| عنوان: | بڑھتی تعلیمات کی رفتار میں تربیت کی کمی |
|---|---|
| تحریر: | خوشبو فاطمہ قادریہ |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
عصر حاضر میں تعلیمات کے دور بہت ہیں، اور اس میں بھی دنیاوی تعلیمات معاشرے کی بڑھتی ایک رفتار میں ہیں۔ یہ کاغذی دستاویز تو بہت ہیں اور اسے اہمیت بھی پیسوں کی طرح دی گئی ہے۔
اسی بڑھتی تیز رفتار میں آج اسلامی معاشرے کو کھوکھلا بنا دیا ہے۔ چند روزی کی فکر میں رب پر سے توکل کم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ معاشرہ بالکل دنیاوی زندگی کو اپنی آسائش و رہائش مان بیٹھا ہے، اور علماء کرام کی اہمیت انہیں نہیں؛ کیونکہ یہ انہیں دنیا داروں سے دور کرنے کا درس دیتے ہیں۔
یہ آج کے معاشرے کی بہت بڑی کمی ہے کہ عمل اور تقویٰ سے دوری نظر آ رہی ہے۔ کیا اس کی وجہ علماء کی کمی ہے؟ کچھ حد تک یہ بات صحیح ہے اور اس کے آگے سوچا جائے تو علماء کی اہمیت نہیں ہے، اور کچھ حد تک ہماری رب کے فرمان سے دوری۔ ہمیں نہ قدر دین کی، نہ ہم نے علماء کی اصل قدر سمجھی؛ بس ہم نے اپنا ایک معاملہ تھا، گزار دیا۔
دنیاوی تعلیمات کو دین کی تعلیمات پر ترجیح دی، اسی کا نتیجہ ہے۔ ہم نے دین کو صرف دنیا داری کے لیے پڑھا۔ ہم نے دین کو صرف ایک ہی چشم سے، پہلوؤں سے دیکھا۔
تو کہاں سے دین ہمارے دل میں اترے گا؟ جبکہ ہماری نیت ہی دنیا حاصل کرنا ہوئی! ہمارے اندر جتنی برائی ہے وہ صرف اور صرف دین کی کمی اور بے قدری کی وجہ سے ہے۔ ہمیں دین تب سمجھ آئے گا جب ہمیں خدا کا خوف اور مقصدِ اصلی سمجھ میں آئے۔
دنیا کی کوئی بھی کتاب پڑھ لیجیے، آپ اس میں کوئی چیپٹر ایسا نہیں جس میں اخلاق کا درس ہو، وہ بھی حوالے کے ساتھ۔ یہ درس صرف اور صرف قرآن، حدیث و دینی تعلیم اور علماء کرام کی صحبت سے ہی آئے گا۔
کچھ حد تک ہماری تعلیمات صرف زبان کی روانگی میں رہ گئیں، دل میں نہ اتر سکیں۔ دینی تعلیمات کی اہمیت دنیا سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی قدر اور قیمت ہم سمجھیں، تبھی ہمارے کردار بنیں گے، اخلاق میں نرمی آئے گی۔
ہم یہ سمجھ جائیں کہ ہمارا مقصد صرف رب کی رضا ہے، ہمارا رب پر توکل بڑھے گا اور ہم ادھر ادھر بھٹکنے سے باز آئیں گے۔ رزق کی فکر سے آزاد ہوں گے۔ ہمیں رب پر بھروسہ ہوگا تو خود پر بھی بھروسہ آئے گا۔ اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم دینی تعلیمات سے متاثر ہو کر اس سے محبت کریں۔ ہم علمِ دین سے محبت کریں گے تو ہی ہمارے دل میں علم آئے گا۔
اللہ کریم ہمیں علم کا سچا طالب بنائے اور دین کی سچی سمجھ عطا فرمائے، اور دین سے ہماری دنیا و آخرت کامیاب بنائے۔ آمین۔
