| عنوان: | زکوٰۃ کی اہمیت اور اس کا استعمال (قسط ثانی) |
|---|---|
| تحریر: | محمد صلاح الدین رضوی سیتامڑھی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش |
اور کارِ خیر میں جو بھی مال خرچ کیا جائے اس میں نہ احسان جتلایا جائے اور نہ اپنی بڑائی اور نام ونمود کا تصور ذہن میں آنے دیا جائے ورنہ آخرت میں کچھ بھی اجر و ثواب نہ ملے گا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰىۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِؕ [البقرۃ: 264]
اے ایمان والو! اپنے صدقے باطل نہ کرو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے۔
یعنی اپنے دیے ہوئے صدقات کے ثواب کو عار دلا کر اور احسان جتلا کر باطل نہ کرو جس طرح منافقین اپنے مالوں کو ریاکاری کے لیے خرچ کر کے ضائع کر دیتے ہیں انہیں رضائے الٰہی مقصود نہیں ہوتی۔ لیکن کچھ لوگوں کا حال یہ ہے کہ احسان کرنے کے بعد احسان جتلانے سے گریز نہیں کرتے تاکہ جس پر انہوں نے احسان کیا ہے اس کے دل میں ان کی عقیدت و اہمیت پیدا ہو جائے اور لوگوں پر ان کی برتری ظاہر ہو جائے جبکہ احسان جتلانے سے معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ نام ونمود کے لیے بے دریغ مال خرچ کرتے ہیں۔
تو ایسے لوگ جان لیں کہ دنیا میں تو وہ نفرت کی نگاہ سے دیکھے ہی جاتے ہیں آخرت میں بھی ان کے ثواب سے محروم کر دیے جائیں گے۔
اب زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں پر رب تعالیٰ کے قہر و غضب اور اس کی ادائیگی سے غفلت کرنے پر ہونے والے نقصانات کا بغور ملاحظہ کر کے آخرت برباد کرنے والے اس عمل سے نفرت و بے زاری کا اظہار کیجیے۔ رب تعالیٰ کا ارشادِ پاک ہے:
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ يَوْمَ الْقِيٰمَةِؕ [آل عمران: 180]
اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا۔ یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا لیکن اس نے اس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو اسے سانپ کی شکل میں کر کے اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے جسے مال دیا لیکن اس نے اس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو اس کا مال قیامت کے دن اس کے لیے اژدہا کی شکل میں کر دیا جائے گا جس کے سر میں دو چوتیاں (دھبے) ہوں گی وہ سانپ اس کا طوق بن جائے گا جو اس کے دونوں جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اس آیتِ کریمہ کی تلاوت فرمائی۔
جو مال کی زکوٰۃ میں بخل کرے گا تو اسے سانپ کو طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اسے مونڈھے سے پاؤں تک ڈنک مارے گا، اس کے سر کو پھوڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں۔ [تفسیر روح البیان] اسی طرح کی حدیث بخاری میں بھی ہے۔
وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍۙ۔ يَوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ۔ [التوبۃ: 34-35]
اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں، یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا۔ اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔ یعنی جو لوگ مال جمع کرتے ہیں لیکن ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو ان مالوں کو جہنم کی آگ سے گرم کیا جائے گا پھر ان گرم کردہ مالوں سے ان کی پیشانیاں، کروٹیں اور پیٹھیں داغی جائیں گی اور ڈالتے وقت ان سے کہا جائے گا یہ وہ دولت ہے جسے تم نے دنیا میں جمع کیا تھا اپنے منافع کے لیے اب وہی دولت تمھیں نقصان پہنچا رہی ہے۔
انِ تینوں اعضاء کو داغنے میں حکمت یہ ہے کہ جب دولت مند طالب زکوٰۃ کو دیکھتا ہے تو تیور چڑھا لیتا ہے پھر جب سائل اس سے کچھ مانگتا ہے تو پیٹھ کی طرف منہ پھیر لیتا ہے فقیر جب اسے مزید پریشان کرتا ہے تو اپنی جگہ سے اٹھ جاتا ہے اور سائل کو پیٹھ دکھا کر چلا جاتا ہے۔ [تفسیر روح البیان]
آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کا مال جس مال میں ملا ہوگا اسے تباہ و برباد کر دے گا۔
ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے ہی سے تلف ہوتا ہے۔ [تفسیر روح البیان]
اسی وجہ سے دیکھا گیا ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے والے بسا اوقات اتنے بڑے خرچ میں پڑ جاتے ہیں کہ زکوٰۃ کی مقدار سے کہیں زیادہ ان کے مال صرف ہو جاتے ہیں۔
مذکورہ بیانات سے یہ حقیقت خوب واضح ہوگئی کہ اگر ہم نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو یہ ہمارے لیے بڑے نقصان و خسارے اور بربادی کا سبب ہوگا لیکن اگر ہم نے مال کا حق ادا کر دیا تو بفضلہ تعالیٰ دنیا میں اس مال کے اندر بہت زیادہ برکت بھی ہوگی اور وہ مال تلف ہونے سے بھی بچ جائے گا اور آخرت میں ہم بہت زیادہ ثواب سے بھی نواز دیے جائیں گے۔ واضح ہو کہ جس کے پاس ساڑھے سات تولہ (ایک تولہ گیارہ گرام چھ سو چونسٹھ ملی گرام کا ہوتا ہے) سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی چاندی اور سونا خریدنے کی قیمت یا مالِ تجارت ہو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
اگر سونا چاندی میں سے کوئی بھی نصاب کی مقدار پر نہیں تو سونے کی قیمت کی چاندی یا چاندی کی قیمت کا سونا فرض کر کے ملائیں اگر ملانے پر بھی نصاب نہیں ہوتا تو زکوٰۃ فرض نہیں۔ [بہارِ شریعت]
اگر مالِ تجارت کی قیمت تو نصاب کو نہیں پہنچتی مگر اس کے پاس ان کے علاوہ سونا چاندی بھی ہے تو ان کی قیمت سونے چاندی کے ساتھ ملا کر مجموعہ کر دیں اگر مجموعہ نصاب کو پہنچ جائے تو زکوٰۃ فرض ہے۔ [ایضاً]
اگر سونا چاندی میں کھوٹ ہو جیسا کہ آج کل زیورات میں رائج ہے تو اگر سونا چاندی غالب یا برابر ہو تو اسے سونا چاندی قرار دیا جائے گا اور سب پر زکوٰۃ فرض ہوگی اور اگر کھوٹ زیادہ ہو تو کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ [ایضاً]
اگر مالکِ نصاب نے درمیانِ سال میں کچھ اور مال اسی جنس کا حاصل کیا تو نئے مال کا سال الگ سے شمار نہ ہوگا بلکہ پہلے مال کا سال تمام اس مال کا بھی سال تمام ہوگا اگرچہ اس نے نئے مال کو سال تمام ہونے سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو۔ [ایضاً]
کرایہ پر چلنے والے ٹرکوں اور بسوں کی قیمتوں پر زکوٰۃ فرض نہیں کہ زکوٰۃ تین قسم کے مالوں پر واجب ہے سونا چاندی یا ان کی قیمت پر۔ مالِ تجارت پر اور چرائی پر چھوٹے ہوئے جانوروں پر۔
اور کرایہ پر چلنے والے ٹرکوں اور بسوں کی قیمت مذکورہ چیزوں میں سے نہیں ہاں جن گاڑیوں کو بیچنے کے لیے خریدا گیا تو ان کی قیمتوں پر زکوٰۃ فرض ہے کہ یہ گاڑیاں مالِ تجارت میں داخل ہوگئیں۔
اور زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی فوراً واجب ہے تاخیر سے گناہ ہوگا فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
تجب عَلَى الْفَوْرِ عِنْدَ تَمَامِ الْحَوْلِ حَتَّى يَأْثَمَ بِتَأْخِيرِ مامن غَيْرِ عُذْرٍ۔
سال پورا ہونے پر زکوٰۃ کی ادائیگی فوراً واجب ہے بغیر عذر تاخیر سے گناہ ہوگا۔
لہٰذا اگر رمضان المبارک سے پہلے سال تمام ہو جائے تو رمضان المبارک تک اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہاں اگر رمضان المبارک کے بعد سال پورا ہونے والا ہو تو اب رمضان المبارک میں زکوٰۃ کی ادائیگی جائز ہے۔ ان باتوں پر بھی دھیان رہے کہ زکوٰۃ کا رکن فقیر کو مال کا مالک بنا دینا ہے لہٰذا اگر کسی فقیر پر زید کا قرض ہو اب زید جس پر زکوٰۃ فرض ہے اس نے زکوٰۃ کی نیت سے قرض معاف کر دی تو زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کہ ادائیگی زکوٰۃ کے لیے تملیکِ فقیر شرط ہے جو یہاں نہیں پائی گئی اس کی جائز صورت یہ ہے کہ زید زکوٰۃ کی رقم زکوٰۃ کی نیت سے فقیر کو دے اب وہ بعدِ قبضہ زید کو قرض کی رقم واپس کر دے تب قرض بھی ادا ہو جائے گا اور اس کی زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گا۔
اگر اراکینِ مدارس زکوٰۃ کی رقم سے طلبہ کو کھانا کھلائیں تو جائز نہیں کہ کھانا کھلانے میں اباحت پائی جاتی ہے تملیک نہیں پائی جاتی یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی طالبِ علم کھانا کھانے کی بجائے اسے بیچ دے یا کسی کو ہبہ کر دے تو ذمہ دارانِ مدرسہ کو ضرر و اعتراض ہوتا ہے۔ یوں ہی زکوٰۃ کی رقم تعمیرِ مدرسہ یا تنخواہِ مدرسین میں بھی خرچ کرنا جائز نہیں کہ تملیکِ فقیر یہاں بھی مفقود ہے لہٰذا ان چیزوں میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور ناظمِ مدرسہ پر ان تمام روپیوں کا تاوان دینا لازم ہوگا۔
ان باتوں سے ان مدارسِ اسلامیہ کے اراکین سبق حاصل کریں جو زکوٰۃ کی رقم سے تعمیرات، تنخواہ کی ادائیگی اور طلبہ کو کھانا کھلانے جیسے کام بلا جھجھک انجام دیا کرتے ہیں جب کہ مدارسِ اسلامیہ کے قیام کا مقصد ہی لوگوں میں اسلامی عقائد و نظریات کی پختگی پیدا کرنا اور انہیں احکامِ شرعیہ پر عمل کا پابند بنانا ہے۔
ہاں زکوٰۃ کی رقم کو مدارسِ اسلامیہ میں خرچ کرنے کی جائز صورت یہ ہے کہ اسے حیلۂ شرعیہ کے بعد خرچ کی جائے کیوں کہ زکوٰۃ و فطرہ کے اصل مستحقین تو فقرا و مساکین ہی ہیں مگر چوں کہ اور دنوں مالداروں کے اندر راہِ خدا میں مال صرف کرنے کی رغبت بہت کم نظر آتی ہے اور دين کی بقا کے لیے دینی مدارس کا وجود لازم ہے تو اگر مدارسِ اسلامیہ کا مدار صرف عطیات و خیرات پر رکھا جائے تو یہ بند ہوتے نظر آئیں گے جس کی وجہ سے اسلام کو زبردست نقصان پہنچے گا تو اہم ترین ضرورت کے پیشِ نظر فقہائے کرام نے حیلۂ شرعیہ کے بعد زکوٰۃ کی رقم کو مدارسِ اسلامیہ میں صرف کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ فقہائے کرام نے حیلۂ شرعیہ کی اجازت صرف امورِ دینیہ کے لیے دی ہے اس لیے دنیاوی اسکول و کالج کے لیے حیلۂ شرعیہ کی اجازت ہرگز نہ ہوگی کیوں کہ یہ امورِ دینیہ سے نہیں ہیں۔
حیلۂ شرعیہ کی اصل یہ حدیث ہے:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے دولت کدے میں تشریف فرما ہوئے گھر میں گوشت پک رہا تھا خدمتِ اقدس میں روٹی اور سالن پیش کیا گیا تو فرمایا کیا ہانڈی میں گوشت نہیں ابل رہا ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ وہ گوشت صدقہ کا ہے جو بریرہ کو کسی نے دیا ہے اور حضور صدقہ تناول نہیں فرماتے تو فرمایا وہ گوشت بریرہ کے لیے صدقہ ہے اور (اگر وہ مجھے دے دے تو) میرے لیے ہدیہ ہے۔ [مشکوٰۃ، ص: 161]
حیلۂ شرعیہ کا طریقہ یہ ہے کہ مالِ زکوٰۃ فقیر کو دے کر اسے مالک بنا دیا جائے پھر وہ فقیر اس کے کہنے پر یا خود سے امورِ دینیہ میں خرچ کرنے کے لیے دے دے۔ اور غور کرنے کی بات ہے کہ جب مدارسِ اسلامیہ میں بغیر حیلۂ شرعیہ زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں تو جو محصلین زکوٰۃ کی وصولی ہوئی رقم میں سے ایک پیسہ بھی مدارسِ اسلامیہ کو نہیں دیتے یہ اور بھی کتنا مذموم عمل اور کتنا عظیم جرم ہوگا بلکہ محصلین کے لیے مالِ زکوٰۃ سے سفر خرچ وغیرہ لینا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ وکیل ہوتے ہیں اور وکیل کے لیے بغیر تملیکِ مال میں تصرف جائز نہیں اور بغیر تملیک، تصرف سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی تو پھر ان پر خرچ کی ہوئی رقم کا تاوان دینا واجب ہوگا۔ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ محصلین بلا تصرف زکوٰۃ کی رقم انتظامیہ کے حوالے کریں پھر انتظامیہ حیلۂ شرعیہ کے بعد محصلین کو سفر خرچ وغیرہ ادا کرے۔
[ماہ نامہ: پیغام شریعت دہلی، جون 2016، ص: 34 تا 36]
