| عنوان: | زکوٰۃ کی اہمیت اور اس کا استعمال (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد صلاح الدین رضوی سیتامڑھی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش |
زکوٰۃ اعظم فرائضِ دین و اہم ارکانِ اسلام ہے اسی وجہ سے رب کائنات نے قرآن حکیم میں ۳۲ مقامات پر نماز کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا اور طرح طرح سے بندوں کو اس اہم فرض کی طرف بلایا۔ زکوٰۃ کی فرضیت کس قدر مؤکد ہے اس کا اندازہ ان باتوں سے لگائیے:
جو قبائل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے کافی فاصلہ پر ہونے کی وجہ سے دینی و اخلاقی تربیت حاصل نہ کر سکے تھے اور اسلام کی روحانیت و چاشنی سے نا آشنا تھے۔
اسی طرح جو قبائل نئے نئے مسلمان تو ہو گئے تھے لیکن نہ وہ صحابیت کے عظیم شرف سے مشرف ہوئے تھے اور نہ اکابر صحابہ کرام کی زندگی کے مطالعہ کا انہیں موقع میسر آیا تھا اس لیے وہ اسلام کی روحانی لذتوں سے محروم تھے ایسے قبائل کے افراد حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بڑی تعداد میں اسلام سے پھرنے لگے تھے۔
اس نازک دور میں بہت سے وہ اشخاص بھی تھے جو اسلام کے دیگر احکام کو خوشی سے تسلیم کرنے کے باوجود فرضیتِ زکوٰۃ کے منکر تھے۔
ان لوگوں کا خیال تھا کہ زکوٰۃ مدینہ کی حکومت کا مقرر کردہ جزیہ (ٹیکس) ہے حالانکہ جزیہ صرف غیر مسلموں پر مقرر کیا جاتا ہے تو ہم پر جزیہ مقرر کیا جانا درست نہیں جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نہیں فرمائے تھے تو ہمیں زکوٰۃ دینے میں کوئی حرج نہ تھا کیوں کہ وہ نبی تھے ان پر وحی نازل ہوتی تھی تو جو کچھ وہ طلب فرماتے تھے وہ ان کا حق تھا لیکن ان کے پردہ فرمانے کے بعد ادائیگی زکوٰۃ کا حکم ہم سے ساقط ہو گیا ہے۔
اس اہم صورت حال سے نمٹنے کے لیے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ طلب کی تو کچھ صحابہ کرام نے جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جنگ کرنے کے لیے پُر عزم نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ کیسے کریں گے جبکہ رسولِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کہیں اور جس نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کہہ دیا اس نے اپنی جان اور مال بچا لیا مگر جبکہ اس پر کوئی حق ہو (یعنی اگر اس نے زنا کیا تو سنگسار کیا جائے گا) اور اس کی نیت کا حساب اللہ تعالیٰ اس سے لے گا۔
اس پر حضرت صدیق اکبر نے فرمایا خدا کی قسم میں اس سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز و روزہ میں تفریق کرے (یعنی نماز کو فرض مانے لیکن زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر ہو) کیوں کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے خدا کی قسم اگر کوئی شخص جو بکری کا بچہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر کیا کرتا تھا اگر مجھے دینے سے انکار کر دے تو میں اس سے بھی جنگ کروں گا۔
حضرت فاروق اعظم فرماتے ہیں خدا کی قسم میں نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صدیق اکبر کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ہے اس وقت میں نے بھی پہچان لیا کہ یہی حق ہے۔ [مسلم، کتاب الایمان]
تو آخر کار حضرت صدیق اکبر نے منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ کی جبکہ اس نازک صورت حال میں ظاہری مصلحت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ منکرینِ زکوٰۃ کو ادائیگی زکوٰۃ پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ انھیں سمجھا بجھا کر اپنے ساتھ رکھا جائے اور ان کو اپنے ساتھ ملا کر ان مرتدین کے خلاف جنگ کی جائے جو سارے اسلامی قوانین و دستور کا انکار کر کے دائرۂ اسلام سے باہر ہو گئے تھے اور اپنے کو مسلمان کہلوانا بھی گوارا نہ کرتے تھے کیوں کہ منکرینِ زکوٰۃ پر سختی کرنے کی صورت میں یہ لوگ بھی کھلم کھلا دشمنی پر آمادہ ہو جاتے اس طرح مسلمانوں کو دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی لیکن پھر بھی حضرت صدیق اکبر نے ان سے جنگ کی اور ان کے خلاف کارروائی میں تاخیر نہ کی کیوں کہ آپ بخوبی واقف تھے۔
کہ اگر ان کے خلاف کارروائی میں تاخیر کی گئی تو اس جرم کے لیے دوسروں کا بھی حوصلہ بڑھ سکتا ہے تو پھر ان پر حاوی ہونا اور اس فتنے کو دبانا بہت مشکل ہو جائے گا۔
تو آپ نے جس مقصد کے لیے جنگ کی تھی اس میں آپ پورے طور پر کامیاب رہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان قبائل کے سردار اپنی اپنی زکوٰۃ لے کر مدینہ شریف آئے۔
اور زکوٰۃ کی زبردست اہمیت کی وضاحت ان باتوں سے بھی بخوبی ہو جاتی ہے کہ جہاں شریعتِ اسلامیہ نے زکوٰۃ ادا کرنے والوں اور اس پر مداومت اختیار کرنے والوں کو طرح طرح کے انعامات و اکرامات کی بشارتیں دی ہیں وہیں اس کی ادائیگی سے کوتاہی اور غفلت کرنے والوں کی مذمت و قباحت بیان کی اور سخت ترین الفاظ سے انھیں ڈرایا。
پہلے زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے لیے انعامات و اکرامات کی بشارتیں اور انھیں حاصل ہونے والے فوائد ملاحظہ کیجیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ [البقرۃ: 261]
ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح ہے جس نے اگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ وہ بڑھائے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
یعنی جو لوگ اپنا کسی قسم کا مال (مالِ حلال) کسی بھی کارِ خیر میں خرچ کریں مثلاً:
زکوٰۃ و فطرہ ادا کریں مسجدیں یا مدارسِ اسلامیہ بنوائیں یا شفا خانے اور مسافر خانے کی تعمیر میں خرچ کریں یا رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے میں لگائیں۔ یا غرباء و مساکین کو صدقاتِ نافلہ کے طور پر دیں یا دینی کتابیں خرید کر طلبہ و علما کو دیں تو ان صدقات کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک دانہ زمین میں بو دیا گیا ہو جس سے سات شاخیں نکلیں ہر شاخ میں ایک ایک بال ہو اور ہر بال میں سو دانے ہوں تو کل سات سو دانے ہوں گے تو جس طرح دنیا میں ایک دانے سے سات سو دانے حاصل ہوتے ہیں ایسے ہی آخرت میں ایک صدقہ کے سات سو اجر و ثواب حاصل ہوں گے اور اسی پر بس نہیں ہے بلکہ رب تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس کے اخلاص و مشقت کے مطابق اور زیادہ عطا فرماتا ہے۔ [تفسیر نعیمی، ثالث]
تو جب بندوں کے اخلاص کے مطابق ربِ کائنات اپنے فضل و کرم سے ان کی نیکیوں میں اضافہ فرماتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ اخلاص میں ڈوب کر کارِ خیر کرنے کا اپنا معمول بنا لیں تاکہ نیکیوں میں زیادتی ہوتی رہے۔
يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِؕ [البقرۃ: 276]
اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو:
یعنی اللہ رب العزت دنیا میں تمام مسلمانوں کے سودی مال کو مٹاتا ہے اگرچہ کفار کے نہ مٹے یا کسی بھی انسان کے سودی کاروبار میں برکت نہیں ہوتی اگرچہ کبھی کفار کے سودی کاروبار میں کثرت ہو جاتی ہے لیکن یہ مال برکت سے خالی ہوتے ہیں اسی لیے ان میں پائیداری نہیں یا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ سودی صدقات کو برباد کر دے گا یا سود کو گھٹا دے گا کہ سودی لباس پہن کر جو نماز ادا کی گئی ہو گی اس کا ثواب گھٹ جائے گا۔
اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کے صدقات کو دنیا میں بڑھاتا ہے کہ صدقات کی برکت سے بقیہ مال میں برکت ہوتی ہے یا آخرت میں بڑھائے گا کہ تھوڑا صدقہ بہت زیادہ کر کے عطا فرمائے گا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
اللہ تعالیٰ مومنوں کے صدقے کی ایسی پرورش کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی گھوڑی یا گائے کے بچے کی کرتا ہے جب بندہ آخرت میں اٹھے گا تو اپنے ایک پیسے کے صدقہ کو پہاڑ پائے گا۔ اور دنیا میں بھی دیکھا گیا ہے کہ سخی کبھی فقیر نہیں ہوتا اس کی دولت بفضلہ تعالیٰ بڑھتی رہتی ہے۔ [تفسیر نعیمی، ثالث]
وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخۡلِفُہٗ ۚ وَہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ [سبا: 39]
اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے میں اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا یعنی جو چیز کارِ خیر میں صرف کی جاتی ہے رب تعالیٰ دنیا میں اس کا عوض مال اور قناعت سے عطا فرماتا ہے یا آخرت میں ثواب اور جنت کی نعمتوں سے بدلہ دیتا ہے یا دنیا اور آخرت دونوں میں عوض عطا فرماتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ خرچ کی ہوئی چیزوں کے عوض میں ان سے کہیں زیادہ عطا فرماتا ہے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں یہ حدیث پاک ہے:
اللہ تعالیٰ کے چند فرشتے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب کے بعد روزانہ دو مرتبہ اعلان کرتے ہیں خبردار جو بندہ اپنے عیال اور پڑوسیوں پر وسعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں وسعت بخشے گا اور جو ان پر تنگی کرے گا اسے دنیا و آخرت میں تنگی میں ڈالے گا بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے ایک درہم خرچ کے مقابلے میں ستر قطار (قطار احد پہاڑ کے برابر وزن کو کہتے ہیں) سے بھی بہتر رزق عطا فرماتا ہے۔ [روح البیان] لہٰذا محتاجگی سے ہرگز خوف نہ کھایا جائے بلکہ جی بھر کر صدقات کیے جائیں اور مال و دولت کو اللہ کے راستے میں خرچ کر کے اس کے الطافِ کریمانہ کا انتظار کیا جائے۔
خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا [التوبۃ: 103]
اے محبوب ان کے مال میں سے زکوۃ تحصیل کرو جس سے تم انھیں اور پاکیزہ کر دو۔
اس آیت کریمہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ چند صحابہ کرام جنگِ تبوک میں شریک نہ ہوئے تھے تو بعد میں ان صحابہ کرام کو جنگ میں شریک نہ ہونے پر بڑا افسوس ہوا جب سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے واپس ہوئے اور مدینہ شریف کے قریب پہنچے تو ان لوگوں نے قسم کھائی کہ ہم لوگ مسجدِ نبوی شریف کے ستون سے بندھ جائیں گے اور اس وقت تک بندھے رہیں گے جب تک کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے دستِ مبارک سے نہ کھول دیں جب آپ تشریف لائے تو ان لوگوں کے تعلق سے ارشاد فرمائے خدا کی قسم میں انھیں نہ کھولوں گا نہ ان کا کوئی عذر قبول کروں گا یہاں تک کہ رب تعالیٰ کی طرف سے انھیں کھولنے کا حکم دیا جائے پھر جب رب تعالیٰ کی طرف سے انھیں کھولنے کا حکم دیا گیا تو رسولِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کھولا۔
صحابہ کرام ستونوں سے کھلنے کے بعد اپنے گھروں کو چلے گئے اور اپنے تمام مال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ بابرکت میں پیش کر دیے اور عرض گزار ہوئے یا رسول اللہ یہی مال ہم لوگوں کو جنگ میں جانے سے محروم رکھا آپ جس طرح چاہیں انھیں خرچ کریں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا ہے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں بتایا گیا کہ جو لوگ جنگ میں نہ جا سکے لیکن اب اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے مال پیش کرتے ہیں تو انھیں لے لیجیے اور ان مالوں کو لے کر انھیں ان گناہوں سے بھی پاک کیجیے جو جنگ میں نہ جانے سے ہوئے اور ان کی نیکیاں بڑھا کر مراتبِ مخلصین پر بھی پہنچا دیجیے۔ [روح البیان، خزائن العرفان]
راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والوں پر نازل ہونے والے انعامات و برکات کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگائیے:
ربِ کائنات نے اپنے ایک نبی کے پاس ایک مرتبہ وحی نازل فرمائی کہ فلاں شخص کے تعلق سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس کی آدھی عمر محتاجگی میں اور آدھی عمر مالداری میں گزرے آپ اس شخص سے پوچھیں کہ وہ پہلے محتاجگی چاہتا ہے یا دولت مندی اللہ کے نبی نے اسے بلا کر یہ واقعہ سنایا اور پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے تو اس نے اس سلسلے میں اپنی بیوی سے مشورہ کرنے کی اجازت طلب کی اللہ کے نبی نے اسے اس بات کی اجازت دے دی جب اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو بیوی نے پہلے دولت مندی چاہنے کا مشورہ دیا۔
شوہر نے کہا میرا خیال ہے پہلے محتاجگی طلب کرنی چاہیے اس لیے کہ آرام کے بعد پریشانی جھیلنی بہت بڑی دشواری کی بات ہے لیکن پریشانی کے بعد آرام بہت بڑی نعمت اور قابلِ لحاظ راحت و سکون ہے بیوی نے کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر اس بارے میں کہنے پر عمل کر کے دیکھیے تو وہ شخص اس پر راضی ہو گیا اور اللہ کے نبی کی بارگاہ میں حاضر ہو کر پہلے دولت مندی ملنے کی خواہش ظاہر کی اللہ کے نبی کی دعا سے وعدہ پورا ہوا اور وہ شخص مالدار ہو گیا مالداری ملنے کے بعد بیوی نے کہا اگر تو اس دولت میں پائیداری چاہتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخالت نہ کر اس نے اس نصیحت پر عمل کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ جب وہ کوئی کپڑا اپنے لیے خریدتا تو دوسرا کپڑا کسی مسکین کے لیے ضرور خریدتا جب اس کی آدھی عمر ختم ہو گئی تو رب تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ وحی نازل فرمائی کہ اگرچہ اب اس کی محتاجگی کی باری ہے لیکن چوں کہ اس نے میری نعمتوں کا حق ادا کیا ہے اس لیے اسے یہ مژدہ سنا دو کہ اس کی باقی عمر بھی دولت مندی میں گزرے گی۔ [تفسیر روح البیان، پارہ: 1]
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[ماہ نامہ: پیغام شریعت دہلی، جون 2016، ص: 31 تا 33]
