Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جہاد کا صحیح اور شرعی مفہوم (قسط: اول)

جہاد کا صحیح اور شرعی مفہوم (قسط: اول)
عنوان: جہاد کا صحیح اور شرعی مفہوم (قسط: اول)
تحریر: محمد حبیب الرحمٰن امجدی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

جہاد اسلام میں ایک متبرک اور پاکیزہ عمل ہے، نیز جہاد عند اللہ محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیش بہا انعامات مجاہدین کے لئے تیار کررکھے ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں جہاد جاری تھا اس وقت تک اسلام کا غلبہ کفار پر پوری آب و تاب سے قائم تھا جوں ہی مسلمانوں نے اپنی بداعمالیوں اور تعیش پرستی کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیا ہے تو ذلت و پسپائی ان کا مقدر بن گئی۔ اس لئے مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ جہاد کی حقیقت و اہمیت معلوم کریں جو کہ آج کے زمانہ میں بہت ضروری ہے اس لئے آئیے جہاد کی حقیقت و واقفیت حاصل کی جائے۔

جہاد کی لغوی تعریف:

جہاد کی لغوی تعریف کے سلسلہ میں صاحبِ بدائع الصنائع علامہ علاء الدین ابوبکر حنفی کاسانی فرماتے ہیں:

أَمَّا الْجِهَادُ فِي اللُّغَةِ فَعِبَارَةٌ عَنْ بَذْلِ الْجُهْدِ (بِالضَّمِّ) وَهُوَ الْوُسْعُ وَالطَّاقَةُ أَوْ عَنِ الْمُبَالَغَةِ فِي الْعَمَلِ مِنَ الْجَهْدِ (بِالْفَتْحِ)

جہاد لغت میں جہد بالضم (یعنی کہ طاقت و قوت) یا جہد بالفتح (یعنی کہ کسی کام میں بے انتہا کوشش) کا نام ہے۔ [البدائع الصنائع، کتاب السیر، ج: 6، ص: 57]

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ:

بَذْلُ أَقْصَى مَا يَسْتَطِيعُهُ الْإِنْسَانُ مِنْ طَاقَتِهِ لِنَيْلِ مَحْبُوبٍ أَوْ لِدَفْعِ مَكْرُوهٍ

انسان کا اپنی کسی مرغوب چیز کو حاصل کرنے یا ناپسندیدہ چیز سے بچنے کے لئے انتہائی کوشش کرنا۔ [شرح ابوداؤد، ج: 5، کتاب الجہاد]

جہاد کی شرعی تعریف:

تمام فقہاء کرام کا اتفاق ہے کہ جہاد شریعت میں قتال فی سبیل اللہ اور اس کی معاونت کو کہتے ہیں۔ اس کی مکمل وضاحت مذاہبِ اربعہ کی مستند کتابوں سے بحوالہ ملاحظہ فرمائیں:

  1. فقہ حنفی میں جہاد کی تعریف: الْجِهَادُ بَذْلُ الْوُسْعِ وَالطَّاقَةِ بِالْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِالنَّفْسِ وَالْمَالِ وَاللِّسَانِ وَغَيْرِ ذَلِكَ. اللہ رب العزت کی راہ میں قتال کرنے میں اپنی جان و مال اور زبان اور دوسری چیزوں سے بھرپور کوشش کرنے کو جہاد کہتے ہیں۔ [البدائع الصنائع، کتاب السیر، ج: 6، ص: 57]
  2. اور صاحبِ فتح القدیر امام ابن ہمام فرماتے ہیں: دَعْوَتُهُمْ إِلَى الدِّينِ الْحَقِّ وَقِتَالُهُمْ إِنْ لَمْ يَقْبَلُوا. کافروں کو دینِ حق کی دعوت دینا اور ان سے قتال کرنا اگر وہ دینِ حق قبول نہ کریں۔ [فتح القدیر، کتاب السیر، ج: 5، ص: 417]
  3. فقہ شافعی میں جہاد کی تعریف: شَرْعًا بَذْلُ الْجُهْدِ فِي قِتَالِ الْكُفَّارِ. شرعاً جہاد یہ ہے کہ اپنی پوری کوشش کافروں سے قتال کرنے میں صرف کردینا۔ [فتح الباری، کتاب الجہاد]
  4. فقہ حنبلی میں جہاد کی تعریف: الْجِهَادُ قِتَالُ الْكُفَّارِ. جہاد کافروں سے لڑنے کو کہتے ہیں۔ [مطالب اولی النہی]
  5. فقہ مالکی میں جہاد کی تعریف: قِتَالُ مُسْلِمٍ كَافِرًا غَيْرَ ذِي عَهْدٍ لِإِعْلَاءِ كَلِمَةِ اللَّهِ. مسلمانوں کا غیر ذمی عہد کافروں سے اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے قتال کرنا۔ [حاشیۃ العدوی، الشرح الصغیر]

جہاد قرآن کی روشنی میں

قرآن کریم میں جہاد کا مسئلہ بہت ہی اہمیت اور تفصیل سے بیان ہوا ہے محققین کی یہ رائے ہے کہ اعمال میں جس قدر تفصیل قرآن حکیم نے جہاد کی بیان کی ہے اور کسی عمل کی بیان نہیں کی اور جہاد کے بہت سارے فضائل بھی متعدد مقامات پر وارد ہوئے ہیں۔ رب تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ

ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے مت بڑھو کیونکہ حد سے بڑھنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ [البقرہ: 190]

تشریح: ہجرت سے پہلے مسلمانوں کو لڑنے کی ممانعت تھی اور اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ وہ کفار و مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو کفار و مشرکین سے لڑائی کی اجازت میں جو سب سے پہلی آیت کریمہ نازل ہوئی وہ یہی آیت مبارکہ تھی۔

اب ذرا خالی الذہن ہو کر آپ آیت کریمہ کے مضمون پر غور فرمائیں تو حقیقت آپ پر اچھی طرح واضح ہو جائے گی کہ لڑائی میں پہل مسلمانوں کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ کافروں کی طرف سے ہوئی تھی۔ ان کے ظلم و فساد کی جڑ کاٹنے اور ان کے کفر کی سرکشی کا زور توڑنے کے لیے مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی اجازت دی گئی۔

جہاد کو بنیاد بنا کر جو لوگ اسلام پر طعنہ زنی کرتے ہیں کہ دنیا میں اسلام تلوار کی طاقت سے پھیلا ہے، انہیں اس آیت کے مضمون پر انصاف کے ساتھ غور کرنا چاہیے کہ ہجرت سے پہلے تو مسلمانوں کو لڑنے کی مطلق اجازت ہی نہیں تھی۔ مکہ میں مسلمانوں کا اس کے علاوہ اور کوئی کام ہی کیا تھا کہ وہ کافروں کے ہاتھوں سے مار کھاتے رہیں، زخم پر زخم سہتے رہیں، قتل ہوتے رہیں اور صبر کرتے رہیں۔ جب کافروں کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو مسلمانوں کو بھی تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی۔

اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اسلام اگر تلوار کی طاقت سے پھیلا تو بتایا جائے کہ وہ سینکڑوں مسلمان جو عین مظلومی کی حالت میں مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے گئے تھے، انہوں نے کس تلوار کے خوف سے اسلام قبول کیا تھا؟ اس وقت تلوار تو کفارِ مکہ کے ہاتھ میں تھی مسلمانوں کے ہاتھ میں تلوار ہی کہاں تھی کہ تلوار کے خوف سے کوئی اسلام قبول کرتا۔ اس لئے تاریخ کا یہ فیصلہ سب کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اپنی حقانیت، اپنی پاکیزہ تعلیمات، اپنے اصولوں کی برتری، اپنے پیغمبر کی روحانی اور اخلاقی قوت اور قرآن کی معجزانہ آیات کی کشش سے پھیلا۔ جہاد کا حکم تو اس لئے دیا گیا تھا کہ کلمۂ حق کے راستے میں کافروں نے جو رکاوٹیں کھڑی کی تھیں انہیں راستے سے ہٹا دیا جائے کہ دل و دماغ کی پوری آزادی کے ساتھ لوگوں کو دعوتِ توحید کی سچائی کو پرکھنے اور قبول کرنے کا موقع میسر آئے۔

پھر اس آیت کریمہ میں ایک بات اور سمجھنے کی ہے کہ اگر اسلام قتل و غارتگری کا مذہب ہوتا جیسا کہ مخالفینِ اسلام کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے تو مسلمانوں کو یہ ہدایت کبھی نہیں دی جاتی کہ دشمنوں کا مقابلہ کرتے وقت اپنی طرف سے کوئی زیادتی مت کرنا کیونکہ زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ اس آیت کی روشنی میں یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی مسلمان ضابطہ اخلاق کا پابند ہے۔ [فقہ، حدیث اور جہاد کی شرعی حیثیت از: علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ]

دوسری آیت:

وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيْنَ

اور ان سے لڑو یہاں تک کہ (کفر کی سرکشی کا) کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور ایک اللہ کی پرستش ہونے لگے۔ پھر اگر وہ اپنی سرکشی سے باز آ جائیں تو ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کی جائے۔ البتہ ظلم کریں تو اس کی سزا ضرور دی جائے۔ [البقرہ: 193]

تشریح: آیت کریمہ کا مضمون واضح طور پر اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ اسلام میں جہاد و قتال کا مقصد ملک گیری اور مالِ غنیمت نہیں ہے بلکہ ان دیواروں کو منہدم کرنا ہے جو دینِ حق کے قبول کرنے کے راستے میں کافروں نے کھڑی کی ہیں۔ نہ خود وہ خدا کا دین قبول کرتے ہیں نہ کسی دوسرے کو قبول کرنے دیتے ہیں۔ انسانوں کے ضمیر کی آزادی کا حق اس طرح انہوں نے چھین لیا ہے کہ جو لوگ چھپ چھپ کر بھی خدا کا دین قبول کر لیتے ہیں وہ انہیں بھی چین سے رہنے نہیں دیتے۔ صرف اسی جرم میں ان کی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ضمیر کا فیصلہ کیوں قبول کیا۔

اب اہل انصاف ہی بتائیں کہ اس ظلم و بربریت کا علاج اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ جہاد کے ذریعے ظلم کرنے والی طاقتوں پر ایسی کاری ضرب لگائی جائے کہ وہ اس قابل ہی نہ رہ جائیں کہ انسانی معاشرے کو اپنے ظلم و سرکشی کا نشانہ بنا سکیں اور ان کے ضمیر کی آزادی کا حق چھین کر انہیں اپنی مرضی کا غلام بنا لیں۔ [المرجع السابق]

تیسری آیت:

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

خدا کی راہ میں لڑنا تم پر فرض کیا گیا اور وہ تمہیں ناگوار ہے اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو کیونکہ حقیقت کا علم اللہ کو ہے تمہیں نہیں۔ [البقرہ: 216]

تشریح: اسلام میں بیشتر عبادتیں ایسی ہیں جن کا تعلق جسم اور مال کی قربانی سے ہے، لیکن جس عبادت میں جان کی قربانی دینی پڑتی ہے وہ صرف جہاد ہے۔ یہاں یہ چیز قابلِ غور ہے کہ ساری آرزوؤں اور تمناؤں کا محور تو آدمی کی زندگی ہی ہے۔ زندگی کے لئے ہر چیز قربان کی جا سکتی ہے، لیکن خود زندگی کی قربانی انسان کے لئے جتنی مشکل چیز ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔ لیکن قربان جائیے قرآن کے اس اندازِ بیان پر کہ اس مشکل کو کتنی آسانی سے حل کر دیا ہے۔ [المرجع السابق]

چوتھی آیت:

فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے۔ [النساء: 74]

فائدہ: یعنی کوئی بھی حال ہو وہ اللہ کے یہاں بہت بڑے ثواب کا مستحق ہے۔

پانچویں آیت:

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ

بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں سیسہ پلائی دیوار۔ [ترجمہ کنز الایمان، الصف: 4]

جہاد احادیث کی روشنی میں

جہاد کے فضائل و احکام پر قرآنِ حکیم میں کئی آیتیں ہیں جن میں سے پانچ آیتوں کا ذکر ہم نے کیا اب جہاد کے فضائل پر چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں۔

مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

امام بخاری اور امام مسلم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال بالکل اس شخص کی طرح ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے اور اپنی راتوں کو قرآن کی تلاوت اور نماز پڑھنے میں بسر کرتا ہے اور وہ روزے نماز سے کبھی نہیں تھکتا یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کر کے واپس لوٹ آئے۔ [بخاری جلد اول، مسلم جلد دوم]

سُبْحَانَ الله! ایک مجاہد کے لئے کتنے طرح کا اجر و ثواب ہے، نمازی اور شہید ہونے کا ثواب الگ اور روزہ دار اور شب زندہ دار ہونے کا ثواب الگ۔ [حدیثِ فقہ اور جہاد کی شرعی حیثیت از: علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ]

دوسری حدیث:

امام بخاری اور امام مسلم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ.

ترجمہ: تمہیں کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد اس دنیا میں پھر واپس آنے کی خواہش رکھتا ہو سوائے شہید کے کہ وہ جنت کی نعمتوں اور لذتوں سے ہمکنار ہونے کے بعد بھی اس خواہش کا اظہار کرے گا کہ اسے دنیا میں دسوں بار لوٹایا جائے تاکہ بار بار شہادت کی نعمت سے سرفراز ہونے کا اسے موقع ملے۔ اس کے دل میں یہ آرزو شہادت کے اس صلہ کی وجہ سے پیدا ہو گی جو جنت میں ہر طرف نظر آئے گا۔ [بخاری جلد اول، مسلم جلد دوم]

تیسری حدیث:

طبرانی شریف میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی گئی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو قوم جہاد کو چھوڑ بیٹھتی ہے اللہ تعالیٰ اس کی سزا میں کوئی ایسا عذاب ان پر مسلط کر دیتا ہے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ [المعجم الکبیر للطبرانی، ج: 12، ص: 331]

اسی مضمون سے ملتی جلتی ایک حدیث امام مسلم نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنَ النِّفَاقِ.

ترجمہ: جو شخص اس حالت میں مر گیا کہ نہ اس نے کبھی جہاد کیا اور نہ ہی دل میں جہاد کی آرزو پیدا ہوئی تو وہ نفاق کی خصلت پر مرا۔ [مسلم شریف، جلد دوم، ص: 141]

جہاد کی فضیلت میں ایک حدیث اور ملاحظہ فرمائیے اور اسے اپنے حال پر منطبق کیجئے۔ امام ترمذی نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ:

لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ: قَطْرَةٌ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللَّهِ، وَقَطْرَةُ دَمٍ تُهْرَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں ہے، ایک آنسو کا قطرہ جو اللہ کے خوف سے بہا ہو، دوسرا خون کا قطرہ جو اللہ کی راہ میں بہایا جائے۔ [ترمذی شریف، کتاب الجہاد، حدیث نمبر: 1771]

فائدہ: راہِ خدا میں مرنے میں یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔

اور جہاد کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے۔

عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ.

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے راستے میں سرحدِ اسلامی کی حفاظت کرنا دوسرے کاموں میں ہزار بار لگے رہنے سے افضل ہے۔ [رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح]

فائدہ: اس حدیث شریف میں جہادِ اسلامی کی فضیلت کا بیان ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض اعمال کو دوسرے اعمال پر فضیلت ہے۔

مندرجہ بالا آیاتِ کریمہ اور احادیثِ طیبہ سے جہاد کی اہمیت اور فضیلت مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے۔ اب حجتِ تامہ کے طور پر حضور امام المجاہدین، سید المرسلین کی مبارک تمنا، تمنائے شہادت جو کہ امام بخاری نے ”بخاری شریف“ میں بیان فرمائی ہے اور اس کے تحت یہ عنوان قائم کیا ”بَابُ الْجِهَادِ مِنَ الْإِيمَانِ“ (کہ جہاد بھی ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے) اس کو نقل کیا جاتا ہے تاکہ ہم بھی محبتِ رسول میں اپنی تمنا کو اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا کے تابع کر سکیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ.

اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری ضرور یہ تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں۔ [بخاری جلد اول، کتاب الجہاد]

اللہ اللہ، اللہ جل جلالہ! اللہ پاک کے پاک حبیب کی کتنی خوبصورت تمنا ہے کہ میں حق سبحانہ و تعالیٰ کی راہ میں بار بار شہید کیا جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی بھی یہی تمنا تھی۔ سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری زندگی اسی تمنا میں گزار دی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد بھی حضور کے سچے غلاموں کی یہی تمنا تھی اور آج بھی یہی تمنا ہے اور یہی ان کی زندگی کا مقصد۔ [اسلام کا تصورِ جہاد از: علامہ کاشف اقبال پاکستانی]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!