| عنوان: | تصوف! فکرِ رضا کے آئینے میں |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی |
| پیش کش: | ناہد فاطمہ قادریہ محتشمیہ |
آج کل بے شرع، جاہل اور نام نہاد صوفیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایسے افراد اونچی ٹوپی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کئی کئی انگوٹھیاں پہنے، زلفیں بڑھائے، شہر شہر، قریہ قریہ لوگوں کو نہ صرف مرید بناتے پھر رہے ہیں، بلکہ پے در پے خلافت پر خلافت تقسیم کر رہے ہیں۔ وہ سادہ لوح مسلمان جنہیں علومِ اسلامی سے ذرہ بھر بھی دلچسپی نہیں، ان نام نہاد صوفیوں کی ظاہری شکل و صورت اور پر تصنع وجاہت سے مرعوب ہو کر ان کے دامِ تزویر میں پھنس کر بربادی کے دہانے لگتے جا رہے ہیں، اگر خلافت بانٹنے والے اور خلافت یافتہ افراد پر طائرانہ نگاہ ڈالیں تو سمجھ میں آئے گا کہ یہ وہ افراد ہیں جنہیں نہ تو شریعت کی ”ش“ میں جو تین نقطے ہیں اس سے آشنائی ہے اور نہ ہی وہ طریقت کی ”طا“ سے واقف ہیں، ان جاہل افراد کا تصوف سے ذرہ بھر بھی واسطہ نہیں ہے، ان کی جاہلانہ اور غیر شرعی حرکات و سکنات کو دیکھ کر وہ حضرات جنہیں بیعت و ارشاد، خلافت و اجازت، ریاضت و مجاہدہ اور تصوف و معرفت کے رموز و اسرار کے بارے میں چنداں واقفیت نہیں ہوتی وہ براہِ راست تصوف ہی سے متنفر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور تصوف کو دوسرے مذاہب سے آئی ہوئی چیز سمجھ کر اسے مسترد کر رہے ہیں، لہذا ایسے وقت میں تصوف کیا ہے؟ اس تعلق سے خامہ فرسائی ضروری ہو جاتی ہے۔
عصرِ حاضر کے ان نام نہاد صوفیوں کی جاہلانہ اور غیر شرعی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے حضور سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری (وفات 465ھ) کی تحریرِ پر تنویر کو پیش کرنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ حضرت داتا علیہ الرحمہ نے ان نام نہاد صوفیوں کی کتنی صحیح اور سچی تصویر کشی کی ہے کہ ان لوگوں نے:
”خواہشات کا نام شریعت، حبِ جاہ کا نام عزت، تکبر کا نام علم، ریا کاری کا نام تقویٰ، دل میں کینہ چھپانے کا نام حلم، مجادلہ کا نام مناظرہ، محاربہ و بے وقوفی کا نام عظمت، نفاق کا نام وفاق، آرزو کا نام زہد، ہذیانِ طبع کا نام معرفت، نفسانیت کا نام محبت، الحاد کا نام فقر، انکارِ وجود کا نام صفوۃ، بے دینی و زندقہ کا نام فنا اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو چھوڑنے کا نام طریقت رکھ لیا ہے۔“ [کشف المحجوب، ص: 33، اردو ترجمہ]
یہ بات ذہن نشین رہے کہ نہ صرف ہمارے عہد میں ایسے جاہل صوفی پیدا ہو گئے ہیں بلکہ اکثر و بیشتر ادوار میں ایسے بے علم صوفیوں کا سیلِ رواں اسلام کو نقصان پہنچاتا رہا ہے، مگر ان کے فاسد نظریات اور غلط خیالات کی دھجیاں بکھیرنے والے مقدس علمائے حق بھی جلوہ فرما رہے ہیں، جنہوں نے کتب و رسائل تصنیف فرما کر اور تزکیہ و طہارت کی روحانی محفلیں سجا کر ایسے جہلاء کے باطل نظریات سے ہمیں روشناس کرایا ہے۔
امام احمد رضا بریلوی (وفات 1340ھ) کے دور میں بھی ایسے صوفیوں کا جھگڑا چل رہا تھا، چنانچہ آپ کی بارگاہِ عبقری میں ایک صاحب نے سوال ارسال کیا جس کے جواب میں امام اہلِ سنت قدس سرہ نے ایک مبارک رسالہ بنام مقالِ عرفا باعزازِ شرع و علما سنہ ہجری 1327 میں تصنیف فرمایا، زیرِ نظر مضمون میں تصوف کا اجمالی تعارف امام اہلِ سنت قدس سرہ کے اسی رسالے کو مآخذ بنا کر پیشِ خدمت ہے۔
قارئینِ کرام سے التماس ہے کہ اس مضمون کو بغور پڑھیں اور جاہل صوفیوں سے خود کو دور رکھتے ہوئے دوسروں کو بھی ان سے بچنے کی تلقین کریں، نیز خدائے وحدہ لا شریک سے دعا ہے کہ وہ تمام اہلِ ایمان کو ان جاہل صوفیوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھتے ہوئے تصوف و معرفت کے اصل حقائق و معارف کا کما حقہ عرفان بخشے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
عارف باللہ سیدی عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں: ”تصوف کیا ہے؟ بس احکامِ شریعت پر بندہ کے عمل کا خلاصہ ہے۔“ [طبقات الشافعیۃ الکبریٰ، ص: 4، بحوالہ مقال عرفا، ص: 30، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی]
سیدی عبد اللہ محمد بن خفیف ضبی فرماتے ہیں کہ: ”تصوف اس کا نام ہے کہ دل صاف کیا جائے اور شریعت میں نبیِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیروی ہو۔“ [طبقات الکبریٰ للامام الشعرانی، ص: 18، بحوالہ مقال عرفا، ص: 12، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی]
تصوف طریقت ہی کا دوسرا نام ہے اور طریقت اس راہِ خدا کا نام جو خداوندِ قدوس تک پہنچانے والی ہو، اب خدا تک پہنچانے والی راہ کون سی ہے؟ اسے ہم سردارِ اولیا حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ بالرضا السرمدی کی مقدس ترین زبان سے سنتے ہیں: ”اللہ عزوجل کی طرف سب سے قریب تر راستہ قانونِ بندگی کو لازم پکڑنا اور شریعت کی گرہ تھامے رہنا ہے۔“ [بہجۃ الاسرار، ص: 50، حوالہ: مقال عرفا، ص: 41، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی]
ہر صوفیِ کامل، ولایت کے درجہ پر فائز ہوتا ہے اور ہر ولی، صوفیِ کامل ضرور ہوتا ہے، ولی کون ہے؟ اس کی تعریف میں بھی بہت سے اقوال ہیں، لیکن سرچشمہِ ہدایت قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے، آیت کا مفہوم: ”(اولیاء اللہ) وہ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کے کمال سے سرفراز ہوں۔“
دوسری بات یہ ہے کہ ولایت کے لیے کرامت لازم ہے، کرامت دو طرح کی ہے ایک وہ جس میں کسی دھوکہ کا دخل نہیں ہو سکتا، دوسری وہ جس میں استدراج اور شعبدہ کا شبہ ہو سکتا ہے، تو اصل کرامت وہی ہے جو شبہ سے پاک ہو، اسی لیے حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ بالرضا السرمدی فرماتے ہیں کہ: ”ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کا ہر فعل نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے قانون پر ٹھیک اترے۔“ [بہجۃ الاسرار، ص: 39، بحوالہ مقال عرفا، ص: 15، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی]
علمائے باطن کے ان ارشاداتِ عالیہ کی روشنی میں تصوف، صاحبِ تصوف، کرامت اور ولی کا اجمالی نقشہ ذہن میں آ جاتا ہے کہ اصل تصوف تصفیہِ قلب اور اتباعِ شریعت ہے، حقیقی اور اعلیٰ کرامت شریعت پر استقامت ہے۔ سچا صوفی اور ولی وہی ہوگا جو سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و پیروی میں سچا ہوگا۔ تصوف کے اس اجمالی تعارف کو ذہن میں رکھ کر آج کل کے نام نہاد صوفی بننے والے افراد کا جائزہ لیا جائے تو یہ افراد شریعت اور اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں۔
جب ان کے سامنے شریعتِ مطہرہ کا ذکرِ جمیل نکلتا ہے تو یہ طریقت کو شریعت سے جدا بتاتے ہیں، جبکہ علمائے ربانیین کے ارشادات و اقوال سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جو جتنا زیادہ شریعت اور سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع کرے گا وہ اتنا ہی اللہ عزوجل سے قریب ترین ہوگا اور اس کا دل صاف و شفاف ہوگا۔
مختصر یہ کہ صفائیِ قلب اور مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیروی کا نام ہی ”تصوف“ ہے، شریعت منبع ہے اور طریقت اس سے نکلا ہوا دریا، کہ دریا کو ہمیشہ منبع کی احتیاج و ضرورت ہوتی ہے، لہذا صوفی اسے ہی کہا جائے گا جو سنتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر کامل و اکمل طور پر عمل کرتا ہو اور اس کا دل بھی تمام تر آلائشوں سے پاک و صاف ہو۔ [ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، جون 2023ء، ص: 25]
