| عنوان: | یہودی ہمیشہ سے اسلام اور مسلمانوں کے دشمن |
|---|---|
| تحریر: | محمد تحسین رضا نوری |
| پیش کش: | فرحین فاطمہ نعمانی |
مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور فلسطینی عوام پر اسرائیلی بربریت کی سفاکانہ کارروائیوں اور حملوں سے دل چھلنی ہو کر رہ گیا، ہزاروں مسلمانوں کا قتل، بچوں اور عورتوں پر ظلم و ستم، مساجد و مدارس کا انہدام، قرآنِ کریم کی بے ادبی و گستاخی، بیت المقدس کے تقدس کی پامالی اور ان جیسی بے شمار ذلیل حرکتوں نے روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، ہمیشہ سے ہی یہود و نصاریٰ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے آئے ہیں، آخر یہ خونریزی، قتل و غارت گری، ظلم و بربریت کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ لوگ اپنے مذہب کے لیے یہ سب کرنے میں پانسہ کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ ایک مؤرخ نے اس کی وجہ بھی بیان کی ہے، ابولبابہ شاہ منصور لکھتے ہیں کہ:
”یہودیوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا انہیں ان کے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے دے، نہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ فلسطین میں انہیں ان کی آبادی کے مطابق ایک خطہ مل جائے، نہیں ہرگز نہیں! ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دنیا کے ہر غیر یہودی شخص کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں، وہ صرف فلسطین میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ’عالمی یہودی ریاست‘ قائم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ گلوبل ولیج کا صدر ان کا گرینڈ آرکیٹیکٹ دجالِ اکبر ہو۔“ [عالمی یہودی تنظیمیں، ص: 10]
یہود و نصاریٰ کی یہ جماعتیں پوری دنیا کے الگ الگ خطوں میں پھیل کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آج بھی سازشیں رچتی ہیں، جس طریقے سے آج پوری دنیا ان کے بچھائے گئے جال میں پھنسی ہوئی ہے، اس سے بظاہر ایسا لگتا بھی ہے کہ دنیا ان کے ہاتھوں میں آ چکی ہے، تسخیرِ عالم کے اس منصوبے میں انہیں کامیابی اس لیے نہیں ملی کہ وہ خیرِ امت ہیں بلکہ انہوں نے بزورِ بازو، مکر و فریب اور خبیث چالوں کے ذریعے اس کامیابی کو حاصل کیا ہے، ظلم و تشدد، قتل و غارت گری ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، اہلِ یہود کے منفی علوم نے انہیں یہ باور کرایا ہے کہ وہ خدا کی برگزیدہ قوم ہیں، ان کے لیے غیر یہودی قوموں کی جان، مال اور ان کی عزت و آبرو کی کوئی حیثیت نہیں، لہٰذا قومِ یہود کی برتری اور ریاستِ اسرائیل کے استحکام کے لیے جو بھی اخلاقی یا غیر اخلاقی قدم اٹھایا جائے گا وہ سب یہودی فقیہوں کے نزدیک درست ہوگا۔
عہدِ نبوی میں یہودیوں کی چالبازیاں
قرآنِ کریم میں مسلمانوں کا سب سے بدترین دشمن یہودیوں کو ہی بتایا گیا ہے، اس لیے کہ اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی اسکیمیں عہدِ رسالت ہی سے شروع ہو چکی تھیں، کسی بھی وقت اسلام کو ان کی فتنہ انگیزیوں اور دسیسہ کاریوں سے اطمینان میسر نہ ہوا، جیسا کہ جنگِ خیبر کے وقت ایک یہودی عورت ”زینب بنت الحارث“ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر دعوت دی، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا، اس نے ایک دنبہ ذبح کیا اور گوشت بھوننے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”آپ کون سا حصہ پسند فرماتے ہیں؟“ آپ نے جواب دیا کہ مجھے دست کا گوشت زیادہ پسند ہے، چنانچہ اس نے سارے دنبے پر زہر چھڑکا اور دست میں زہر کی مقدار زیادہ کر دی، دسترخوان پر بیٹھنے کے بعد آپ نے ایک لقمہ منہ میں ڈالا لیکن اسے نگلا نہ تھا اور ارشاد فرمایا کہ: ”یہ گوشت مجھ سے کہتا ہے کہ اسے زہر آلود کیا گیا ہے“، لہٰذا آپ نے اس لقمہ کو اسی وقت اگل دیا۔
حضرت بشر بن البراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک لقمہ منہ میں لیا تھا اور اسے نگل لیا تھا، اس لیے وہ شہید ہو گئے تھے، ایک روایت کے مطابق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری طور پر دنیا سے جاتے وقت آپ کو اس زہر کی تکلیف محسوس ہوتی تھی اور آپ کا وصالِ پر ملال بھی اسی زہر کی وجہ سے ہوا تھا۔
اب ذرا غور کریں کہ اس قوم کی غیرت اور بزدلی دیکھیں کہ اپنے تذکرے اشتعال کرنے کے لیے عورتوں کو بھی میدانِ عمل میں اتار دیتے ہیں، اپنے ننگے کام بھی عورتوں سے کروا رہے ہیں، تاریخ ان جیسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے، شہنشاہ صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ پر کئی مرتبہ عورتوں کے ذریعے سے ہی حملہ کیا گیا، یہ ہیں یہودیوں کی چالبازیاں، ربِ کریم ہم سب کو ان کے فتنہ و شر سے محفوظ رکھے۔
عہدِ صحابہ میں یہود کی شر انگیزی
ظاہری طور پر دنیا سے تشریف لے جاتے وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چند وصیتیں فرمائیں، جن میں ایک وصیت یہ بھی فرمائی:
اَخْرِجُوا الْيَهُوْدَ مِنْ جَزِيْرَةِ الْعَرَبِ
”یہود کو عرب کے جزیرہ سے باہر نکال دو۔“ [بخاری شریف]
یہ وصیت ہر اس آدمی کے لیے تھی جو بارِ خلافت اٹھائے، چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فتنہِ ارتداد، منکرینِ ختمِ نبوت، منکرینِ زکوٰۃ اور کئی دوسرے استحصالی فتنوں میں الجھ گئے جو کہ اس وقت کی اہم ضرورت تھے، اس وجہ سے آپ اس فرمان کی طرف متوجہ نہ ہو سکے بلکہ ان کو اس کا موقع ہی نہ مل سکا، چنانچہ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں یہ وصیت پوری فرمائی، 17ھ میں حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلطنتِ ایران کو زیر کرنے کا منصوبہ بنایا، قادسیہ کی فیصلہ کن جنگ نے خاندانِ کسریٰ کی قسمت کا فیصلہ کر دیا، جس میں ایک لاکھ سے دولاکھ کے درمیان ایرانی مارے گئے۔
ان کی قیمتی اشیا، کسریٰ کا تخت، قالین اور انتہائی قیمتی فانوس ان کی عورتیں لونڈیاں بنا کر دربارِ خلافت میں بطورِ مالِ غنائم کے پیش کی گئیں، اس کے سورما رستم، ہرمزان، فیروزان، بہمن وغیرہ تیغ کیے گئے، ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور حق غالب آیا، لیکن یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ کچھ لوگوں نے بظاہر جان و مال کی حفاظت کے لیے کلمہ پڑھا اور خفیہ طور پر ان کی چالبازیاں جاری رکھیں، غرض کہ تمام خلفائے راشدین اپنے اپنے زمانہ میں یہودیوں سے سامنا کرتے رہے۔
جملہِ اطہر اور یہود
شہنشاہ نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کے دورِ حکومت میں یہودیوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ مبارک کو آپ کی قبر شریف سے نکال کر کہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کی ناپاک کوشش کی، جب مسلمانوں کی فوج جرمنی کے شہنشاہ کانرڈ کی نو لاکھ کی فوج کے خلاف یمن میں نبرد آزما تھی، اس دوران یہودی صوفیانہ لباس میں ملبوس ہو کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، ان کی وضع قطع دیکھ کر کسی کو شک تک نہیں ہو سکتا تھا کہ عبادت و ریاضت کے علاوہ بھی ان کا کوئی اور مقصد ہو سکتا ہے۔ دن بھر یہ لوگ عبادت و ریاضت، صدقات و خیرات کرتے اور رات کے وقت یہ لوگ اپنے حجرے میں سرنگ کھودتے، ادھر شہنشاہ نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کا حال یہ تھا کہ آپ نہایت ہی عبادت گزار، نیک اور شب زندہ دار تھے، روزانہ رات کا اکثر حصہ عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے پھر کچھ دیر کے لیے سو جاتے، سلطان نور الدین زنگی علیہ الرحمہ معمول کے مطابق رات کے نوافل و وظائف سے فارغ ہوئے اور بستر پر لیٹ گئے، آنکھیں کیا بند ہوئیں مقدر جاگ اٹھا، حضور سرورِ عالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں تشریف لائے اور نیلی آنکھوں والے دو آدمی دکھا کر فرمایا: ”مجھے ان سے بچاؤ!“ آپ گھبرا کر اٹھے، وضو کیا، نوافل ادا کیے اور پھر سو گئے، تین بار ایسا ہی ہوا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رات ہی میں اپنے وزیر کو بلایا، مشورہ ہوا اور اگلی صبح ہی بہت سا مال لے کر مدینہ منورہ کی جانب چل پڑے۔
16 دن کے سفر کے بعد مدینہ منورہ پہنچے، شہر سے باہر ہی غسل کیا، پھر شہر میں داخل ہوئے، ریاض الجنہ میں نوافل ادا کیے اور روضہِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دینے کے بعد مسجد ہی میں بیٹھ گئے، سب اہلِ مدینہ کو بلایا گیا کہ سلطان تشریف لائے ہیں اور نذرانے تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ مدینہ شریف کے ہر ہر فرد کو نذرانہ دیا گیا لیکن مطلوبہ افراد نظر نہ آئے، پوچھنے پر بتایا گیا کہ اہلِ مغرب سے دو نیک متقی شخص ہیں، کسی سے کچھ نہیں لیتے بلکہ بکثرت صدقہ کرتے ہیں، رات بھر عبادت و ریاضت کرتے ہیں اور دن میں پیاسوں کو پانی پلاتے ہیں، انہیں حاضر کیا گیا تو سلطان نے فوراً پہچان لیا، یہ وہی بدبخت تھے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دکھائے تھے، ان سے مدینہ منورہ میں آنے کا سبب پوچھا گیا، تو بولے کہ ہم تو بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہنے آئے ہیں، بار بار پوچھا گیا لیکن انہوں نے حقیقت نہیں بتائی، جب ان کے مکان کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے ڈھیر سارا مال اور چند کتابیں ملیں۔
سلطان پریشانی کے عالم میں ٹہلنے لگا پھر اچانک زمین پر بچھی چٹائی کو ہٹایا تو دیکھا کہ نیچے ایک گہری سرنگ کھودی گئی ہے جو روضہِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جارہی تھی، وہ دونوں بدبخت رات کو سرنگ کھودتے اور مٹی مشکیزوں میں ڈال کر قبرستان میں ڈال آتے تھے، جب وہ قبرِ مبارک کے قریب پہنچ گئے تو آسمان کانپ اٹھا، اور زمین میں سخت زلزلہ آیا، ایسا لگتا تھا کہ پہاڑ اکھڑ جائیں گے، اس سے اگلی صبح ہی سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ مدینہ منورہ پہنچ گئے تھے، ان کا جرم ثابت ہونے کے بعد سلطان نے ان کی گردن اڑانے کا حکم دے دیا اور روضہِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد پانی کی گہرائی تک زمین کھدوائی اور شیشہ پگھلا کر اس میں بھر دیا تاکہ آئندہ کوئی ایسی ناپاک حرکت نہ کر سکے۔ [ملخص از اخبار]
بیت المقدس اور یہود
یہودی سازشیں اتنی بڑھیں کہ بیت المقدس جیسی قابلِ احترام اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کی نشانی بھی ان کی سازشوں کی زد میں آ گئی۔ ان کی طاغوتی قوتیں شب و روز اسے نقصان پہنچانے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ ایک طویل عرصے سے اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، مسجد کے نیچے سرنگیں کھود کر اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ 1969ء کو ایک یہودی لیڈر نے قبلہِ اول مسجدِ اقصیٰ میں آگ لگا دی، تین گھنٹے تک مسلسل مسجد سے آگ کی لپٹیں نکلتی رہیں، جس سے مسجد کا جنوبی جانب کا ایک بڑا حصہ شہید ہو گیا، سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کا تیار کرایا ہوا تاریخی منبر بھی جل گیا۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ارضِ فلسطین پر ہمارا پیدائشی حق ہے، ممتاز برطانوی مؤرخ آرنلڈ ٹوائن بی اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے لکھتا ہے:
”اٹھارہ سو برس کے بعد یہ بات ہرگز نہیں کہی جاسکتی کہ فلسطین یہود کا وطن ہے، ورنہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ریڈ انڈینوں کی مملکت ہے، اگر ایسی بات ہوتی تو برطانیہ اور دوسرے کئی ممالک کی صورتِ حال بالکل بدل جائے گی، میرے خیال سے یہود کا فلسطین پر بحران کا کوئی حق نہیں کہ وہ وہاں ذاتی جائیداد خرید سکتے ہیں، انہیں وہاں ریاست قائم کرنے کا کوئی حق نہیں، کہ یہ حد سے بڑھی ہوئی بات ہے۔“
وہاں مذہب کی بنیاد پر ایک ریاست قائم کر دی گئی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ قومِ یہود اپنی سازشوں اور شرارتوں کے باعث ہمیشہ نفرت و حقارت کا نشانہ بنی رہی، اور ہر ملک نے ان کی حرکتوں سے تنگ آکر آخر میں انہیں ملک سے باہر کر دیا، گریٹر اسرائیل کے صہیونی منصوبے کو پایہِ تکمیل تک پہنچانے کے لیے یہود گزشتہ ایک صدی سے فلسطین میں آبادکاری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، یہودیوں کی اس نقل مکانی اور آبادکاری میں اقوامِ متحدہ، امریکہ اور یورپی ممالک نے ان کا پورا پورا ساتھ دیا اور انہیں خوب مالی مدد فراہم کی، آج عالم یہ ہے کہ فلسطینی مسلمان اپنے ہی ملک میں بے بسی سے اقلیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، دوسری طرف اسرائیل کی حدود اور دن بدن ہر طرف پھیلتی جارہی ہیں، فلسطینی مسلمانوں کو ان کے اپنے ہی ملک سے زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے، کوئی صدائے احتجاج بلند کرے تو اسے موت کی وادی میں دھکیل دیا جاتا ہے، عورتوں کی عزت کو تار تار کیا جارہا ہے۔
چھوٹے چھوٹے بچوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے، غرض کہ انسانی حقوق کی سرِ عام پامالی کی جا رہی ہے؟ آخر کب تک یہ ظلم ہوگا، کبھی تو ربِ قدیر فلسطینیوں کو مکمل آزادی عطا کرے گا، ہم اور آپ کو چاہیے کہ بیت المقدس کی حفاظت کی دعا کریں اور ان یہودیوں کے مکر و فریب اور ان کی چالبازیوں سے بچنے کی پوری کوشش کریں، ان تمام رسموں اور رواجوں کو چھوڑیں جن کی ابتدا یہود و نصاریٰ نے کی، ان تمام چیزوں کے استعمال سے بچیں جو یہودیوں کی بنائی ہوئی ہوں اور ربِ قدیر سے ایمان پر خاتمے کی دعا کرتے رہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو شیطانی مکر و فریب سے محفوظ رکھے اور ایمان پر خاتمہ عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
[ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، جمادی الاولیٰ 1445ھ / نومبر 2023ء]
