| عنوان: | حجاب صرف لباس نہیں بلکہ کردار ہے |
|---|---|
| تحریر: | ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی |
| پیش کش: | ندائے قلم ایوبیہ اکیڈمی للبنات |
انسان کی اصل خوبصورتی اس کے اخلاق، حیا اور کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ لباس انسان کی ظاہری شخصیت کو سنوارتا ہے، مگر کردار اس کے باطن کی پہچان بنتا ہے۔ ”حجاب“ صرف سر پر رکھی ہوئی چادر کا نام نہیں، بلکہ یہ عورت کے وقار، حیا اور بلند کردار کی پہچان ہے۔ چادر جسم کو ڈھانپتی ہے، مگر اصل ”حجاب“ وہ ہے جو نگاہوں میں شرم، سوچ میں پاکیزگی اور کردار میں خوفِ خدا پیدا کرے۔ اسلام نے عورت کو قید نہیں دی، بلکہ اسے وہ عزت عطا کی جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔
صحابیاتِ کرام رضی اللہ عنہن کی زندگیاں اس حقیقت کا روشن نمونہ ہیں۔ جب پردے کا حکم نازل ہوا تو نہ بحث ہوئی، نہ بہانے بنے، نہ زمانے کا خوف آڑے آیا۔ فوراً اپنے سروں اور جسموں کو ڈھانپ لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان خوش نصیب عورتوں کی تعریف فرمائی جنھوں نے اللہ کا حکم سنتے ہی اپنی چادریں اوڑھ لیں۔ یہ ایمان تھا، یہ محبتِ الٰہی تھی، یہ وہ کردار تھا جس نے عورت کو عظمت دی۔
حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا وہ جذبۂ حیا آج بھی عورت کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ آپ نے اپنی وفات کے بعد بھی پردے کا اہتمام پسند فرمایا۔ یہ وہ پاکیزہ کردار تھے جنھوں نے عورت کو عظمت، عزت اور احترام عطا کیا۔
آج کا دور اس کے برعکس عجیب آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے۔ بے حیائی کو ترقی، نمائش کو اعتماد اور عریانی کو فیشن کا نام دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے انسان سے اس کی شرم و حیا تک چھین لی۔ افسوس! اب بعض لوگ حجاب میں بھی توجہ حاصل کرنے کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔ لباس باپردہ ہوتا ہے مگر انداز، گفتگو اور حرکات دلوں کو پردے کی طرف نہیں بلکہ دنیا کی طرف کھینچتی ہیں۔ یہی وہ فکری تباہی ہے جس نے نئی نسل کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا ہے۔
میں نے اپنے مشاہدے میں دیکھا ہے کہ وہ لڑکیاں جو حجاب کو رب کا حکم سمجھ کر اپناتی ہیں، ان کے چہروں پر ایک کشش سا سکون اور شخصیت میں وقار ہوتا ہے۔ وہ ہجوم میں بھی اپنی عزت بچا لیتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس صرف کپڑا نہیں بلکہ کردار کا ”حجاب“ ہوتا ہے۔ اور جو صرف فیشن کی حد تک پردہ کرتی ہیں، وقت کے ساتھ وہ خود اپنی پہچان کھونے لگتی ہیں۔
یاد رکھیے! ”حجاب“ عورت کی رکاوٹ نہیں، اس کا تحفظ ہے۔ یہ اس کے مقام کو بلند کرتا ہے۔ پھول جب کھلا ہوا ہو تو ہر ہاتھ اسے چھونے کی کوشش کرتا ہے، مگر جب وہ کسی باغبان کی حفاظت میں ہو تو اس کی تازگی برقرار رہتی ہے۔ بالکل اسی طرح حجاب عورت کو معاشرے کی گندی نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
آج ضرورت نئے فیشن کی نہیں، نئی سوچ کی ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف حجاب پہننا نہیں بلکہ ”حجاب“ جینا سکھانا ہوگا۔ کیونکہ جب حیا مر جاتی ہے تو پھر معاشرے زندہ نہیں رہتے، صرف سانس لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو حقیقی اسلامی حیا اور پردے کی دولت عطا فرمائے، صحابیاتِ کرام رضی اللہ عنہن کے پاکیزہ کردار پر چلنے کی توفیق دے، اور ہمیں ظاہری و باطنی ہر قسم کی بے حیائی سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
