Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فتاوی بدر العلماء "کاروانِ حیات" (قسط:چھٹی و آخری)

فتاوی بدر العلماء "کاروانِ حیات" (قسط:چھٹی و آخری)
عنوان: فتاوی بدر العلماء "کاروانِ حیات" (قسط:چھٹی و آخری)
تحریر: حضرت مولانا مفتی محمد ابو الحسن رضوی قادری
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

لاؤڈاسپیکر کا مسئلہ

لاؤڈ اسپیکر آواز بلند کرنے کا ایک نو ایجاد آلہ ہے۔ اس کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد سوال اٹھا کہ اسے نماز میں استعمال کرنا اور اس کی آواز پر اقتدا درست ہوگی یا نہیں۔ حضرت مفتی افضل حسین علیہ الرحمہ کے علاوہ سارے معتمد علمائے اسلام نے ممانعت اور عدم جواز کا حکم دیا، آج بھی اکابر اور لائق اعتماد علمائے اہلِ سنت کا یہی فتویٰ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نماز میں جائز نہیں، اس کی آواز پر اقتدا درست نہیں، مگر ”اودے پور راجستھان“ میں ۱۳۹۱ھ میں ایک مولوی صاحب نے لاؤڈ اسپیکر پر نمازِ عید الفطر پڑھا دی اور دعویٰ کیا کہ لاؤڈاسپیکر پر نماز پڑھنا جائز، یہی موقف صحیح ہے، نوے فی صد علمائے اہلِ سنت ہمارے ساتھ ہیں، اور حضرت مفتیِ اعظم کی طرف ایک غلط بات منسوب کر کے باور کرایا کہ اس کا استعمال حق و صحیح ہے۔

حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ نے اس مولوی کی شدید گرفت کرتے ہوئے جو استفتا کا جوابِ باصواب عطا فرمایا ہے وہ آپ کی تحقیقی قلم اور مصلحانہ فکر کا شاہکار ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

نماز کے لیے خواہ جمعہ کی ہو یا عید کی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ممنوع ہے، کیوں کہ وہ ایک صورت میں رافعِ سنت ہے، اور دوسری صورت میں اسراف ہے، رہا ”اودے پور“ نووارد مولوی صاحب کا یہ فرمانا کہ نوے فی صد علما میرے ساتھ ہیں اور جواز کے قائل ہیں، تو اس کے متعلق عرض ہے کہ قائلینِ جواز علما کی تعداد نوے فی صد تک پہنچنا حقیقتِ حال کے ہرگز مطابق نہیں، ہاں اگر موصوف کے نزدیک مقررین، واعظین، خطبائے مساجد اور نوآموز فارغین یہ سب حضرات فقہی علماء ہیں تب تو نوے فی صد والی تعداد ضرور تسلیم کئے جانے کی گنجائش رکھتی ہے، لیکن تنقیح اور نکھار کا مسئلہ تو ابھی باقی ہی ہے۔ وہ یہ کہ جواز سے کیا مراد ہے؟ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اقتدا کا جائز ہونا یا نماز کے لیے لاؤڈاسپیکر کا استعمال جائز ہونا؟ یہ امر ظاہر نہ ہو سکا کہ حضرت موصوف نے جواز سے جوازِ اقتدا مراد لیا ہے یا جوازِ استعمال؟ میرے علم میں فقہی بصیرت رکھنے والے معتمد علما میں صرف ایک ذات حضرت مولانا سید مفتی افضل حسین صاحب قبلہ کی ہے جس نے ہمارے ملک میں جوازِ اقتدا کا فتویٰ دیا، باقی جمہور کا ہر مسئلہ متنازعہ فیہا میں عدم جواز کے قائل ہیں، اور عدم جواز کا فتویٰ دیتے آئے ہیں، اور رہا جوازِ استعمال تو اس کے بارے میں حضرت مفتی صاحب قبلہ کا کوئی قول ہمارے پیشِ نظر نہیں، اب حضرت موصوف سے میں گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ حضرت مفتی صاحب قبلہ کے فتویٰ پر اعتماد کر کے قائل جوازِ اقتدا ہیں تو رہیں لیکن افرادِ امت کے درمیان ہنگامہ، شور اور فتنہ کی صورت پیدا ہونے کا موقع نہ دیں، جب آپ مسلمانوں میں عالم شمار کیے جاتے ہیں تو بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا کا مصداق بنیں، حضرت مفتی صاحب قبلہ کے فتویٰ کا مفاد صرف اباحت ہے، وجوب یا سنت نہیں، پھر مختلف فیہ اباحت کی بنیاد پر اکابر علماء کے فتاویٰ کو رد کرتے ہوئے ان کو عوام کی نگاہ میں بے اعتبار قرار دینا آپ کے شایانِ شان نہیں، اور جو قول آپ نے سرکار مفتیِ اعظم ہند قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ کی طرف منسوب کر کے نقل کیا ہے، کہ حضرت کو جب کوئی دلیل نہ ملی تو فرمایا بحث نہ کرو، مجھ بڈھے کی بات مان لو، تو اولاً یہ حضرت کا قول نہیں، چنانچہ خود میں نے ۳۰ ذی الحجہ ۱۳۹۱ھ مطابق ۲۶ فروری ۱۹۷۲ء کو بمقام ”کپڑوا“ ضلع گونڈہ حضور مفتیِ اعظم ہند قبلہ سے دریافت کیا، حضور نے فرمایا، ثانیاً سن سنا کر یہ غیر ذمہ دارانہ قول ایک مرجعِ انام پیشوائے دین کی طرف منسوب کرنا اور عوام میں اسے مطعون ہونے کا موقع دینا یہ کہاں تک مناسب اور شانِ مفتی کے لائق ہے، آج فرائض و واجبات اور سنن کے مقابلہ میں بے شمار منکراتِ شرعیہ برسرِ پیکار ہیں، کیا اچھا ہوتا کہ آپ احیائے شریعت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ان منکرات کے رد و انکار پر اپنے فتویٰ کا زور صرف فرمائیں، امیدِ قوی ہے کہ حضرت موصوف میرے معروضات پر عالمانہ حیثیت سے غور فرما کر ”شہر اودے پور“ کے نمازِ پنجگانہ کے پابند سنی عوام و خواص کے دلوں کو ٹھنڈا ہونے کا موقع عنایت کریں گے۔

ماخوذ از: (فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۱، ص: ۳۵۶، ۳۵۷)

تحریر و تصنیف

حضرت بدرِ ملت افتاء و تدریس کے علاوہ رواں دواں قلم کے بھی مالک تھے، بے شمار مصروفیات اور کثیر مشاغل کے حصار ہونے کے باوجود آپ نے درسی اور غیر درسی تقریباً دو درجن کتابیں تحریر فرمائی ہیں جو صرف ہندوستان ہی میں نہیں متعدد ممالک میں مقبول ہیں، بلکہ ان کی نصابی کتابیں ہندوستان کے لگ بھگ اکثر صوبوں اور پاکستان کے بعض علاقوں اور ساؤتھ افریقہ اور بہت سے ممالک میں داخلِ نصاب ہو چکی ہیں، ان کی مقبولیت مصنف کے اخلاص کا پتہ دے رہی ہے۔

تصنیفات حسبِ ذیل ہیں:

درسی

  1. فیض الادب اول (عربی ادب)
  2. فیض الادب ثانی (عربی ادب)
  3. جواہر المنطق (فنِ منطق)
  4. تلخیص الاعراب (نحو)
  5. عروس الادب (صرف)
  6. تعمیرِ قواعد اول (ادب)
  7. تعمیرِ قواعد دوم (ادب)
  8. تعمیرِ ادب قاعدہ (برائے اطفال)
  9. تعمیرِ ادب اول
  10. تعمیرِ ادب دوم
  11. تعمیرِ ادب سوم
  12. تعمیرِ ادب چہارم
  13. تعمیرِ ادب پنجم

غیر درسی

  1. سوانح اعلیٰ حضرت
  2. سوانح غوث و خواجہ
  3. نورانی گلدستہ
  4. رسالہ ردِّ تقویۃ الایمان
  5. عطیہ ربانی در مقالہ نورانی
  6. تحقیقی جواب
  7. تحریری روداد مناظرہ اظہار حق
  8. مضامین بدر ملت
  9. الجواب المتین عن سوال محمد امین
  10. الجواب النورانی عن سوال الحمدانی

وعظ و تقریر

اصلاحِ ناس، تطہیرِ معاشرہ، تعلیمِ احکام، ترغیبِ عشقِ مصطفیٰ کے لیے نہایت شستہ اور متین ہوتی۔ زیادہ تر آپ لوگوں کے دلوں میں عشقِ مصطفیٰ کا چراغ روشن کرنے کی کوشش کرتے، نماز، روزہ اور احکامِ شریعت کی اہمیت بتاتے، آپ کے اندر اصلاح و ہدایت کا جذبہ اس قدر بیدار تھا کہ ۱۵، ۲۰ کلومیٹر سائیکل خود چلا کر تشریف لے جاتے، اور لوگوں کو تعلیماتِ اعلیٰ حضرت و مفتیِ اعظم اور مسلکِ حق اہلِ سنت و جماعت سے روشناس کراتے، وہابیوں، دیوبندیوں، بد مذہبوں، ایمان کے دشمنوں سے دور رہنے کا حکم دیتے، فقیر راقم الحروف کو حضور والا کی کئی تقریریں سننے کا موقع میسر آیا۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ

کچھ مشاہدے، کچھ باتیں

حضور آقائے نعمت بدرِ ملت علامہ شاہ بدرالدین احمد قادری رضوی علیہ الرحمۃ سے راقم الحروف کو شرفِ تلمذ حاصل ہے، اور شرفِ بیعت و ارادت بھی، ان کی بارگاہِ فیض بار سے بحمدہ تعالیٰ چار سال فیضِ درس لیا، میں نے ان کے لیل و نہار بھی دیکھے، ان کی نشست و برخاست بھی، ان کا اسلوبِ تدریس بھی دیکھا، اندازِ تربیت و ارشاد بھی، اس لیے چند باتیں پیش کی جا رہی ہیں۔

حضرت والا کا اسلوبِ تدریس نہایت انوکھا، طریقۂ تفہیم سہل تر تھا، مثلاً نحو میر پڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے ایک صفحہ یا نصف صفحہ کی عبارت پڑھوا کر سنتے، پھر اس میں جتنے کلمے عربی کے آتے ان کی پہلے صرف صغیر و کبیر کراتے، صیغوں کی پوری پہچان کراتے، جب ہر بچہ سارے صیغوں کو متعین طور پر جان لیتا، اور معنی بھی سمجھ جاتا تو اب تمثیلات کی روشنی میں نہایت سلجھے انداز میں عبارت کا مطلب بولتے، جس سے نہایت آسانی کے ساتھ عبارت کا مفہوم طلبہ کے ذہن میں اتر جاتا، مثلاً کلمہ اور اس کی تقسیم نیز کلمہ اور اقسامِ کلمہ کے درمیان فرق سمجھاتے وقت حضرت والا نے میری جماعت کے سامنے کچھ اس طرح تقریر کی تھی۔

روٹی تین قسم کی بنتی ہے (۱) چپاتی روٹی (۲) تنوری روٹی (۳) ہتھوڑی روٹی (ہاتھ والی روٹی)، تو روٹی کی تین قسمیں ہو گئیں، چپاتی، تنوری، ہتھوڑی، پھر تینوں میں سے ہر ایک کو روٹی کہیں گے، مگر تینوں میں سے ایک کو دوسرے پر نہیں بولیں گے، یعنی چپاتی کو تنوری اور تنوری کو ہتھوڑی نہیں کہتے، ٹھیک ایسے ہی کلمہ کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) اسم (۲) فعل (۳) حرف، تو اسم فعل حرف میں سے ہر ایک کو کلمہ کہتے ہیں، اور ہر ایک پر کلمہ کا لفظ بولتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک کو دوسرے پر نہیں بولتے مثلاً اسم کو حرف یا فعل کو اسم نہیں کہتے۔ اس دل نشیں تمثیل کے ذریعہ مقسم اور اقسام کے درمیان اور اقسام کے مابین کا اہم فرق حضرت نے بڑی آسانی سے سمجھا دیا جب کہ مقسم و اقسام کے درمیان فرق معیاری جماعت کے بچوں کو بمشکل سمجھ میں آتا ہے۔

روزانہ موسمِ گرما میں حضرت علیہ الرحمہ عصر کی نماز پڑھ کر درود شریف پڑھتے اور مختصر ورد کرتے، پھر مدرسہ غوثیہ فیض العلوم کے صحن میں چارپائی پر تشریف فرما ہوتے، اور جس جماعت کے بچوں کو پڑھانا چاہتے بلاتے۔ بچے حاضر ہوتے، زیادہ تر حضرت میزان، نحو میر، پنج گنج کے طلبہ کو بلاتے۔ پھر ہر ایک کو تین حروف کا مادہ دیتے، اور صرفِ کبیر و صغیر کراتے، قرآنی صیغوں کی تعیین اور گردان کراتے، سونے، اٹھنے، مسجد میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے، چاند دیکھنے کی دعا یاد کراتے، پھر دعا کا ترجمہ کراتے، یوں ہی ترکیب کراتے، بچوں کی زبان اور تلفظ صحیح کراتے، اگر کوئی بچہ نماز کو نماج کہہ دیتا تو مشق کراتے، یہاں تک کہ وہ نماز کہنے لگتا، اس طرح مغرب تک بچوں کی خصوصی تربیت کرتے، کبھی کبھی مغرب کے بعد یا عشا کے بعد بھی آجاتے، اور اونچی جماعت کے طلبہ کو پڑھاتے، غرض صرف اوقاتِ تعلیم ہی تک اپنی تدریس محدود نہ رکھتے، اس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت والا کے پاس پڑھے ہوئے آج جہاں کہیں بھی وہ ہیں اخلاصِ عمل، عربی، اردو، فارسی جملوں کی ترکیب، دینی تصلب، بدمذہبوں سے نفرت ان کی برملا تردید کے اوصاف رکھتے ہیں۔

حضرت بدرالملت علیہ الرحمہ عمل بالشریعہ کے پیکر تھے، شرعی احکام پر عمل کے درج ذیل واقعے قابلِ ذکر ہیں۔

  1. ۱۹۸۵ء میں جب شوال میں مدرسہ غوثیہ کے اندر راقم السطور کا داخلہ ہوگیا، فارسی کی پہلی شروع کرنے کے لیے حضرت کے یہاں پوری جماعت کے ساتھ حاضر ہوا، ساتھ ہی شیرینی بھی موجود تھی، حضرت نے پہلے پوری جماعت پر نظر ڈالی، جماعت میں سب سے کم عمر میں تھا اور ایک مولانا مظفر علی بہرائچی، پھر پوچھا کہ شیرینی میں سب لوگوں کے روپے شامل ہیں، جواب اثبات میں دیا گیا۔ تو مجھ سے اور مولانا مظفر علی صاحب سے حضرت نے استفسار فرمایا، کہ تم دونوں بالغ ہو؟ تو ہم دونوں نے نفی میں جواب دیا۔ تو فرمایا: تمہارے کتنے روپے شامل ہیں؟ ہم نے کہا: دو روپے، فوراً آپ نے اپنی جیب سے دو روپے نکالے اور واپس کرنے لگے۔ ہم دونوں متفکر ہوگئے کہ شاید حضرت ہم دونوں سے ناراض ہو گئے ہیں، اس پر حضرت نے نہایت نرمی کے ساتھ مسئلہ شرعی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نابالغ اپنی چیز دوسرے کو نہیں دے سکتا، اس لیے اپنے روپے واپس لے لو، ورنہ شیرینی کو تقسیم کرنا جائز نہ ہوگا۔

  2. اسی طرح ۱۹۸۶ء یا ۱۹۸۷ء کی بات ہے، میں بڑھیا سے دو کلومیٹر کی دوری پر کھنڈسری بازار کچھ ضرورت کے سامان خریدنے گیا تھا، (وہاں ہر جمعرات کو بازار لگتا ہے) نمازِ مغرب سے کچھ پہلے مدرسہ کی طرف واپس آرہا تھا، ابھی تقریباً آدھا کلومیٹر مسافت طے کی تھی کہ دیکھا حضرت بدرِ ملت سائیکل سے میری طرف تشریف لا رہے ہیں، میں نے سوچا حضرت ذرا قریب آجائیں تو سلام کروں گا، اور جب قریب ہوئے تو ابھی میں سلام کرنے ہی والا تھا کہ پہل کرتے ہوئے انہوں نے ہی مجھے سلام کیا، اور آگے چلے گئے۔ میں نے جواب دیا، اندر ہی اندر میں بہت شرمندہ ہوا، کہ مجھے پہلے ہی سلام کرنا چاہیے، اس کے بعد میں سوچنے لگا کہ مدرسہ میں اکثر حضرت سلام کرنے کا موقع دیتے رہے اور اس وقت کیوں نہ دیا؟ مگر کچھ سمجھ نہ سکا، آخر کار جب یہ حدیث نظر سے گزری کہ ”تم میں سوار پیدل کو سلام کرے“ (يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي الخ مشکوٰۃ باب السلام ص ۳۹۷) اس وقت آنکھ کھلی کہ حضرت نے اس وقت سلام کرنے میں اتنی پہل کیوں کی تھی؟ ان واقعات سے اندازہ لگایا جائے کہ حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ کس طرح شریعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پابند تھے، اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے عامل تھے۔

  3. آپ کے حسنِ اخلاق کا یہ واقعہ آج تک نہاں خانۂ ذہن میں محفوظ ہے، ۱۹۸۵ء کی بات ہے کہ میں اس وقت احکامِ شریعہ کا مکلف نہ تھا، کبھی کبھار حضرت کے گھر میں حضرت کی اجازت سے جایا کرتا تھا، ایک رات بعد مغرب کسی قریب ہی کے گاؤں میں بغرضِ وعظ تشریف لے جا رہے تھے، اس لیے مجھے حکم فرمایا کہ جب تک میں نہ آ جاؤں گھر میں رہنا، میں اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہوئے تیار ہو گیا، حضرت نے کمرے کے اندر سے خرما سے بھری ایک تھیلی لا کر دی، اور چار پائی پر ایک عمدہ قسم کا کمبل بچھا دیا، پھر فرمایا یہ خرما کھاؤ اور اس پر بیٹھو، عشا کی نماز کے بعد یہیں سو جانا، اس کے بعد حضرت روانہ ہو گئے، جب گھر سے باہر ہو گئے، میں اسی کمبل پر بیٹھ گیا، اتنے میں امی صاحبہ نے دیکھا تو فرمایا بابو! جس کمبل پر تم بیٹھے ہو اس کو حضرت اوڑھتے ہیں، اتنا سنتے ہی میں اٹھ گیا، اور امی صاحبہ نے دوسرا بستر بچھایا، پھر اس پر بیٹھا۔ اس سے صاف ظاہر و باہر ہے کہ حضرت علیہ الرحمہ بے پناہ شفقت و محبت فرمانے والے استاذ تھے، اور حسنِ اخلاق کے پیکرِ مجسم بلکہ بلند اخلاقی کے نقطۂ انتہا پر فائز تھے۔

یہ غیر مرتب جملے چند صفحات پر مشتمل نہایت عجلت میں قیدِ تحریر میں آئے۔ خواہش تو یہ تھی کہ فرصت میں ایک مفصل مضمون لکھوں جو آپ کی حیات کے اکثر گوشوں پر حاوی ہو لیکن ہجومِ افکار، کثرتِ کار مانع ہے۔ بہرکیف مَا لَا يُدْرَكُ كُلُّهُ لَا يُتْرَكُ جُزْؤُهُ کے مطابق یہی جملے بارگاہِ بدرِ ملت میں قبول ہو جائیں، تو زہے عز و شرف۔

اللہ کریم حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ کے خلیفہ مجاز مولانا صوفی عبدالصمد صاحب قبلہ قادری رضوی نوری دام ظلہ نگراں اعلیٰ دارالعلوم گلشنِ رضا کولہی، ضلع ناندیڑ، مہاراشٹر کو فلاحِ دنیا اور سعادتِ عقبیٰ سے سرفراز فرمائے، کہ انہوں نے بدرِ ملت کی بعض غیر مطبوع اور بعض مطبوع تصنیفات کو از سرِ نو منظرِ عام پر لانے کا کارنامہ انجام دیا، پھر تقریباً پانچ سال کی مسلسل جدوجہد اور بے پایاں کوششوں کے ذریعہ ان کی زندگی پر عظیم الشان دستاویز بنام معارفِ بدرِ ملت روبروئے عالم لانے کی سعادت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا بہترین صلہ دے، بدرِ ملت علیہ الرحمہ کے فیوض ان کے علم و عمل، تقویٰ کا کچھ حصہ انہیں اور ہمیں اور افرادِ اہلِ سنت کو عطا فرمائے۔ آمین بجاہ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلیٰ آلہ و صحبہ و ابنہ الغوث الاعظم وسلم۔

محمد ابوالحسن قادری مصباحی غفر لہ ربہ القوی
خادم افتا و تدریس جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی، مئو یوپی

ماخوذ از: ماہنامہ: بدر العلماء ص ۸۷ تا ۹۳

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!