| عنوان: | فتاوی بدر العلماء "کاروانِ حیات" (قسط:پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت مولانا مفتی محمد ابو الحسن رضوی قادری |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
فلم خانہ خدا دیکھنے کا مسئلہ
جناب ابراہیم اسماعیل مرچنٹ، بائیکلہ بمبئی نے استفتا کیا:
آئندہ جمعہ کو بمبئی کے سینما گھروں میں جہاں بے حیا مناظر کی فلمیں دکھائی جاتی ہیں، اسی پردۂ سیمیں پر ”خانہ خدا“ نامی ایک فلم دکھائی جانے والی ہے جس میں طوافِ کعبہ معظمہ، سعیِ صفا و مروہ اور وقوفِ عرفات سے لے کر زیارتِ اندرونِ مسجدِ نبوی شریف تک کے مناظر کو بذریعہ اسکرین فلم تیار کیا ہے، جس میں مردوں اور عورتوں کو تمام ارکانِ حج ادا کرتے ہوئے ان کی تصویریں لی گئی ہیں، ایسی فلم دیکھنا اور دکھانا اور اس کی نمائش کرنا از روئے شرعِ مطہرہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ تو وضاحت سے تحریر فرمائیں۔ بینوا وتوجروا۔
آپ نے جواب یوں تحریر فرمایا:
اے سائل! یہ نہ پوچھ کہ نام نہاد فلم ”خانہ خدا“ کا دیکھنا اور دکھانا جائز ہے یا ناجائز بلکہ یہ پوچھ کہ اس فلم کے دیکھنے والوں اور دکھانے والوں پر کتنا سخت شدید گناہ اور عظیم وبال ہے، عام فلموں کا دیکھنا اور دکھانا حرام سخت حرام شدید حرام ہے، مقاماتِ مقدسہ کے مناظر کو پردۂ سیمیں پر لاکر دکھانا، ان کی حرمت اور عظمت پر ضربِ کاری ہے، مسلمانوں کا جذبۂ عقیدت و احترام بالکل سرد ہو چکا ہے ورنہ فلمی کمپنیاں مقاماتِ مقدسہ کے مناظر فلمانے کی جرات ہی نہ کر سکتی تھیں، لیکن پانی سر سے اونچا گزر جانے کے باوجود اب بھی موقع ہے کہ ہر طبقہ کے مسلمان اس نام نہاد فلم ”خانہ خدا“ کی نمائش کا قولاً اور عملاً بائیکاٹ کریں۔ اور مقاماتِ مقدسہ کی عزت و آبرو کی حفاظت کا فرض انجام دیں۔
مسلمانو! ہوش میں آکر سنو، فلم کمپنیاں تمہی سے پیسہ لے کر تمہارے دین و مذہب سے کھیل رہی ہیں اور شعائرِ الہیہ کی آبرو لوٹ رہی ہیں، اگر تم نے آج ہی اس فتنۂ عظیم کی بیخ کنی نہ کر دی تو فلم کمپنیوں کا حوصلہ بڑھ جائے گا۔ اور وہ کل نام نہاد فلم ”خانہ خدا“ کے بعد معاذ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام اور اولیائے عظام کے نام کی بھی فلم نکالنے کی کوشش کر سکتی ہیں، پھر اس طرح تمہارا دین و مذہب ایک تماشا بن کر رہ جائے گا، لہٰذا آج ہی چونک جاؤ، ہوشیار ہو جاؤ، ہو سکتا ہے کہ کرائے کے کچھ مولوی اور لیڈر اس نام نہاد فلم کے دیکھنے کو جائز کہیں، مگر خبردار خبردار! تم ان کے دھوکے میں ہرگز نہ آنا، ورنہ تمہارا دینی جذبہ تباہ و برباد ہو جائے گا، اور تم قیامت کے میدان میں ان مجرموں کی صف میں کھڑے کیے جاؤ گے، جنہوں نے دین و مذہب کے شعائر کی بے حرمتی کی ہے، لہٰذا اس سنگین فتنے میں گھسنے سے بچو اور اپنے بال بچوں نیز دوست و احباب اور اپنے عزیز و اقارب سب کو بچاؤ۔ إِنَّمَا التَّوْفِيقُ وَالْهِدَايَةُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى۔ (فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۲، ص: ۶۰۲)
اسلوبِ جواب کی دلکشی پر غور فرمائیں کہ اس میں حکمِ مسئلہ کا اظہار بھی ہے، ہدایت و ارشاد بھی، غیرتِ دینی پر برانگیختگی بھی ہے، زبان کی سلاست و روانی بھی ہے، اسلوبِ فتویٰ سے ہم آہنگی بھی، اسلامی شعائر کے احترام کا درس بھی ہے، دین و مذہب کی صیانت کا حکم بھی۔
محرابِ مسجد میں یا رسول اللہ، یا غوث المدد لکھنے کا مسئلہ
جناب محمد حسن و عبدالستار خان بستی نے آپ سے استفسار کیا:
مسجد کے اندر محراب میں لکھا گیا ہے ”یا رسول اللہ!“ اور نیچے لکھا گیا ہے ”یا غوث المدد!“، ایک جماعت کہتی ہے یہ صحیح ہے اور دوسری جماعت کہتی ہے کہ اس میں انسان کے نام لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، اور یہ کہہ کر مٹا دیا تو یہ مٹانا درست ہے یا لکھنا راست؟
آپ رقم طراز ہیں:
حاکم، امام بیہقی، ابو نعیم، ابن عساکر سیدنا امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَمَّا اقْتَرَفَ آدَمُ الْخَطِيئَةَ قَالَ يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْفِرَ لِي. فَقَالَ اللَّهُ يَا آدَمُ وَكَيْفَ عَرَفْتَ مُحَمَّدًا؟ قَالَ لِأَنَّكَ لَمَّا خَلَقْتَنِي بِيَدِكَ وَنَفَخْتَ فِيَّ مِنْ رُوحِكَ رَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ عَلَى قَوَائِمِ الْعَرْشِ مَكْتُوبًا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَعَلِمْتُ أَنَّكَ لَمْ تُضِفْ إِلَى اسْمِكَ إِلَّا أَحَبَّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ. قَالَ صَدَقْتَ يَا آدَمُ، وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُكَ. (وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الْحَاكِمِ) أَمَّا إِذَا سَأَلْتَنِي بِحَقِّهِ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا غَفَرْتُ لَكَ وَمَا خَلَقْتُكَ
(المستدرک للحاکم ج ۲ ص ۶۱۵) یعنی حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے جب لغزش ہوئی تو انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ اے میرے رب! صدقۂ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا میری مغفرت فرما، یعنی میری لغزش کو معاف فرما۔ رب العالمین جل جلالہ نے فرمایا: اے آدم! تم نے پیارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں کر جانا؟ عرض کیا: اس طرح سے کہ جب تو نے مجھے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح ڈالی، میں نے سر اٹھایا تو عرش کے پایوں پر ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ“ لکھا ہوا پایا، تو میں نے جان لیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ اسی کا نام ملایا ہے جو تجھے تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم نے سچ کہا، اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا، (حاکم کی ایک روایت میں یوں ہے) اب کہ تم نے اس کے حق کا وسیلہ کر کے مجھ سے مانگا تو میں تمہاری مغفرت کرتا ہوں، اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تمہاری مغفرت نہ کرتا، اور نہ تمہیں بناتا۔
اس عظمت والی حدیث نے صاف صاف بے نقاب کر دیا کہ یہاں کی مسجدوں سے افضل و اعلیٰ برتر و بالا عرشِ اعظم کے پایوں پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ لکھا ہوا ہے، تو جب وہاں اللہ کے محبوب اور پیارے رسول کا نام لکھا ہوا ہے، تو یہاں لکھنا کیوں باعثِ اعتراض ہے۔ ہمارے آقا حضور اقدس سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی اور حبیب ہیں، اور حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ و أرضاہ عنا، اللہ کے پیارے ولی اور محبوب ہیں، اور محبوبانِ بارگاہِ الٰہی کا نام مسجدوں کے اندر لکھنا باعثِ خیر و برکت ہے۔ اور اس زمانے میں جب کہ دیوبندی مرتدین اور وہابی کفار ”یا رسول اللہ!“ ”یا غوث الاعظم مدد!“ سے جلتے، کڑھتے اور چڑہتے ہیں، تو مسجدوں میں ان مبارک کلموں کا لکھنا بہت ضروری ہے، تاکہ آنے والی نسل کے لیے ثبوت رہے کہ یہ مسجد اہلِ سنت کی ہے، ہاں اتنا خیال رہے کہ ”یا رسول اللہ!“ ”یا غوث الاعظم مدد!“ روشنائی سے لکھنے کے بجائے کھود کر لکھا جائے، تاکہ حروف مٹنے اور ضائع ہونے سے محفوظ رہیں۔
جس فریق نے ”یا رسول اللہ!“ ”یا غوث الاعظم مدد!“ مٹا دیا ہے وہ اس بے جا جرات پر نادم ہو اور توبہ کرے، فریقِ ثانی کا ”یا رسول اللہ!“ ”یا غوث الاعظم مدد!“ لکھے جانے کے بارے میں یہ کہنا کہ مسجد میں انسان کے نام لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، (تو واضح رہے کہ) نبی اور ولی کے نام لکھنے کی واقعی ضرورت ہے۔ تاکہ نبی اور ولی سے جلنے والوں کا تعلق نہ رہے، علاوہ بریں مسجد سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام مبارک مٹانے کی ضرورت کس آیت و حدیث سے ثابت ہے کہ یہ مبارک نام مٹا دیے گئے، فریقِ ثانی کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ جائز بات کو حرام مان لینا اسلام میں سخت حرام ہے، لہٰذا فریقِ ثانی اپنے اس خیال سے توبہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۲، ص: ۶۹۷، ۶۹۸)
اذانِ خطبہ کا مسئلہ
خطبۂ جمعہ کی اذان بھی مسجد سے باہر ہی دینا مشروع ہے، جیسے اور نمازوں کی اذان مگر جہالت کی وجہ سے بہت ساری مسجدوں میں اندرونِ مسجد ہو رہی ہے، اگر کوئی حکمِ صحیح سے آگاہ کر دے تو لوگ اختلاف کے شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مظفر پور بہار کے ایک گاؤں کا معاملہ ہے کہ مسجد کے اندر اذان ہوتی تھی، جب ایک مولوی صاحب نے بتا دیا، تو لوگ دو گروپ میں بٹ گئے، پھر حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ کی خدمت میں درج ذیل الفاظ میں استفتاء کیا گیا:
- ہمارے یہاں جمعہ کی اذانِ ثانی مسجد کے اندر ہوتی تھی، ایک نوجوان مولوی صاحب پنجگانہ نماز پڑھاتے تھے، مگر چند دن ہوئے کہ مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ جمعہ کی اذانِ ثانی مسجد کے اندر کے بجائے باہر ہونی چاہیے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے لوگوں میں اختلاف ہو گیا، بہت سے لوگوں نے مولوی صاحب کی اقتدا میں جماعت سے نماز پڑھنا چھوڑ دی ہے، تراویح چھوڑ دی اور آپس میں جھگڑے کی نوبت ہو گئی تو ایسی صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس اختلاف کی ذمہ داری کس پر ہے؟
- جب سرورِ عالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں اندر مسجد جمعہ کی اذان دلوائی، اور خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی اپنے دور میں ایسا ہی کیا، تو جو شخص اندر مسجد میں اذان دلوائے تو کیا وہ مسلمان نہیں، یا وہ سنیت سے خارج سمجھا جائے گا، یا اس کی نماز نہ ہوگی، یہ خیال نہ فرمائیں کہ اندر مسجد میں اذان دلوانے پر اصرار کرنے والے دیوبندی ہیں، نہیں نہیں، بلکہ یہ لوگ متقی اور ’مہرکاہی شریف‘ والے سرکار کے مریدوں میں سے ہیں، صاف صاف حکمِ شرع شریف سے آگاہ فرمائیں۔ بینوا توجروا۔
آپ نے پہلے حدیث اور کتبِ فقہ کے روشن جزئیات کے ذریعہ ثابت فرمایا کہ مسجد کے اندر اذان دلوانا ناجائز بلکہ مسجد کے باہر ہونی چاہیے، اور پہلے سوال کے ہر زاویہ کا حکم تحریر فرمایا، پھر دوسرے سوال کی طرف توجہ فرمائی، دوسرا سوال چوں کہ واقعہ کے خلاف تھا، اس لیے اس کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے جو آپ نے تحریر فرمایا قابلِ مطالعہ ہے، فرماتے ہیں:
مستفتی الٹی بات لکھ رہا ہے، کیوں کہ سرکارِ ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے مقدس زمانے میں جمعہ کی یہ اذان مسجد کے اندر نہیں بلکہ خارجِ مسجد دروازے پر دلوائی ہے، اور ایسا ہی خلیفہ اول سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہدِ مبارک میں ہوا ہے، جیسا کہ ابوداؤد شریف کے حوالہ سے بیان کیا جا چکا ہے۔ جو شخص دیدہ و دانستہ بلا وجہِ شرعی اس سنتِ مقدسہ کی مخالفت کرے وہ ضرور بد مذہبوں کا بھائی ہے، جب حسبِ بیانِ سائل خارجِ مسجد اذان کی مخالفت کرنے والے ”سرکانی شریف“ کی خانقاہ سے منسلک ہیں، تو پھر یہ تناؤ کیسا؟ تو تو، میں میں کا جھگڑا کیوں کر رہے ہیں، متقی ہوتے ہوئے اس سنتِ کریمہ کی مخالفت نہیں سمجھ میں آتی۔
بس فیصلہ یہ ہے کہ سب لوگ حکمِ شرع کے آگے اپنی اپنی گردنوں کو جھکا دیں، اپنے اپنے دلوں سے شیطانی خیالات نکال کر باہر کریں اور دونوں فریق متفقہ اعلان کر دیں کہ اب بحکمِ شریعتِ اسلامیہ جمعہ کی اذانِ ثانی موافقِ سنتِ نبوی علیٰ صاحبھا الصلوۃ والسلام اندر کے بجائے خارجِ مسجد ہو گی، اور خدا و رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا حاصل کرنے اور شیطان کو بھگانے اور اس کو خائب و خاسر کرنے کے لیے دونوں فریق ان تمام باتوں میں معافی کرا لیں، جو زمانۂ اختلاف میں ایک دوسرے کے خلاف کہتے اور سنتے رہے، اس میں جو پیش قدمی کرے گا، وہ جنت میں بھی پیش قدمی کرے گا۔
وَالتَّوْفِيقُ مِنَ الْمَوْلَى سُبْحَانَهُ وَرَسُولِهِ جَلَّ جَلَالُهُ وَصَلَّى الْمَوْلَى تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۱، ۲۱۳)
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ماخوذ از: ماہ نامہ فتاویٰ بدر العلماء ص ۸۲ تا ۸۶
