| عنوان: | وراثت کا اسلامی نظریہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی شمیم اختر مصباحی |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
وراثت کا حکم قرآن میں:
عرب میں بہت سی برائیوں کے ساتھ یہ رسم بد بھی عام تھی کہ عورتیں اور چھوٹے بچے اپنے مرنے والے باپ و خاوند وغیرہ کی وراثت سے یکسر محروم کر دیے جاتے تھے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی تھی کہ جو میدان جنگ میں داد شجاعت دینے کے قابل نہیں وہ میراث کے حقدار بھی نہیں اور ہمارے ہندوستان میں بھی ہندو عورتیں باپ کی وراثت سے محروم چلی آرہی تھیں۔ حالیہ کچھ دنوں پہلے سپریم کورٹ نے ان کے حق کو تسلیم کیا ہے، جب کہ اسلام نے عورتوں پر برسوں سے ہو رہے ظلم و زیادتی کا خاتمہ فرما کر انھیں وراثت کا حقدار قرار دیا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا- [النساء: 19]
ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ ۪- وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ-نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا۔ [النساء: 7]
ترجمہ کنز العرفان : مردوں کے لیے اس (مال) میں سے (وراثت کا حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتے دار چھوڑ گئے اور عورتوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتے دار چھوڑ گئے، مال وراثت تھوڑا ہو یا زیادہ۔ (اللہ نے یہ) مقرر حصہ (بنایا ہے)۔
وراثت کا حکم سنت نبویہ میں:
اس تعلق سے متعدد احادیث موجود ہیں، ان میں ایک حدیث سپر د قرطاس کر رہا ہوں۔
عن جابر رضي الله تعالى عنه قال جاءت امرأة سعد بن الربيع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بابنتيها من سعد، فقالت: يا رسول الله، هاتان ابنتا سعد بن الربيع، قتل أبوهما معك في أحد شهيدا و إن عمهما أخذ مالهما، فلم يدع لهما مالا، ولا ينكحان إلا بمال، فقال: يقضي الله في ذلك، فنزلت آية الميراث فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عمهما فقال: أعط ابنتي سعد الثلثين، وأمهما الثمن، وما بقي فهو لك۔ [سنن أبي داود، ص: 1092, جامع الترمذي، ص: 2676, سنن ابن ماجه، ص: 3522]
ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ربیع کی بیوی سعد سے اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ (جو سعد سے تھیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں۔ ان کا باپ آپ کے ہمراہ احد میں شہید ہو گیا اور ان کے چچا نے ان کا کل مال لے لیا ہے، ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، اور جب تک ان کے پاس مال نہ ہو، ان کی شادی نہیں کی جاسکتی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمادے گا۔“ پھر آیت میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لڑکیوں کے چچا کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو ثلث (تہائی) دے دو اور لڑکیوں کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور جو باقی بچے وہ تمہارا ہے۔
ان مذکورہ بالا آیت اور حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح اسلام نے برسوں سے رائج ظلم وزیادتی کا خاتمہ کر کے عورتوں کو وراثت کا حقدار تسلیم کیا اور اموال و جائداد کے منصفانہ تقسیم کے لیے نظام وراثت سے روشناس کرایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیٹے کو میراث دینا اور بیٹی کو نہ دینا صریح ظلم اور قرآن کے خلاف ہے۔ دونوں میراث کے حقدار ہیں۔ اور اس سے اسلام میں عورتوں کے حقوق کی اہمیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اور ”نصیباً مفروضا“ کے الفاظ سے واضح کر دیا کہ یہ حصے اللہ تعالی کے مقرر کردہ ہیں۔ اس میں ردّ و بدل کا کسی کو اختیار نہیں۔
میراث کے شرعی احکام سے لاعلمی کی بنا پر جبکہ بعض اوقات فکر آخرت کی کمی اور اسلامی احکام پر عمل کا جذبہ نہ ہونے کی وجہ سے مال وراثت کے بارے میں ہمارے معاشرے میں بہت سی غفلت اور کوتاہیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے، ہم ان میں کچھ کا ذکر کر رہے ہیں۔
