Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حیاتِ حضور صابر پاک کے چند تابندہ نقوش

حیاتِ حضور صابر پاک کے چند تابندہ نقوش
عنوان: حیاتِ حضور صابر پاک کے چند تابندہ نقوش
تحریر: محمد تحسین رضا نوری
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

قطب المشائخ، منبعِ معرفت، عارفِ کامل، سلطانِ اولیا، بانی سلسلہ چشتیہ صابریہ، حضور مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمة الله عليه کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے عظیم رتبہ سے سرفراز فرمایا، آپ کے فیض و کرم کا دریا آج بھی جاری و ساری ہے، اپنے تو اپنے غیر بھی آپ کی بارگاہ سے فیض پاتے ہیں، اور کیوں نہ فیض پائیں؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کو اختیارات عطا فرمائے ہیں وہ جس کو چاہیں جو چاہیں عطا کرتے ہیں، کیونکہ اولیاء اللہ کا اختیار قرآنِ کریم سے ثابت ہے، جس پر کثیر قرآنی آیات شاہد اور احادیث دال ہیں جیسا کہ حضرت سلیمان عليه الصلاة والسلام نے فرمایا: اے دربار والو! تم میں سے کون ہے جو ان لوگوں (بلقیس) کے میرے پاس فرماں بردار ہو کر آنے سے پہلے بلقیس کا تخت میرے پاس لے آئے۔

حضرت سلیمان عليه السلام کی بات سن کر ایک بڑا طاقتور جن بولا ”میں وہ تخت آپ کی خدمت میں مجلس ختم ہونے سے پہلے حاضر کر دوں گا، میں بے شک اس پر قوت والا امانت دار ہوں“، حضرت سلیمان عليه السلام نے فرمایا: ”میں اس سے جلدی چاہتا ہوں“، اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ ”میں اسے آپ کے حضور حاضر کر دوں گا پلک جھپکنے سے پہلے“ پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہا ”یہ میرے رب کے فضل سے ہے“۔ [النمل: 38-40]

ان آیات سے اولیائے کرام سے کرامات کا ظاہر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے، حضرت علامہ یافعی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ”اولیائے کرام سے کرامات کا ظاہر ہونا عقلی طور پر ممکن اور نقلی دلائل سے ثابت ہے، عقلی طور پر ممکن اس لیے ہے کہ ولی سے کرامت ظاہر کر دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے محال نہیں بلکہ یہ چیز ممکنات میں سے ہے، جیسے انبیاءِ کرام عليهم السلام سے معجزات ظاہر کر دینا، یہ اہل سنّت کے کامل اولیائے کرام، اصولِ فقہ کے بڑے بڑے علماء، فقہاء اور محدثین کا مذہب ہے، مشرق و مغرب اور عرب و عجم میں ان کی کتابوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے، قرآنِ پاک میں موجود حضرت مریم کے پاس بے موسم کے پھل آنے والا واقعہ، حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کے کھجور کے سوکھے ہوئے تنے کو ہلانے پر پکی ہوئی عمدہ اور تازہ کھجوریں گرنے والا واقعہ، اصحابِ کہف رضی اللہ عنہم کا غار میں سینکڑوں سال تک سوئے رہنے والا واقعہ، اور حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالی عنہ کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت لانے والا واقعہ ولی سے کرامات ظاہر ہونے کی دلیل ہے۔“ [صراط الجنان]

ولادتِ باسعادت

حضور صابر پاک رحمة الله عليه 19/ربیع الاول 592ھ مطابق 19/فروری 1196ء کو بروز جمعرات بوقتِ تہجد افغانستان میں پیدا ہوئے، صحیح قول کے مطابق آپ حسنی سید اور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد سے ہیں، بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کی ولادت کے قبل خواب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ”علی“ نام رکھنے کا حکم فرمایا، پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خواب میں ”احمد“ نام رکھنے کا حکم فرمایا، اسی مناسبت سے آپ کا نام نامی اسم گرامی ”علی احمد“ رکھا گیا۔

آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والد ماجد سے ملاقات کے لیے تشریف لائے تو فرمایا کہ ”یہ بچہ علاء الدین کہلائے گا“، آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمة الله عليه کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں، حضور صابر پاک نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہ گھر تلاوتِ قرآن اور ذکر الہیٰ سے معطر رہتا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ”لَا مَوْجُودَ إِلَّا الله“ تھا، آپ کو بچپن ہی سے عبادت و ریاضت کا بہت شوق تھا، خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں آپ دن بھر میں چھ مرتبہ سجدہ فرمایا کرتے اور آپ کی زبان پر ”لَا مَوْجُودَ إِلَّا الله“ کا ورد جاری رہتا۔ [ملخص: فیضانِ حضرت صابر پاک]

تعلیم و تربیت

بچپن ہی سے آپ کا تعلیمی سلسلہ شروع ہو گیا تھا، آپ نے ابتدائی تعلیم ہرات (افغانستان) ہی میں حاصل کی، بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کے والد ماجد کے انتقال فرما جانے کے بعد آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو آپ کے ماموں جان، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه کی بارگاہ میں لے آئیں، وہاں آپ نے خداداد صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کی قلیل مدت میں کئی علومِ ظاہری حاصل کر لیے، جیسا کہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه آپ کے متعلق فرماتے ہیں کہ: علاء الدین علی احمد صابر رحمة الله عليه نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، فقہ، حدیث، تفسیر، منطق و معانی وغیرہ بالعلوم کی تکمیل کی، یہ سب علوم اتنی جلدی حاصل کر لیے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کر سکتا تھا، حضور صابر پاک رحمة الله عليه اپنے ماموں جان حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه کی بارگاہ میں رہے اور آپ کے فیض سے فیضیاب ہوئے اور بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه کے علومِ قلب کے وارث قرار پائے، جیسا بابا صاحب خود فرمایا کرتے: میرے سینے کا علم نظام الدین کے پاس ہے اور دل کا علم علاء الدین کے پاس ہے۔

صبر و استقامت

آپ کی والدہ ماجدہ جب آپ کو حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه کی بارگاہ میں چھوڑنے کے لیے تشریف لائیں اور جب واپس جانے لگیں، تو اپنے بھائی بابا صاحب سے فرمایا، میرا بیٹا کمزور اور ناتواں ہے، کھانے پینے میں رغبت نہیں رکھتا، آپ اس کا ہر طرح سے خیال رکھیے گا، چنانچہ آپ نے حضرت صابر پاک کو آپ کی والدہ ماجدہ کے سامنے ہی لنگر تقسیم کرنے کا کام سپرد کر دیا، حضرت علی احمد صابر کلیری رحمة الله عليه روزانہ اشراق کی نماز ادا کرنے کے بعد حجرے سے باہر تشریف لاتے، اور لنگر تقسیم کرنے کے بعد واپس حجرے میں چلے جاتے، پھر شام کو مغرب کی نماز کے بعد حجرے سے باہر تشریف لاتے، لنگر تقسیم کرنے کے بعد واپس حجرے میں چلے جاتے، اس دوران حضور صابر پاک نے لنگر میں سے کبھی کچھ نہیں کھایا، لنگر تقسیم کرتے آپ کو بارہ سال گزر گئے اس دوران آپ نے کچھ تناول نہ فرمایا، صرف جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔

جس کی وجہ سے آپ نہایت کمزور اور لاغر ہو گئے تھے، آپ کی حالت دیکھ کر ایک مرتبہ بابا صاحب نے آپ سے پوچھا کہ: آپ کھانا تقسیم کر کے خود بھی کچھ کھاتے ہیں یا نہیں؟ تو حضور صابر پاک رحمة الله عليه نے عرض کی: حضور! آپ نے کھانا تقسیم کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا لیکن کھانے کی اجازت نہیں دی، اور مجھ میں اتنی جرات کہاں کہ آپ کی اجازت کے بغیر ایک دانہ بھی کھا سکوں، یہ جواب سن کر حضور بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه آپ کے کمالِ صبر پر بہت خوش ہوئے اور سینے سے لگا کر صابر کا لقب عنایت فرمایا۔ [فیضانِ حضور صابر پاک، سیرت حضرت علی احمد صابر کلیری]

اجازت و خلافت

آپ کی اجازت و خلافت کا واقعہ بہت مشہور ہے، جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے: حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمة الله عليه ماہِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کے لیے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی، آپ نے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی نشستوں پر موجود ہیں، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمة الله عليه نے حکم دیا: ”مخدوم علی احمد صابر کو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیجئے“، آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابر کلیری رحمة الله عليه کو بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کر دیا، آپ نے حضرت علی احمد صابر رحمة الله عليه کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا ”هَذَا وَلِيُّ الله“ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ”هَذَا وَلِيُّ الله“ پھر ہر طرف سے مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا، اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت کی آنکھ کھل گئی۔

دوسرے دن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه نے ایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابو القاسم گرگانی (رحمة الله عليهم أجمعين) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیا شریک ہوئے، ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین رحمة الله عليه نے اپنا خواب بیان فرمایا، جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مہرِ ولایت کو بوسہ دیا اور ”هَذَا وَلِيُّ الله“ کہہ کر مبارکباد دی، اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه نے شیخ علی احمد صابر رحمة الله عليه کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطا فرما کر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی اور پھر علاقہ کلیئر کی ولایت آپ کو عطا فرمائی۔ [فیضانِ حضور صابر پاک]

کلیئر تشریف آوری

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه نے حضرت خواجہ علاء الدین صابر کلیری رحمة الله عليه کو خلافت سے سرفراز فرما کر کلیئر کی جانب روانہ کر دیا، چلتے وقت بابا صاحب نے آپ کو نصیحت فرمائی اور ارشاد فرمایا: زندگی راحت سے گزرے گی، پس آخری عمر تک آپ کی زندگی راحت و چین سے گزری اور آپ بڑے خوشباش اور کشادہ پیشانی تھے۔

عبادت و ریاضت

حضرت علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمة الله تعالى عليه نے چھ سال کی عمر سے باقاعدہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنی شروع کر دی تھی اور کہا جاتا ہے کہ ساتواں سال شروع ہونے پر آپ نے پابندی کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھنی شروع کر دی، دن میں ہر وقت عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے، بلکہ نمازِ تہجد کے بعد اکثر آپ کے حجرے سے ذکرِ اللہ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور آپ کا لباس کرتا، تہبند اور عمامہ شریف پر مشتمل ہوا کرتا۔

حضرت علاء الدین علی احمد صابر چشتی رحمة الله عليه کی عمر جب ایک سال ہوئی تو ایک دن دودھ نوش فرماتے جبکہ دوسرے دن دودھ نہ پیتے، جب آپ دو سال کے ہوئے تو ایک دن دودھ پینے کے بعد دو دن تک دودھ نوش نہ فرماتے۔ آپ کا چھوٹی عمر سے ہی روزہ رکھنے کا معمول تھا اور مسلسل روزہ رکھنے کی یہ عادت آپ کی آخری عمر تک جاری رہی。

وصالِ پرملال

آپ کا وصال 13 ربیع الاول 690ھ مطابق 1291ء کو ہوا، آپ کا مزارِ پرانوار کلیئر شریف ضلع سہارنپور (ہند) میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو حضور صابر پاک رحمة الله عليه کے فیضان سے مالامال فرمائے اور آپ کے معاملات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمين يَا رَبَّ العَالَمِين بِجَاهِ سَيِّدِ المُرْسَلِين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ [ماہ نامہ: سنی دنیا بریلی شریف، ستمبر اکتوبر 2024، ص: 22-24]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!