرعی ضرورت یا شرعی حاجت کے تحقق کے وقت اہلِ باطل سے عملی اشتراک کی اجازت ہوتی ہے۔ موجودہ مظالم کے ڈیفنس کے لیے بڑے شہروں میں ”امن کمیٹی“ قائم کی جائے، نیز بھارت میں کلمہ گو طبقات کی متعدد کمیٹیاں ہیں جو ڈیفنس اور قانونی کارروائی کی خدمت سر انجام دیتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کو اخلاص و ہوشمندی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں بھارتی قانون کی روشنی میں ڈیفنس کرنا ہوگا۔
ڈیفنس کرنے والی جماعت اور کمیٹی کو اپنے اندر مضبوطی پیدا کرنی ہوگی۔ تمام کلمہ گو عوام و خواص مل جل کر کچھ نہیں کر سکتے۔ یہاں کوئی میدانِ حرب و ضرب نہیں کہ سب مل جل کر وہاں اکٹھے ہوں اور اپنی قوت و طاقت سے کچھ کر سکیں۔ مسلمانوں کو اپنے ڈیفنس کے لیے جو کچھ بھی کرنا ہے، اس کے لیے انھیں عدلیہ، انتظامیہ اور اہلِ حکومت کے پاس جانا ہوگا۔
اگر تمام کلمہ گو طبقات کی مشترکہ تنظیم کی ضرورت بھی ہو تو دو مشترکہ کمیٹیاں، آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت (تشکیل شدہ: 1964) اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (قائم شدہ: 1972) پہلے ہی سے موجود ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ میں سنی جماعت کے بھی بعض افراد شامل ہیں۔ یہ دونوں تنظیمیں خود کو تمام کلمہ گو طبقات کی نمائندہ جماعت تسلیم کرتی ہیں۔ اگر یہ دونوں تنظیمیں کامیاب نہیں تو کسی جدید تنظیم کی کامیابی کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔
ہو سکے تو خالص سنی مسلمانوں کی ایک مرکزی ڈیفنس کمیٹی بنائی جائے جس کی شاخیں ملک بھر میں ہوں۔ درحقیقت تمام سنی مسلمانوں کو جمع کر لینا مشکل ہے، پھر تمام کلمہ گو طبقات کو جمع کرنا کس قدر مشکل ہوگا۔ خواب دیکھنا آسان ہے۔ خوابوں کی تعبیر کا جلوہ پذیر ہونا مشکل ہے۔ بھارت کے عظیم بلاد و قصبات میں مسلم، ہندو و دیگر اقوام کی مشترکہ امن کمیٹی قائم کی جائے۔ غیر مسلموں کے ذہن سے نفرت اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
احتجاج و مظاہرہ کا حال بھی معلوم ہے۔ حکومت کچھ سنتی نہیں اور مظاہرین پر گولیاں چلتی ہیں۔ لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ مظاہرین پر مقدمات ہوتے ہیں۔ بسا اوقات مظاہروں کے سبب فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم ہوتا ہے، پھر انھیں کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں نفع و نقصان دیکھ کر پھونک پھونک کر قدم اٹھانا چاہیے۔
بلا سوچے سمجھے لوگ بدمذہبوں سے سیاسی اتحاد عملی اشتراک کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ سارا کام پیسوں سے ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایک ہی بندۂ خدا بہت سے ماہر وکیلوں کو جمع کر کے ایک مضبوط لیگل ٹیم تیار کرلے اور مستحکم قانونی ڈیفنس کرے تو بہت کام ہو سکتا ہے۔ قانونی دفاع کے واسطے ساری قوم کا اتحاد لازم نہیں۔ بفضلِ الٰہی ایک سچے مسیحا کی ضرورت ہے۔
اسی طرح ملک بھر میں ماحول سازی کے واسطے ایک ہی شخص ایک وسیع میڈیا ہاؤس تشکیل دے کر مستحکم تدابیر کے ذریعہ غیر مسلموں کے دلوں سے مسلمانوں کی نفرت نکال کر پھینک سکتا ہے۔ دولت و ثروت کی فراوانی ہو تو ایک ہی آدمی بہت کچھ کر سکتا ہے۔ اوراقِ تواریخ میں بہت سے بندگانِ الٰہی ایسے ہیں کہ انھوں نے تنہا عظیم کارنامے انجام دیے ہیں۔
حضرت علامہ حسین حلمی بن سعید ایشیق استنبولی (1911-2001) (طَابَ اللهُ ثَرَاهُ وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ) نے استنبول (ترکی) میں تین اشاعتی مکتبے قائم کیے: اولاً دار النشر ایشیق، پھر 1966 میں دار النشر: الحقیقہ، اس کے بعد 1976 میں مکتبہ وقف الاخلاص قائم فرمایا۔ انھوں نے بہت سی اسلامی کتابیں شائع کیں۔ وہ دنیا بھر میں مفت میں کتابیں بھیجتے تھے۔ آج بھی ان مکتبوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا ہے: اللهم زد فزد
اہلِ سنت و جماعت کا اتحاد و اتفاق امرِ محمود اور مطلوبِ شرع ہے، لیکن اگر اہلِ سنت و جماعت کا کوئی ایک ہی طبقہ قانونی دفاع کے واسطے قوی و مستحکم پیش قدمی کرے تو بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ قانونی دفاع کے واسطے اہلِ سنت و جماعت کے تمام طبقات کا بھی متحد ہونا ضروری نہیں، پھر بدمذہبوں سے سیاسی اتحاد کی شرعی ضرورت و حاجت کیوں کر ثابت ہوگی؟ کئی سالوں سے موقع بموقع بدمذہبوں سے سیاسی اتحاد کا نعرہ بلند کر کے ماحول خراب کیا جاتا ہے۔ اہلِ ندوہ نے بھی طویل مدت تک تمام کلمہ گو طبقات کے اتحاد کے لیے شور مچایا تھا۔ علمائے اہلِ سنت و جماعت رد کرتے رہے، انجامِ کار وہ لوگ خاموش ہو گئے۔
بد مذہبوں سے جدا رہنے کا حکم
بد مذہبوں سے میل جول ناجائز ہے۔ جب شرعی ضرورت یا شرعی حاجت متحقق ہو، تب بدمذہبوں سے عملی اشتراک کی اجازت ہو سکتی ہے، لیکن شرعی ضرورت یا شرعی حاجت متحقق نہیں۔ اس رسالہ کے آخر میں امام اہلِ سنت قدس سرہ العزیز کا رسالہ: جلي النص في أماكن الرخص منقول ہے۔ اس میں ضرورت، حاجت، منفعت، زینت اور فضول کے مفاہیم و احکام مرقوم ہیں۔ بد مذہبوں اور خاص کر دیوبندیوں سے عملی اشتراک شرعی مصلحت کے بر خلاف ہے۔ دیابنہ خود کو حنفی کہتے ہیں اور قادری و چشتی و سہروردی و نقشبندی بنے پھرتے ہیں، جس سے بعض سنی مسلمانوں کو شبہ ہونے لگتا ہے کہ یہ دیگر گمراہ فرقوں سے کم گمراہ ہیں۔
- اعلیٰ حضرت قدس سره العزيز نے وہابیوں اور دیوبندیوں سے متعلق تحریر فرمایا: ”جب علمائے حرمین طیبین زادهما الله شرفا وتكريما نانوتوی و گنگوہی و تھانوی کی نسبت نام بنام تصریح فرما چکے ہیں کہ یہ سب کفار مرتدین ہیں اور یہ کہ ”من شك في كفره وعذابه فقد كفر“ جو ان کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر، نہ کہ ان کو اپنا پیشوا و سرتاجِ اہلِ سنت جاننا، بلاشبہ جو ایسا جانے، ہرگز ہرگز صرف بدعتی و بدمذہب نہیں، بلکہ قطعاً کافر و مرتد ہے، اور ان تمام احادیث کا کہ سوال میں فتاویٰ الحرمین سے منقول ہوئیں، مورد ہے۔
بلاشبہ ان سے دور بھاگنا اور اسے اپنے سے دور کرنا، اس سے بغض، اس کی اہانت، اس کا رد فرض ہے، اور توقیر حرام، ہدمِ اسلام۔ اسے سلام کرنا، اس کے پاس بیٹھنا حرام، اس کے ساتھ کھانا پینا حرام، اس کے ساتھ شادی بیاہ حرام اور قربت زنائے خالص، اور بیمار پڑے تو پوچھنے جانا حرام، مر جائے تو اس کے جنازے میں شرکت، اسے مسلمانوں کا سا غسل و کفن دینا حرام، اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا حرام، بلکہ کفر۔ اس کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھانا، اس کے جنازے کی مشایعت حرام۔ اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حرام۔ اس کی قبر پر کھڑا ہونا حرام۔ اس کے لیے دعائے مغفرت یا ایصالِ ثواب حرام، بلکہ کفر: والعياذ بالله رب العالمين。“ [فتاویٰ رضویہ، ج: ششم، ص: 108، رضا اکیڈمی ممبئی] - امامِ اہلِ سنت عليه الرحمة والرضوان نے رقم فرمایا: ”نفرتِ دینیہ، مکروہ تنزیہی و اساءت، مکروہ تحریمی، و حرام صغیرہ و کبیرہ و مراتبِ بدعت و ضلال و انواعِ کفر و ارتداد سب سے حسبِ مرتبہ ہے جس کے درجات مستحب سے فرضِ اعظم، بلکہ ضروریاتِ دین تک ہوں گے لیکن جو اخبث مراتب سے نفرت نہ کرے، ادون سے ادعائے نفرت میں جھوٹا ہے۔
مکروہ تنزیہی سے اساءت بری ہے، اساءت سے مکروہ تحریمی بدتر ہے، اس سے کبائر اپنے اپنے مرتبہ پر بدتر ہیں اور ان سے بدعت و ضلال بدتر ہیں اور ان کے بھی مدارج مختلف ہیں اور ان سب سے کفر بدتر ہے، اور اس میں بھی مراتب ہیں کفرِ اصلی سے ارتداد بدتر اور اس میں بھی ترتیب ہے۔ کفرِ اصلی کی ایک سخت قسم نصرانیت ہے اور اس سے بدتر مجوسیت، اس سے بدتر بت پرستی، اس سے بدتر وہابیت، ان سب سے بدتر اور خبیث تر دیوبندیت، افعال کیسے ہی شنیع ہوں کسی کفر کی شناعت کو نہیں پہنچ سکتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بدتر از بدتر سے بدتر، کافروں، بت پرستوں سے اتحاد و وداد منایا جاتا ہے۔
کیسا وداد، کہاں کا اتحاد، بلکہ غلامی و انقیاد، اور ان سے بھی بدتر کفار وہابیہ کو اپنی مجلسوں کی صدارتیں دی جاتی ہیں اور ان تمام بدتر از بدتر سے بدتر دیوبندیت کے سر مشیخیتِ ہند کی پگڑی باندھنے کی فکر کی جاتی ہے۔ جب مشرکین و مرتدین سے یہ کچھ اتحاد ہے تو کسی فعل و معصیت سے نفرت کا ادعا محض سفید جھوٹ ہے۔ اگر تمہاری نفرت اللہ کے لیے ہوتی تو افعال سے ایک درجہ ہی، بت پرستوں سے لاکھ درجہ ہوتی۔ اگر بت پرستوں سے لاکھ درجہ ہوتی، دیوبندیوں سے کروڑ درجہ ہوتی تو نفرت کے دعوے محض مکر و فریب ہیں۔
يخدعون الله والذين آمنوا وما يخدعون إلا أنفسهم وما يشعرون
آیہ کریمہ: لا تجد قوما يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله کی تلاوت اس جدید پارٹی کے لیے (رب تالي القرآن والقرآن يلعنه) کی پوری مصداق ہے۔
کیا بت پرست وہابی و دیوبند یہ ”من حاد الله ورسوله“ میں داخل نہیں؟ ضرور ہیں۔ کیا یہ پارٹی ان سے وداد و اتحاد کر کے ”يوادون من حاد الله ورسوله“ میں داخل نہ ہوئے؟ ضرور ہوئے، اور یہی آیہ کریمہ فرما رہی ہے کہ جو ”يوادون من حاد الله ورسوله“ ہیں وہ ”يؤمنون بالله واليوم الآخر“ نہیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: ششم، ص: 3-4، رضا اکیڈمی ممبئی] - امامِ اہلِ سنت قدس سره العزيز نے تحریر فرمایا: ”طوائف مذکورین وہابیہ و نیچریہ و قادیانیہ وغیرہ مقلدین و دیوبندیہ و چکڑالویہ خذلهم الله تعالى أجمعين ان آیاتِ کریمہ کے مصداق بالیقین اور قطعاً یقیناً کفار مرتدین ہیں۔ ان میں ایک آدھ اگرچہ کافر فقہی تھا، اور صدہا کفر اس پر لازم تھے جیسے نمبر 2 والا دہلوی، مگر اب اتباع و اذناب میں اصلاً کوئی ایسا نہیں جو قطعاً یقیناً إجماعاً کافر کلامی نہ ہو، ایسا کہ من شك في كفره فقد كفر جو ان کے اقوالِ ملعونہ پر مطلع ہو کر ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
اور احادیث کہ سوال میں ذکر کیں، بلاشبہ ان کے اگلے پچھلے تابع متبوع سب ان کے مصداق ہیں۔ یقیناً وہ سب بدعتی اور استحقاقِ نار جہنمی اور جہنم کے کتے ہیں، مگر انھیں خوارج و روافض کے مثل کہنا روافض و خوارج پر ظلم اور ان وہابیہ کی کسرِ شانِ خباثت ہے۔
رافضیوں خارجیوں کی قصدی گستاخیاں صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضي الله تعالى عنهم پر مقصور ہیں۔ ان کی گستاخیوں کی اصل مطمحِ نظر حضرات انبیائے کرام اور خود حضور پرنور شافع یوم النشور ہیں صلى الله تعالى عليه وآله وسلم。“
