| عنوان: | بطن اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم |
|---|---|
| تحریر: | عبد الصمد قادری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اللہ تبارک و تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تخلیق بے مثل و مثال اکمل و اعلی نور سے فرمائی، ہر ہر عضو اس مناسبت کے ساتھ رکھا کہ دیکھنے والے کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں، آنکھیں ایسی حسین کہ دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جائیں، رخسار ایسے کہ چاند سے تشبیہ نامناسب، زلف واللیل جیسے۔ الغرض اعلی حضرت، عظیم البرکت مجدد دین و ملت، علامہ امام احمد رضا خان عليه رحمة الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:
وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں
یوں تو اعضائے تخلیق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پورا کا پورا ہی قابل ذکر ہیں مگر ہم اعضائے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ایک عضو بطن اقدس کے حوالے سے سن کر اپنے دل کو منور و مجلی کریں گے، جو کہ حسن کا عظیم حصہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر کسی کا پورا کا پورا جسم کامل و اکمل ہو مگر اگر شکم سینے سے کچھ ابھرا ہوا ہو، یہ حسن میں نقص پیدا کر دیتا ہے لیکن قربان جائیں جان عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حسن شکم پر کہ خالق نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے شکم اقدس کو یوں سنوارا گویا لگتا ہے کہ آپ چاندی سے بنائے گئے ہیں جس کا اعتراف تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا ہے۔
بطن اقدس احادیث کی روشنی میں
چنانچہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا جسم اقدس گویا چاندی سے ڈھالا ہوا تھا آپ کا منھ مبارک خمدار، اور مناسبت کے ساتھ بڑا پیٹ مبارک (شکم) کندھوں کے جوڑ اور ہڈیاں مضبوط تھیں، چلتے ہوئے پورا جماؤ کے ساتھ زمین پر قدم رکھتے۔ [کتب سیرہ]
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں سید عالم نور مجسم شاہ بنی آدم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سینہ اقدس اور شکم مبارک ہموار تھے۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے شکم اقدس کی زیارت کی آپ کا شکم مبارک تہ بہ تہ معلوم ہوتا اور نرم ایسے، جیسے کاغذ کا ٹکڑا ہو۔ [جمال مصطفیٰ]
ایک اور روایت میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے شکم اقدس کے حوالے سے ”سَوَاءُ الْبَطْنِ وَالصَّدْرِ“ آیا ہے، یعنی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیٹ مبارک اور سینے مبارک ہموار تھے نہ سینہ پیٹ سے اور نہ پیٹ سینے سے ابھرا ہوا تھا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک روایت میں شکم اقدس کے حوالے سے ”مُفَاضُ الْبَطْنِ“ آیا ہے، جس کی تشریح ”وَاسِعُ الْبَطْنِ“ سے کی گئی ہے جو کہ ”عَرِيضُ الصَّدْرِ“ (سینے کے چوڑے ہونے پر دلالت کرتی ہے)، بعض لوگوں نے ”مُسْتَوِي الْبَطْنِ وَالصَّدْرِ“ سے بھی تشریح فرمائی ہے۔
اسی طرح حضرت ام معبد رضی اللہ تعالی عنہا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اوصاف کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں جس کا مفہوم ہے کہ میں نے ایک نہایت ہی حسین و جمیل شخص کو دیکھا جس کا حسن نمایاں تھا۔ اس کا چہرہ ملیح، بہتر تخلیق، اور چہرہ سفید، ایسا سفید جو حسن میں نقص پیدا نہ کر رہا تھا آپ کی گردن مبارک اور سر مبارک کا پتلا ہونا آپ میں نقص پیدا نہ کر رہا تھا، بڑا حسین، بہت خوبرو، آنکھیں سیاہ اور بڑی اور سرمگیں تھیں اور فرماتی ہیں کہ آپ کا بطن مبارک آپ کے حسن میں کچھ بھی نقص پیدا نہیں کر رہا تھا آپ کی داڑھی مبارک گھنی تھی۔ [الحدیث]
اسی طرح حافظ ابوبکر احمد بن ابی خثیمہ نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے پیٹ مبارک پر تین سلوٹیں تھیں ایک ازار کے نیچے ہوا کرتی تھی جبکہ دو ظاہر ہوا کرتی تھیں۔ بعض علما نے ارشاد فرمایا کہ دو سلوٹیں ازار بند کے نیچے اور ایک ظاہر ہوتی تھی، یہ سلوٹیں لپٹے ہوئے سفید کپڑے کی طرح تھیں، یہ بہت ہی نرم تھیں۔ [سبل الہدی والرشاد، ج: 2، ص: 594]
ان تمام احادیث و روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا پورا کا پورا جسم بے مثل و مثال اور آپ کا حسن انتہا کو پہنچا تھا اسی طرح آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو بطن اقدس بھی بے مثل و مثال تھا۔
الغرض حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي
وَأَكْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّءًا مِنْ كُلِّ عَيْبٍ
كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ
مفہوم: اے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میری آنکھوں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کسی کو دیکھا ہی نہیں اور دیکھتے بھی کیسے کہ کسی عورت نے آپ سے زیادہ خوبصورت جنا ہی نہیں، آپ ہر عیبوں و نقائص سے پاک پیدا کیے گئے گویا کہ آپ جس طرح چاہ رہے تھے آپ کا رب آپ کو اسی طرح پیدا فرمایا۔
