| عنوان: | قربانی، فضائل اور تقاضے |
|---|---|
| تحریر: | علامہ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری |
| پیش کش: | ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی |
| منجانب: | جامعہ مصباح تاج الشریعہ، ردولی شریف، بہار |
قربانی! دین کی شان اور اسلام کا ایک عظیم نشان ہے۔ قربانی! حضرت ابراہیم علیہ السلام نیز دوسرے انبیائے کرام کی سنت اور رب کے دربار میں بندوں کی بہترین عبادت ہے۔ جس طرح بے آب و گیاہ مردہ زمین بارش کے اثر سے سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے، ایسے ہی جان و مال کی خشک کھیتیاں قربانیوں کے فیض سے ہری بھری ہو کر لہلہانے لگتی ہیں۔ چونکہ بندہ قربانی کے ذریعے خداوندِ قدوس کے قربِ خاص سے مشرف ہو جاتا ہے، اس لیے اس عبادت کو قربانی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
قربانی کے فضائل و تقاضے کے گلہائے رنگا رنگ سے کتاب و سنت کے اوراق مزین ہیں، جن سے قربانی کی اہمیت و ضرورت کا بھی پتا چلتا ہے اور یہ بھی کہ کیسی قربانی خدا کو مطلوب ہے۔
ارشادِ خداوندی ہے: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [الکوثر: 2] آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔
جس طرح نماز کا حکم بظاہر صرف رسولِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو ہے، لیکن درحقیقت سب مسلمانوں کو ہے۔ اسی طرح قربانی کا حکم بھی صرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ امت پر بھی لازم ہے۔ امت کے نبی و رسول پر جو انعام و اکرام ہوتا ہے، وہ لطف و احسان امت کو بھی شامل ہوتا ہے، لہٰذا امت پر نبی کا شکریہ اور اتباع ضروری ہے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قَالُوْا: مَا هٰذِهِ الْأَضَاحِي يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: سُنَّةُ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيْمَ کیا ہیں یہ قربانیاں اور ان کا مقصد کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ عرض کی گئی: اس سنت پر عمل سے کیا نفع ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا: ذبح کیے جانے والے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوں گے، ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جائے گی۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَّوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللّٰهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُوْنِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللّٰهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَّقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، فَطِيْبُوْا بِهَا نَفْسًا [رواہ الترمذی]
حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس ذی الحجہ کو انسان کے لیے اللہ کی راہ میں قربانی کرنے سے بڑھ کر کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں زیادہ پسندیدہ نہیں ہے، اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور سموں سمیت آئے گا، اور اس جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقامِ قبولیت میں پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا ان قربانیوں کو فراخ دلی سے کیا کرو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی میں جانور کا ذبح کرنا، اس کا خون بہانا ضروری ہے۔ لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ جانور کو ذبح کرنے کی کیا ضرورت ہے، بلکہ اس کی قیمت صدقہ کر دینی چاہیے، یہ لغو و باطل ہے، قرآن و حدیث کے بالکل خلاف ہے۔ قرآنِ کریم نے جانور کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے اور حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے قول و عمل سے اس عمل کو افضل و اعلیٰ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ فرمایا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے: أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِيْنَةِ عَشْرَ سِنِيْنَ يُضَحِّي رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں دس سالہ مدتِ اقامت میں قربانی دیتے رہے۔ واضح ہو گیا کہ قربانی دینا صرف میدانِ منیٰ کے ساتھ خاص نہیں اور صرف حاجیوں پر لازم نہیں، بلکہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر لازم ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سالہ قیامِ مدینہ کے دوران قربانی دے کر اس کی اہمیت کو ظاہر فرما دیا اور تمام شبہات کا ازالہ کر دیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو دو مینڈھے جو کہ سیاہ رنگ والے، سینگ دار، خصی کیے ہوئے تھے، مدینہ منورہ میں ذبح فرمائے اور فرمایا: اے اللہ! یہ قربانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی امت کی طرف سے قبول فرما۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اپنے ساتھ قربانی کے ثواب میں شریک فرمایا، تو اس احسان کا تقاضا یہ ہے کہ امتی بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کریں۔ دوسری چیز یہ کہ حضور نے امت کی طرف سے قربانی فرمائی، خواہ وہ موجود تھے یا نہ تھے، بلکہ بعد میں پیدا ہونے والے ہوں یا پہلے وفات پا چکے ہوں۔ تو معلوم ہوا کہ کسی بھی مسلمان کی طرف صدقہ کرنا، اسے اپنے ثواب میں شریک کرنا، خواہ وہ زندہ ہو یا فوت ہو چکا ہو، کارِ ثواب ہے، سنتِ مصطفیٰ ہے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ قربان کیے، جن میں سے تریسٹھ اونٹ آپ نے اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرمائے اور باقی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے۔ حضرت عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذبح کے لیے خنجر ہاتھ میں لے کر اونٹ کے سامنے آئے اور اونٹ پانچ پانچ، چھ چھ کی ٹولی میں آپ کے پاس لائے جانے لگے، تو وہ ایک دوسرے کو دھکیل کر اپنی گردن آگے کرتے تاکہ پہلے اسے ذبح کیا جائے۔ جانوروں کو بھی محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا عشق ہے کہ جان جانے کا غم نہیں، بھاگ کر جان بچانے کی فکر نہیں، بلکہ ہر ایک اس خواہش پر کہ پہلے مجھے ان کے دستِ ناز سے ذبح ہونا نصیب ہو، دوسرے کو دھکیل کر گردن آگے بڑھاتا ہے۔
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتہِ ستم! تیری غیرت کو کیا ہوا
جب جانوروں کے اندر جانثاری و فداکاری کا ایسا بے پناہ جذبہ موجود ہے، تو پھر ان مردانِ حق کے جذباتِ محبت کا اندازہ کون کر سکتا ہے جو محبوب کے قدموں پر اپنی جانیں نچھاور کرتے تھے۔
نشود نصیبِ دشمن کہ شود ہلاکِ تیغت
سرِ دوستان سلامت کہ تو خنجر آزمائی
علامہ اسماعیل حقی صاحب ”روح البیان“، کشف الاسرار سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ کی امت میں جو بھی مفلس و نادار ہو اور قربانی نہ کر سکے، تو کوئی ایسی صورت ہے جس سے وہ قربانی کا ثواب حاصل کر سکے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نسخہِ کیمیا عطا فرمایا کہ چار رکعت نفل پڑھے اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد گیارہ مرتبہ سورہِ کوثر پڑھے، تو اللہ تعالیٰ سات قربانیوں کا ثواب اس کے دفترِ حسنات میں درج فرمائے گا۔
نماز ہو یا روزہ، حج ہو یا زکوٰۃ، تلاوت ہو یا کوئی اور عبادت، وہ تمام صرف اور صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ ارشادِ پاک پروردگار ہے:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [الانعام: 162]
امام رازی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ لِرَبِّكَ میں لام اخلاص کے لیے ہے، جیسے بدن کے لیے روح۔ بدن چاہے کتنا حسین کیوں نہ ہو، جب تک اس میں روح نہ ہو، اس کا کوئی کمال نہیں۔ اسی طرح عبادات بھی بغیر اخلاص کے بے جان ہیں۔
اسی طرح قربانی اگرچہ بظاہر بڑی نفیس اور قیمتی ہو، لیکن اگر اخلاص و للہیت نہ ہو تو وہ عبث، لغو اور بیکار ہے، بلکہ قربِ الٰہی کے بجائے دوری کا سبب بنتی ہے۔ معلوم ہوا کہ قربانی کا مقصد محض جانور کو ذبح کرنا نہیں بلکہ اس کی روح اخلاص، تقویٰ اور ایثار ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ [الحج: 37]
جاننا ہے بارگاہِ حق کے آئین و اصول
دل کے ٹکڑوں کی یہاں پر نذر ہوتی ہے قبول
تقاضائے قربانی یہ ہے کہ نورِ اخلاص سے اپنے باطن کو ایسا سجایا جائے کہ اس کے مظاہر سے صدق و صفا کی خوشبو آئے۔ اگر ایسا کرنے میں ہم کامیاب ہو گئے تو قبولیت و عدمِ قبولیت کا کوئی کھٹکا نہ رہے گا، بلکہ رحمت خود بڑھ کر اپنے آغوش میں لے لے گی، ورنہ یاد رکھا جائے کہ:
جب تک کہ ابراہیم کی فطرت نہ ہو پیدا
قربانی بھی آزر ہے، عبادت بھی ہے نمرود
