| عنوان: | برکات موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم (دوسری قسط) |
|---|---|
| تالیف: | مفتی وصی احمد قادری علوی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش |
موئے مبارک کی اہمیت قبولِ اسلام سے قبل عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ و ہرقل بادشاہ کے نزدیک
واقعاتِ صلح حدیبیہ میں ہے کہ بعض روایتوں میں ہے کہ عروہ بن مسعود ثقفی نے آپ کے قریب کھڑے ہو کر یہ منظر بھی دیکھا کہ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو آپ کے وضو کا پانی لینے کے لیے صحابہ کرام ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے، آپ لعابِ دہن پھینکتے تو اس پر بھی ٹوٹ پڑتے تھے، آپ کے جسم کا کوئی موئے مبارک جدا ہوتا تو صحابہ اسے بھی اٹھا کر رکھ لیتے تھے۔ [سیرۃ ابن ہشام]
مروی ہے کہ ہرقل بادشاہِ روم کے سر میں مستقل درد رہتا تھا، کئی علاج کیے مگر شفا نہ ہوئی۔ خوش قسمتی سے مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال مبارک اسے مل گیا۔ اس بال کو اس نے اپنی ٹوپی میں سلا کر رکھا، فوراً درد کافور ہو گیا اور شفا حاصل ہو گئی۔ [مدارج النبوۃ واشرف التفاسیر]
مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میرے ایک بال کو بھی ایذا دی اس نے مجھے ایذا یعنی تکلیف دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ [جامع صغیر]
موئے مبارک شریف کی اہمیت حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک
حضرت صفیہ بنتِ نجدہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو محذورہ کے سر مبارک کے اگلے حصہ پر ایک بالوں کا گچھا تھا، جب بیٹھتے تو باقی بال اتنے لمبے تھے کہ زمین کو مس کرتے۔ انھیں عرض کی گئی کہ آپ بال کٹواتے کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں ان بالوں کو کیسے کٹواؤں کہ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چھوا تھا۔ [شفاء شریف]
سلسلہ پا کے شفاعت کا جھکے پڑتے ہیں
سجدہ شکر کے کرتے ہیں اشارے گیسو
موئے مبارک شریف کی اہمیت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند موئے مبارک اور ناخن مبارک تھے انھوں نے آخری وقت وصیت کی کہ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک اور ناخن شریف میرے منہ اور آنکھوں میں رکھ دینا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت میں چھوڑ دینا۔ [مرقات شرح مشکوۃ]
موئے مبارک شریف کی اہمیت حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک
علامہ نور الدین عبد الرحمن جامی رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ حدیبیہ میں سر منڈا کر سارے بال ایک سبز و شاداب درخت پر رکھوا دیے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس درخت کے نیچے جمع ہو گئے اور موئے مبارک کو چننے اور ایک دوسرے سے چھیننے لگ گئے حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے بھی چند موئے مبارک حاصل کر لیے۔ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد جب کوئی بیمار ہوتا تو میں ان موئے مبارک کو پانی میں ڈال کر مریض کو پلا دیتی تو اللہ تعالیٰ اسے شفا اور صحت عطا فرما دیتا۔ [شواہد النبوہ]
ادا کرتے ہیں وہ سنت صحابہ کی جنہوں نے بھی
تبرک جان کر رکھے میرے سرکار کے گیسو
موئے مبارک شریف کی اہمیت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے نزدیک
حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا دل محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور اور دماغ خوشبوئے رسالت سے مہکتا رہتا تھا۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بال مبارک تھا، وہ اس مقدس بال کو اپنے ہونٹوں پر رکھ کر بوسہ دیتے، کبھی آنکھوں سے لگاتے اور جب کبھی بیمار ہوتے تو اس بال مبارک کو پانی میں ڈال کر اس کا دھون پیتے اور شفا حاصل کرتے۔ [تذکرہ المحدثین]
حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس موئے مبارک تھے، انھوں نے حکم دیا کہ جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو ایک ایک موئے مبارک میری دونوں آنکھوں اور تیسرا موئے مبارک میرے منہ پر رکھ کر مجھے دفن کیا جائے۔ [کوکب الدری اردو ترجمہ بنام تبرکاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی دستاویز]
زیارت گیسوؤں کی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دید کا حصہ
وہ ہے خوش بخت جو دیکھے میرے سرکار کے گیسو
موئے مبارک شریف کی اہمیت ابو العباس سیاری رحمۃ اللہ علیہ مرو کے نزدیک
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”کشف المحجوب“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العباس مہدی سیاری مرو کے کھاتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ تھے، باپ کے فوت ہونے پر آپ کو وراثت میں بہت زیادہ دولت ملی تھی۔ آپ کو پتہ چلا کہ فلاں کے پاس مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو موئے مبارک ہیں، آپ نے وہ خرید لیے۔ ان موئے مبارک کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو توبہ کی توفیق عطا کی اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا ولی بنا لیا۔ پھر آپ نے یعنی خواجہ مہدی سیاری نے حضرت خواجہ ابو بکر واسطی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں پہ بیعت کر لی اور ان کی خدمت میں رہ کر وہ مقام پایا کہ اولیائے کرام کے ایک گروہ کے امام بن گئے۔ پھر آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت کی کہ یہ دونوں موئے مبارک میرے منہ میں رکھ دیے جائیں، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ان کا مزار مبارک مرو میں مشہور ہے لوگ وہاں اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں اور وہاں جا کر اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں اور ان کی حاجتیں وہاں پوری ہوتی ہیں اور یہ مجرب ہے۔ [کشف المحجوب]
موئے مبارک شریف کی اہمیت، بلخی بزرگ کے نزدیک
بلخ میں ایک امیر کبیر سوداگر رہتا تھا اس کے دو لڑکے تھے اس خوش نصیب کے پاس دنیاوی دولت کے علاوہ ایک نعمتِ عظمیٰ یہ بھی تھی کہ اس کے پاس مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تین موئے مبارک تھے جب، اس خوش نصیب کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں نے باپ کی جائیداد آپس میں تقسیم کر لی اور جب موئے مبارک کی باری آئی تو بڑے لڑکے نے ایک موئے مبارک خود لے لیا دوسرا موئے مبارک چھوٹے بھائی کو دے دیا اور تیسرے موئے مبارک کے متعلق بڑے بھائی نے کہا کہ ہم اس کو آدھا آدھا کر لیں چھوٹے بھائی نے کہا اللہ کی قسم میں ایسا نہیں ہونے دوں گا کون ہے جو مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کو توڑے بڑے بھائی نے جب چھوٹے بھائی کی عقیدت و محبت اور ایمانی تقاضہ دیکھا تو بولا اگر تجھے موئے مبارک سے اتنی محبت ہے تو یوں کر کہ یہ موئے مبارک تو لے لے اور باپ کی جائیداد کا اپنا حصہ مجھے دے دے چھوٹا بھائی یہ سن کر جھوم اٹھا کہا واہ رے قسمت مجھے اور کیا چاہیے عشقِ رسول والا ہی اس کی عظمت و قدر جان سکتا ہے، چنانچہ بڑے بھائی نے دنیا کی دولت لے لی اور چھوٹے بھائی نے تینوں موئے مبارک شریف لے لیے اور انھیں بڑے ادب و احترام سے رکھ لیا جب شوقِ محبت غالب ہوتا تو موئے مبارک کی زیارت کرتا اور درود پاک پڑھتا اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیے کہ اس بڑے بھائی کا مال چند دنوں میں ختم ہو گیا اور مفلس ہو گیا ادھر چھوٹے بھائی کے مال میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے برکت دی اور وہ امیر ترین ہو گیا جب چھوٹے بھائی کا انتقال ہوا تو ایک صالح بزرگ نے رات خواب میں مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور چھوٹے بھائی کو بھی مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے میرے امتی تو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس کو کوئی حاجت کوئی مشکل درپیش ہو ان کی قبر پر حاضر ہو کر اللہ عزوجل سے سوال کرے وہ بزرگ بیدار ہو کر اعلان کر دیا اس چھوٹے بھائی کی قبر کو ایسی مقبولیت نصیب ہوئی کہ لوگ کثیر تعداد میں حاضر ہونے لگے یہاں تک کہ اگر کوئی سوار ہو کر اس مزار کے پاس سے گزرتا تو ادب کی وجہ سے سواری سے اتر جاتا اور پیدل چلنے لگتا۔ [القول البدیع]
موئے مبارک شریف کی اہمیت ابو الفضل ابن خنزابہ محدث رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک
علامہ ذہبی لکھتے ہیں: لَمَّا غُسِلَ ابْنُ خِنْزَابَةَ جُعِلَ فِيهِ ثَلَاثُ شَعَرَاتٍ مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَخَذَهَا بِمَالٍ عَظِيمٍ ترجمہ: (بعدِ وصال) جب (ابو الفضل) ابن خنزابہ محدث کو غسل دیا گیا تو ان کے منہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تین بال مبارک رکھے گئے جو انھوں نے بہت زیادہ مال دے کر حاصل کیے تھے۔ [سیر اعلام النبلاء، ابن خنزابہ] علامہ ذہبی نے شروع میں ان کا تعارف یوں کروایا: ابن خنزابة: الإمام الحافظ الثقة الوزير الأكمل أبو الفضل جعفر بن الوزير أبي الفتح الفضل بن جعفر بن محمد بن موسى بن الحسن بن الفرات البغدادي، نزيل مصر ولد ببغداد في ذي الحجة سنة ثمان وثلاث مائة ترجمہ: ابن خنزابہ امام، حافظ، ثقہ، الوزیر الکامل ابو الفضل جعفر ابن الوزیر ابو الفتح الفضل بن جعفر بن محمد بن موسیٰ بن حسن بن فرات بغدادی، نزيلِ مصر، 308ھ میں ذی الحجہ کے مہینے میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ [سیر اعلام النبلاء]
موئے مبارک شریف کی اہمیت عدیم بن طاہر علوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک
عدیم بن طاہر علوی کے پاس چودہ موئے مبارک تھے انھوں نے ان کو امیر حلب کے دربار میں پیش کیا۔ امیر حلب نے خوش ہو کر اس مقدس تحفہ کو قبول کیا علوی صاحب کی انتہائی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے ان کو انعام و اکرام سے مالا مال کر دیا لیکن اس کے بعد جب دوبارہ علوی صاحب امیر حلب کے دربار میں گئے تو امیر نے تیوری چڑھا کر، بہت ہی ترش روئی کے ساتھ بات کی اور ان کی طرف سے نہایت ہی بے التفاتی کے ساتھ منہ پھیر لیا۔ علوی صاحب نے اس بے توجہی اور ترش روئی کا سبب پوچھا تو امیر حلب نے کہا کہ میں نے لوگوں کی زبانی یہ سنا ہے کہ تم جو موئے مبارک میرے پاس لائے تھے ان کی کچھ اصل اور کوئی سند نہیں ہے۔
علوی صاحب نے کہا کہ آپ ان مقدس بالوں کو میرے سامنے لائے۔ جب وہ آگئے تو انھوں نے آگ منگوائی اور موئے مبارک کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا پوری آگ جل جل کر راکھ ہو گئی مگر موئے مبارک پر کوئی آنچ نہیں آئی بلکہ آگ کے شعلوں میں موئے مبارک کی چمک دمک اور زیادہ نکھر گئی۔ یہ منظر دیکھ کر امیرِ حلب نے علوی صاحب کے قدموں کا بوسہ لیا اور پھر اس قدر انعام و اکرام سے علوی صاحب کو نوازا کہ اہل دربار ان کے اعزاز و وقار کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ [نسیم الریاض شرح الشفاء]
موئے مبارک کے متعلق اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحت
بعض لوگ کہتے ہیں کہ کیا پتہ یہ بال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں یا نہیں؟ یہ انداز باعثِ محرومی ہے، یاد رہے کہ موئے مبارک ہو یا کوئی اور تبرک اس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کا مشہور و معروف ہونا کافی ہے، باقاعدہ سند کی حاجت نہیں۔
مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ایسی جگہ ثبوتِ یقینی یا سندِ محدثانہ کی اصلاً حاجت نہیں اس کی تحقیق و تنقیح کے پیچھے پڑنا اور اس کے تعظیم و تبرک سے باز رہنا سخت محرومی و کم نصیبی ہے، ائمہ دین نے صرف حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے اس شے کا معروف ہونا کافی سمجھا ہے۔ امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
مِنْ إِعْظَامِهِ وَإِكْبَارِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِعْظَامُ جَمِيعِ أَسْبَابِهِ وَإِكْرَامُ مَشَاهِدِهِ وَأَمْكِنَتِهِ مِنْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَاهِدِهِ وَمَا لَمَسَهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَوْ عُرِفَ بِهِ۔
ترجمہ: حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے علاقہ رکھنے والی تمام چیزیں، آپ کے متبرک مقامات، مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے وہ تمام مقامات جن کو آپ سے نسبت ہے نیز جن مقامات پر آپ نے بیعت فرمایا اور جن چیزوں کو آپ نے چھوا اور آپ کے نامِ پاک سے جو اشیا پہچانی جاتی ہوں ۔ ان سب اشیا کا احترام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم و تکریم ہے۔ [فتاویٰ رضویہ جدید، ج: 21, ص: 13-412، رضا فاؤنڈیشن، لاہور]
[ماہ نامہ: برکات موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، ص: 35 تا 40]
