| عنوان: | جہاد کا صحیح اور شرعی مفہوم (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد حبیب الرحمٰن امجدی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
جہاد کا شرعی حکم
امام سرخسی رحمة الله تعالى عليه فرماتے ہیں: الْجِهَادُ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَقَضِيَّةٌ مَحْتُومَةٌ يُكَفَّرُ جَاحِدُهَا وَيُضَلَّلُ عَائِدُهَا. جہاد ایک محکم فریضہ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے۔ جہاد کا منکر کافر ہوگا اور جہاد سے ضد رکھنے والا گمراہ۔ [فتح القدیر، کتاب السیر، ج: 5، ص: 422]
اور صاحب اختیار امام عبید اللہ بن محمود الموصلی حنفی رحمة الله تعالى عليه فرماتے ہیں: الْجِهَادُ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَيُكَفَّرُ جَاحِدُهَا ثَبَتَ فَرِيضَتُهَا بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَإِجْمَاعِ الْأُمَّةِ. جہاد ایک محکم اور قطعی فریضہ ہے جس کا منکر کافر ہے اور اس کی فرضیت قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ [المرجع السابق]
مقصدِ جہاد:
جہاد کا مقصد اصلی رسوم و قواعدِ کفریہ کو محو کر کے اعزازِ اسلام اور إِعْلَاءُ كَلِمَةِ الله ہے۔
وجوبِ جہاد کے شرائط:
اس سلسلہ میں صاحب بدائع الصنائع فرماتے ہیں: وَأَمَّا شُرُوطُ الْوُجُوبِ فَأَنْوَاعٌ: مِنْهَا: الْعَقْلُ وَمِنْهَا: الْبُلُوغُ، وَمِنْهَا: الذُّكُورَةُ. یعنی جہاد عاقل و بالغ مرد پر فرض ہے اور پھر اس کے آگے فرماتے ہیں۔
وَمِنْهَا الصِّحَّةُ فَلَا تَجِبُ عَلَى الْمَرِيضِ إِذَا مَرِضَ السَّنَةَ كُلَّهَا لِأَنَّ الْمَرِيضَ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْقِتَالِ. یعنی جہاد مریض پر واجب نہیں جب کہ وہ سال بھر بیمار رہے کیونکہ مریض جہاد پر قدرت نہیں رکھتا، اسی وجہ سے مجاہد کا تندرست ہونا ضروری ہے۔
وَمِنْهَا السَّلَامَةُ عَنِ الزَّمَانَةِ وَالْعَمَى وَالْكَبِيرِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ. اس عبارت میں ”الکبیر“ سے مراد شیخ کبیر ہے۔
وَمِنْهَا: الْحُرِّيَّةُ فَلَا تَجِبُ عَلَى الْعَبْدِ لِأَنَّ الْعَبْدَ لَيْسَ مِنْ مِلْكِ الْمَالِ.
نوٹ: مرد اور آزاد ہونے کی شرط اقدامی جہاد میں ہے نہ کہ دفاعی جہاد میں، کیونکہ دفاعی جہاد غلام و عورت دونوں پر فرض ہے۔ [البدائع الصنائع، ج: 6، ص: 80]
کن لوگوں پر جہاد فرض نہیں:
صاحبِ بدائع الصنائع علامہ ابوبکر حنفی کاسانی فرماتے ہیں: لَا يُفْرَضُ عَلَى الْأَعْمَى وَالْأَعْرَجِ وَالزَّمِنِ وَالْمُقْعَدِ وَالشَّيْخِ الْهَرِمِ وَالْمَرِيضِ وَالضَّعِيفِ وَالَّذِي لَا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ. ترجمہ: اندھے، لنگڑے، معذور، اپاہج، شیخِ فانی، مریض، ضعیف اور جو انفاق کے لئے کچھ نہیں پاتے ہیں ان پر جہاد فرض نہیں۔ [المرجع السابق]
قَالَ اللهُ تَعَالَى وَسُبْحَانَهُ: لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ [النور: 61]
وَقَالَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَزَّ مِنْ قَائِلٍ: لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو جب کہ اللہ اور رسول کے خیر خواہ رہیں نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ [ترجمہ کنز الایمان، التوبہ: 91]
فَقَدْ عَذَرَ اللهُ جَلَّ شَأْنُهُ هَؤُلَاءِ بِالتَّخَلُّفِ عَنِ الْجِهَادِ وَرَفَعَ الْحَرَجَ عَنْهُمْ.
اور آگے فرماتے ہیں: وَلَا جِهَادَ عَلَى الصَّبِيِّ وَلَا امْرَأَةٍ لِأَنَّ بُنْيَتَهُمَا لَا تَحْمِلُ الْحَرْبَ عَادَةً. [البدائع الصنائع، کتاب السیر، ج: 6، ص: 57]
البتہ مجنون، بچے اور عورتوں پر جہاد فرض نہیں۔ بدائع میں ہے: لَا تَجِبُ عَلَى الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ وَالْمَجَانِينِ. [المرجع السابق، ج: 6، ص: 80]
جہاد کے شرائط:
فقہاء نے جہاد کی چند شرطیں بیان کی ہیں:
- مسلمانوں کی تعداد اتنی کثیر ہو جس سے شان و شوکت پیدا ہو۔
- پوری جماعت کے مصارف کا مہیا ہونا۔
- قدرت و استطاعت کا ہونا۔
- مسلمانوں کی جماعت کا کوئی ایسا امیر ہو جو ان کی قوت کو ایک مرکز پر جمع رکھ سکتا ہو اور یہ شرط جہاد کے لئے بمنزلہ روح کے ہے۔
- مسلمانوں کا کوئی ایسا مامون و محفوظ مرکز بھی ہو کہ جہاں کفار کے شر سے نجات حاصل ہو جائے اور بوقت ضرورت وہاں پناہ حاصل کی جا سکے۔
- مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہونے کی امید ہو۔
جب مذکورہ شرائط پائے جائیں گے تبھی جہاد کرنا درست ہوگا۔ وَإِلَّا فَلَا [مستفاد از: فتاویٰ عبدالحی واسلام اور سیاست]
کافروں سے جہاد کرنے کی دو قسمیں ہیں:
- اقدامی
- دفاعی
اقدامی جہاد:
یعنی مسلمانوں کا کافروں کے خلاف خود اقدامِ جہاد کرنا۔ اگر یہ اقدام ان کافروں پر ہے جن تک دین کی دعوت پہنچ چکی ہے تو ایسے کافروں کو حملے سے پہلے دعوت دینا مستحب ہے اور اگر دعوت نہیں پہنچی تو پہلے دعوت دی جائے گی اگر نہ مانیں تو جزیہ کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر یہ بھی نہ مانیں تو ان سے قتال کیا جائے گا۔
کنز الدقائق میں ہے: فَإِنْ حَاصَرْنَاهُمْ نَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَسْلَمُوا وَإِلَّا إِلَى الْجِزْيَةِ فَإِنْ قَبِلُوا فَلَهُمْ مَا لَنَا وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْنَا وَلَا نُقَاتِلُ مَنْ لَمْ تَبْلُغْهُ الدَّعْوَةُ إِلَى الْإِسْلَامِ وَنَدْعُو نَدْبًا مَنْ بَلَغَتْهُ وَإِلَّا نَسْتَعِينُ بِاللهِ تَعَالَى وَنُحَارِبُهُمْ. [کنز الدقائق، ص: 200]
اقدامی جہاد کی بدولت وہ کافر جو مسلمانوں کے خلاف کاروائی کا ارادہ رکھتے ہوں دب جاتے ہیں اور ان کے دشمن مرعوب و خوف زدہ ہو کر اسلام کے خلاف سازشیں نہیں کرتے اس لئے کافروں کو مرعوب رکھنے اور انہیں اپنے غلط عزائم کی تکمیل سے روکنے اور دعوت اسلام کو دنیا کے ایک ایک گوشہ تک پہنچانے اور دعوت کے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے اقدامی جہاد فرض کفایہ ہے اگر کچھ مسلمان یہ عمل کرتے ہیں تو سب کی طرف سے کافی ہے لیکن اگر کوئی بھی نہ کرے تو سب گنہگار ہوں گے۔
فتاویٰ شامی میں ہے: مسلمانوں کے امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ دارالحرب کی طرف ایک یا دو مرتبہ لشکر بھیجے اور عوام پر لازم ہے کہ وہ اس میں اپنے امام کی مدد کریں اگر امام لشکر نہیں بھیجے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔ [بحوالہ شرح سنن ابو داؤد، ج: 5]
نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا اکثر جہاد اقدامی تھا۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو اقدامی جہاد کی تلقین فرمائی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اقدامی جہاد ہوتا رہے تو دفاعی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے لیکن جب مسلمان اقدامی جہاد کے فریضے سے غفلت کرتے ہیں تو انہیں دفاعی جہاد پر مجبور ہونا پڑتا ہے جیسا کہ اس دور میں ہو رہا ہے۔ [شرح سنن ابو داؤد، ج: 5، از: علامہ لیاقت علی رضوی حنفی]
دفاعی جہاد:
یعنی اپنے ملک پر حملہ کرنے والے کفار سے دفاعی جنگ لڑنا اور یہ اہم ترین فریضہ ہے۔ [المرجع السابق]
جہاد کن صورتوں میں فرض عین ہے:
صاحبِ بدائع فرماتے ہیں:
- إِذَا عَمَّ النَّفِيرُ بِأَنْ هَجَمَ الْعَدُوُّ عَلَى بَلَدٍ فَهُوَ فَرْضُ عَيْنٍ يُفْتَرَضُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ آحَادِ الْمُسْلِمِينَ. جب نفیر عام ہو اس طور پر کہ دشمن مسلمانوں کے شہر پر حملہ آور ہو تو ایسے میں ہر قادر مسلمان پر جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ [بدائع الصنائع، ج: 6، ص: 58]
- جب کفار مسلمانوں کے کچھ افراد کو قید کر لیں۔
- ایک مسلمان عورت گرفتار ہو جائے تو اسے کافروں سے نجات دلانا تمام مسلمانانِ عالم پر فرض ہو جاتا ہے۔
- جب امام پوری قوم یا کچھ افراد کو جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دے۔
- جب مسلمانوں اور کافروں کی جماعتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجائیں اور جنگ شروع ہو جائے۔
مذکورہ بالا صورتوں میں جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ [شرح سنن ابو داؤد، ج: 5، ص: 573]
جہاد کب فرض کفایہ ہے:
اس سلسلہ میں صاحبِ کنز الدقائق علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی رحمة الله تعالى عليه فرماتے ہیں: الْجِهَادُ فَرْضُ كِفَايَةٍ ابْتِدَاءً فَإِنْ قَامَ بِهِ قَوْمٌ سَقَطَ عَنِ الْكُلِّ وَإِلَّا أَثِمُوا بِتَرْكِهِ. جہاد ابتداءً فرض کفایہ ہے اگر اس کے لئے کچھ لوگ کھڑے ہو گئے تو تمام کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا ورنہ سبھی گنہگار ہوں گے۔ [کنز الدقائق، ص: 200]
جہاد کی کتنی قسمیں ہیں:
شریعت اسلامیہ کے رو سے اس کی درج ذیل اقسام ہیں:
- جہاد بالعلم: یہ وہ جہاد ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت پر مبنی احکامات کا علم پھیلایا جاتا ہے تاکہ کفر و جہالت کے اندھیرے ختم ہوں اور دنیا رشد و ہدایت کے نور سے معمور ہو جائے۔
- جہاد بالعمل: عمل کا تعلق ہماری زندگی سے ہے اس جہاد میں قول کے بجائے عمل اور گفتار کے بجائے کردار کی قوت سے معاشرے میں انقلاب برپا کرنا مقصود ہے۔ جہاد بالعمل ایک مسلمان کے لئے احکام الہٰیہ پر عمل پیرا ہونے اور زندگی کو ان احکام کے مطابق بسر کرنے کا نام ہے۔
- جہاد بالمال: اپنے مال کو دین کی سربلندی کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو جہاد بالمال کہتے ہیں۔
- جہاد بالنفس: بندہ مومن کے لئے نفسانی خواہشات سے مسلسل اور صبر آزما جنگ کا نام ہے۔ یہ وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے پر محیط ہے۔ شیطان براہ راست انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر نفس کو مطیع کر لیا جائے اور اس کا تزکیہ ہو جائے تو انسان شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
- جہاد بالقتال: یہ جہاد میدانِ جنگ میں کافروں اور دین کے دشمنوں کے خلاف اس وقت صف آراء ہونے کا نام ہے جب دشمن سے آپ کی جان و مال یا آپ کے ملک کی سرحدیں خطرے میں ہوں۔ اگر کوئی کفر کے خلاف جنگ کرتا ہوا مارا جائے تو قرآن کے فرمان کے مطابق اسے مردہ نہ کہا جائے گا۔ [شرح سنن ابوداؤد]
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ بَلْ اَحْيَآءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔ [البقرہ: 154]
دور حاضر میں جہاد کا حکم:
قتال بالسیف کے ذریعہ جو جہادِ اسلامی کیا جاتا ہے اس کے لئے شرطِ اعظم یہ ہے کہ کوئی شرعی و اسلامی سلطنت ہو اور اس کا سلطان و امام احکامِ شرعیہ کے مطابق اس حکومت کا والی ہو۔ اس کے بعد دیگر شرائطِ جہاد کے ثبوت کے بعد ہی جہاد کا حکم ہو سکتا ہے۔
اس زمانہ میں پوری دنیا میں کہیں بھی ایسی اسلامی سلطنت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اسلامی سلطان ہے اس لئے جہاد بالسیف کا حکم نہیں ہو سکتا۔ البتہ جہاد کی بقیہ چار قسموں پر اپنی اپنی حیثیت و وسعت کے موافق عمل کرنا ضروری ہے۔
خاتمہ:
جہاد کی شرعی حیثیت اور اس کا مفہوم ذکر کردہ قرآن پاک کی آیاتِ کریمہ، احادیثِ مبارکہ اور اقوالِ اسلاف کی روشنی میں خوب ظاہر و باہر ہو گیا اور اس مختصر سی گفتگو میں حکمِ جہاد کو قارئین و ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام میں حکمِ جہاد کس درجہ اہمیت کا حامل ہے اور مسلمانوں کو اس حکمِ خدا پر کتنے ہی شوق و ذوق کے ساتھ عمل کی حاجت ہے کہ مسلمانوں کو ایک بہت عظیم شان و شوکت جہاد ہی کی بنیاد پر میسر ہوئی۔ لہٰذا مسلمانوں کو جہاد پر خوب بہتر انداز سے عمل پیرا ہونے کی شدید حاجت ہے تاکہ موجودہ زمانہ میں بھی انہیں اپنی ماضی کی عزت عالمی سطح پر واپس نصیب ہو سکے۔
دعا ہے رب تبارک و تعالیٰ تمام مسلمانوں کو جہاد لوجہ اللہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمين بِجَاهِ حَبِيبِهِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ۔ [ماہنامہ: جہاد کا صحیح اور شرعی مفہوم، ص: 5]
