| عنوان: | کیا مرد و عورت کی نماز میں فرق ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | بنت افضل عطاریہ مدنیہ |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
کیا مرد و عورت کی نماز میں فرق ہے؟
اسلامی نظامِ زندگی فرائض و واجبات کے تعین میں فطرت کی راہ اپناتا ہے۔ اسی طرح اسلام مرد و عورت کے حقوق و فرائض کے تعین میں بھی دونوں کی فطری صلاحیتوں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ ان دونوں کو مختلف فرائضِ منصبی دیے، ان کو مختلف صلاحیتوں کا مالک بنایا۔ جس میں ان کی جسمانی ساخت و فطری طبیعت کا لحاظ بھی رکھا گیا۔ اسی طرح عبادات کے معاملے میں بھی مرد و عورت کو ان کے جسمانی و عضلاتی نظامِ زندگی کے مطابق جدا جدا راہیں متعین فرمائیں ۔
جیسے عورتوں پہ جہاد ہر حال میں فرض نہیں کیا گیا، مسجد کی حاضری سے عورتوں کو مستثنیٰ رکھا گیا، حج و عمرہ کے احرام میں دونوں کے فطری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدا جدا قرار دیا، اسی طرح عورتوں کو طواف میں رمل سے منع کیا گیا، جبکہ مردوں کے لیے سنت ہے۔ یوں ہی سعی میں میلین اخضرین میں دوڑنا مردوں کے لیے سنت ہے عورتوں کو اس سے منع کیا گیا، جبکہ یہ ایک عورت ہی کی ادا کی یاد ہے، اس کے باوجود اسلام نے عورت کی ستر پوشی کے فطرتی تقاضوں کا لحاظ کرتے ہوئے عورت کو ہی یہاں دوڑنے سے منع فرما دیا۔
پھر مرد و عورت کی نماز میں فرق کیوں نہیں ہوگا؟ جبکہ یہ فرق واضح متعدد احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ لہٰذا اب تمام معاملات میں مرد و زن کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا فطرت کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔
چنانچہ احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمایئے:
عن وائل بن حجر قال: فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«يَا وَائِلُ بْنَ حُجْرٍ، إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا»
چنانچہ صحابیِ رسول حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھ سے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: اے وائل بن حجر! جب تم نماز پڑھو تو ہاتھ کانوں تک بلند کرو اور عورت اپنے ہاتھوں کو سینے تک اٹھائے۔ [المعجم الکبير للطبراني، ج: ۲۲، ص: ۱۹]
عن يزيد بن أبي حبيب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على امرأتين تصليان فقال:
«إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ»
اور امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ”کتاب المراسیل“ میں یزید بن حبیب سے نقل کیا ہے، فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر دو عورتوں پر ہوا جو نماز پڑھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو اپنے گوشت (جسم) کا کچھ حصہ زمین سے ملایا کرو، کیونکہ عورت سجدہ کرنے میں مرد کی طرح نہیں۔ [المراسیل لأبي داود، ج: ۱، ص: ۱۱۷]
عبد الله بن الأشج عن ابن عباس:
أنه سئل عن صلاة المرأة، فقال: تجتمع وتتحفز
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عورت کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: عورت اپنے جسم کو سمیٹے اور زمین کے ساتھ چمٹ کر رہے۔ [المصنف ابن أبي شيبة، ج: ۳، ص: ۹۳]
عن مجاهد أنه كان يكره أن يضع الرجل بطنه على فخذيه إذا سجد كما تضع المرأة
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ مرد کے لیے یہ مکروہ جانتے تھے کہ وہ سجدے کی حالت میں عورت کی طرح اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملا کر رکھے۔ [المصنف ابن أبي شيبة، ج: ۱، ص: ۲۳۵]
عن الحسن قال:
«الْمَرْأَةُ تَضْطَمُّ فِي السُّجُودِ»
امام حسن علیہ الرحمہ نے فرمایا: عورت سجدوں میں سمٹ جائے۔ [المصنف ابن أبي شيبة، ج: ۱، ص: ۲۳۵]
اسی طرح ایک روایت میں ہے:
يأمر النساء ينخفضن في سجودهن
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو حکم فرماتے کہ وہ سمٹ کر سجدہ کریں۔ [السنن الکبری للبیہقی، ج: ۲، ص: ۳۱۵]
آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے عورت کو سجدے میں سمٹنے پر مغفرت کی بشارت عطا فرمائی ہے چنانچہ مروی ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«إذا جلست في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى، وإذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها، وإن الله ينظر إليها ويقول: يا ملائكتي أشهدكم أني قد غفرت لها»
رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا دے جو اس کے لیے زیادہ ستر ہے، اور اللہ پاک اس کی طرف نظرِ رحمت کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اس کو بخش دیا ہے۔
اسی طرح صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
المرأة تنخفض في سجودها وتلزق بطنها بفخذيها
یعنی عورت سجدہ سمٹ کر کرے اور اپنے پیٹ کو رانوں سے ملا دے۔ [بدایة المبتدی، ج: ۱، ص: ۱۵]
لہٰذا معلوم ہوا کہ عورت کے لیے مستحب یہی ہے کہ خوب سمٹ کے سجدہ کرے، اب سمٹنے کے لیے پاؤں خواہ پیچھے نکالے یا دائیں طرف دونوں انداز جائز ہیں ۔
اسی طرح ”نور الایضاح“ میں ہے:
رفع اليدين للتحريمة حذاء الأذنين للرجل والأمة. وحذاء المنكبين للحرة. ووضع الرجل يده اليمنى على اليسرى تحت سرته. ووضع المرأة يديها على صدرها من غير تحليق.
یعنی تحریمہ کے لیے کانوں کے برابر ہاتھ اٹھانا مرد اور لونڈی کے لیے (سنت) ہے۔ اور کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا آزاد عورت کے لیے (سنت) ہے۔ اور مرد (قیام میں) دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے۔ اور عورت اپنے ہاتھ کا حلقہ بنائے بغیر سینے پر باندھ لے۔ [نور الایضاح، ص: ۵۶]
عورت کے قعدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے امام ابنِ ہمام لکھتے ہیں:
فَإِنْ كَانَتْ امْرَأَةً جَلَسَتْ عَلَى أَلْيَتِهَا الْيُسْرَى وَأَخْرَجَتْ رِجْلَيْهَا مِنْ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ لِأَنَّهُ أَسْتَرُ لَهَا.
یعنی اگر نمازی عورت ہے تو قعدہ میں الٹی سرین پر بیٹھے اور دونوں پاؤں سیدھی طرف نکال دے کیونکہ اس طریقے میں اس کا زیادہ پردہ ہے۔ [فتح القدير، ج: ۱، ص: ۸۶۱]
اسی طرح ”بہارِ شریعت“ میں ہے: (رکوع میں) انگلیاں خوب کھلی رکھنا، یہ حکم مردوں کے لیے ہے اور عورتوں کے لیے سنت گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا اور انگلیاں کشادہ نہ کرنا ہے۔ [بہارِ شریعت، ج: ۱، حصہ: ۳، ص: ۵۲۹]
لہٰذا ان دلائل و براہین کی روشنی میں ثابت ہوا کہ مرد و عورت کی نماز میں کئی مقامات میں اختلاف ہے۔ اب جو شخص ان واضح دلائل کے ہوتے ہوئے بھی یہی رٹ لگائے رکھے کہ عورت مردوں کی طرح ہی نماز پڑھے ایسا شخص مزاجِ اسلام سمجھنے سے عاری ہے اور فطرت کی خلاف ورزی بھی کر رہا ہے۔ اللہ کریم عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
